حصہ ۸
خدا کا مقصد تکمیل کی طرف بڑھتا ہے
۱، ۲. تکلیف کو ختم کرنے کیلئے خدا کسطرح بندوبست کرتا رہا ہے؟
باغیانسانوں اور شیاطین کی حکمرانی انسانی خاندان کو بہت صدیوں سے پستی کی طرف گھسیٹتی رہی ہے۔ پھر بھی خدا نے ہماری تکلیفوں کو نظرانداز نہیں کیا ہے۔ بلکہ ان تمام صدیوں کے دَوران، وہ انسانوں کو شرارت اور تکلیف کی گرفت سے چھڑانے کا بندوبست کرتا رہا ہے۔
۲ عدؔن میں بغاوت کے وقت خدا نے ایک حکومت کو تشکیل دینے کے لئے اپنے مقصد کو آشکارا کرنا شروع کیا جو اس زمین کو لوگوں کے لئے ایک فردوسی گھر بنائیگی۔ (پیدایش ۳:۱۵) بعدازاں، خدا کے اعلیٰ نمائندے کے طور پر یسوؔع نے آنیوالی خدا کی حکومت کو اپنی تعلیم کا موضوع بنایا۔ اس نے کہا کہ یہ بنیآدم کی واحد امید ہوگی۔—دانیایل ۲:۴۴؛ متی ۶:۹، ۱۰؛ ۱۲:۲۱۔
۳. زمین کیلئے آنیوالی حکومت کو یسوؔع نے کیا نام دیا، اور کیوں؟
۳ یسوؔع نے آنیوالی خدا کی حکومت کو ”آسمان کی بادشاہی“ کہا،کیونکہ اس نے آسمان سے حکمرانی کرنی تھی۔ (متی ۴:۱۷) اس نے اسے ”خدا کی بادشاہی“ بھی کہا، چونکہ خدا اسکا بانی ہوگا۔ (لوقا ۱۷:۲۰) جو اس حکومت کو تشکیل دینگے انکی بابت اور جو کچھ یہ انجام دیگی اسکی بابت پیشینگوئیاں تحریر کرنے کیلئے خدا نے صدیوں کے دَوران اپنے قلمکاروں کو الہام دیا۔
زمین کا نیا بادشاہ
۴، ۵. خدا نے کیسے ظاہر کیا کہ یسوؔع اسکا پسندیدہ بادشاہ تھا؟
۴ تقریباً دو ہزار سال قبل، یہ یسوؔع ہی تھا جس نے اس شخص کی بابت بہت سی پیشینگوئیوں کو پورا کیا جو خدا کی بادشاہی کا بادشاہ ہوگا۔ وہ بنیآدم پر اس آسمانی حکومت کے حکمران کے طور پر خدا کا انتخاب ثابت ہوا۔ اور یسوؔع کی موت کے بعد، خدا نے اسے ایک طاقتور، غیرفانی روحانی مخلوق کے طور پر آسمان میں زندگی کیلئے زندہ کیا۔ اسکے زندہ کئے جانے کے بہت سے گواہ تھے۔—اعمال ۴:۱۰؛ ۹:۱-۹؛ رومیوں ۱:۱-۴؛ ۱-کرنتھیوں ۱۵:۳-۸۔
۵ پھر یسوؔع ”خدا کی دہنی طرف جا بیٹھا۔“ (عبرانیوں ۱۰:۱۲) وہاں پر اس نے اس وقت کا انتظار کیا جب خدا کی آسمانی بادشاہی کے بادشاہ کے طور پر کارروائی کرنے کیلئے خدا اسے اختیار دیگا۔ اس نے زبور ۱۱۰:۱ کی پیشینگوئی کو پورا کر دیا، جہاں خدا اسے کہتا ہے: ”تُو میرے دہنے ہاتھ بیٹھ جبتک کہ میں تیرے دشمنوں کو تیرے پاؤں کی چوکی نہ کر دوں۔“
۶. یسوؔع نے کیسے ظاہر کیا کہ وہ خدا کی بادشاہت کا بادشاہ ہونے کے لائق تھا؟
۶ جب یسوؔع زمین پر تھا تو اس نے واضح کیا کہ وہ ایسے مرتبے کے لائق تھا۔ اذیت کے باوجود، اس نے خدا کیلئے اپنی راستی برقرار رکھنے کا انتخاب کیا۔ ایسا کرنے سے اس نے واضح کیا کہ شیطان نے جھوٹ بولا تھا جب اس نے یہ دعویٰ کیا کہ آزمائش کے تحت کوئی بھی انسان خدا کا وفادار نہیں رہیگا۔ ’دوسرے آؔدم‘ یعنی کامل انسان، یسوؔع نے ظاہر کیا کہ کامل انسانوں کو خلق کرنے میں خدا کو غلطی نہیں لگی تھی۔—۱-کرنتھیوں ۱۵:۲۲، ۴۵؛ متی ۴:۱-۱۱۔
۷، ۸. جب یسوؔع زمین پر تھا تو اس نے کونسے نیک کام کئے، اور اس نے کس چیز کا مظاہرہ کیا؟
۷ کس حکمران نے کبھی اتنی نیکی سرانجام دی جتنی یسوؔع نے اپنی خدمتگزاری کے چند سالوں میں انجام دی؟ خدا کی روحالقدس سے قوت پا کر، یسوؔع نے بیماروں، لنگڑوں، اندھوں، بہروں، گونگوں کو شفا بخشی۔ اس نے تو مُردوں کو بھی زندہ کیا! اس نے چھوٹے پیمانے پر ظاہر کیا کہ جب وہ بادشاہتی اختیار میں آئے گا تو بنیآدم کیلئے عالمگیر پیمانے پر کیا کچھ کریگا۔—متی ۱۵:۳۰، ۳۱؛ لوقا ۷:۱۱-۱۶۔
۸ جب یسوؔع زمین پر تھا تو اس نے اتنی زیادہ نیکی کی کہ اسکے شاگرد یوحنا نے کہا: ”اور بھی بہت سے کام ہیں جو یسوؔع نے کئے۔ اگر وہ جدا جدا لکھے جاتے تو میں سمجھتا ہوں کہ جو کتابیں لکھی جاتیں انکے لئے دنیا میں گنجایش نہ ہوتی۔“—یوحنا ۲۱:۲۵۔a
۹. خلوصدل اشخاص جوقدرجوق یسوؔع کے پاس کیوں آتے تھے؟
۹ لوگوں کیلئے بہت زیادہ محبت رکھتے ہوئے یسوؔع مہربان اور رحمدل تھا۔ اس نے مظلوم اور محتاج کی مدد کی، لیکن اس نے دولت اور مرتبے والوں کیساتھ بھی امتیاز نہ برتا۔ خلوصدل لوگوں نے یسوؔع کی پُرمحبت دعوت کا جواب دیا جب اس نے کہا: ”اے محنت اٹھانے والو اور بوجھ سے دبے ہوئے لوگو سب میرے پاس آؤ۔ میں تمکو آرام دونگا۔ میرا جُوا اپنے اوپر اٹھا لو اور مجھ سے سیکھو۔ کیونکہ میں حلیم ہوں اور دل کا فروتن۔ تو تمہاری جانیں آرام پائینگی۔ کیونکہ میرا جُوا ملائم ہے اور میرا بوجھ ہلکا۔“ (متی ۱۱:۲۸-۳۰) خداترس لوگ جوقدرجوق اسکے پاس آتے تھے اور اسکی حکمرانی کے منتظر تھے۔—یوحنا ۱۲:۱۹۔
ساتھی حکمران
۱۰، ۱۱. زمین پر حکمرانی کرنے میں یسوؔع کیساتھ کون شریک ہونگے؟
۱۰ جسطرح سے انسانی حکومتوں کے شریکِ کار منتظم ہوتے ہیں، اسی طرح سے خدا کی آسمانی بادشاہت کے بھی ہیں۔ یسوؔع کے علاوہ دوسروں نے بھی زمین پر حکمرانی کرنے میں شریک ہونا ہے، اسلئے کہ یسوؔع نے اپنے قریبی ساتھیوں سے وعدہ کیا تھا کہ وہ اس کیساتھ بنیآدم پر بادشاہوں کے طور پر حکمرانی کریں گے۔—یوحنا ۱۴:۲، ۳؛ مکاشفہ ۵:۱۰؛ ۲۰:۶۔
۱۱ لہٰذا، یسوؔع سمیت، انسانوں کی ایک محدود تعداد بھی آسمانی زندگی کیلئے قیامت پاتی ہے۔ وہ خدا کی بادشاہی کو تشکیل دیتے ہیں جو بنیآدم کیلئے ابدی برکات لائیگی۔ (۲-کرنتھیوں ۴:۱۴؛ مکاشفہ ۱۴:۱-۳) پس مُدتوں سے، یہوؔواہ نے ایک ایسی حکمرانی کیلئے بنیاد ڈالی ہے جو انسانی خاندان کیلئے ابدی برکات لائیگی۔
خودمختار حکمرانی ختم ہونے کو ہے
۱۲، ۱۳. اب خدا کی بادشاہت کیا کرنے کیلئے تیاری کی حالت میں ہے؟
۱۲ اس صدی میں خدا نے زمین کے معاملات میں براہِراست ہاتھ ڈالا ہے۔ جیسے کہ اس بروشر کا حصہ ۹ بحث کریگا، بائبل پیشینگوئی ظاہر کرتی ہے کہ مسیح کے تحت خدا کی بادشاہت ۱۹۱۴ میں قائم کی گئی تھی اور اب شیطان کے تمام نظام کو نیست کرنے کیلئے تیاری کی حالت میں ہے۔ وہ بادشاہت ”[مسیح کے] دشمنوں میں حکمرانی“ کرنے کیلئے تیار ہے۔—زبور ۱۱۰:۲۔
۱۳ اس سلسلے میں دانیایل ۲:۴۴ کی پیشینگوئی کہتی ہے: ”ان بادشاہوں [اب موجود] کے ایام میں آسمان کا خدا ایک سلطنت [آسمان میں] برپا کریگا جو تا ابد نیست نہ ہوگی اور اسکی حکومت کسی دوسری قوم کے حوالہ نہ کی جائیگی [انسانی حکمرانی کو پھر کبھی اجازت نہیں ملنے کی] بلکہ وہ [خدا کی بادشاہت] ان تمام مملکتوں کو ٹکڑے ٹکڑے اور نیست کریگی اور وہی ابد تک قائم رہیگی۔“
۱۴. بعض فوائد کیا ہیں جو انسانی حکمرانی کے خاتمے کے نتیجے میں حاصل ہونگے؟
۱۴ خدا سے خودمختار تمام حکمرانی کے راہ سے ہٹا دئے جانے کے ساتھ زمین پر خدا کی بادشاہتی حکمرانی مکمل ہو جائیگی۔ اور بادشاہت چونکہ آسمان سے حکومت کرتی ہے، اسلئے اسے انسانوں کے ذریعے کبھی نہیں بگاڑا جا سکتا۔ فرمانروائی کا اختیار وہاں ہوگا جہاں پر شروع میں، وہ آسمان میں خدا کے پاس تھا۔ اور چونکہ خدا کی حکمرانی تمام زمین پر اختیار رکھے گی، اسلئے کسی کو بھی کبھی جھوٹے مذاہب یا غیرتسلیبخش انسانی فیلسوفیوں اور سیاسی نظریات کے ذریعے گمراہ نہیں کیا جائے گا۔ ان میں سے کسی چیز کو موجود رہنے کی اجازت نہیں دی جائیگی۔—متی ۷:۱۵-۲۳؛ مکاشفہ ۱۷ سے ۱۹ ابواب۔
[فٹنوٹ]
a یسوؔع کی زندگی کی بابت پوری معلومات حاصل کرنے کے لئے واچٹاور سوسائٹی کی ۱۹۹۱ میں شائعکردہ کتاب عظیم ترین آدمی جو کبھی ہو گزرا ہے (انگریزی) کو دیکھیں۔
[صفحہ ۱۸ پر تصویر]
جب یسوع زمین پر تھا تو اس نے یہ ظاہر کرنے کیلئے بیماروں کو شفا بخشی اور مُردوں کو زندہ کیا کہ وہ نئی دنیا میں کیا کچھ کریگا
[صفحہ ۹۱ پر تصویر]
خدا کی آسمانی بادشاہت تمام طرز کی حکمرانی کو نیست کر دے گی جو اس سے خودمختار ہے