یہوواہ کے گواہوں کی آن لائن لائبریری
یہوواہ کے گواہوں کی
آن لائن لائبریری
اُردو
  • بائبل
  • مطبوعات
  • اِجلاس
  • جاگو 8/‏1/‏99 ص.‏ 28-‏29
  • دُنیا کا نظارہ کرنا

اِس حصے میں کوئی ویڈیو دستیاب نہیں ہے۔

ہم معذرت خواہ ہیں کہ ویڈیو لوڈ نہیں ہو سکی۔

  • دُنیا کا نظارہ کرنا
  • جاگو!‏—‏1999ء
  • ذیلی عنوان
  • ملتا جلتا مواد
  • شادی صحت کیلئے مفید ہے
  • متشدّد ہیرو
  • تنہا اشخاص کیلئے الیکٹرانک مدد
  • ‏”‏نوجوان خواتین کا نمبر۱ قاتل“‏
  • آلودگی سے پاک کار
  • آلودہ کوہِ‌الپس
  • خاندان کا اکٹھے کھانا کھانا
  • ہیڈفون کے باعث بہرہ‌پن
  • کھیل تمباکو کے تعاون سے
  • ابتدائی کسان
  • دُنیا کا نظارہ کرنا
    جاگو!‏—‏2004ء
جاگو!‏—‏1999ء
جاگو 8/‏1/‏99 ص.‏ 28-‏29

دُنیا کا نظارہ کرنا

شادی صحت کیلئے مفید ہے

نیو یارک ٹائمز میں ایک محقق بیان کرتی ہے کہ شادی‌شُدہ ہونا مرد اور عورت دونوں کے لئے ”‏زندگی کو طویل کرتا، معقول حد تک جسمانی اور جذباتی صحت میں افزائش کرتا اور آمدنی میں اضافے کا باعث بنتا ہے۔“‏ شکاگو یونیورسٹی کی پروفیسر لنڈا جے.‏ واٹ ۱۹۷۲ میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ کی نفی کرتی ہے جو یہ ظاہر کرتی ہے کہ شادی‌شُدہ خواتین نفسیاتی دباؤ کا زیادہ شکار ہوتی ہیں۔ ڈاکٹر واٹ اس نتیجے پر پہنچی کہ ”‏شادی لوگوں کے رویوں میں ایسی تبدیلیاں پیدا کرتی ہے جو اُنہیں آسودہ‌خاطر بناتی ہیں،“‏ جیسے‌کہ الکحل کا کم استعمال۔ شادی افسردگی کو بھی کم کرتی ہے۔ درحقیقت، ”‏جائزے کے آغاز ہی میں مجموعی طور پر کنوارے آدمی افسردگی کا شکار تھے اور اگر وہ کنوارے رہتے تو وہ اور زیادہ افسردگی کا شکار ہو جاتے۔“‏ تاہم، منسوٹا یونیورسٹی کے ڈاکٹر ولیم جے.‏ ڈارٹی بیان کرتے ہیں کہ یہ اعدادوشمار اوسط تعداد کی نمائندگی کرتے ہیں اور اس کا یہ مطلب نہیں کہ ہر ایک شخص شادی کے بعد آسودہ‌خاطر ہو جاتا ہے یا یہ کہ جو لوگ شادی کے لئے غلط شخص کا انتخاب کر لیتے ہیں وہ بھی خوش اور تندرست ہونگے۔‏

متشدّد ہیرو

ذرائع ابلا‌غ میں پائے جانے والے تشدد کے اثرات کی بابت اقوامِ‌متحدہ کی تعلیمی، سائنسی اور ثقافتی تنظیم کے جائزے کے مطابق، بچوں کیلئے بعض مقبول‌ترین تقلیدی کردار ایکشن فلموں کے ہیرو ہیں۔ برازیل کا جرنل ڈا ٹارڈے بیان کرتا ہے کہ ۲۳ ممالک سے انٹرویو کئے جانے والے پانچ ہزار ۱۲ سالہ بچوں میں سے ۲۶ فیصد نے اپنے چال‌چلن کے نمونوں کے طور پر فلموں کے ان ہیروز کو ”‏پاپ سٹارز اور موسیقاروں (‏۵.‏۱۸ فیصد)‏ مذہبی پیشواؤں (‏۸ فیصد)‏ یا سیاستدانوں (‏۳ فیصد)‏ سے بھی کہیں زیادہ اہمیت دی۔“‏ اس جائزے کا منتظم پروفیسر جَو گروبل بیان کرتا ہے کہ بچے بدیہی طور پر مشکل حالات سے بچنے کے لئے ان متشدّد ہیروز کو اپنے لئے تقلیدی کردار خیال کرتے ہیں۔ گروبل آگاہ کرتا ہے کہ جتنا زیادہ بچے تشدد کے عادی ہونگے اُتنا ہی زیادہ وہ انتہاپسندانہ رویے کا مظاہرہ کریں گے۔ وہ مزید کہتا ہے:‏ ”‏ذرائع ابلا‌غ اس نظریے کی تشہیر کرتے ہیں کہ تشدد ایک فطری اور مفید عمل ہے۔“‏ تاہم گروبل نے اس بات پر زور دیا کہ والدین اپنے بچوں کو ایسی راہنمائی فراہم کرنے میں بنیادی کردار ادا کرتے ہیں جو اُنہیں تخیل اور حقیقت میں امتیار کرنے کیلئے مدد دیتی ہے۔‏

تنہا اشخاص کیلئے الیکٹرانک مدد

جاپان میں ایک تنہا شخص کا دوسرے تنہا شخص سے ملنے کا جدیدترین طریقہ ”‏لو بی‌پر“‏ ہے، مائنیچی ڈیلی نیوز بیان کرتا ہے۔ بی‌پر میں مخصوص کارگزاریوں کی ترتیب موجود ہے:‏ کاریکو (‏ریکارڈشُدہ میوزک کیساتھ گیت)‏، دوست اور گپ‌شپ۔ فرض کریں کہ ایک نوجوان آدمی کسی نوجوان خاتون سے گفتگو کرنا چاہتا ہے۔ لہٰذا وہ ہتھیلی کے سائز کے اپنے الیکٹرانک بی‌پر کو ”‏گپ‌شپ“‏ پر سیٹ کر دیتا ہے۔ اگر وہ کسی ایسی خاتون سے چند گز کے فاصلے پر آ جاتا ہے جسکا لو بی‌پر بھی ”‏گپ‌شپ“‏ پر سیٹ ہے تو دونوں آلات بیپ کرنا شروع کر دینگے اور دونوں پر سبز روشنی جگمگانے لگے گی۔ پہلے ہی ۴،۰۰،۰۰۰ لوگ یہ بی‌پرز خرید چکے ہیں۔ جو لوگ اسکی بابت فکرمند ہیں کہ اُنکا رابطہ نہ جانے کیسے شخص سے ہو جائے وہ بیپ کو بند کر کے صرف جگمگانے والی روشنی پر تکیہ کر سکتے ہیں۔ اسکے صنعت‌کار کا پلاننگ ڈائریکٹر، ٹاکایا ٹاکافیوجی کہتا ہے:‏ ’‏اگر آپ اس ادھیڑ عمر شخص کو پسند نہیں کرتے یا آپ اُس سے کسی قسم کی بات نہیں کرنا چاہتے تو آپ بس چل دیں۔‘‏

‏”‏نوجوان خواتین کا نمبر۱ قاتل“‏

نینڈو ٹائمز بیان کرتا ہے کہ معاشی لحاظ سے ترقی‌یافتہ ممالک میں، تپِ‌دق [‏ٹی‌بی]‏ عموماً ۶۵ برس سے زیادہ عمر کے آدمیوں پر حملہ کرتا ہے۔ تاہم، رپورٹ بیان کرتی ہے کہ ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن (‏ڈبلیوایچ‌او)‏ کے مطابق عالمی پیمانے پر، ٹی‌بی ”‏نوجوان خواتین میں دُنیا کا نمبر۱ قاتل“‏ بن گیا ہے۔ ٹی‌بی کے سلسلے میں ڈبلیوایچ‌او کے عالمی پروگرام کے ڈاکٹر پال ڈولن نے بیان کِیا کہ ”‏بیویاں، مائیں اور ملازمت‌پیشہ خواتین اپنی جوانی ہی میں مر رہی ہیں۔“‏ گوٹی‌برگ، سویڈن میں ایک حالیہ میڈیکل سیمینار میں جمع ہونے والے ماہرین نے کہا کہ عالمی پیمانے پر ۹۰۰ ملین سے زیادہ خواتین ٹی‌بی سے متاثرہ ہیں۔ ان میں سے تقریباً ایک ملین ہر سال مرینگی جن میں سے بیشتر کی عمریں ۱۵ سے ۴۴ سال کے درمیان ہونگی۔ برازیل کے اخبار او ایسٹاڈو ڈی ایس۔ پاولو کے مطابق ایسی شرحِ‌اموات کی ایک وجہ یہ ہے کہ بہتیری خواتین بیماری سے مکمل شفا پانے سے پہلے ہی علاج بند کر دیتی ہیں۔‏

آلودگی سے پاک کار

دُنیا کے بڑے بڑے شہروں میں کاریں ہوا کی آلودگی کی بنیادی وجہ ہیں۔ اس مسئلے کو حل کرنے کیلئے، ایک فرانسیسی انجینیئر نے شہری سہولت کیلئے ایک ایسی کار ایجاد کی ہے جو بے‌آواز اور کسی بھی طرح کی بو سے پاک ہے اور ‏”‏صرف ہمارے اردگرد کی ہوا کے دباؤ سے چلتی ہے،“‏ لندن کا دی گارڈین ویکلی بیان کرتا ہے۔ انجن بنانے والے جی نی‌جر نے ایک ایسی موٹر تیار کی ہے جو منقبض ہوا سے چلتی ہے۔ اس کے منقبض ہوا والے ٹینک کو بھرنے کیلئے دو ڈالر سے بھی کم قیمت کی بجلی درکار ہوتی ہے جسکے بعد کار ۶۰ میل فی گھنٹے کی تیز رفتار کیساتھ شہری حالتوں میں دس گھنٹے تک چل سکتی ہے۔ بریک لگانے کے دوران کار باہر کی ہوا اندر کھینچتی ہے۔ اسکے کاربن ایئر فلٹرنگ سسٹم کی بدولت، جو ہوا یہ باہر نکالتی ہے وہ اندر کھینچی جانے والی ہوا کی نسبت کافی زیادہ صاف ہوتی ہے۔ آلودگی نہ پھیلانے والی دیگر گاڑیوں پر کئی ایک تجربات کرنے کے بعد، میکسیکن حکام نے میکسیکو شہر کی ۸۷،۰۰۰ ٹیکسیوں کے نعم‌البدل کے طور پر اس کار کا انتخاب کِیا ہے۔‏

آلودہ کوہِ‌الپس

چرنوبل، یوکرائن میں نیوکلیئر پاور پلانٹ کے حادثے کے بارہ برس بعد بھی، یورپ کے الپسی پہاڑ ابھی تک نیوکلیئر گردوغبار سے آلودہ پڑے ہیں۔ فرانسیسی اخبار لی مونڈ بیان کرتا ہے کہ ایک حالیہ تجزیے نے تابکا‌ری آئسوٹوپس سیزیئم-‏ ۱۳۷ کے انتہائی درجوں کو آشکارا کِیا ہے۔ بعض جگہوں پر تابکا‌ری عمل نیوکلیئر فاسد مادوں کی نشاندہی کرنے والے یورپی معیار سے بھی ۵۰ گُنا زیادہ تھا۔ سب سے زیادہ آلودہ نمونے جنوب مشرقی فرانس میں مرکین‌ٹر نیشنل پارک، سووس اٹے‌لین سرحد پر میٹرہارن؛ اٹلی میں کورٹینا؛ اور آسٹریا میں ہو ٹورین پارک سے حاصل ہوئے۔ حکام متاثرہ ممالک سے درخواست کر رہے ہیں کہ وہ پانی اور مشرومز اور دودھ جیسے زودحس کھانوں پر تابکا‌ری اثرات کی شرح کا جائزہ لیں۔‏

خاندان کا اکٹھے کھانا کھانا

کینیڈا کا ٹرانٹو سٹار اخبار بیان کرتا ہے کہ ۵۲۷ نوجوانوں کے ایک مطالعے نے یہ ظاہر کِیا کہ جو ہفتے میں کم‌ازکم پانچ مرتبہ اپنے خاندانوں کیساتھ کھانا کھاتے تھے اُن میں ”‏منشیات کا استعمال یا مایوسی قدرے کم پائی جاتی تھی، سکول میں زیادہ چست نظر آتے تھے اور دوستوں کیساتھ بھی اچھا رابطہ رکھتے تھے۔ جن نوجوانوں کا شمار ’‏غیرموافقت‌پذیر‘‏ لوگوں میں کِیا گیا وہ اپنے خاندانوں کیساتھ ہفتے میں تین یا اس سے بھی کم دن کھانا کھاتے تھے۔“‏ ماہرِنفسیات بروس برائن دعویٰ کرتا ہے کہ خاندان کا کھانا کھانے کا وقت ”‏ایک صحتمند خاندان کا خاصہ ہے۔“‏ رپورٹ بیان کرتی ہے کہ اکٹھے کھانا کھانا خاندانی بندھن، رابطے کی مہارتوں اور احساسِ‌تعلق کو مضبوط کرتا ہے نیز کھانے کے آداب سیکھنے اور گفتگو، ہنسی‌مذاق اور دُعا میں شریک ہونے کا موقع فراہم کرتا ہے۔ باقاعدگی سے اکٹھے کھانا کھانے والے ایک خاندان کی جواں‌سال بیٹی کہتی ہے کہ اگر اُنہوں نے ہمیشہ ایسا نہ کِیا ہوتا تو ”‏میرے خیال میں مَیں اُن کے اتنا قریب نہ ہوتی جتناکہ مَیں اب ہوں۔“‏

ہیڈفون کے باعث بہرہ‌پن

برسبان کی دی کوریئر-‏میل کے مطابق آسٹریلیا کی نیشنل آکاسٹک لیبارٹری کی طرف سے کی جانے والی تحقیق نے ظاہر کِیا کہ ذاتی سٹیریو ہیڈفون کا عام استعمال بھی اندورنی طور پر کان کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔ محقق ڈاکٹر ایرک لی‌پیج نے کہا کہ نوجوان لوگ ایسی آگاہیوں کو سنجیدہ خیال نہیں کرتے۔ اُس نے کہا کہ ”‏وہ کئی سالوں تک اکثروبیشتر اونچی آواز میں موسیقی سنتے ہیں اور پھر یہ دلیل دیتے ہیں کہ اس سے کوئی نقصان نہیں ہوتا۔“‏ ایک اخبار بیان کرتا ہے کہ ایک سروے کے مطابق آگاہیوں کا ”‏اُس وقت تک زیادہ اثر نہیں ہوتا جبتک لوگ سچ‌مچ بہرے نہیں ہو جاتے۔“‏ نئی تحقیق جرمن مطالعوں کی تصدیق کرتے ہوئے اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ وہاں پر ۱۶ سے ۲۴ سال کی عمر والے فوجیوں کی ایک چوتھائی تعداد پہلے ہی اونچی آواز میں موسیقی سننے کی وجہ سے اپنی قوتِ‌سماعت کھو چکی ہے نیز ”‏۱۶ سے ۱۸ برس کی عمر کے ۱۰ فیصد طالبعلموں کی قوتِ‌سماعت اتنی کمزور ہو چکی ہے کہ اُنہیں عام گفتگو سمجھنے میں بھی دُشواری پیش آتی ہے۔“‏

کھیل تمباکو کے تعاون سے

آسٹریلیا کی وکٹورین ہیلتھ پروموشن فاؤنڈیشن کے رانڈ گال‌بلی بیان کرتے ہیں کہ اپنی مصنوعات کے فروغ کیلئے تمباکو کی صنعت کا اتنے وسیع پیمانے پر کھیلوں اور دیگر تفریحات کو استعمال کرنا ”‏کھیلوں .‏ .‏ .‏ اور سگریٹ‌نوشی کے مابین ایک مثبت رفاقت“‏ پیدا کرتا ہے۔ نتیجتاً، کھیلوں میں تمباکو کی اکثر خفیہ تشہیر لوگوں کو سگریٹ‌نوشی کی تحریک دے سکتی ہے۔ برطانیہ میں کینسر ریسرچ کم‌پین نے دریافت کِیا کہ ”‏جو لڑکے فارمولا وَن موٹرریس دیکھتے ہیں اُنکا سگریٹ‌نوشی شروع کرنے کا امکان تقریباً دو گُنا زیادہ ہوتا ہے،“‏ پانوز نیوز ایجنسی بیان کرتی ہے۔ ”‏پورے یورپ میں، تمباکو کی کمپنیاں صرف کاروں کی ریس کی حمایت میں کئی سو ملین ڈالر خرچ کرتی ہیں۔“‏ نیز کاریں ایسے چلتے‌پھرتے اشتہار ہیں جو اکثر ٹیلی‌ویژن پر نظر آتے ہیں۔‏

ابتدائی کسان

فرانسیسی اخبار لی‌مونڈ بیان کرتا ہے کہ یورپین سائنسدانوں کی ایک ٹیم نے یہ دریافت کِیا ہے کہ مشرقِ‌وسطیٰ کے علاقے، زرخیز ہلال میں جنگلی گندم کے پودوں کا ڈی‌این‌اے آجکل کسی بھی دوسری جگہ کاشت کرنے کیلئے استعمال ہونے والی دیگر اقسام جیسا ہی تھا۔ گندم اور دیگر ”‏اوّلین فصلوں“‏ کے علاوہ اُس علاقے میں بدیہی طور پر پالتو بھیڑوں، بکریوں، سؤار اور گائے وغیرہ کو بھی پالا جاتا تھا۔ سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ وہاں سے ہی دیسی فصلوں کا استعمال یورپ اور ایشیا میں پھیل گیا ہے۔ دلچسپی کی بات ہے کہ بعض اوائلی زرعی گاؤں جہاں ہزاروں سال پہلے پُرانی گندم دریافت کی گئی ہے وہ جھیل وان اور اراراط کے پہاڑوں کے جنوب مغرب میں واقع ہیں۔‏

    اُردو زبان میں مطبوعات (‏2026-‏2000)‏
    لاگ آؤٹ
    لاگ اِن
    • اُردو
    • شیئر کریں
    • ترجیحات
    • Copyright © 2026 Watch Tower Bible and Tract Society of Pennsylvania
    • اِستعمال کی شرائط
    • رازداری کی پالیسی
    • رازداری کی سیٹنگز
    • JW.ORG
    • لاگ اِن
    شیئر کریں