یہوواہ کے گواہوں کی آن لائن لائبریری
یہوواہ کے گواہوں کی
آن لائن لائبریری
اُردو
  • بائبل
  • مطبوعات
  • اِجلاس
  • جاگو 8/‏1/‏99 ص.‏ 10-‏13
  • آزادیوں کا تحفظ—‏کیسے؟‏

اِس حصے میں کوئی ویڈیو دستیاب نہیں ہے۔

ہم معذرت خواہ ہیں کہ ویڈیو لوڈ نہیں ہو سکی۔

  • آزادیوں کا تحفظ—‏کیسے؟‏
  • جاگو!‏—‏1999ء
  • ذیلی عنوان
  • ملتا جلتا مواد
  • تعصب کی جڑوں تک پہنچنا
  • تعصب کا مقابلہ کرنے کا بہترین طریقہ
  • رواداری اور اس سے آگے
  • مناسب توازن آپکی زندگی کو دلکش بنا سکتا ہے
    جاگو!‏—‏1997ء
  • رواداری ایک سے دوسری انتہا تک
    جاگو!‏—‏1997ء
  • آجکل مذہبی تعصب
    جاگو!‏—‏1999ء
  • نسلی تعصّب کا حل کیا ہے؟‏
    مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏2007ء
مزید
جاگو!‏—‏1999ء
جاگو 8/‏1/‏99 ص.‏ 10-‏13

آزادیوں کا تحفظ‏—‏کیسے؟‏

انڈونیشیاکے ایک چھوٹے سے قصبے ریسڈیک‌لوک میں قبائلی گروہ سالہاسال سے باہم ملکر پُرامن زندگی بسر کر رہے تھے۔ تاہم، جنوری ۳۰، ۱۹۹۷ میں ظاہری رواداری ختم ہو گئی۔ ظلم‌وتشدد کا آغاز اُس وقت ہوا جب ایک مذہبی تہوار کے دن صبح تین بجے سے ذرا پہلے اُس مذہب کے معتقد نے اپنا ڈھول بجانا شروع کر دیا۔ شور سے تنگ آ کر دوسرے مذہب کے ایک شخص نے اپنے پڑوسی پر گالیوں کی بوچھاڑ کر دی۔ شدید تلخ‌کلامی کے بعد پتھراؤ شروع ہو گیا۔ اتنے میں دن چڑھ گیا اور دیگر لوگوں کے جھگڑے میں شامل ہو جانے سے بلوہ بڑھ گیا۔ دن کے آخر تک دو بدھسٹ مندر اور چار گرجے تباہ ہو چکے تھے۔ دی انٹرنیشنل ہیرلڈ ٹرائیبیون اخبار نے اس واقعے کو اِس عنوان کے تحت پیش کِیا، ”‏تعصب کی چنگاری طبقاتی فساد کی آگ کو ہوا دیتی ہے۔“‏

کئی ایک ممالک میں، طبقاتی اقلیتیں جن کے حقوق کا تحفظ قانون کرتا ہے اکثر تعصب کا نشانہ بنتی ہیں۔ قانونی آزادی کی ضمانت واضح طور پر تعصب کی بنیادی وجوہات کو ختم نہیں کرتی۔ درپردہ تعصب کا یہ مطلب نہیں کہ اس کا کوئی وجود ہی نہیں ہے۔ مستقبل میں اگر کبھی حالات بدل جاتے ہیں اور شاید غیررواداری کی فضا پیدا ہو جاتی ہے تو پوشیدہ تعصب آسانی سے منظرِعام پر آ سکتا ہے۔ اگرچہ لوگوں کو براہِ‌راست اذیت کا نشانہ تو نہیں بنایا جاتا تو بھی وہ شاید نفرت کا نشانہ بنیں یا شاید اُن کے نظریات کا گلا گھونٹ دیا جائے۔ اسے کیسے روکا جا سکتا ہے؟‏

تعصب کی جڑوں تک پہنچنا

قدرتی بات ہے کہ ہم ہر مختلف اور غیرمعمولی چیز کو رد کرنے یا اُس پر شک کرنے کا میلان رکھتے ہیں، بالخصوص ایسے نظریات کی بابت جو ہمارے اپنے نظریات سے مختلف ہوتے ہیں۔ تاہم کیا اسکا یہ مطلب ہے کہ رواداری ناممکن ہے؟ یواین کی اشاعت الیمینیشن آف آل فارمز آف انٹولیرنس اینڈ ڈسکریمینیشن بیسڈ آن ریلیجن اَور بیلیف جہالت اور فہم کے فقدان کو ”‏مذہب اور اعتقادات کے معاملے میں تعصب اور امتیاز کی سب سے اہم وجوہات“‏ قرار دیتی ہے۔ تاہم، تعصب کی بنیادی جڑ، جہالت کا مقابلہ کِیا جا سکتا ہے۔ کیسے؟ متوازن تعلیم کے ذریعے۔ انسانی حقوق سے متعلق یواین کمیشن کی رپورٹ بیان کرتی ہے، ”‏تعلیم امتیاز اور تعصب کا مقابلہ کرنے کا بنیادی ذریعہ ہو سکتی ہے۔“‏

اس تعلیم کا ہدف کیا ہونا چاہئے؟ میگزین یونیسکو کوریئر تجویز کرتا ہے کہ مذہبی تحاریک کو مسترد کرنے کی حوصلہ‌افزائی کرنے کی بجائے، ”‏رواداری کیلئے تعلیم کا مقصد دوسروں میں خوف اور بنیادی حقوق سے محروم ہونے کا احساس پیدا کرنے والے اثرات کو زائل کرنا ہونا چاہئے نیز اسے نوجوان لوگوں کی آزادانہ فیصلہ کرنے، تنقیدی سوچ رکھنے اور بااخلاق استدلال کرنے کی صلاحیتوں کو اپنے اندر پیدا کرنے میں مدد کرنی چاہئے۔“‏

واضح طور پر، میڈیا ”‏تنقیدی سوچ اور بااخلاق استدلال“‏ کو فروغ دینے میں ایک اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔ متعدد بین‌الاقوامی تنظیمیں نظریات کو تشکیل دینے اور باہمی مفاہمت کی حوصلہ‌افزائی کرنے کیلئے میڈیا کی قوت کو تسلیم کرتی ہیں۔ تاہم، اگر میڈیا نے تعصب کو فروغ دینے کی بجائے رواداری کی حوصلہ‌افزائی کرنا ہے جیسے کہ بعض کرتے بھی ہیں تو اس کیلئے قابلِ‌اعتماد، واقعیت‌پسندانہ صحافت درکار ہے۔ اکثراوقات صحافیوں کو رائے‌عامہ کے خلاف جانا پڑتا ہے۔ اُنہیں واقعیت‌پسندانہ تجزیات اور غیرجانبدارانہ مشاہدات کو سامنے لانا چاہئے۔ تاہم کیا یہ کافی ہے؟‏

تعصب کا مقابلہ کرنے کا بہترین طریقہ

رواداری کا یہ مطلب نہیں ہے کہ تمام لوگ ایک جیسے نظریات رکھیں۔ لوگ شاید ایکدوسرے سے متفق نہ ہوں۔ بعض شاید بہت شدت سے محسوس کریں کہ کسی دوسرے شخص کے اعتقادات غلط ہیں۔ ممکن ہے کہ وہ اپنی نااتفاقیوں کے بارے میں سرِعام بات‌چیت کریں۔ تاہم، جبتک وہ غیررواداری کی ترغیب دینے کیلئے جھوٹ نہیں بولتے، یہ تعصب نہیں ہے۔ کسی گروہ کو اذیت دینا، مخصوص قوانین کا نشانہ بنانا، پابندی عائد کرنا یا کسی دیگر طریقے سے اُنہیں اپنے اعتقادات کی پیروی کرنے سے روکنا تعصب ہے۔ تعصب کی شدید اقسام میں بعض قتل کرتے ہیں اور دیگر کو اپنے عقائد کی وجہ سے جان دینی پڑتی ہے۔‏

تعصب کا مقابلہ کیسے کِیا جا سکتا ہے؟ اسے علانیہ طور پر بالکل ویسے ہی بے‌نقاب کِیا جا سکتا ہے جیسے پولس رسول نے اپنے زمانے کے مذہبی پیشواؤں کے تعصب کو بے‌نقاب کِیا تھا۔ (‏اعمال ۲۴:‏۱۰-‏۱۳‏)‏ جب بھی ممکن ہو، تعصب کا مقابلہ کرنے کا بہترین طریقہ فعال انداز سے کام کرنا—‏رواداری کو فروغ دینا یعنی لوگوں کو دوسروں کو بہتر طور پر سمجھنے کی تعلیم دینا ہے۔ تعصب کے خاتمہ کے بارے میں یواین کی مذکورہ‌بالا رپورٹ بیان کرتی ہے:‏ ”‏چونکہ مذہب یا اعتقاد پر مبنی تعصب اور امتیاز کی تمام اقسام کی ابتدا انسانی ذہن سے ہوتی ہے، لہٰذا تمام کوششوں کا رُخ انسانی ذہن ہی کی طرف ہونا چاہئے۔“‏ ایسی تعلیم لوگوں کو اپنے اعتقادات کا جائزہ لینے کی تحریک دے سکتی ہے۔‏

اقوامِ‌متحدہ کے تعلیمی، سائنسی اور ثقافتی ادارے کے ڈائریکٹر جنرل، فیڈریکو میئر نے لکھا:‏ ”‏رواداری معتقد شخص کی خوبی ہے۔“‏ ریفارم رسالے میں لکھتے ہوئے ڈومینیکن پادری کلاؤڈ جیفری نے کہا:‏ ”‏حقیقی رواداری کا انحصار مضبوط یقین پر ہے۔“‏ جو شخص اپنے اعتقادات سے مطمئن ہے بہت اغلب ہے کہ وہ دوسروں کے اعتقادات سے خطرہ محسوس نہیں کرتا۔‏

یہوواہ کے گواہوں نے رواداری کو فروغ دینے کے سلسلے میں مختلف اعتقادات والے لوگوں کیساتھ بات‌چیت کو ایک عمدہ طریقہ پایا ہے۔ گواہ یسوع کی اس پیشینگوئی کو سنجیدگی سے لیتے ہیں کہ ”‏بادشاہی کی اس خوشخبری کی منادی تمام دُنیا میں ہوگی تاکہ سب قوموں کے لئے گواہی ہو،“‏ اور وہ اپنی عوامی بشارتی خدمتگزاری کے لئے کافی مشہور ہیں۔ (‏متی ۲۴:‏۱۴‏)‏ اِس کام میں، اُنہیں دہریوں سمیت مختلف مذاہب کے لوگوں سے اُنکے اعتقادات کی بابت سننے کا موقع ملتا ہے۔ اسکی بدولت، گواہ اُن لوگوں کے سامنے جو سننا چاہتے ہیں اپنے اعتقادات کی وضاحت کرنے کے لئے تیار ہوتے ہیں۔ یوں وہ علم‌وفہم میں ترقی کو فروغ دیتے ہیں۔ ایسا علم‌وفہم رواداری کے پھلنے‌پھولنے کو آسان بناتا ہے۔‏

رواداری اور اس سے آگے

بہتیروں کی نیک تمناؤں اور بعض کی متحدہ کوششوں کے باوجود، بِلاشُبہ مذہبی تعصب آجکل بھی ایک مسئلہ ہے۔ حقیقی تبدیلی کے لئے کچھ اَور بھی درکار ہے۔ فرنچ اخبار لی مونڈ ڈی ڈاباٹس نے مسئلے کو کچھ اس طرح پیش کِیا:‏ ”‏جدید معاشرہ اکثر جذباتی اور روحانی خلا کی وجہ سے تکلیف میں مبتلا رہتا ہے۔ قانون آزادی کے دشمنوں سے تحفظ کی بھی ضمانت دے سکتا ہے۔ یہ استبدادی امتیاز کے بغیر مساوات کی ضمانت دے سکتا ہے اور اِسے دینی بھی چاہئے۔“‏ کتاب ڈیموکریسی اینڈ ٹولیرنس تسلیم کرتی ہے:‏ ”‏ہمارے لئے باہمی مفاہمت اور احترام کو ایک عالمگیر ضابطہ بنانے کے نشانے تک پہنچنا ابھی دور کی بات ہے۔“‏

بائبل وعدہ کرتی ہے کہ بہت ہی جلد نوعِ‌انسان واحد برحق خدا کی سچی پرستش میں متحد ہو جائینگے۔ یہ اتحاد حقیقی عالمگیر بھائی‌چارے یا برادری پر منتج ہوگا جس میں دوسروں کا احترام کرنا عام بات ہوگی۔ انسان جہالت کی بدولت تکلیف نہیں اُٹھائینگے کیونکہ خدا کی بادشاہت لوگوں کو یہوواہ کی راہوں کی تعلیم دیگی اور یوں اُنکی ذہنی، جذباتی اور روحانی ضروریات کو پورا کرے گی۔ (‏یسعیاہ ۱۱:‏۹؛‏ ۳۰:‏۲۱؛‏ ۵۴:‏۱۳‏)‏ ساری زمین پر حقیقی مساوات اور آزادی کا راج ہوگا۔ (‏۲-‏کرنتھیوں ۳:‏۱۷‏)‏ نوغِ‌انسان کے لئے خدا کے مقاصد کی صحیح سمجھ حاصل کرنے سے آپ جہالت اور تعصب کا مقابلہ کر سکتے ہیں۔‏

‏[‏صفحہ 11 پر بکس/‏تصویر]‏

مذہب خطرے میں

حالیہ برسوں میں اربابِ‌اختیار نے فرانس میں یہوواہ کے گواہوں کو دیگر مذاہب جیسی مراعات نہ دینے سے اُنہیں دبانے کی کوشش کی ہے۔ حال ہی میں، گواہوں کی مذہبی کارگزاریوں کی کفالت کرنے کے لئے حاصل ہونے والے عطیات پر بھاری ٹیکس لگا دئے گئے ہیں۔ فرانسیسی حکام نے بدیہی طور پر فرانس میں موجود اِن ۲،۰۰،۰۰۰ مسیحیوں کے گروہ اور اُن کے حامیوں کو مفلوج کرنے کے مقصد کیساتھ غیرمنصفانہ طور پر ۵۰ ملین ڈالر کے ٹیکس (‏ٹیکس اور جرمانے)‏ عائد کئے تھے۔ یہ مذہبی تعصب کی ایک وحشیانہ کارروائی ہے جو آزادی، برادری اور مساوات کے تمام اصولوں کے منافی ہے۔‏

‏[‏صفحہ 10 پر تصویر]‏

تعصب اکثر تشدد کا سبب بنتا ہے

‏[‏صفحہ 12 پر تصویریں]‏

یہوواہ کے گواہوں کی مذہبی سرگرمیوں کے باوجود، بعض فرانسیسی حکام کا دعویٰ ہے کہ وہ کوئی مذہب نہیں ہیں!‏

    اُردو زبان میں مطبوعات (‏2026-‏2000)‏
    لاگ آؤٹ
    لاگ اِن
    • اُردو
    • شیئر کریں
    • ترجیحات
    • Copyright © 2026 Watch Tower Bible and Tract Society of Pennsylvania
    • اِستعمال کی شرائط
    • رازداری کی پالیسی
    • رازداری کی سیٹنگز
    • JW.ORG
    • لاگ اِن
    شیئر کریں