سڑک پر جنگلی جانوروں کا تحفظ
برطانیہ میں جاگو! کے مراسلہنگار سے
برطانیہ کی سڑکوں پر ہر سال سینکڑوں لومڑیاں اور اتنے ہی خارپُشت اور خرگوش اور ۴۰،۰۰۰ بجو، ۵،۰۰۰ اُلو اور ایک ملین سے زیادہ مینڈک مارے جاتے ہیں۔ سردیوں کی دُھند اور اندھیرا، شاہراؤں پر تیزرفتار کاروں کے ذریعے جنگلی جانوروں کی ہلاکت کا سبب بنتے ہیں۔ اکثر ڈرائیور کسی جانور کو بچانے کیلئے اچانک گاڑی کو ایک طرف موڑ لیتے ہیں لیکن اس طرح وہ اپنی گاڑی کو تباہ کر بیٹھتے یا کسی دوسری گاڑی سے ٹکرا جاتے ہیں۔ بعضاوقات یہ انسانی جان کے ضیاع پر منتج ہوتا ہے۔ جانوروں کیساتھ حادثے کے بعد بہتیرے ڈرائیوروں کو ذہنی صدمہ پہنچتا ہے اور پولیس رپورٹس کے مطابق، بہتیرے اپنا سفر جاری رکھنے کے قابل نہیں رہتے۔
برطانیہ میں ہرنوں کو خوفزدہ کر کے سڑکوں سے دور رکھنے کیلئے بعض شاہراؤں پر انتظامیہ نے خاص عکسانداز نصب کئے ہیں۔ جب کسی کار کی ہیڈلائٹس سے روشنی ان عکساندازوں سے ٹکراتی ہے تو وہ کسی بھیڑیے کی آنکھوں کی مانند نظر آتے ہیں! دیگر مقامات پر، درخت سڑکوں سے معمول سے زیادہ فاصلے پر لگائے گئے ہیں تاکہ ڈرائیور کسی بھی جنگلی جانور کو بہتر طور پر دیکھ سکیں۔ ریاستہائے متحدہ میں، بعض مالکان نے اپنی گاڑیوں میں ایسی سیٹیاں نصب کروائی ہیں کہ جب گاڑی ۳۵ میل فی گھنٹہ کی رفتار سے زیادہ تیز چل رہی ہو تو یہ بہت اونچی فریکونسی کی آواز پیدا کرتی ہیں۔ سیٹیوں میں سے ہوا کا گزر ۶۰-ڈیسیبل فریکونسی کی آواز پیدا کرتا ہے جسے انسانی کان تو نہیں سن سکتے تاہم جنگلی جانور واضح طور پر سن لیتے ہیں۔ یہ اُن جانوروں کیلئے بہت مفید ثابت ہوا ہے جن کے کان آگے کی طرف ہوتے ہیں۔ پولیس کے مطابق، اس سیٹی کو استعمال کرنے کے ایک تجربے میں ہرنوں کے ٹکرانے کی شرح میں ۵۰ فیصد کمی واقع ہوئی ہے۔
آپ شاہراؤں پر خطرے اور جنگلی جانوروں کی بیجا ہلاکت سے کس طرح اجتناب کر سکتے ہیں؟ بالخصوص سردیوں میں یا رات کو جب آپ گاڑی چلائیں تو رفتار کم رکھیں اور سڑک پر ایسے مختلف نشانات کو دیکھنے کی کوشش کریں جو آپ کو جانوروں کی موجودگی سے آگاہ کرتے ہیں۔