ہمارے قارئین کی طرف سے
منشیات ”کیا منشیات دُنیا پر قبضہ کر رہی ہیں؟“ (نومبر ۸، ۱۹۹۹) کے سلسلہوار مضامین بڑی وسیع تحقیقوتفتیش کیساتھ تحریر کئے گئے تھے۔ مَیں ایک ایسے علاقے میں زیرِآزمائش افسر کے طور پر تعینات ہوں جہاں بہت سے نوجوان منشیات کے عادی ہیں۔ یہ شمارہ بہتوں کو منشیات کی عادت کو ترک کرنے میں مدد دیگا۔
جے. ٹی.، جرمنی
مَیں نے پیڈرو اور اُسکی بیوی اینا کی سرگزشت سے بہت زیادہ حوصلہافزائی حاصل کی ہے۔ چھ سال تک منشیات کے استعمال نے میری زندگی تباہوبرباد کر دی تھی۔ بائبل کا مطالعہ کرنے اور جو کچھ مَیں سیکھ رہا ہوں اُسکی بابت دوسروں سے گفتگو کرنے کی بدولت مَیں نے منشیات کی لت سے چھٹکارا پانے کیلئے روحانی قوت حاصل کر لی ہے۔
ڈی. جے.، ریاستہائے متحدہ
مَیں گزشتہ ۱۵ سال سے سکول میں صحت کے متعلق تعلیم دے رہی ہوں۔ جاگو! کا یہ شمارہ بالکل صحیح وقت پر موصول ہؤا ہے کیونکہ اس وقت ہم الکحل، منشیات اور ڈرائیونگ کے موضوع کا احاطہ کر رہے ہیں۔ مَیں یقیناً اس شمارے کی معلومات کو استعمال کرونگی!
سی. جے.، ریاستہائے متحدہ
ٹاگوآ نٹ مَیں نے سن ۱۹۵۴ سے آپ کے رسالے کے ہر شمارے کو پڑھا ہے اور مَیں ابھی بھی اِن رسالوں کے مضامین سے حیران ہو جاتی ہوں جو یہوواہ کی مختلف تخلیقی چیزوں کے استعمال کو بیان کرتے ہیں۔ ”ٹاگوآ نٹ—کیا یہ ہاتھیوں کو بچا سکتا ہے؟“ (نومبر ۸، ۱۹۹۹) ایک ایسا ہی مضمون تھا۔ خدا کی حیرتانگیز حکمت کو زیادہ سے زیادہ سمجھنے میں ہماری مدد کرنے کے لئے آپ کا شکریہ۔
ڈی. ایچ.، ریاستہائے متحدہ
جادوگری ”جادوگری کے پسِپُشت کون ہے؟“ (نومبر ۸، ۱۹۹۹) کے مضمون کیلئے آپکا بہت بہت شکریہ۔ بہتوں کے خیال میں جادوگرنیاں نہایت بدشکل اور بوڑھی ہوتی ہیں۔ مگر ویکا موومنٹ اس وقت بیشتر نوجوان آدمیوں اور عورتوں کو اپنی طرف راغب کر رہی ہے۔ میری اپنی بیٹی نے اس میں دلچسپی لینا شروع کر دی تھی۔ تاہم، اُس نے جاگو! کا ذاتی چندہ لگوانے کی فرمائش کی اور حاصل ہونے والے پہلے ہی شمارے میں یہ مضمون تھا! یہ بالکل صحیح وقت پر موصول ہؤا تھا۔
بی. ایچ.، ریاستہائے متحدہ
فرشتے ”فرشتوں کی حقیقت کیا ہے؟“ (نومبر ۲۲، ۱۹۹۹) کے مفصل اور واضح سلسلہوار مضامین کیلئے دلی مبارکباد قبول کریں۔ آخرکار کسی نے تو احترام اور دیانتداری کیساتھ فرشتوں کی بابت غلط عقائد کے خطرات کو فاش کرنے کی جرأت کی۔ خاص طور پر مجھے صفحہ ۹ کی تصویر بہت پسند آئی جو ظاہر کرتی ہے کہ خود فرشتے بھی اُس خوشامد اور شہرت کو مسترد کرتے ہیں جو آجکل اُنہیں دی جاتی ہے۔
جے. ایل. اے. ایچ.، برازیل
طبّی آزمائش مضمون ”ہم نے مصیبت میں خدا پر بھروسا کرنا سیکھا“ (نومبر ۲۲، ۱۹۹۹) میں میجر خاندان کی کہانی نے میری بڑی حوصلہافزائی کی۔ ہمارے بیٹے کے دل میں کئی ایسے نقص تھے جن کے لئے سرجری ضروری تھی۔ ڈاکٹروں نے ہمیں بتا دیا تھا کہ ’انتقالِخون کے بغیر تمہارا بیٹا مر جائیگا!‘ ہمیں انتقالِخون پر راضی کرنے کی خاطر ہم پر دباؤ ڈالنے کے لئے ڈاکٹروں نے ہم دونوں میاںبیوی سے الگ الگ باتچیت کی۔ مگر میجر خاندان کی طرح ہم نے طاقت اور حوصلے کیلئے دُعا کی۔ ہمارے بیٹے کے آپریشن کامیاب رہے اور اب وہ تندرست ہے۔ اُس نے یہوواہ کے گواہ کے طور پر بپتسمہ لینے کی خواہش کا اظہار کِیا ہے۔
بی. سی.، ریاستہائے متحدہ
میرا شوہر ہسپتال میں زیرِعلاج تھا اور ڈاکٹروں کا کہنا تھا کہ شاید اُسے یہاں کئی مہینے لگیں۔ مَیں تین بچوں کی نگہداشت کرنے اور پھر ہر روز اپنے شوہر کو دیکھنے کیلئے ہسپتال کے چکر لگانے سے تھک چکی تھی۔ میرے مسیحی بھائی بہنوں نے بچوں کی نگہداشت کرنے میں گرانقدر مدد کی۔ جب ایسا نظر آنے لگا کہ مَیں یہ سب کچھ مزید نہیں کر پاؤنگی تو میرا شوہر گھر واپس آ گیا۔ جب مَیں نے یہ حوصلہافزا مضمون پڑھا تو مَیں اُس تمام مشکل کیلئے جس سے میجر خاندان گزرا تھا اپنی دلی قدرشناسی اور دُکھ کے باعث اپنے آنسو نہ روک سکی۔ مَیں یہ جان کر کتنی خوش ہوں کہ وہ یہوواہ پر اتنا زیادہ بھروسا رکھتے تھے!
جے. اے.، ریاستہائے متحدہ