کیا کامل صحت محض ایک خواب ہے؟
کیا آپ کبھی سنگین بیماری میں مبتلا ہوئے ہیں یا کیا آپ کو ایک بڑے آپریشن کا تجربہ ہوا ہے؟ اگر ایسا ہوا ہے تو آپ غالباً اب زندگی کی اَور زیادہ قدر کرتے ہیں۔ تاہم اپنی جسمانی حالت سے قطعنظر، کیا آپ یہ یقین رکھتے ہیں کہ کامل صحت سے لطف اُٹھانا ممکن ہے؟ کینسر یا امراضِقلب جیسی کمزور کر دینے والی بیماریوں کے عام ہونے کے پیشِنظر شاید یہ غیرحقیقتپسندانہ دکھائی دے۔ بیشک، ہم میں سے بیشتر وقتاًفوقتاً بیمار ہو جاتے ہیں۔ تاہم، مکمل صحت محض ایک خواب نہیں ہے۔
بیماری اور موت کے خلاف نبردآزما ہونے کی بجائے انسان کو اچھی صحت سے لطفاندوز ہونے کیلئے خلق کِیا گیا تھا۔ لہٰذا، بیماری اور موت کے سدِباب کیلئے، یہوواہ نے مسیح یسوع کی فدیے کی قربانی کے ذریعے کامل صحت اور ابدی زندگی کی بنیاد فراہم کی۔ ”خدا نے دُنیا سے ایسی محبت رکھی کہ اس نے اپنا اکلوتا بیٹا بخش دیا تاکہ جو کوئی اس پر ایمان لائے ہلاک نہ ہو بلکہ ہمیشہ کی زندگی پائے۔“ (یوحنا ۳:۱۶) جو لوگ خدا کی موعودہ نئی دُنیا میں ابد تک زندہ رہینگے اُنہیں خراب صحت یا بڑھاپے کے خلاف نبردآزما نہیں ہونا پڑیگا۔ اگر ایسا ہے تو پھر جسمانی کمزوریوں کا کیا ہوگا؟
بیماری سے نجات
جس طریقے سے یسوع مسیح نے بیماروں کو شفا دی وہ ہمارے لئے ایک نمونہ فراہم کرتا ہے۔ ایسی شفاؤں کی بابت کہا جاتا تھا: ”اندھے دیکھتے اور لنگڑے چلتے پھرتے ہیں۔ کوڑھی پاک صاف کئے جاتے اور بہرے سنتے ہیں اور مردے زندہ کئے جاتے ہیں اور غریبوں کو خوشخبری سنائی جاتی ہے۔“ (متی ۱۱:۳-۵) جیہاں، یسوع کے پاس آنے والے سب معذور لوگ ”اچھے ہو گئے۔“ (متی ۱۴:۳۶) نتیجتاً، ”جب لوگوں نے دیکھا کہ گونگے بولتے۔ ٹنڈے تندرست ہوتے اور لنگڑے چلتے پھرتے اور اندھے دیکھتے ہیں تو تعجب کِیا اور اؔسرائیل کے خدا کی تمجید کی۔“—متی ۱۵:۳۱۔
درحقیقت، فیزمانہ اگرچہ کوئی بھی شخص ایسی شفائیں نہیں بخش سکتا تو بھی ہم یہ یقین رکھ سکتے ہیں کہ خدا کی حکمرانی کے تحت انسانوں کو کامل بنایا جائے گا، دماغی اور جسمانی بیماریوں سے شفا بخشی جائے گی۔ خدا کا وعدہ مکاشفہ ۲۱:۳، ۴ میں درج ہے: ”دیکھ خدا کا خیمہ آدمیوں کے درمیان ہے اور وہ اُن کے ساتھ سکونت کرے گا اور وہ اُس کے لوگ ہونگے اور خدا آپ اُن کے ساتھ رہے گا اور اُن کا خدا ہوگا۔ اور وہ اُن کی آنکھوں کے سب آنسو پونچھ دے گا۔ اِس کے بعد نہ موت رہے گی اور نہ ماتم رہے گا۔ نہ آہونالہ نہ درد۔ پہلی چیزیں جاتی رہیں۔“
ایک ایسی دُنیا کا تصور کریں جہاں فارماسوٹیکل انڈسٹری یا ہسپتالوں، سرجری یا کسی بھی طرح کے علاج کی کوئی ضرورت نہیں ہو گی! مزیدبرآں، بحالشُدہ فردوس میں، مایوسی اور دماغی بیماریاں گئی گزری باتیں ہونگی۔ زندگی حقیقی خوشی اور شادمانی کا دائمی احساس ہوگی۔ واقعی، خدا کی لامحدود قوت بدن کے ازسرِنو بحال کرنے کے عمل کو متحرک کریگی اور فدیے کے فوائد گناہ کے کمزور کرنے والے اثر کو مٹا ڈالینگے۔ ”وہاں کے باشندوں میں بھی کوئی نہ کہیگا کہ مَیں بیمار ہوں۔“—یسعیاہ ۳۳:۲۴۔
خدا کی بادشاہت کے تحت کامل جسمانی اور روحانی صحت سے لطفاندوز ہونے کی کیا ہی شاندار اُمید! جب آپ اس وقت ایک متوازن اور صحتمندانہ طرزِزندگی برقرار رکھتے ہیں تو پھر خدا کی نئی دُنیا کی برکات کے منتظر رہیں۔ دُعا ہے کہ یہوواہ ’آپکو عمربھر اچھی چیزوں سے آسودہ کرتا رہے اور آپ کی جوانی عقاب کی مانند ازسرِنو بحال ہوتی رہے‘!—زبور ۱۰۳:۵۔