”مُردہ“ میں جان آ جاتی ہے
انڈونیشیا سے ”جاگو!“ کا مراسلہنگار
انڈونیشیا میں جولائی ۱۷، ۱۹۹۷ کی شام کے قومی خبرنامے میں ایک غیرمعمولی اعلان کِیا گیا۔ دُنیا کا سب سے بڑا پھول کھل چکا تھا۔ محض ایک پھول کا کھلنا اتنا اہم کیوں تھا کہ خبرنامے میں اِسکا اعلان کِیا گیا؟ اسلئےکہ یہ پھول دوسروں سے بالکل مختلف ہے—اپنے ۴۰ سالہ دورِحیات میں یہ صرف دو یا تین دِن کیلئے تین یا چار مرتبہ کھلتا ہے۔ اس خبر کے بعد پودے کی جگہ، بوگر بوٹینیکل گارڈن میں آنے والے لوگوں کی تعداد میں ۵۰ فیصد اضافہ ہو گیا۔ درحقیقت، ایک ہی دن میں اس پودے کو دیکھنے کیلئے آنے والے لوگوں کی تعداد ۲۰،۰۰۰ سے زیادہ تھی!
اس پودے کا مکمل نباتیاتی نام امورفوفیلس ٹائیٹینم ہے۔ بعض لوگ اسے مختصراً ٹائیٹن ایرم کہتے ہیں مگر انڈونیشیا کے بیشتر لوگ اسے مُردہ پھول کہتے ہیں کیونکہ کھلتے وقت اس سے مُردہ مچھلی یا چوہے جیسی سڑاند آتی ہے۔ یہ بدبو زرگل کو منتقل کرنے والی شہد کی مکھیوں کو اشارہ دیتی ہے کہ پھول کھل گیا ہے۔
اپنی مخصوص بو کے علاوہ اپنے حجم کی وجہ سے بھی ٹائیٹن ایرم منفرد حیثیت کا مالک ہے۔ پوری عمر کا پودا قدآور انسانوں سے بھی اُونچا ہوتا ہے۔ بوگر بوٹینیکل گارڈن میں ایک اَور پودے کی اُونچائی ۸ فٹ تھی جو ۵.۸ فٹ چوڑے گلداننما تہہدار گلپوش سے نکلا تھا۔ اِس قدآور پھول کے تنے کا وزن تقریباً ۱۰۰ کلوگرام تھا!
اتنا بڑا ہونے کے باوجود، ٹائیٹن ایرم دُنیا کا سب سے بڑا پھول نہیں کہلا سکتا کیونکہ یہ درحقیقت ایک کی بجائے بیشمار چھوٹے چھوٹے پھولوں سے ملکر بنتا ہے۔
ٹائیٹن ایرم زبورنویس کے اِس بیان کی صداقت کی ایک اَور مثال ہے: ”اَے [یہوواہ] میرے خدا! جو عجیب کام تُو نے کئے . . . وہ بہت سے ہیں۔ مَیں اُن کو تیرے حضور ترتیب نہیں دے سکتا۔“—زبور ۴۰:۵۔