دُنیا کا نظارہ کرنا
تناسلی ہرپیز میں اضافہ
”ایڈز سے بچنے کیلئے محفوظ جنسی تعلقات پر زور دینے کے باوجود، ۱۹۷۰ کے عشرے کے آخر سے“ ریاستہائے متحدہ میں ”سفیدفام نوعمروں میں تناسلی ہرپیز میں پانچ گُنا اضافہ ہوا ہے،“ ایک ایسوسیایٹڈ پریس رپورٹ بیان کرتی ہے۔ تاہم، یہ نوٹ کِیا گیا تھا کہ اسی عرصہ کے دوران سوزاک جیسی دیگر جنسی طور پر لگنے والی بیماریوں میں کمی واقع ہوئی۔ ہرپیز میں اضافہ کیوں؟ مختلف وجوہات میں، شادی سے پہلے جنسی تعلقات اور لوگوں کا متعدد جنسی رفقاء رکھنا بھی شامل ہے۔ اب یہ اندازہ لگایا گیا ہے کہ ۴۵ ملین امریکی ہرپیز کے وائرس سے متاثرہ ہیں جن میں سے بیشتر اس سے بےخبر ہیں۔ یہ وائرس تناسلی حصے میں اور بعضاوقات سرینوں کے گِرد یا رانوں پر کبھیکبھار آبلے یا خارش پیدا کرتا ہے۔
چرچ آف انگلینڈ کی زوالپذیری
ہر اتوار چرچ آف انگلینڈ کی حاضریوں کا باضابطہ تخمینہ ایک ملین ہے۔ خفیہ طور پر، بعض سینیئر پادری اس بات کو تسلیم کرتے ہیں کہ اُن کے چرچز کی حاضری ۲۵ فیصد کم ہو سکتی ہے۔ تاہم، ایک سائنسی سروے ظاہر کرتا ہے کہ پاک شراکت حاصل کرنے والے اراکین کی بنیادی تعداد پہلی مرتبہ نصف ملین سے بھی کم ہے۔ پادری طبقہ اپنی حاضری کے اعداد کو بڑھانے کی طرف اسقدر مائل کیوں ہے؟ درحقیقت، اپنے چرچز کو بند ہو جانے سے بچانے کیلئے۔ جب ایسا ہوتا ہے تو چھوٹے کلیسیائی حلقوں کو اکٹھا کر دیا جاتا ہے اور اس کیلئے کم پادریوں کی ضرورت ہوتی ہے۔ ایک چھوٹے کلیسیائی حلقے کے پادری نے بڑی دیانتداری سے یہ کہا: ”مَیں حاضرین کی تعداد کو بڑھاچڑھا کر بیان کرنے کا میلان رکھتا ہوں۔ جب بہت کم لوگ حاضر ہوتے ہیں تو بڑی حوصلہشکنی ہوتی ہے لہٰذا یہ اندراج کرنا کہ درحقیقت زیادہ لوگ حاضر ہوئے ہیں مجھے ذاتی طور پر حوصلہافزائی فراہم کرتا ہے،“ لندن کا دی سنڈے ٹائمز رپورٹ دیتا ہے۔
شوہر بیوی کے خلاف سگریٹنوشی کا مقدمہ دائر کرتا ہے
رچرڈ تھامس ۲۰ سے زائد برسوں تک، سگریٹنوشی چھڑوانے کی کوشش میں، اپنی بیوی کی منتسماجت کرتا رہا مگر یہ سب بیکار ثابت ہوا۔ لہٰذا وہ اُسے عدالت میں لے گیا۔ مسٹر تھامس نے کہا کہ وہ چاہتا ہے کہ حکومت اُسے اُس عورت کی محبت اور حمایت اور رفاقت سے محروم ہونے سے بچا لے جسے وہ بہت پیار کرتا ہے۔ وہ پہلے ہی عارضۂقلب کے باعث اپنی ماں کھو چکا ہے اور پھر اُسکے باپ کو فالج ہو گیا جسکی وجہ سے وہ سات سال کیلئے صاحبِفراش ہو کر رہ گیا۔ اُسکے دونوں والدین بہت زیادہ سگریٹنوشی کرتے تھے اور اُس نے کہا کہ اب وہ نکوٹین کے نشے کی وجہ سے اپنی بیوی کو کھونا نہیں چاہتا۔ تاہم، اس سے پیشتر کے عدالت کوئی فیصلہ سناتی، مسٹر تھامس ایک خوشخبری کیساتھ واپس عدالت میں آئے۔ ”میری بیوی سگریٹنوشی ترک کرنے پر راضی ہو گئی ہے،“ اُس نے کہا۔ مسز تھامس نشے کا علاج کرنے والے مرکز میں داخل ہو گئی اور سگریٹنوشی کو ہمیشہہمیشہ کے لئے خیرباد کہہ دینے کا عہد کِیا۔ دی نیو یارک ٹائمز کے مطابق، جب وہ کمرۂعدالت سے باہر نکلے تو مسٹر اور مسز تھامس نے ایک دوسرے کے ہاتھ تھامے ہوئے تھے۔
آسٹریلیا کے جنگلی اونٹ
کئی سال پہلے مُلک کے ناہموار دیہاتی علاقوں میں ٹیلیگراف لائن اور ریلوے کی تعمیر کے کام کے لئے آسٹریلیا میں اونٹ درآمد کئے گئے تھے۔ جب ان جفاکش جانوروں کی جگہ ٹرکوں نے لے لی تو ان کے بہت سے افغان مالکان نے انہیں ذبح کرنے کی بجائے جنگل میں چھوڑ دیا۔ اونٹ خشک وسطی آسٹریلیا میں پھلنےپھولنے لگے اور آج وہاں کوئی ۲،۰۰،۰۰۰ اونٹ پائے جاتے ہیں۔ اب بعض لوگوں کا خیال ہے کہ اونٹ بیشقیمت قومی اثاثہ بن سکتے ہیں، دی آسٹریلین اخبار بیان کرتا ہے۔ اونٹ کے گوشت کو پہلے ہی آزمایا جا چکا ہے اور دیکھنے میں آیا ہے کہ یہ گائے کے گوشت کی طرح نرم اور اس میں چربی کی مقدار بھی نسبتاً کم ہے۔ اونٹ سے حاصل ہونے والی دیگر اشیاء میں کھالیں، دودھ، اون اور صابن اور کاسمیٹکس میں استعمال ہونے والا روغن شامل ہے۔ زندہ اونٹوں کی بھی بڑی مانگ ہے۔ سینٹرل آسٹریلین کیمل انڈسٹری کے پیٹر سیڈل کے مطابق، ”بہتیرے بینالاقوامی چڑیاگھر اور ٹورسٹ پارکس آسٹریلین اونٹ حاصل کرنا چاہتے ہیں کیونکہ ہمارا گلّہ بیماریوں سے پاک ہے۔“
آرسینک پوائزننگ [سنکھیا خورانی]
”بنگلادیش کے تقریباً ۱۵ ملین لوگ اور کلکتہ سمیت، مغربی بنگال کے ۳۰ ملین لوگ آرسینک پوائزننگ کے خطرے میں مبتلا ہیں،“ دی ٹائمز آف انڈیا بیان کرتا ہے۔ اس مسئلے کا سبب زرعی انقلاب کی ایک غیرمتوقع ضمنی پیداوار ہے۔ جب فصلوں کی آبیاری کے لئے گہرے کنویں کھودے گئے تو قدرتی طور پر زمین میں چھپا ہوا سنکھیا پانی کے اُوپر آ گیا اور انجامکار پینے کے لئے استعمال ہونے والے کنوؤں میں رِسنے لگا۔ یونیورسٹی آف کولوراڈو، یو.ایس.اے. کے ماحولیاتی ماہر وِلارڈ چیپل نے حال ہی میں متاثرہ علاقوں کا دَورہ کِیا اور اس مسئلے کو ”اب تک دُنیا میں بڑی مقدار میں زہر پھیلنے کے سب سے بڑے معاملے“ کے طور پر بیان کِیا۔ ۲،۰۰،۰۰۰ سے زیادہ لوگ پہلے ہی جلدی امراض کا شکار ہیں جو آرسینک پوائزننگ کی ایک علامت ہے۔ ”یوں دکھائی دیتا ہے کہ ہم نے (زرعی انقلابات کے ذریعے) بھوک کو تو ختم کر لیا ہے مگر اس طریقۂعمل سے زیادہ مصیبت پیدا کر لی ہے،“ بنگلادیش کے ایک سرکاری اہلکار، عاشق علی نے بیان کِیا۔
ملازمتپیشہ مائیں
۱۹۹۱ میں نیشنل ایسوسیایشن آف ورکنگ ویمن نے اندازہ لگایا کہ ”۱۹۹۰ کے دہے کے وسط تک، سکول جانے کی عمر سے کم عمر کے بچوں والی ۶۵ فیصد [امریکی] عورتیں اور سکول جانے کی عمر کے بچوں والی ۷۷ فیصد عورتیں ملازمت کرنے والے لوگوں میں شامل ہو جائینگی۔“ اُن کی پیشگوئی کسقدر درست تھی؟ ۱۹۹۶ میں، یو.ایس. کے محکمۂمردم شماری کے مطابق، پانچ سال سے کم عمر بچوں والی ۶۳ فیصد عورتیں ملازمت کر رہی تھیں۔ دی واشنگٹن پوسٹ بیان کرتا ہے۔ سکول جانے کی عمر کے بچوں والی ۷۸ فیصد عورتیں ملازمتپیشہ مائیں تھیں۔ یورپ کی بابت کیا ہے؟ یورپین یونین کے محکمۂشماریات کی مرتبکردہ معلومات کے مطابق، ۱۹۹۵ کے دوران یورپین ممالک کے اندر ”۵ سے ۱۶ برس کی عمر کے بچوں والی ملازمتپیشہ عورتوں کا تناسب،“ پُرتگال ۶۹ فیصد، آسٹریا ۶۷، فرانس ۶۳، فنلینڈ ۶۳، بیلجیئم ۶۲، برطانیہ ۵۹، جرمنی ۵۷، نیدرلینڈ ۵۱، یونان ۴۷، لکسمبرگ ۴۵، اٹلی ۴۳، آئرلینڈ ۳۹ اور سپین ۳۶ تھا۔
دیوالیہپن عام ہوتا جا رہا ہے
نیوزویک میگزین بیان کرتا ہے کہ ۱۹۹۶ میں ”۲.۱ ملین امریکیوں کی ریکارڈ تعداد نے دیوالیہپن کا باضابطہ اعلان کِیا جو ۱۹۹۴ کے مقابلے میں ۴۴ فیصد زیادہ تھی۔“ ”دیوالیہپن اسقدر عام ہو گیا ہے کہ اب یہ رسوائی خیال نہیں کِیا جاتا۔“ کیا چیز دیوالیہپن میں اضافے کا سبب ثابت ہوئی ہے؟ ایک وجہ تو ”دیوالیہپن کی زندگی بسر کرنے کے نئے ڈھنگ کے طور پر بڑھتی ہوئی قبولیت ہے،“ نیوزویک کہتا ہے۔ ”قرضخواہ کہتے ہیں کہ یہ تبدیلئرُجحان ناجائز فائدہ اُٹھانے کا سبب بن رہی ہے: ایک جائزے کے مطابق دیوالیہپن کے داعی لوگوں کا ۴۵ فیصد اپنا زیادہتر قرض ادا کر سکتا ہے۔“ مگر اپنا قرض ادا کرنے کی خواہش اور احساسِندامت کا اظہار کرنے کی بجائے بہتیرے محض یہ کہہ رہے ہیں کہ ’مجھے ایک نئے آغاز کی ضرورت ہے۔‘ زیادہ سے زیادہ اشخاص اور تنظیمیں دیوالیہپن کی راہ اختیار کر رہی ہیں اور وہ وکلاء کے ان اشتہاروں سے بھی اثرپذیر ہوتے ہیں کہ ”آپ کے قرضے کے مسائل کا فوری اور آسان حل!!“ اس تیزرفتار معیشت کے دوران جب دیوالیہپن میں اضافہ ہوتا ہے تو ماہرین اس خیال سے لرزاں ہیں کہ اگر سٹاک مارکیٹ میں بھاؤ گِر جائیں یا کسادبازاری واقع ہو جائے تو کیا ہوگا۔
ماہیگیری کے تباہکُن طریقے
ماہیگیری کے تجارتی بیڑے مچھلیوں کی ہمہوقت کم ہوتی ہوئی تعداد کی تلاش میں سمندر کی تہہ تک پہنچنے کیلئے سازوسامان حاصل کرنے میں سرمایہ لگا رہے ہیں۔ پہلے چھوڑ دی گئی اقسام کو اُوپر لانے کیلئے سمندر کی تہہ تک پہنچنے والے اس سازوسامان کو جو موبائیل گیئر کہلاتا ہے ۳،۹۰۰ فٹ تک کی گہرائی میں سمندر کی تہہ کیساتھ ساتھ گھسیٹا جاتا ہے۔ مسئلہ یہ ہے کہ اس عمل میں ”ٹیوب ورمز، اسفنج، آنیمونیز، ہائیڈروزوآنز، ارچنز اور دیگر سمندری جانور یا پودے“ پکڑے جاتے ہیں جنہیں ”کچرا سمجھ کر ضائع کر دیا جاتا ہے،“ سائنس نیوز رپورٹ دیتا ہے۔ انہیں تباہ کرنا مچھلیوں کی تعداد میں کمی کو بڑھاتا ہے۔ چونکہ یہی جانور چھوٹی مچھلیوں کیلئے خوراک اور گھر فراہم کرتے ہیں، اسلئے ریڈمنڈ، واشنگٹن، یو.ایس.اے. میں میرین کنزرویشن بائیالوجی انسٹیٹیوٹ کے ڈائریکٹر ایلیٹ نورس بیان کرتے ہیں کہ ماہیگیری کے اس طریقے سے سمندری جانوروں اور پودوں کے اصلی علاقے کی تباہی کا موازنہ ”زمین پر جنگلات کے یکسر خاتمے سے کِیا جا سکتا ہے۔“
برطانیہ میں نوعمروں کی اخلاقیات
ایک حالیہ رپورٹ کے مطابق برطانیہ کے مذہبی ادارے نوعمروں میں جنسی اخلاقیات جاگزیں کرنے کی جدوجہد میں ناکامی کا سامنا کر رہے ہیں۔ لندن یونیورسٹی نے ۳،۰۰۰ نوعمروں سے سوال کِیا کہ ”آیا اخلاقی اعتبار سے کسی ایسے غیرشادیشُدہ جوڑے کا جنسی تعلقات کرنا غلط ہوگا جو طویل عرصہ سے اکٹھا رہتا ہو۔“ حسبِتوقع، دہریے یا لاادریے ہونے کا دعویٰ کرنے والے تقریباً سب لوگوں نے کہا کہ نہیں۔ تاہم، ۴.۸۵ فیصد رومن کیتھولک لوگوں اور ۸۰ فیصد اینگلیکن لوگوں نے بھی کہا کہ یہ غلط نہیں ہوگا۔ بہتیرے دیگر مذاہب جن میں مسلم، یہودی، ہندو اور دیگر لوگوں کو بطور ایک گروپ کے شامل کِیا گیا تھا، اُنکے اعدادوشمار بھی تقریباً ایسے ہی تھے۔ یہ سروے ”جنسی اخلاقیات کے روایتی معیاروں کو برقرار رکھنے کیلئے کوشاں چرچز کیلئے ملالانگیز معلومات پیش کریگا،“ لندن کے دی ٹائمز نے تبصرہ کِیا۔