حصہ ۶
جس وجہ سے خدا نے تکلیف کی اجازت دی ہے
۱، ۲. ہمارے پہلے والدین نے اس عمدہ آغاز کو جو خدا نے انہیں دیا تھا کیسے بگاڑ کر رکھ دیا؟
کیاخرابی ہو گئی؟ کیا واقع ہوا جس نے اس عمدہ آغاز کو بگاڑ کے رکھ دیا جو خدا نے ہمارے پہلے والدین کو عدؔن کے فردوس میں بخشا تھا؟ فردوس کے امن اور ہم آہنگی کی بجائے ہزاروں سال سے شرارت اور تکلیف کا غلبہ کیوں رہا ہے؟
۲ اسکی وجہ یہ ہے کہ آؔدم اور حوؔا نے اپنی آزاد مرضی کا غلط استعمال کیا۔ وہ اس حقیقت کو سمجھنے سے قاصر رہے کہ انہیں خدا اور اسکے قوانین سے الگ رہ کر ترقی کرنے کیلئے خلق نہیں کیا گیا تھا۔ انہوں نے یہ سوچتے ہوئے خدا سے علیٰحدہ ہو جانے کا فیصلہ کر لیا کہ ایسا کرنا انکی زندگیوں کو بہتر بنائیگا۔ پس انہوں نے آزاد مرضی کیلئے خدا کی قائمکردہ حدود کو عبور کر لیا۔—پیدایش، ۳ باب۔
عالمگیر حاکمیت کا مسئلہ
۳-۵. خدا نے فقط آؔدم اور حوؔا کو ختم کرکے نیا آغاز کیوں نہ کیا؟
۳ خدا نے فقط آؔدم اور حوؔا کو ہلاک کرکے پھر سے ایک دوسرے انسانی جوڑے کیساتھ آغاز کیوں نہ کیا؟ اسلئے کہ اسکی عالمگیر حکمرانی یعنی حکمرانی کرنے کے اسکے ناقابلِانتقال حق کو للکارا گیا تھا۔
۴ سوال یہ تھا: حکمرانی کرنے کا حق کون رکھتا ہے، اور کس کی حکمرانی درست ہے؟ اسکا قادرِمطلق خدا ہونا اور تمام مخلوقات کا خالق ہونا اسے ان پر حکمرانی کرنے کا حق دیتا ہے۔ چونکہ وہ کُل حکمت کا مالک ہے، اسلئے اسکی تمام مخلوقات کیلئے اسکی حکمرانی بہترین ہے۔ لیکن اب خدا کی حکمرانی کو للکارا جا چکا تھا۔ نیز کیا اسکی تخلیق—انسان—میں کچھ خرابی تھی؟ ہم بعد میں تجزیہ کرینگے کہ انسان کی راستی کا مسئلہ کسطرح اس میں شامل ہے۔
۵ انسان کے خدا سے علیٰحدہ ہو جانے سے ایک اور سوال کی دلالت ہو گئی تھی: اگر خدا انسانوں پر حکمرانی نہ کرے تو کیا وہ بہتر کام چلا سکتے تھے؟ یقینی طور پر خالق جواب جانتا تھا، لیکن انسانوں کیلئے جاننے کا یقینی طریقہ یہ تھا کہ انہیں مکمل آزادی کی اجازت دے دی جائے جسکے وہ خواہاں تھے۔ انہوں نے اپنی اس آزاد مرضی والی روش کا انتخاب کیا، اس لئے خدا نے اسکی اجازت دے دی۔
۶، ۷. خدا نے انسانوں کو اتنی دیر تک مکمل آزادی کی اجازت کیوں دے رکھی ہے؟
۶ انسانوں کو مکمل آزادی کیساتھ تجربہ کرنے کیلئے کافی وقت دیکر خدا ہمیشہ کیلئے ثابت کر دیگا کہ آیا انسان خدا کی حکمرانی کے تحت بہتر حالت میں ہیں یا اپنے طور پر۔ اور دئے ہوئے وقت کو کافی طویل ہونا چاہیے تھا تاکہ انسانوں کو اس مقام پر پہنچنے کی اتنی مہلت مل جائے جسے انہوں نے سیاسی، صنعتی، سائنسی، اور طبّی کامیابیوں کی انتہا خیال کیا۔
۷ لہٰذا، خدا نے بغیر کسی شک کے یہ ظاہر کرنے کیلئے انسان کو ہمارے زمانے تک کُھلی چُھوٹ دے دی ہے کہ آیا اس سے خودمختار ہو کر انسانی حکمرانی کامیاب ہو سکتی ہے۔ یوں انسان مہربانی اور ظلم کے درمیان، محبت اور نفرت کے درمیان، راستبازی اور ناراستی کے درمیان انتخاب کرنے کے قابل ہوا ہے۔ لیکن اسے اپنے انتخاب کے نتائج—نیکی اور امن یا شرارت اور تکلیف—کا سامنا بھی کرنا پڑا ہے۔
روحانی مخلوقات کی بغاوت
۸، ۹. (ا) روحانی قلمرو میں بغاوت کیسے پھوٹ نکلی؟ (ب) بغاوت کرانے کیلئے آؔدم اور حوؔا کے علاوہ شیطان اور کس پر اثرانداز ہوا؟
۸ غوروفکر کرنے کیلئے ایک اور عنصر بھی ہے۔ خدا کی حکمرانی کے خلاف بغاوت کرنے والے صرف ہمارے ابتدائی والدین ہی نہ تھے۔ مگر اس وقت اور کس کا وجود تھا؟ روحانی مخلوقات کا۔ اس سے پیشتر کہ خدا نے انسانوں کو خلق کیا، اس نے زندگی کی ایک بلندتر قِسم، فرشتوں کی ایک بڑی تعداد، کو آسمانی قلمرو میں رہنے کیلئے خلق کیا۔ انہیں بھی آزاد مرضی اور خدا کی حکمرانی کی اطاعت کرنے کی ضرورت کیساتھ خلق کیا گیا تھا۔—ایوب ۳۸:۷؛ زبور ۱۰۴:۴؛ مکاشفہ ۵:۱۱۔
۹ بائبل ظاہر کرتی ہے کہ بغاوت پہلے روحانی قلمرو میں پھوٹ نکلی۔ ایک روحانی مخلوق مکمل آزادی چاہتا تھا۔ وہ تو چاہتا تھا کہ انسان بھی اسکی پرستش کریں۔ (متی ۴:۸، ۹) یہ روحانی باغی دھوکے سے یہ دعویٰ کرتے ہوئے کہ خدا ان سے کسی اچھی چیز کو روکے ہوئے تھا بغاوت کرنے کیلئے آؔدم اور حوؔا کو آمادہ کرنے کا سبب بنا۔ (پیدایش ۳:۱-۵) اس لئے وہ ابلیس (تہمت لگانے والا) اور شیطان (مزاحمت کرنے والا) کہلاتا ہے۔ بعد میں اس نے دیگر روحانی مخلوقات کو بغاوت کرنے کی ترغیب دی۔ وہ شیاطین کے طور پر مشہور ہو گئے۔—استثنا ۳۲:۱۷؛ مکاشفہ ۱۲:۹؛ ۱۶:۱۴۔
۱۰. انسانی اور روحانی مخلوقات کی بغاوت سے کیا نتیجہ نکلا؟
۱۰ خدا کے خلاف بغاوت کرنے سے انسان خود کو شیطان اور اسکے شیاطین کے زیرِاثر لے آئے۔ اسی وجہ سے بائبل شیطان کو ”اس جہان [کا] خدا“ کہتی ہے جس نے ”بےایمانوں . . . کی عقلوں کو اندھا کر دیا ہے۔“ لہٰذا، خدا کا کلام کہتا ہے کہ ”ساری دنیا اس شریر کے قبضہ میں پڑی ہوئی ہے۔“ خود یسوؔع نے شیطان کو ”دنیا کا سردار“ کہا تھا۔—۲-کرنتھیوں ۴:۴؛ ۱-یوحنا ۵:۱۹؛ یوحنا ۱۲:۳۱۔
دو مسئلے
۱۱. کس دوسرے مسئلے کی بابت شیطان نے خدا کو چیلنج کیا؟
۱۱ شیطان نے ایک اور مسئلہ کھڑا کر دیا جس نے خدا کو چیلنج کیا۔ عملاً اس نے الزام لگایا کہ خدا نے جس طریقے سے انسانوں کو خلق کیا اس میں اسے غلطی لگی تھی اور یہ کہ دباؤ کے تحت کوئی بھی شخص درست کام کرنا نہیں چاہیگا۔ درحقیقت، اس نے دعویٰ کیا کہ آزمائش کے تحت تو وہ خدا پر لعنت بھی کریں گے۔ (ایوب ۲:۱-۵) اس طریقے سے شیطان نے انسانی مخلوق کی راستی پر شُبہ کیا تھا۔
۱۲-۱۴. شیطان کی طرف سے کھڑے کئے گئے دو مسائل کی بابت وقت کس طرح سچائی کو آشکارا کریگا؟
۱۲ اسلئے خدا نے یہ دیکھنے کیلئے تمام ذہین مخلوقات کو کافی وقت دے دیا ہے کہ یہ مسئلہ اور خدا کی حاکمیت کا مسئلہ کیسے حل ہوگا۔ (مقابلہ کریں خروج ۹:۱۶۔) انسانی تاریخ کا یہ آخری تجربہ ان دونوں مسائل کی بابت سچائی کو ظاہر کریگا۔
۱۳ سب سے پہلے، وقت خدا کی حکمرانی کی درستی، عالمگیر حاکمیت کے مسئلے، کی بابت کیا آشکارا کریگا؟ کیا انسان خود پر خدا سے بہتر حکومت کر سکیں گے؟ کیا خدا سے جدا انسانی حکمرانی کا کوئی نظام ناانصافی، جرم، اور جنگ سے آزاد خوشآئند دنیا لے آئیگا؟ کیا کوئی غربت کو ختم کرے گا اور سب کو خوشحالی فراہم کریگا؟ کیا کوئی بیماری، بڑھاپے، اور موت پر فتح پائیگا؟ خدا کی حکمرانی کو یہ سب کچھ انجام دینے کیلئے ترتیب دیا گیا تھا۔—پیدایش ۱:۲۶-۳۱۔
۱۴ دوسرے مسئلے کی بابت، انسانی تخلیق کی قدروقیمت کے سلسلے میں وقت کیا ظاہر کریگا؟ جس طریقے سے خدا نے انسانوں کو خلق کیا تھا کیا یہ اسکی غلطی تھی؟ کیا ان میں سے کوئی آزمائش کے تحت صحیح کام کریگا؟ کیا کوئی قوم یہ ظاہر کریگی کہ وہ خودمختار انسانی حکمرانی کے بجائے خدا کی حکمرانی چاہتی ہے؟
[صفحہ ۱۳ پر تصویر]
خدا نے انسانوں کو وقت دے دیا ہے کہ اپنی کامیابیوں کی انتہا تک پہنچیں
[تصویر کا حوالہ]
Shuttle: Based on NASA photo