یہوواہ کے گواہوں کی آن لائن لائبریری
یہوواہ کے گواہوں کی
آن لائن لائبریری
اُردو
  • بائبل
  • مطبوعات
  • اِجلاس
  • جاگو97 8/‏10 ص.‏ 28-‏29
  • دُنیا کا نظارہ کرنا

اِس حصے میں کوئی ویڈیو دستیاب نہیں ہے۔

ہم معذرت خواہ ہیں کہ ویڈیو لوڈ نہیں ہو سکی۔

  • دُنیا کا نظارہ کرنا
  • جاگو!‏—‏1997ء
  • ذیلی عنوان
  • ملتا جلتا مواد
  • کارڈینل پوپ کی آراء کی وضاحت کرتا ہے
  • پوپ کیلئے مشورہ
  • ہیجان‌خیز عمل جو جان‌لیوا ہیں
  • قدیم اسکندریہ کی دوبارہ زیارت
  • ملینیئم [‏ہزارسالہ]‏ مدت کا آغاز کب ہوتا ہے؟‏
  • بارخاطر ریکارڈ
  • آلودگی سے پاک انٹارکٹک کی تلاش
  • چرچ لاٹریوں سے مات کھا گئے
  • مچھروں کیلئے نہیں
  • تیسرا عہدِہزارسالہ کب شروع ہوگا؟‏
    مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏1999ء
  • نئی ہزاری—‏مستقبل آپ کیلئے کیا تھامے ہوئے ہے؟‏
    نئی ہزاری—‏مستقبل آپ کیلئے کیا تھامے ہوئے ہے؟‏
  • ایک امتیازی سال؟‏
    مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏1999ء
جاگو!‏—‏1997ء
جاگو97 8/‏10 ص.‏ 28-‏29

دُنیا کا نظارہ کرنا

کارڈینل پوپ کی آراء کی وضاحت کرتا ہے

نظریۂ‌ارتقا ”‏محض ایک مفروضہ ہی نہیں،“‏ پوپ جان پال کے اِس بیان میں اضافہ کرتے ہوئے نیو یارک کے کارڈینل اوکونر نے تجویز پیش کی کہ عین ممکن ہے کہ آدم اور حوا مرد اور عورت ہونے کی بجائے ”‏کسی اَور قسم“‏ کے ہوں۔ نیو یارک ڈیلی نیوز کی رپورٹ کے مطابق، اوکونر نے کہا:‏ ’‏کیتھولک چرچ سائنسی تحقیق پر غور کرنے کیلئے تیار ہے اور یہ بات حیاتیاتی ارتقا کے معاملے میں سچ ہے۔‘‏ سینٹ پیڑک کیتھیڈرل میں پیش کئے جانے والے وعظ میں کارڈینل نے بیان کِیا:‏ ”‏کیا یہ ممکن ہے کہ جن دو اشخاص کو ہم آدم اور حوا کے نام سے جانتے ہیں وہ تخلیق کے وقت کسی اَور قسم کے ہوں اور خدا نے اُن میں زندگی پھونک دی، اُن میں جان ڈال دی—‏یہ ایک سائنسی سوال ہے۔“‏ اٹلی کے ایک قدامت‌پسند اخبار اَل جورنل کی شہ‌سُرخی مختصراً بیان کرتی ہے:‏ ”‏پوپ کہتا ہے کہ شاید ہم بندروں کی نسل ہیں۔“‏

پوپ کیلئے مشورہ

اٹلی کا کیتھولک صحافی وِتورئیو میسوری یقین رکھتا ہے کہ جدید کیتھولک چرچ کی پادریوں کی مجلس کے ارکان بولتے بہت زیادہ ہیں۔ وہ مشورہ پیش کرتا ہے کہ وہ اپنے پیغامات ’‏سادہ اور مختصر‘‏ رکھیں۔ کیتھولک نیوز ایجنسی اودستا کو انٹرویو دیتے ہوئے اُس نے کہا:‏ ”‏مستعد تخمینہ ظاہر کرتا ہے کہ چرچ نے ہر لحاظ سے گزشتہ ۲۰ سال کے دوران اتنے الفاظ ایجاد کر لئے ہیں کہ گزشتہ ۲۰ صدیوں میں بھی اتنے نہیں ہوئے تھے۔ جو شخص جتنا زیادہ بولتا ہے اُسکی بات اُتنی ہی کم سنی جاتی ہے۔ مَیں نے ہفت‌سالہ توقف کی تجویز پیش کی ہے جس میں چرچ کو مقامی کلیسیائی پادری سے لیکر پوپ تک خاموش رہنا چاہئے۔ .‏ .‏ .‏ یہ سب تقاریر اور پاپائی خطوط کی زیادتی کی وجہ سے ہے .‏ .‏ .‏ مَیں اُنہیں پڑھتا ہوں لیکن اَور کتنے لوگ پڑھتے ہیں؟ ہمیں کچھ عشرے پہلے کے پوپ صاحبان کے دستور کی طرف واپس لوٹ جانے کی قربانی دینی چاہئے۔ وہ زیادہ سے زیادہ تین پاپائی خطوط جاری کِیا کرتے تھے۔“‏

ہیجان‌خیز عمل جو جان‌لیوا ہیں

بن‌جی چھلانگیں، رسی اور دیگر امدادی سازوسامان کے بغیر چٹانوں پر چڑھنا، ہوائی جہازوں سے پیراشوٹ کیساتھ کود جانا، فلک‌بوس عمارتوں وغیرہ سے کودنا—‏ہیجان‌خیز کھیل—‏فرانس میں عام رواج بن گیا ہے۔ پیرس کے اخبار لا مونڈ نے متعدد ماہرین سے پوچھا کہ فرانس میں ایسے ہیجان‌خیز کھیل اتنے مقبول کیوں بن گئے ہیں۔ کھیلوں کی تجدید کے تحقیقی مرکز کے ڈائریکٹر آلاں لورے نے بیان کِیا کہ ایک وجہ تو یہ ہے کہ روایتی کھیل اپنے مطلوبہ اصولوں، نظم‌وضبط اور تربیت کیساتھ آجکل کے نوجوانوں کے معیاروں کے مطابق نہیں رہے جو نظم‌وضبط کی ضرورت سے زیادہ آزادی اور تفریح کو اہمیت دیتے ہیں۔ فرانسیسی ماہرِعمرانیات ڈیوڈ لے بریتوں کے مطابق، ”‏خطرناک کھیلوں کی بڑھتی ہوئی مقبولیت اخلاقی اقدار کی تنزلی کی عکاسی کرتی ہے۔ یقیناً، ہم قطعاً نہیں جانتے کہ ہمارے جینے کا مقصد کیا ہے۔ ہمارا معاشرہ ہمیں یہ نہیں بتاتا کہ زندگی جینے کے قابل ہے۔ لہٰذا، ہیجان‌خیز کاموں کی جستجو .‏ .‏ .‏ یقیناً زندگی کو بامقصد بنانے کا ذریعہ سمجھی جاتی ہے۔“‏ تاہم، زیادہ سے زیادہ نوجوان اپنی زندگیوں کو خطرے میں ڈال رہے اور اِسے ضائع کر رہے ہیں۔‏

قدیم اسکندریہ کی دوبارہ زیارت

پہلے، ماہرینِ‌اثریات نے اسکندریہ، مصر کے پانیوں میں قدیم دُنیا کے سات عجائب میں سے ایک، ۲۲۰۰ سال پُرانے روشنی کے مینار، فیروز کی دریافت کا اعلان کِیا تھا۔ اب وہ کہتے ہیں کہ اُنہوں نے ”‏اسکندریہ کی پُرانی بندرگاہ کے مشرقی ساحل کے پانی کے ۲۰ فٹ نیچے اسکندریہ کا قدیم دربار دریافت کِیا ہے،“‏ دی وانکوَر سن بیان کرتا ہے۔ فرانس کے بحری ماہرِاثریات فرینک گوڈیو کے مطابق، اس مقام پر مارک اینٹونی کے گھر اور عبادتگاہ اور مے کے مرتبان، گرینیٹ کے ستونوں، پکی گلیوں اور قدیم شہر کے دیگر آثار سمیت قلوپطرہ کے محل کے کھنڈرات پائے گئے ہیں۔ محققین کو ایک ”‏خوبصورت بندرگاہ“‏ بھی ملی ”‏جسے اینٹوں کی لمبی دیوار سے محفوظ کِیا گیا تھا جو ۲۰۰۰ سال گزر جانے کے بعد آج بھی اچھی حالت میں موجود ہے لیکن یہ پانی کی تہہ میں ہے،“‏ گوڈیو نے بیان کِیا۔ اسکندریہ کا نام سکندرِاعظم کے نام پر رکھا گیا جس نے ۳۳۲ ق.‏س.‏ع.‏ میں اس شاندار بندرگاہ کو دیکھنے کے بعد یہاں ایک شہر تعمیر کرنے کا فیصلہ کِیا۔ یہ اتھینے اور روم کے مقابلے کا ثقافتی اور تجارتی مرکز بن گیا۔ اسکندریہ کی مشہور لائبریری بھی یہیں قائم کی گئی۔ لیکن قرونِ‌وسطیٰ تک، قدیم شہر کا زیادہ‌تر حصہ ختم ہو چکا تھا، زلزلوں نے مسمار کر دیا تھا اور آگ اور سمندر اسے چٹ کر گئے تھے۔‏

ملینیئم [‏ہزارسالہ]‏ مدت کا آغاز کب ہوتا ہے؟‏

دسمبر ۳۱، ۱۹۹۹ کی نصف شب کے وقت، کرۂ‌ارض پر بہتیرے لوگ نئے ملینیئم کے آغاز کا جشن منائیں گے اور رنگین محفلوں کے منصوبے پہلے ہی سے بنا لئے گئے ہیں۔ اگرچہ یہ ”‏قدرتی بات ہے کہ ایسے مکمل عدد والے سال“‏ کا جشن منایا جائے، انگلینڈ، کیمبرج کی رائل گرین‌وِچ آبزرویٹری کا بیان یہ ہے، ”‏یہ کہنا زیادہ درست ہوگا کہ ہم ۲۰۰۰ویں سال، یا ملینیئم کے آخری سال کا جشن منائینگے، نئے ملینیئم کے آغاز کا نہیں۔“‏ دراصل ق.‏س.‏ع.‏ سے س.‏ع.‏ میں تبدیلی کے نظام سے ابتری پیدا ہوتی ہے جسے ساتویں صدی کے مؤرخ اور مذہبی عالم بیدی نے مرتب کِیا جس نے یسوع کی پیدائش کے مطابق واقعات کی تاریخ کا اندازہ لگانے کی کوشش کی۔ صفر سال کا شمار نہ کِیا گیا لہٰذا ۱ ق.‏س.‏ع.‏ کے پہلے دن اور ۱ س.‏ع.‏ کے پہلے دن کا درمیانی وقت صرف ایک سال تھا۔ نتیجتاً، پہلا ملینیئم ۱ س.‏ع.‏ کے پہلے دن سے شروع ہوا اور ۱۰۰۰ س.‏ع.‏ کے آخری دن پر ختم ہوا۔ اِسکے بعد جنوری ۱، ۱۰۰۱ سے دوسرے ملینیئم کا آغاز ہوا۔ ”‏پس صاف ظاہر ہے کہ نئے ملینیئم کا آغاز یکم جنوری، ۲۰۰۱ سے ہوگا،“‏ محققین نے بیان کِیا۔ ہر لحاظ سے جشنوں کی بنیاد صرف گریگرین کیلنڈر ہوگا یسوع کی اصل پیدائش نہیں، جسکی بابت اب سمجھا جاتا ہے کہ وہ کچھ عرصہ پہلے پیدا ہوا۔‏

بارخاطر ریکارڈ

‏”‏ماہرینِ‌صحت کی ایک کمیٹی کے ارکان [‏کہتے ہیں]‏ کہ کسی بھی ترقی‌یافتہ مُلک کی نسبت ریاستہائے متحدہ میں جنسی تعلقات سے لگنے والی بیماریوں کی شرح سب سے زیادہ ہے اور اِس وبا کا مقابلہ کرنے کیلئے کوئی مؤثر قومی نظام موجود نہیں،“‏ دی نیو یارک ٹائمز نے رپورٹ دی۔ انسٹیٹیوٹ آف میڈیسن، نیشنل اکیڈمی آف سائنسز کی ایک شاخ، کے مطابق، امریکی لوگوں کو جنسی تعلقات سے لگنے والی درجنوں بیماریاں قابلِ‌علاج ہیں لیکن پھربھی کینسر جیسے صحت کے سنگین مسائل اور ہر سال ہزاروں اموات کا باعث بنتی رہتی ہیں۔ اٹھارہ ماہ کی تحقیق کے بعد، ۱۶ ارکان پر مشتمل ایک کمیٹی نے دریافت کِیا کہ علاج‌معالجے اور دیگر اخراجات پر صرف کئے جانے والے ۴۳ ڈالر میں سے صرف ۱ ڈالر بیماریوں کی روک‌تھام کیلئے صرف کِیا جاتا تھا۔ اُنکی رپورٹ بیان کرتی ہے کہ ہر سال تخمیناً ۱۲ ملین نئے مریضوں کا ایک چوتھائی حصہ نوجوانوں پر مشتمل ہوتا ہے۔ علاج نہ کئے جانے والے امراض، بشمول ہرپیز، ہیپاٹائٹس بی، کلے‌میڈیا، سوزاک اور آتشک—‏بانجھ‌پن، پیدائشی نقائص، اسقاط، کینسر اور موت کا باعث بنتے ہیں۔ ان بیماریوں پر قوم کو سال میں ۱۰ بلین ڈالر خرچ کرنے پڑتے ہیں جن میں جنسی تعلقات سے منتقل ہونے والے ایچ‌آئی‌وی، وائرس جو ایڈز کا باعث بنتا ہے، کی لاگت شامل نہیں۔‏

آلودگی سے پاک انٹارکٹک کی تلاش

گرمیوں میں صرف ۱۴ ڈگری فارن‌ہیٹ کے درجہ‌حرارت کے باوجود بھی، گزشتہ دس سال کے دوران انٹارکٹکا میں آنے والے سیاحوں کی تعداد دُگنی ہو گئی ہے۔ پینگوینز، سیلز والے اِس انتہائی جنوبی براعظم کو اور پانچ ملین مربع‌میل تک پھیلے ہوئے منجمد قطعۂ‌اراضی کے عجائب کو دیکھنے کیلئے دس ہزار لوگوں نے ۹۰۰۰ ڈالر فی‌کس خرچ کر کے اپنی تعطیلات وہاں گزارنے کا بندوبست کِیا ہے۔ لیکن ان نڈر مسافروں نے اُس ملبے کی بابت شکایت کی ہے جو وہاں کام کرنے والے پیچھے چھوڑ آئے تھے—‏ویران جھونپڑے، ایندھن کے ڈرم، غلاظت اور پُرانے کمپیوٹرز، لندن کا دی انڈیپینڈنٹ رپورٹ دیتا ہے۔ انگلینڈ، کیمبرج میں سکاٹ پولر انسٹیٹیوٹ کے ڈاکٹر برناڈ سٹون‌ہاؤس، جس نے اس علاقے کی بابت پہلا سفری ہدایت‌نامہ تحریر کِیا، ان آلودگی پھیلانے والوں کی بابت کہتا ہے:‏ ”‏ماضی میں اُنہیں صفائی کا کوئی احساس نہیں تھا مگر اب اُنہیں احساس دلایا گیا ہے۔ ٹورسٹ اور سیاحوں نے شکایت کی ہے کہ اُنہوں نے کوڑےکرکٹ کے ڈھیر دیکھنے کیلئے تو پیسے ادا نہیں کئے۔“‏

چرچ لاٹریوں سے مات کھا گئے

ایسوسی‌ایٹڈ بپٹسٹ پریس بیان کرتی ہے کہ امریکی اپنے گرجوں کیلئے اتنے پیسے نہیں دیتے جتنے کہ وہ لاٹریوں پر خرچ کرتے ہیں۔ کرسچن سنچری کی رپورٹ کے مطابق، یو.‏ایس.‏ سین‌سس بیوریو رپورٹ کے اعدادوشمار کا ائیربُک آف امریکن اینڈ کینیڈین چرچز کے اعدادوشمار سے موازنہ ظاہر کرتا ہے کہ ۱۹۹۴ میں، امریکیوں نے حکومتی لاٹریوں پر ۶.‏۲۶ بلین ڈالر خرچ کئے جبکہ اپنے گرجوں کو صرف ۶.‏۱۹ بلین ڈالر کے عطیات دئے۔‏

مچھروں کیلئے نہیں

بگ زیپرز، گھروں سے باہر لٹکائے جانے والے ایسے برقی آلات جو رات کے وقت حشرات کو اپنی طرف راغب کرتے ہیں اور ایک مخصوص آواز کیساتھ برقی رو سے اُنہیں ہلاک کر دیتے ہیں، مچھروں کے لئے کارگر نہیں۔ علم‌الحشرات کا پروفیسر جارج بی.‏ کریگ، جونیئر بیان کرتا ہے کہ ”‏یہ آلات تو بالکل بیکار ہیں۔“‏ زیادہ‌تر مچھر روشنی کی طرف راغب نہیں ہوتے اور جب خوراک کی تلاش میں ہوتے ہیں تو مادہ مچھر—‏جو کاٹتے ہیں—‏ایمونیا، کاربن‌ڈائی آکسائیڈ، حرارت اور جلد سے خارج ہونے والے دیگر فاضل مادوں کو ڈھونڈتے ہیں جو بگ زیپرز سے نہیں نکلتے۔ یہ نہ ملنے پر وہ رُخ بدل لیتے ہیں۔ علاوہ‌ازیں، ڈاکٹر کریگ کہتے ہیں کہ زیپرز کیساتھ مچھروں کو مارنے کی کوشش کرنا ”‏چائے کے چمچوں سے سمندر کو خالی کرنے کی کوشش کرنے“‏ کے مترادف ہے۔ ایک مادہ مچھر نصف موسمِ‌گرما تک ۶۰،۰۰۰ سے زائد مادہ بچوں کی افزائش کر سکتی ہے۔ تین ماہ کے ایک مطالعے نے ظاہر کِیا کہ اوسطاً ہر رات زیپرز سے ہلاک ہونے والے حشرات میں سے صرف ۳ فیصد مادہ مچھر تھے۔ کریگ بیان کرتا ہے کہ زیپرز کو ”‏باغبانی کے سیکشن کی بجائے گھریلو تفریح کے سیکشن میں فروخت کِیا جانا چاہئے۔“‏

    اُردو زبان میں مطبوعات (‏2026-‏2000)‏
    لاگ آؤٹ
    لاگ اِن
    • اُردو
    • شیئر کریں
    • ترجیحات
    • Copyright © 2026 Watch Tower Bible and Tract Society of Pennsylvania
    • اِستعمال کی شرائط
    • رازداری کی پالیسی
    • رازداری کی سیٹنگز
    • JW.ORG
    • لاگ اِن
    شیئر کریں