ایک گولی نے میری زندگی بدل ڈالی
بہترین کام جو والدین اپنے بچوں کیلئے کر سکتے ہیں وہ یہ ہے کہ اپنے خالق کا علم اور اُسکی خدمت کرنے کی خواہش کو اُن کے ذہننشین کریں۔ جب مَیں نوعمر ہی تھی تو مجھے ایک حادثہ پیش آیا جس نے اس حقیقت کی قدردانی کرنے میں میری مدد کی ہے۔
اُس وقت جوکچھ واقع ہوا—۲۰ سال سے زیادہ عرصہ پہلے—آئیے مَیں آپکو اپنی زندگی کی بابت مختصراً بتاؤں جبکہ مَیں نے جنوبی ریاستہائے متحدہ میں پرورش پائی۔ اس چیز کا تعلق براہِراست اس بات سے ہے کہ مَیں کیسے ناقابلِبرداشت مصائب کا مقابلہ کرنے کے قابل ہوئی ہوں۔
جس چیز نے میری زندگی کو تشکیل دِیا
مَیں برمنگھمؔ، الباما میں جو—نسلی طور پر علیٰحدہکردہ جنوبی ریاستوں کا حصہ ہے—جنوری ۱۹۵۵ میں پیدا ہوئی۔ جب مَیں صرف آٹھ برس کی تھی تو ہمارے گھر کے قریب ہی ایک بم دھماکے نے سنڈے سکول کے اجلاس کے دوران ایک گرجے کو مسمار کر دِیا۔ خوفزدہ سیاہفام بچے، جن میں سے زیادہتر میرے ہمعمر تھے، شور مچاتے ہوئے بھاگے؛ بعض کا خون بہہ رہا تھا اور کراہ رہے تھے۔ چار مر گئے—جنہیں سفیدفاموں نے قتل کر دِیا تھا۔
ایسے حادثات صرف جنوب ہی میں اِکادُکا واقعات نہ تھے۔ گذشتہ موسمِگرما میں شہری حقوق کے علمبردار تین کارکن مسیسیپی میں قتل کر دیئے گئے۔ یہ نسلی فساد کے خوفزدہ کرنے والے ایّام تھے جنہوں نے ہم سب کو متاثر کِیا تھا۔
میری والدہ یہوؔواہ کے گواہوں میں سے ایک تھی اور والد ۱۹۶۶ میں ان میں شامل ہوا۔ جلد ہی ہمارا پورا خاندان اپنے پڑوسیوں کو ایک پُراَمن نئی دُنیا کی بابت بائبل پر مبنی اپنی اُمید میں شریک کر رہا تھا۔ (زبور ۳۷:۲۹؛ امثال ۲:۲۱، ۲۲؛ مکاشفہ ۲۱:۳، ۴) ۱۹۶۰ کے عشرے کی گرمیوں کے آخری حصے کے دوران ہر ہفتے، ہم منادی کرنے کیلئے برمنگھمؔ سے باہر، نئے علاقوں میں جاتے تھے۔ وہاں، لوگوں نے یہوؔواہ کے گواہوں کے بارے میں یا اُس بادشاہتی پیغام کی بابت جسکی ہم منادی کرتے تھے کبھی نہیں سنا تھا۔ وہ تو خدا کے نام، یہوؔواہ، سے بھی واقف نہیں تھے۔ (زبور ۸۳:۱۸) اُن پُرآشوب ایّام کے دوران، مَیں نے لوگوں کیساتھ اس خراب پُرانی دُنیا کی جگہ ایک زمینی فردوس لانے کے یہوؔواہ کے مقصد کی بابت باتچیت کرنے سے واقعی لطف اُٹھایا۔—لوقا ۲۳:۴۳۔
زندگی میں ایک نصبالعین قائم کرنا
دسمبر ۱۹۶۹ میں، مَیں نے پانی میں بپتسمہ لینے سے یہوؔواہ کیلئے اپنی مخصوصیت کا اظہار کِیا۔ مَیں نے یہوؔواہ سے دُعا کی اور کُلوقتی خدمت کو بطور پیشہ اختیار کرنے کی اپنی مخلصانہ خواہش کا اظہار کِیا۔ چند ہفتوں بعد، والد کو برمنگھمؔ سے چند میل دُور واقع ایڈؔمزویلا میں قائم چھوٹی کلیسیا کی مدد کرنے کی تفویض دی گئی۔ علاقے کی اس تبدیلی نے پائنیر یا کُلوقتی خادم بننے کی میری خواہش کو اَور تیز کر دیا۔ اپنے ہائی سکول کے تمامتر سالوں کے دوران ہر موقع پر، مَیں عارضی پائنیر خدمت کا کام کرتی تھی، جس میں ہر ماہ خدمتگزاری میں کمازکم ۷۵ گھنٹے صرف کرنا ہوتے تھے۔
سکول سے فارغالتحصیل ہونے کے بعد مَیں نے خود کو کُلوقتی خدمتگزاری کیلئے تیار کرنے کی غرض سے کچھ کام سیکھنے کا فیصلہ کِیا۔ لیکن اپنے ہائی سکول کے آخری سال میں مجھے ایک چیلنج کا سامنا کرنا پڑا۔ میرا شمار اچھے نمبر لینے والے طالبعلموں میں ہوتا تھا، اور اسلئے ایک دِن مجھے چند ایک تعلیمی امتحانات کیلئے ایک قریبی کالج میں لیجایا گیا۔ اسکے بعد مجھے کونسلر کے دفتر میں بلایا گیا۔ وہ میری بابت بہت پُرجوش اور خوش تھی۔ ”آپ پاس ہو گئی ہیں!“ اُس نے پُر زور طور پر کہا۔ ”آپ جس بھی کالج میں چاہیں جا سکتی ہیں!“ وہ چاہتی تھی کہ مَیں اسی وقت سکالرشپ کی درخواستیں پُر کرنا شروع کر دُوں۔
مَیں پریشان تھی کیونکہ مَیں اس کیلئے تیار نہیں تھی۔ مَیں نے فوراً کُلوقتی خادمہ بننے اور اپنی خدمتگزاری میں اپنی کفالت کیلئے کوئی جُزوقتی ملازمت اختیار کرنے کے اپنے منصوبے کی توجیہ کی۔ مَیں نے اُسے یہ بھی بتایا کہ بعد میں جیسے دوسرے گواہوں نے کِیا ہے ہو سکتا ہے کہ مَیں بھی کسی دوسرے مُلک میں بطور مشنری خدمت کرنے کے قابل ہو جاؤں۔ لیکن یہ ایسے تھا کہ گویا اُس نے میری بات سنی ہی نہیں تھی۔ اُس نے مشورہ دِیا کہ مَیں سائنس میں اعلیٰ تعلیم حاصل کروں اور یہ کہ اگر مَیں مقامی کالج میں تعلیم حاصل کرتی ہوں تو وہ اس بات کا خیال رکھے گی کہ اسے ایک سائنس سینٹر میں اچھی ملازمت مل جائے۔
”گلوؔریا اپنے مذہب کو ویکاینڈز تک ہی محدود رکھو،“ اُس نے کہا، ”آپکے والدین پھربھی آپ پر فخر کرینگے۔“ مَیں نے توہین محسوس کی کہ شاید وہ یہ خیال کرتی ہے کہ کُلوقتی خدمت کا میرا نصبالعین میرے والدین کی طرف سے اُکساہٹ کا نتیجہ ہے۔ اُس نے مجھے دباؤ محسوس کرنے پر مجبور کر دیا، گویا کہ مَیں اس شاندار موقع کو ٹھکرانے سے ساری سیاہفام نسل کی طرف سے مُنہ موڑ رہی تھی۔ تاہم، مَیں اپنے مؤقف پر قائم رہی۔ سکول سے فارغالتحصیل ہونے کے بعد، کالج کی تعلیم حاصل کرنے کی بجائے، مَیں نے ایک سیکرٹری کے طور پر جُزوقتی کام کرنا شروع کر دیا۔
مَیں نے پائنیر ساتھی کی تلاش کی لیکن کوئی نہ مِل سکا۔ جب ایک سفری نگہبان نے ہماری کلیسیا کا دَورہ کِیا تو مَیں نے اُسے اپنا مسئلہ بتایا۔ ”آپکو ساتھی کی ضرورت نہیں ہے،“ اُس نے کہا۔ اسکے بعد اُس نے ایک جدوَل تحریر کِیا جس سے مَیں اپنے دُنیاوی کام کی ذمہداریوں کو بھی پورا کر سکتی تھی اور پائنیر خدمت کرنے کیلئے بھی کافی وقت نکال سکتی تھی۔ مَیں نے محسوس کِیا کہ جدوَل بالکل مناسب تھا۔ مَیں اسقدر خوش تھی کہ مَیں نے پائنیر خدمت کا آغاز کرنے کیلئے یکم فروری، ۱۹۷۵ کی تاریخ کا تعیّن کر لیا۔
تاہم، چند دِن بعد، ۲۰ دسمبر، ۱۹۷۴ کو، جب مَیں بازار سے گھر واپس آ رہی تھی تو غلط سمت سے چلائی گئی ایک گولی مجھے آ لگی۔
بسترِمرگ پر
جب مَیں زمین پر پڑی تھی تو درحقیقت مَیں اپنے خونِحیات کو بہتے ہوئے دیکھ سکتی تھی۔ میرا یہ سوچنا مجھے یاد ہے کہ مَیں مرنے والی تھی۔ مَیں نے یہوؔواہ سے دُعا کی کہ مجھے اتنی زندگی دے دے کہ ماں کی یہ سمجھنے میں مدد کر سکوں کہ ایسا تباہکُن حادثہ صرف یہوؔواہ کی خدمت کرنے پر مرکوز خاندان کیساتھ بھی واقع ہو سکتا ہے۔ اگرچہ ہم اس بائبل حوالہ سے واقف تھے ”سب کیلئے وقت اور حادثہ ہے،“ مَیں نے یہ نہ سوچا کہ آیا ہم ایسے افسوسناک المیے سے نپٹنے کیلئے تیار تھے۔—واعظ ۹:۱۱۔
میرے حرام مغز کی نسوں کو شدید نقصان پہنچاتے ہوئے، گولی میری گردن کے بائیں جانب پیوست ہو گئی۔ میرا گفتگو کرنا اور سانس لینا متاثر ہوا تھا۔ میرے دو دن سے زیادہ زندہ رہنے کی توقع نہیں کی جا رہی تھی۔ پھر اُنہوں نے کہا ”دو ہفتے۔“ لیکن مَیں زندہ رہی۔ جب مجھے نمونیہ ہوا تو مجھے زیادہ پیچیدہ آلۂتنفّس کی جگہ منتقل کر دِیا گیا۔ آخرکار میری حالت بہتر ہو گئی اور دوبارہ بحالی کیلئے منصوبے بنائے گئے۔
دوبارہ بحالی کے تجربات
پہلے چند ہفتوں تک مَیں نااُمید نہیں تھی۔ مَیں نے صرف سُن محسوس کِیا۔ برمنگھمؔ میں سپینؔ ادارۂبحالی کا ہر شخص مہربان تھا اور میرے لئے سخت محنت کر رہا تھا۔ مجھے سٹاف سے معلوم ہوا کہ ڈاکٹروں کا خیال ہے کہ مَیں اپنی باقی تمام زندگی، بالکل مفلوج رہونگی۔ مجھے C2 کواڈرِپلیجیا کی قسم قرار دِیا گیا، جس کا مطلب تھا کہ وہ یہ محسوس کر رہے ہیں کہ مَیں اپنی باقیماندہ زندگی کیلئے آلۂتنفّس کی محتاج رہونگی، دھیمی آواز سے زیادہ آواز نہیں نکال سکوں گی۔
ڈاکٹروں نے سانس کی نالی ڈال دی تھی جس کے ذریعے مَیں سانس لیتی تھی۔ بعدازاں پھیپھڑوں کے اسپیشلسٹ نے یہ خیال کرتے ہوئے کہ شاید یہ مجھے بولنے کے قابل بنائے گی ایک چھوٹی ٹیوب ڈال دی۔ تاہم، سائز سے کوئی فرق نہ پڑا۔ لہٰذا اُنہوں نے یہ نتیجہ اخذ کِیا کہ میرا قوتِگویائی سے محروم ہونا نسوں کے ناکارہ ہونے کی وجہ سے ہے۔ اُس وقت سے مَیں نے افسردہ رہنا شروع کر دیا، اور کوئی بھی ایسی بات نہیں تھی جو دوسرے مجھے خوش کرنے کیلئے کہہ سکتے تھے۔ ہر مشفقانہ لفظ مجھے بےعزتی کی طرح محسوس ہوتا تھا۔ اسلئے مَیں بہت روتی تھی۔
مجھے احساس ہوا کہ اگر کوئی چیز آپکی روحانیت کی راہ میں حائل ہو تو دو چیزیں مددگار ثابت ہو سکتی ہیں—یہوؔواہ سے بِلاناغہ دُعا اور دوسروں کو بائبل سچائیوں کی بابت بتاتے ہوئے، خود کو خدمتگزاری میں سرگرم رکھنا۔ (امثال ۳:۵) خیر، دُعا کرنا آسان تھا۔ یہ تو مَیں کر سکتی تھی۔ لیکن اپنی ایسی حالت میں، مَیں کیسے خدمتگزاری میں اَور زیادہ سرگرم ہو سکتی تھی؟
مَیں نے اپنے خاندان سے مینارِنگہبانی اور جاگو! رسالوں کی کاپیاں اور دیگر بائبل مطالعہ کی امدادی کتابیں لانے کی درخواست کی جو ہم اُس وقت خدمتگزاری میں استعمال کر رہے تھے، جیسےکہ سچائی جو باعثِابدی زندگی ہے، ٹرو پیس اینڈ سیکیورٹی—فرام وٹ سورس؟، اور از دِس لائف آل دیئر از؟ اُنہیں میرے کمرے میں مختلف جگہوں پر رکھ دِیا گیا۔ سٹاف کے ارکان اکثر ہمدردی سے میری طرف دیکھتے اور پوچھتے: ”بیٹی، کیا مَیں آپ کیلئے کچھ کر سکتا ہوں؟“
مَیں کسی نہ کسی لٹریچر کی طرف دیکھتی اور اپنے ہونٹوں کے اشارے سے اُس شخص سے استدعا کرتی کہ مجھے پڑھ کر سنائے۔ جتنا وقت وہ شخص پڑھنے میں صرف کرتا اُسے مَیں خدمتگزاری میں اپنے گھنٹوں کے طور پر شمار کرتی۔ میری خاطر پڑھنے کیلئے اُس شخص کیلئے اپنی شکرگزاری کے اظہار میں، مَیں اکثر کتاب یا رسالہ تحفے کے طور پر دے دیتی۔ اُنہیں مَیں اپنی پیشکش کے طور پر شمار کرتی تھی۔ جب کوئی شخص دوسری مرتبہ میرے لئے پڑھتا تو مَیں اسے واپسی ملاقات شمار کرتی۔ اس طرح خدمتگزاری میں حصہ لینے نے مجھے پُرتپاک کارڈوں، پھولوں اور میرے مسیحی بھائی بہنوں کی طرف سے ملاقاتوں کی طرح ہی حوصلہمند رکھا۔
کئی مہینوں کی دوبارہ بحالی کے بعد، مَیں اپنے سر کو تھوڑا سا اُوپر اُٹھانے کے قابل ہوئی تھی۔ لیکن مَیں اَور زیادہ حرکت کرنے کا پُختہعزم کئے ہوئے تھی۔ اسلئے مَیں نے زیادہ وقت کیلئے فیزیکل اور آکیوپیشنل تھراپی کی درخواست کی۔ جب مَیں نے ویلچیئر میں بیٹھنے کی درخواست کی تو مجھے بتایا گیا کہ یہ ناممکن ہے، اسلئے کہ مَیں اپنا سر زیادہ اُوپر نہیں اُٹھا سکتی کہ بیٹھ سکوں۔ مَیں نے اُن سے درخواست کی کہ بہرصورت کوشش تو کریں۔
ڈاکٹروں کی طرف سے اجازت ملنے کے بعد، انچارج تھراپسٹ نے مجھے ویلچیئر پر بیٹھنے میں مدد دی۔ اُنہوں نے مجھے سینے سے لیکر کمر تک، رانوں سے لیکر گھٹنوں تک، اور گھٹنے سے پاؤں تک لچکدار پٹیوں میں لپیٹ دِیا۔ مَیں ایک ممی کی طرح لگ رہی تھی۔ یہ احتیاط اس بات کا یقین کرنے کیلئے کی گئی تھی کہ میرا بلڈ پریشر ٹھیک رہے اور مَیں شاک سے محفوظ رہوں۔ یہ تجربہ کامیاب رہا! ابھی تک، مجھے ایک وقت میں ایک گھنٹے کیلئے بیٹھنے کی اجازت تھی۔ لیکن مَیں ۵۷ دِن تک سیدھے لیٹے رہنے کے بعد—بیٹھی ہوئی تھی!
بالآخر گھر!
آخرکار، پانچ طویل مہینوں کے بعد، میری سانس کی نالی نکال دی گئی اور مجھے گھر جانے کی اجازت مِل گئی۔ یہ مئی ۱۹۷۵ تھا۔ اسکے بعد، مَیں علاج کیلئے ادارۂِبحالی آتی جاتی رہتی تھی۔ ۱۹۷۵ کے موسمِگرما تک، مَیں نے ویلچیئر پر مسیحی خدمتگزاری میں حصہ لینا شروع کر دیا تھا۔ مَیں بہت زیادہ تو نہیں کر سکتی تھی لیکن کمازکم مَیں گواہ دوستوں کیساتھ باہر جاتی تھی۔
۱۹۷۶ کے اوائل میں، مجھے VRS (وکیشنل ریہیبلیٹیشن سروسز)، ایجنسی جو میری بحالی کے اخراجات کی ذمہدار تھی اُس کے ذریعے دوبارہ تشخیص کروانے کیلئے کہا گیا۔ مَیں نے سوچا کہ مَیں بہتر ہو رہی ہوں۔ مَیں ایک برش کیساتھ رنگ کرنا سیکھ رہی تھی جسے مَیں اپنے دانتوں سے پکڑتی تھی۔ اسی طرح سٹک استعمال کرتے ہوئے، مَیں ٹائپ کرنا اور پنسل سے کچھ لکھنا بھی شروع کرنے والی تھی۔ چونکہ میرے علاج کے زیادہتر اخراجاتVRS ادا کر رہا تھا، اسلئے وہ چاہتے تھے کہ کسی طرح مجھے ملازمت مل جائے اور مَیں معاشرے کا ایک فعال رُکن بن جاؤں۔
پہلےپہل تو مشیر بڑا خلیق دکھائی دِیا، لیکن اُس نے مجھ سے یہ تقاضا کرنا شروع کر دیا کہ اُونچا بولنے کی کوشش کروں۔ اُس وقت تک مَیں دھیمی آواز سے ذرا سا اُونچا بول سکتی تھی۔ اسکے بعد اُس نے پوچھا: ”کیا تم سیدھی نہیں بیٹھ سکتی؟“
مَیں سیدھی نہیں بیٹھ سکتی تھی۔
”صرف ایک اُنگلی کو حرکت دو،“ اُس نے کہا۔
جب مجھ سے یہ بھی نہ ہو سکا تو اُس نے اپنا قلم واپس میز پر پھینکا اور شکستخوردہ آواز میں کہا: ”تم بالکل ناکارہ ہو!“
مجھے کہا گیا کہ گھر جاؤں اور اُس کے فون کا انتظار کروں۔ مَیں اُسکی دوہری مشکل کو سمجھ گئی تھی۔ مجھ سے پہلے سپینؔ ادارۂبحالی میں مجھ سا انتہائی محدود مریض کوئی نہیں آیا تھا۔ وہاں پر استعمال کئے جانے والے آلات کی قیمت بہت زیادہ ہے، اور فیصلے کرنے والے شخص کے پاس اس سلسلے میں راہنمائی موجود نہیں تھی کہ میری طرح کے محدود مریض کیساتھ کیا کِیا جائے۔ تاہم، ناکارہ کہے جانے سے دُکھ ضرور ہوا، چونکہ مَیں پہلے ہی ایسا محسوس کرتی تھی۔
چند دِنوں بعد، مجھے فون موصول ہوا اور بتایا گیا کہ اب مَیں مزید اس پروگرام کا حصہ نہیں تھی۔ مجھے بہت مایوسی ہوئی۔ اور یہ افسردگی کے ایک اَور دَورے کا باعث بنا۔
افسردگی پر قابو پانا
ایسی صورتحال میں زبور ۵۵:۲۲ کا صحیفہ میرے ذہن میں آیا، جو بیان کرتا ہے: ”اپنا بوجھ خداوند پر ڈال دے۔ وہ تجھے سنبھالیگا۔“ ایک چیز جس کی بابت مَیں فکرمند تھی وہ میرے والدین پر مالی بوجھ تھا، اور مَیں نے اسکی بابت دُعا کی۔
میری افسردہ حالت نے جسمانی طور پر بھی مجھ پر ناموافق اثر ڈالا، اسلئے اُس موسمِگرما میں ڈسٹرکٹ کنونشن کے دوران مَیں بیٹھنے کے قابل نہیں تھی۔ مَیں نے لیٹے لیٹے پروگرام سنا۔ جسے آج امدادی پائنیر خدمت کہا جاتا ہے اُسے ۱۹۷۶ کی اُس کنونشن پر متعارف کرایا گیا تھا، اور میری توجہ بھی اس پر لگی۔ امدادی پائنیر خدمت کرنے کا مطلب ہے خدمتگزاری میں ہر ماہ ۶۰ گھنٹے صرف کرنا، اوسطاً ایک دِن میں صرف ۲ گھنٹے۔ مَیں نے محسوس کِیا کہ مَیں یہ کر سکتی ہوں۔ اس کے بعد، مَیں نے اپنی بہن الزؔبتھ سے درخواست کی کہ امدادی پائنیر کے طور پر کام کرنے میں میری مدد کرے۔ اُس نے سوچا مَیں مذاق کر رہی ہوں لیکن جب مَیں نے اگست میں پائنیر خدمت کرنے کیلئے درخواست دی تو اُس نے بھی ایک درخواست دے دی۔
الزؔبتھ صبح سویرے اُٹھ جاتی اور میری ذاتی ضروریات کی دیکھبھال کرتی تھی۔ اسکے بعد ہم ٹیلیفون پر گواہی دینا شروع کرتے۔ اس میں لوگوں کیساتھ ٹیلیفون پر باتچیت کرنا اور اُنہیں اُن برکات کی بابت بتانا شامل تھا جو خدا نے اپنی بادشاہتی حکمرانی کے تحت لوگوں کیلئے محفوظ کر رکھی ہیں۔ ہم خطوط بھی لکھتے تھے، بالخصوص ایسے لوگوں کو جنہیں تسلی کی ضرورت تھی۔ ہفتے کے آخر پر خاندانی افراد یا دوست مجھے میری ویلچیئر پر گھرباگھر کی خدمتگزاری میں لیجاتے تھے۔ بِلاشُبہ، چونکہ مَیں اپنے ہاتھ پاؤں استعمال نہیں کر سکتی تھی، اسلئے مَیں بادشاہتی پیغام کی بابت کلام کرنے، صحائف کا حوالہ دینے، یا دوسروں سے بائبل سے پڑھنے کی درخواست کرنے کے علاوہ اَور کچھ نہیں کر سکتی تھی۔
مہینے کے آخری دِن تک، ۶۰ گھنٹوں کے تقاضوں کو پورا کرنے کیلئے مجھے ابھی تک ۶ گھنٹے درکار تھے۔ الزؔبتھ میری مدد کیلئے موجود نہیں تھی، اسلئے مَیں نے اپنی والدہ سے کہا کہ میری ویلچیئر کے پچھلے حصے کو اُوپر کر دے تاکہ مَیں سیدھی بیٹھ سکوں۔ پھر مُنہ میں چھڑی کیساتھ، مَیں نے چھ گھنٹے تک خطوط ٹائپ کئے۔ کسی قسم کے بُرے نتائج کا سامنا نہیں کرنا پڑا تھا! مجھے جوکچھ معلوم ہے وہ صرف یہ ہے کہ مَیں تھک گئی تھی!
میری دُعا کا جواب مل گیا
اگلے ہفتے، اپنی ویلچیئر پر سیدھے بیٹھے بیٹھے، مَیں معائنہ کیلئے سپینؔ ادارۂبحالی چلی گئی۔ میرا ڈاکٹر جس نے سال کے شروع میں پروگرام سے خارج کر دیئے جانے کے بعد مجھے نہیں دیکھا تھا، حیران رہ گیا۔ وہ میری بہتری کی بابت سوچ بھی نہیں سکتا تھا۔ ”تم کیا کرتی رہی ہو؟“ اُس نے پوچھا۔ اس سے پہلے کہ مَیں اُسے اپنی خدمتگزاری کی بابت سب کچھ بتاتی، اُس نے مجھے ملازمت کی پیشکش کر دی۔
اُس کی ماتحت نے میرا انٹرویو لیا اور مَیں جوکچھ خدمتگزاری میں کر رہی تھی وہ اُس سے متاثر ہوئی۔ اُس نے مجھے ماڈل پیشنٹ پروگرام میں شرکت کرنے کی دعوت دی۔ یہ مجھے ایک دوسرے مریض کے مدِمقابل لا کھڑا کریگا جس کی مَیں مدد کرونگی۔ ہماری خدمتگزاری کی طرف اشارہ کرتے ہوئے، اُس نے کہا: ”یہی تو تمہارے لوگ پہلے بھی کرتے ہیں، کیا ایسا نہیں ہے؟“ مجھے ایک ایسے مریض کی مدد کرنے کی تفویض دی گئی جو تقریباً میری ہی طرح محدود تھا۔
اپنے خاندان کی مدد کیساتھ مَیں خدمتگزاری میں جوکچھ انجام دی رہی تھی کسی نہ کسی طرح اسکی خبر VRS کو پہنچ گئی۔ وہ اسقدر متاثر ہوئے کہ یہ سفارش کی گئی کہ مجھے دوبارہ پروگرام کا حصہ بنایا جائے۔ اسکا مطلب ہے کہ ہمارے خاندان کو خاص آلات کیلئے اور اُس دیکھبھال کیلئے جو مجھے اپنی کارگزاری کو جاری رکھنے کے سلسلے میں درکار ہوگی کچھ مالی امداد دی جائیگی۔ مَیں نے محسوس کِیا کہ خدا نے میری دُعاؤں کا جواب دے دِیا ہے۔
میری حالت مستحکم ہو گئی
میری جسمانی صحت کی بحالی اس حد تک پہنچ گئی ہے کہ مَیں اپنا سر اُٹھا سکتی ہوں، گھما سکتی ہوں اور بیٹھ سکتی ہوں۔ شکر ہے کہ میری قوتِگویائی تقریباً پوری طرح بحال ہو گئی ہے۔ مُنہ میں چھڑی کو استعمال کرتے ہوئے، مَیں لکھ سکتی ہوں، ٹائپ کر سکتی ہوں، سپیکرفون (ایک ایسا آلہ جس میں لاؤڈسپیکر اور مائیکروفون دونوں ہوتے ہیں اور ٹیلیفون کی لائنوں کے ذریعے رابطہ کِیا جاتا ہے) استعمال کر سکتی ہوں اور پینٹ کر سکتی ہوں۔ میری بعض تصاویر کو مُنہ سے بنائی گئی تصویری نمائشوں میں رکھا گیا ہے۔ مَیں اُس مشینی ویلچیئر پر اِدھراُدھر گھومتی ہوں جو مَیں ٹھوڑی کے کنٹرول سے چلاتی ہوں۔ ایک پاورلفٹ میری ویلچیئر کو اتنا اُونچا کر دیتی ہے کہ ہماری وین میں آ سکے اور اس کیساتھ مَیں تقریباً ہر جگہ جہاں مَیں جانا چاہتی ہوں جا سکتی ہوں۔
مجھے سانس کے بہت سے مسائل کا سامنا کرنا پڑا ہے—نمونیے کا خطرہ ہمیشہ لاحق رہتا ہے۔ بعضاوقات مجھے رات کو آکسیجن کی ضرورت پڑتی ہے۔ ۱۹۸۴ میں، کسی وبائی مرض کی پیچیدگیوں کے باعث مَیں تقریباً قریبالمرگ تھی۔ مجھے بارہا ہسپتال آنا اور جانا پڑا۔ لیکن اُس وقت سے لیکر میری صحت بہتر ہو گئی ہے۔ ۱۹۷۶ سے شروع کر کے، مَیں سال میں ایک یا دو بار امدادی پائنیر خدمت کرنے کے قابل ہوئی ہوں۔ لیکن مجھے احساسِتکمیل نہیں ہوا تھا۔ مَیں اپنے اُن منصوبوں کی بابت سوچتی رہی جو مَیں ایک جواںسال کے طور پر رکھتی تھی جوکہ ایک گولی لگنے کے باعث ادھورے رہ گئے تھے۔
میرے نصبالعین کا تکمیل پانا
یکم ستمبر، ۱۹۹۰ کو، اپنی بچپن کی خواہش کو پورا کرتے ہوئے، مَیں بالآخر کُلوقتی پائنیروں کی صفوں میں شامل ہو گئی۔ موسمِسرما کے مہینوں کے دوران جب سردی ہوتی ہے تو مَیں خطوط تحریر کرتے ہوئے اور سپیکرفون کو استعمال کرتے ہوئے گواہی دیتی ہوں۔ مگر جب موسم گرم ہو جاتا ہے تو مَیں گھرباگھر کی خدمتگزاری میں بھی حصہ لیتی ہوں۔ پورا سال مَیں سپیکرفون استعمال کرتے ہوئے گھر ہی میں بائبل مطالعے کراتی ہوں۔
مَیں فردوسی زمین پر شاندار مستقبل کی شدت سے منتظر ہوں جب مسیح یسوؔع اور یہوؔواہ خدا مجھے اس ویلچیئر سے رہائی دلائینگے۔ مَیں ہر روز اچھی صحت اور ”ہرن کی مانند چوکڑیاں [بھرنے]“ کی لیاقت کیلئے یہوؔواہ کے وعدوں کیلئے اُسکا شکر ادا کرتی ہوں۔ (یسعیاہ ۳۵:۶) حتیالمقدور مَیں اُس وقت کو پورا کرنے کی کوشش کرونگی جسے مَیں گنوا چکی ہوں اور اسکے بعد مَیں گھوڑ سواری سیکھونگی۔
اُس وقت کی منتظر ہوتے ہوئے، مجھے اب بھی یہوؔواہ کے خوشباش لوگوں میں سے ایک ہونے اور خدمتگزاری میں بھرپور شرکت کرنے پر ناقابلِبیان خوشی حاصل ہے۔—گلوؔریا ولیمز کی زبانی۔
[تصویر]
میری مسیحی خدمتگزاری—گھرباگھر جاتے ہوئے، ٹیلیفون کے ذریعے گواہی دیتے ہوئے، خطوط تحریر کرتے ہوئے
[تصویر]
میری تصاویر کو مُنہ سے بنائی جانے والی تصویری نمائشوں میں رکھا گیا ہے