کہانی نمبر ۱۰۷
ستفنس کا قتل
تصویر میں جو آدمی گھٹنوں کے بل بیٹھا ہے، اُس کا نام ستفنس ہے۔ وہ یسوع مسیح کے شاگرد ہیں۔ لیکن دیکھیں، کچھ آدمی اُن کو بڑے بڑے پتھر مار رہے ہیں۔ وہ ستفنس سے بہت نفرت کرتے ہیں۔ لیکن وہ ستفنس سے کیوں نفرت کرتے ہیں؟ آئیں، دیکھتے ہیں۔
خدا نے ستفنس کو معجزے کرنے کی طاقت دی تھی۔ ستفنس لوگوں کو اُس سچائی کے بارے میں بھی بتاتے تھے جو پاک کلام میں ہے۔ کچھ آدمیوں کو یہ اچھا نہیں لگا۔ اُنہوں نے ستفنس سے کہا: ”تُم غلط باتیں سکھا رہے ہو۔“ خدا نے ستفنس کی مدد کی اور اُنہوں نے بڑی سمجھداری سے اِن آدمیوں کو جواب دیا۔ یوں سب کو پتہ چل گیا کہ اصل میں یہ آدمی غلط باتیں سکھا رہے تھے۔ اِس وجہ سے اِن آدمیوں کو بہت غصہ آیا۔ وہ ستفنس کو پکڑ کر یہودیوں کی بڑی عدالت میں لے گئے۔ پھر اُنہوں نے کچھ لوگوں کو بلایا جنہوں نے ستفنس کے بارے میں جھوٹ بولا۔
سردارکاہن نے ستفنس سے پوچھا: ”کیا یہ لوگ سچ کہہ رہے ہیں؟“ اِس پر ستفنس نے پاک کلام سے ایک تقریر دی۔ پھر اُنہوں نے کہا: ”پُرانے زمانے میں بھی بُرے آدمی خدا کے نبیوں سے نفرت کرتے تھے۔ آپ لوگ اُن آدمیوں کی طرح ہیں۔ آپ نے خدا کے بندے یسوع مسیح کو مار ڈالا اور خدا کے حکموں پر عمل نہیں کِیا۔“
اِس بات پر مذہبی اُستاد بہت غصہ ہوئے۔ وہ غصے میں دانت پیسنے لگے۔ پھر ستفنس نے سر اُٹھا کر کہا: ”دیکھو! یسوع مسیح آسمان پر خدا کے دائیں ہاتھ کھڑے ہیں۔“ یہ سُن کر مذہبی اُستادوں نے اپنے کانوں پر ہاتھ رکھ لئے اور ستفنس پر جھپٹ پڑے۔ وہ ستفنس کو گھسیٹ کر شہر سے باہر لے گئے۔
وہاں کچھ آدمیوں نے اپنی چادریں اُتار کر ایک جوان آدمی کو دیں تاکہ وہ اُن کا خیال رکھے۔ اِس آدمی کا نام ساؤل تھا۔ کیا آپ تصویر میں ساؤل کو دیکھ سکتے ہیں؟ پھر وہ آدمی ستفنس کو پتھر مارنے لگے۔ ستفنس گھٹنوں کے بل بیٹھ گئے اور دُعا کرنے لگے۔ اُنہوں نے کہا: ”اَے یہوواہ خدا! اِن آدمیوں کو اِس بُرے کام کے لئے سزا نہ دے۔“ ستفنس جانتے تھے کہ یہ آدمی مذہبی اُستادوں کی باتوں میں آ گئے ہیں اور اِس لئے یہ بُرا کام کر رہے ہیں۔ آدمیوں نے ستفنس کو اِتنے پتھر مارے کہ وہ مر گئے۔
اگر کوئی آپ کے ساتھ بُرا سلوک کرتا ہے تو کیا آپ بھی اُس کے ساتھ بُرا سلوک کرتے ہیں؟ یسوع مسیح اور ستفنس نے ایسا نہیں کِیا تھا۔ وہ اُن لوگوں کے ساتھ بھی اچھا سلوک کرتے تھے جو اُن کے ساتھ بُرا سلوک کرتے تھے۔ آئیں، ہم یسوع مسیح اور ستفنس کی طرح بنیں۔