ہمارے قارئین کی طرف سے
ارتقاء بمقابلہ تخلیق سلسلہوار مضامین ”ہم کیسے وجود میں آئے؟ اتفاقاً یا قصداً؟“ (مئی ۸، ۱۹۹۷) فصاحت، سادگی اور اعلیٰ منطق کیساتھ پیش کئے گئے تھے۔ میرے لئے ایک کے بعد ایک صفحے پر، تخلیق کے سائنسی ثبوت کو دیکھنا ہیجانخیز تھا۔ تصاویر نہایت اثرآفریں تھیں۔ مَیں نے بالخصوص خلیے اور اسکے تمام حصوں کی بابت دوبارہ پڑھنے سے لطف اُٹھایا۔ مائٹوکونڈرین اور گالجیباڈیز کے عمل پر غوروخوض تو مَیں نے سکول کے زمانے سے کبھی نہیں کِیا تھا، بہرحال مَیں نے اس سے پوری طرح لطف اُٹھایا۔
جے. ایس.، ریاستہائے متحدہ
حیاتیات کے طالبعلم اور عمربھر ایک لاادریے شخص کے طور پر، مَیں ان مضامین کیلئے آپ کا شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں۔ اگرچہ مضامین میں بعض جگہ حد سے زیادہ تسہیل سے کام لیا گیا . . . مگر پھربھی انہوں نے موجودہ ارتقا کے نظریے کے حقیقی مسئلے پر توجہ دلائی: ثبوت میں متعدد نقائص کے باوجود، بقائےاصلح کی بِنا پر سائنسی طبقے کا تفوقِارتقا کا قریباً ہمہگیر مفروضہ۔ اگر سائنس کو واقعی سائنس کہلانا ہے تو اِسے مُتشکِک حضرات کے معیاروں پر مسلسل پورا اُترنا چاہئے۔ نیو-ڈاروِنین تھیوری کی خامیوں پر توجہ دلانے سے آپ نہ صرف یہوواہ پر ایمان کے حق میں دلیل پیش کر رہے ہیں بلکہ آئندہ سائنسی تحقیق کیلئے خدمت بھی انجام دے رہے ہیں۔ آپ کا شکریہ۔
اے. ایس.، ریاستہائے متحدہ
نقلمکانی ”نقلمکانی کرنے کی لاگت کا حساب لگائیں!“ مَیں اس مضمون کی واقعی قدر کرتا ہوں۔ (مئی ۸، ۱۹۹۷) آپ نے جوکچھ لکھا مجھے اُس میں سے بیشتر کا تجربہ ہو رہا ہے۔ افریقہ سے نقلمکانی کر کے یورپ آنے کے بعد سے مجھے مسلسل نسل، زبان، رنگ اور سب سے بڑھکر تعصّب سے متعلق تکلیفدہ مسابقہآرائیوں کا سامنا رہا ہے۔ مشہور ذرائع ابلاغ نے لوگوں کے سامنے بالعموم افریقیوں اور دوسرے غیرملکیوں کا بہت بگڑا ہوا تصور پیش کِیا ہے۔
پی. اے.، جرمنی
تفریح ”تفریح کو کیا ہو گیا ہے؟“ (مئی ۲۲، ۱۹۹۷) مضمون کیلئے آپ کا شکریہ۔ میری عمر ۱۲ سال ہے اور اپنی سکول کی تعطیلات کے دوران مَیں بہت زیادہ ٹیوی دیکھتی رہی ہوں۔ اس مضمون نے یہ سمجھنے میں میری مدد کی کہ دیگر بہت سی تفریحی سرگرمیاں بھی ہیں جن میں مَیں حصہ لے سکتی ہوں۔
جے. ایل.، انگلینڈ
افریقی دیہاتوں میں منادی کرنا ”مُرغ جس لئے بارش میں طرارے بھرتا ہے . . .“ (مئی ۲۲، ۱۹۹۷) مَیں اس مضمون کیلئے آپ کا شکریہ ادا کرنا چاہونگی۔ ہمارے نائجیریا کے بھائی جس خودایثارانہ جذبے اور برداشت کے مالک ہیں مَیں اُسکی قدر کرتی ہوں۔ اگرچہ اُنہیں سانپوں، مگرمچھوں اور جونکوں کا سامنا کرنا پڑا تَوبھی لوگوں کیلئے اُنکی محبت نے اُنکے حوصلے بلند رکھے۔ آئندہ جب مَیں منادی میں جاؤنگی اور گرمی یا تھکاوٹ محسوس کرونگی تو مَیں نائجیریا کے اپنے پیارے بھائیوں کو ضرور یاد کرونگی۔
ایس. ایس.، ریاستہائے متحدہ
جنسیات—بدلتے ہوئے رُجحانات ”جنسیات—بدلتے ہوئے رُجحانات کا کیا مطلب ہے۔“ (جون ۸، ۱۹۹۷) کے سلسلہوار مضامین کیلئے مَیں اپنی دلی شکرگزاری کا اظہار کرنا چاہونگی۔ یہ میرے ایمان کیلئے بہت بڑی تقویت تھا۔ حال ہی میں میرے پڑوس میں رہنے والے مرد نے مجھ [ایک عورت] سے کہا کہ مَیں ’جسمانی طور پر معذور ہوں‘ کیونکہ میری عمر ۱۹ سال ہے اور مَیں ابھی تک کنواری ہوں۔ مجھے خوشی ہے کہ مَیں اُسے یہ بتانے کے لائق تھی کہ مَیں یہوواہ کی نظروں میں جسمانی اور روحانی دونوں لحاظ سے تندرست ہوں۔
ڈبلیو. ایم. سی. سی .، زمبابوے
آپ نے صفحہ ۱۰ پر ”آزادانہ جینز“ کے حوالے سے جو بات کی ہے وہ غلط ہے۔ حیاتیاتی سائنس میں چوتھے سال کی طالبہ کے طور پر، مَیں آپ کو بتا سکتی ہوں کہ ”آزادانہ جینز“ کروموسوم کے جینز کی طرف اشارہ کرتے ہیں جو کروموسوم کے اندر ہی حرکت کرتے ہیں یا نئے کروموسوم میں ازسرِنو جگہ بناتے ہیں۔ اسکا رویے کیساتھ کوئی تعلق نہیں۔
ایل. پی.، کینیڈا
یہ بیان کہ خدا نے ہمیں ”آزادانہ جینز“ کیساتھ نہیں بنایا تھا دراصل ایڈنبرگ، سکاٹلینڈ کے ایک اینگلیکن بشپ کی پیشکردہ ایک تقریر سے حوالہ تھا، جس کا کچھ اقتباس ”جاگو!“ کے اس شمارے کے صفحہ ۴ پر پیش کِیا گیا تھا۔ بشپ نے کہا تھا کہ ”خدا نے . . . ہمیں آزادانہ جینز عطا کئے ہیں“—اخلاقسوز رویے کا عذر پیش کرنے کی ایک واضح کوشش۔ ہمارے مضمون نے ایسے دعوؤں کی حماقت کا پردہ فاش کِیا تھا۔—ایڈی۔