کہانی نمبر ۱۰۶
رسولوں کی دلیری
دیکھیں، تصویر میں ایک فرشتہ قیدخانے کا دروازہ کھول کر کھڑا ہوا ہے۔ جو آدمی قیدخانے سے باہر آ رہے ہیں، وہ رسول ہیں۔ لیکن وہ قید میں کیوں تھے؟
جب یسوع مسیح نے رسولوں کو پاک روح دی تو اِس کے بعد کچھ دن گزر گئے۔ ایک دن پطرس رسول اور یوحنا رسول دوپہر کے وقت ہیکل میں جا رہے تھے۔ ہیکل کے دروازے پر ایک آدمی بیٹھا تھا جو بچپن سے لنگڑا تھا۔ لوگ ہر روز اِس آدمی کو ہیکل کے دروازے پر بٹھا دیتے تھے تاکہ وہ لوگوں سے بھیک مانگ سکے۔ جب اُس نے پطرس رسول اور یوحنا رسول کو دیکھا تو اُس نے اُن سے بھی بھیک مانگی۔ پتہ ہے، رسولوں نے کیا کِیا؟
وہ رُک گئے۔ پھر پطرس رسول نے لنگڑے آدمی سے کہا: ”میرے پاس پیسے تو نہیں ہیں لیکن جو میرے پاس ہے، وہ مَیں تُم کو دے دیتا ہوں۔ یسوع مسیح کے نام سے اُٹھو اور چلو پھرو!“ پھر پطرس رسول نے اُس آدمی کا دایاں ہاتھ پکڑا۔ وہ آدمی اُچھل کر کھڑا ہو گیا اور چلنے پھرنے لگا۔ جب لوگوں نے یہ دیکھا تو وہ بہت حیران ہوئے۔ وہ خوش تھے کہ یہ آدمی ٹھیک ہو گیا ہے۔
پطرس رسول نے لوگوں سے کہا: ”ہم نے یہ معجزہ اُس خدا کی طاقت سے کِیا ہے جس نے یسوع مسیح کو زندہ کِیا۔“ اِتنے میں کچھ مذہبی اُستاد بھی وہاں آ گئے۔ وہ بہت غصہ ہوئے کیونکہ پطرس رسول اور یوحنا رسول لوگوں کو بتا رہے تھے کہ یسوع مسیح زندہ ہو گئے ہیں۔ اُنہوں نے اِن دونوں رسولوں کو پکڑ کر قیدخانے میں ڈال دیا۔
اگلے دن مذہبی اُستاد یروشلیم میں جمع ہوئے۔ پھر سپاہیوں نے پطرس رسول اور یوحنا رسول کو مذہبی اُستادوں کے سامنے کھڑا کِیا۔ وہاں وہ آدمی بھی تھا جس کو پطرس رسول نے ٹھیک کر دیا تھا۔ مذہبی اُستادوں نے رسولوں سے پوچھا: ”تُم نے کس کی طاقت سے یہ معجزہ کِیا؟“
پطرس رسول نے جواب دیا: ”ہم نے یہ معجزہ اُس خدا کی طاقت سے کِیا جس نے یسوع مسیح کو زندہ کِیا۔“ مذہبی اُستاد اِس بات سے انکار نہیں کر سکتے تھے کہ پطرس رسول نے لنگڑے آدمی کو ٹھیک کر دیا تھا۔ اُن کی سمجھ میں نہیں آ رہا تھا کہ کیا کریں۔ اِس لئے اُنہوں نے رسولوں سے کہا: ”خبردار! آئندہ لوگوں کو یسوع کے بارے میں مت بتانا۔“ یہ کہہ کر اُنہوں نے رسولوں کو چھوڑ دیا۔
لیکن رسول لوگوں کو یسوع مسیح کے بارے میں بتاتے رہے اور بیماروں کو ٹھیک کرتے رہے۔ اِن معجزوں کی خبر پھیلتی گئی۔ جو لوگ یروشلیم کے آسپاس کے شہروں میں رہتے تھے، وہ بھی بیماروں کو رسولوں کے پاس لانے لگے تاکہ وہ ٹھیک ہو جائیں۔ یہ دیکھ کر مذہبی اُستاد رسولوں سے جلنے لگے۔ اِس لئے اُنہوں نے رسولوں کو قیدخانے میں ڈال دیا۔ لیکن رسول زیادہ دیر تک قید میں نہیں رہے۔ پتہ ہے، کیا ہوا؟
رات کو خدا کے فرشتے نے آکر قیدخانے کا دروازہ کھول دیا جیسا کہ تصویر میں نظر آ رہا ہے۔ فرشتے نے کہا: ”ہیکل میں جاؤ اور لوگوں کو یسوع مسیح کے بارے میں بتاؤ۔“ اگلی صبح مذہبی اُستادوں نے سپاہیوں سے کہا: ”جاؤ، قیدخانے سے یسوع کے شاگردوں کو لے کر آؤ۔“ جب سپاہی رسولوں کو لینے گئے تو اُنہوں نے دیکھا کہ وہ قیدخانے میں نہیں ہیں۔ پھر سپاہیوں کو پتہ چلا کہ رسول ہیکل میں ہیں۔ وہ اُن کو پکڑ کر یہودیوں کی بڑی عدالت میں لے گئے۔
مذہبی اُستادوں نے رسولوں سے کہا: ”ہم نے تُم سے کہا تھا کہ کسی کو یسوع کے بارے میں مت بتانا۔ لیکن تُم نے پورے یروشلیم میں یہ بات پھیلا دی ہے کہ یسوع زندہ ہو گیا ہے۔“ رسولوں نے کہا: ”انسانوں کا حکم ماننے سے زیادہ ضروری ہے کہ ہم خدا کا حکم مانیں۔“ رسول اِس کے بعد بھی لوگوں کو یسوع مسیح کے بارے میں بتاتے رہے۔ ہمیں بھی ایسا کرنا چاہئے، ہےنا؟
اعمال ۳-۵ باب۔