فلوریڈا کے سرسبز میدان جنگل سے ایک مضطرب پکار
عظیم خالق کی دستکاری کے ان حیرتانگیز عجائب کو دیکھنے کیلئے ہر سال تقریباً ایک ملین سیاح اس حیرانکُن گرمسیر فردوس میں آتے ہیں۔ یہاں، میلوں گہری کھائیاں یا خوفزدہ کرنے والی فلکبوس چٹانیں نہیں ہیں، نہ ہی تصاویر کھینچنے کیلئے زبردست آبشاریں ہیں، نہ ہی اِدھراُدھر پھرتے موز (کینیڈا اور یو.ایس میں پائے جانے والے ہرن کی ایک قسم) یا فاصلے ہی سے تعریف کے مستحق دوگامہ امریکی خاکستری ریچھ۔ اسکی بجائے، سرسبز میدانوں پر مشتمل نیشنل پارک دُنیا میں پہلا نیشنل پارک ہے جو دَمبخود کر دینے والے مناظر کی بجائے حیاتیاتی افراط کیلئے قائم کِیا گیا ہے۔
کچھ حصہ سبزہزار، کچھ حصہ گرمسیر دلدل پر مشتمل ہونے کے باعث اسے ”گھاس کا دریا“ کہا جاتا ہے۔ کیونکہ یہ صدیوں سے قائم ہے اسلئے اس کے جانوروں اور پودوں کی زندگی معمول کے مطابق رواںدواں ہے۔ دس فٹ لمبے (امریکی) گھڑیال، اگلے شکار کو پکڑنے کیلئے آنکھیں کھلی رکھے، سخت گرمی اور دھوپ میں پڑے رہتے ہیں۔ رات کے وقت دلدلی علاقہ اُنکی دھاڑوں سے گونجتا ہے اور جب وہ جوبن پر آتے ہیں تو زمین کانپتی ہے۔ آفتابے کے برابر کچھوے خوراک کی تلاش میں گھاس کو اُلٹپلٹ دیتے ہیں۔ اُچھلتےکودتے، خوبصورت دریائی اُودبِلاؤ بھی اسی علاقے میں رہتے ہیں۔ نرم مٹی میں شکار کی تلاش میں دبے پاؤں سرگرداں فلوریڈا کے چیتوں کے تازہ نشان بھی دیکھے جا سکتے ہیں۔ سفید دُم والے ہرنوں کو ہر وقت چوکس رہنے کی ضرورت ہے کیونکہ فلوریڈا کے یہ چیتے ہر وقت اُنہیں ہڑپ کرنے کی تاک میں رہتے ہیں۔ رکون، کو اکثر قریبی جھیلوں میں اپنے شکار کو دھوتے ہوئے دکھایا جاتا ہے، ان سرسبز میدانوں میں خوراک کی افراط کے باعث یہ کھلے علاقوں میں بڑے آرام سے رہتے ہیں۔
یہاں ایسے جاندار بھی بکثرت پائے جاتے ہیں جو ان سرسبز کھلے میدانوں کی سیاحت کرنے والوں کی نظروں سے تقریباً اُوجھل ہوتے ہیں۔ زمین پر پڑے ہوئے پتوں، پانی پر تیرتے ہوئے سوسن کے پتوں اور انسانساختہ پانی کے نالوں میں خوبصورت سنبل پر مختلف اقسام کے بیشمار مینڈک دُشمن کی نظر سے چھپ کر بیٹھے ہوتے ہیں۔ آبی پودوں کے درمیان گھونگے کی رفتار سے رینگتے ہوئے اےپل گھونگے ہیں—گاف کے گیند کے برابر سنگپُشت جو گلپھڑوں اور سادہ قسم کے پھیپھڑوں سے لیس ہیں جو اُنہیں پانی کے اندر اور باہر دونوں جگہ پر سانس لینے کے قابل بناتے ہیں۔ کمگہرے پانی جھینگامچھلی، کیکڑوں اور بہت سی دیگر اقسام کی مچھلیوں سے بھرے پڑے ہیں۔ یہاں مختلف اقسام کے سانپ اور حشرات اور رینگنے والے جاندار بکثرت پائے جاتے ہیں—جو سب کے سب یا تو شکار کرنے یا پھر شکار ہو جانے کے منتظر ہیں۔
پروں والے جانداروں میں خوبصورت گلابی سپونبلز، سفید ابز اور برفانی ایگریٹس دکھائی دیتے ہیں جو اُوپر منڈلا رہے ہوتے ہیں جبکہ اُنکی ساتھی اپنے متوقع بچوں والے انڈوں کو سینے کیلئے سب کچھ چھوڑچھاڑ کر بیٹھی ہوتی ہیں۔ اُوپر تیزرفتاری سے اُڑنے والے خوبصورت بڑے بڑے نیلے بگلوں کے منظر کو بھلانا بھی آسان نہیں ہے جنکی تیزرفتاری کے باعث گنتی کرنا انتہائی مشکل ہے۔ امریکہ کا قومی نشان جاہوجلال والا گنجا عقاب، مرغابیوں، پیلی کنز کن اور اُودی گیلینولز کیساتھ فضا میں اُڑتا ہے۔
اسکے علاوہ یہاں لمبی گردن والے کارمورنٹ اور اینہنگا یا سنیکبرڈ بھی پائے جاتے ہیں، اسے یہ نام اسلئے دیا گیا ہے کیونکہ جب یہ اپنی S کی شکل کی لمبی گردن کو باہر نکالتا ہے تو یہ پرندے کی بجائے رینگنے والا جانور زیادہ لگتا ہے۔ فطرتاً بھوکے، دونوں طرح کے پرندے، سرسبز کھلے علاقے کے کمگہرے پانیوں میں خوراک کیلئے جدوجہد کرتے ہیں۔ جب وہ گیلے ہوتے ہیں تو دونوں پَر پھیلائے اور اپنی دُموں کے پنکھ کھولتے ہوئے ایسا شاندار منظر پیدا کرتے ہیں گویا کہ تصویر کھنچوانے کیلئے پوز بنا رہے ہوں۔ یہ پرندے صرف اُسی وقت اُڑ سکتے ہیں جب اُنکے پَر مکمل طور پر خشک ہوتے ہیں۔
کریننما لمپکن کو بھی نظرانداز نہیں کِیا جا سکتا جو اپنی زوردار چیخوں سے سیاحوں کو حیران کر دیگا۔ اس بڑے سے بھورے اور سفید چِتلے پرندے کو چلّانے والا پرندہ کہتے ہیں کیونکہ یہ دُکھ میں کراہتے ہوئے غمزدہ انسان کی طرح آوازیں نکالتا ہے۔ سرسبز میدانوں کا غیرمعروف اور خطرے کا نشانہ چیل، کوّے کے برابر شکاری پرندہ—جسکی بقا کا انحصار صرف اےپل گھونگوں کی دستیابی پر ہے—پرندوں کے شائقین کیلئے ایک یادگار نظارہ ہے۔ اُوپر کی طرف دیکھتے ہوئے سیاح، قدآور سرسبز بلوطوں میں جو چمکدار سبز پتوں سے بھرپور اور ہسپانوی کائی کی لڑیوں سے آراستہ ہیں پرندوں کے بڑے بڑے جھنڈوں کو رینبسیرا کرتے ہوئے دیکھ کر حیران رہ جائینگے۔ پرندوں کے رنگوں کیساتھ میل کھاتے ہوئے درختوں کے گرد لپٹی ہوئی انگور کی نازک بیلوں سے لٹکتے ہوئے سبز اور سُرخ شگوفے ہیں۔ یہاں سیاح یہ بھول سکتے ہیں کہ وہ کونسے مُلک میں اور کس براعظم میں ہیں۔ یہ اپنی نوعیت کی الگ ہی دُنیا ہے، قدرتی اور خوبصورت ایک حقیقی فردوس۔
آخر میں، یہاں کمگہرے پانی اور سنہری گھاس ہے—جو جنگلات کے سرسبز میدانوں کی نمایاں خصوصیت ہے۔ حدِنگاہ تک گھاس کا یہ لہراتا اور چمکتا ہوا دریا ہے جو ہر دو میل کے بعد کمازکم دو انچ جنوب کی سمت جھکتے ہوئے، میز کی بالائی سطح کی طرح چپٹا نظر آتا ہے۔ غیرمحسوس طور پر، نمایاں دھارے کے بغیر، پانی ہمیشہ سُسترفتاری کیساتھ سمندر کی طرف بہتا رہتا ہے۔ یہی جنگلات کے سرسبز میدانوں کی جان ہے؛ اسکے بغیر، یہ میدان ختم ہو جائینگے۔
اس صدی کے اوائل میں، پیشتر اس سے کہ ان سرسبز میدانوں کو انسانی ہاتھوں کے ذریعے تباہوبرباد کِیا جاتا اور اس قدر نقصان پہنچایا جاتا، گھاس کا یہ بحر مغرب سے مشرق تک ۸۰ کلومیٹر پر اور دریائے کیسیمی سے خلیج فلوریڈا تک ۵۰۰ کلومیٹر تک پھیلا ہوا تھا۔ ایک اوسط قد کا شخص کندھوں تک بھیگے بغیر پورے علاقے میں گھوم سکتا تھا۔ ہوا کیساتھ اُڑتے ہوئے، سیاحوں کو شاندار یادگار تجربہ عطا کرتے ہوئے، بادبانی کشتیاں لمبی سنہری گھاس میں کمگہرے پانیوں کی سطح پر بڑی تیزی سے چلتی ہیں۔ مچھلی کا شکار کرنے والے جو صدیوں سے ایسا کرتے رہے ہیں چھوٹی مچھلی اور میٹھےپانی اور نمکینپانی کی دوسری مچھلی پکڑنے کیلئے یہاں آتے ہیں۔
مدد کیلئے ایک بیتاب پکار
اس صدی کے اوائل میں، فلوریڈا کے سیاستدان اور کاروباری منتظمین نے جنگلات کے سرسبز میدانوں کو ناپسندیدہ جانداروں کا ایک دلدل خیال کِیا جسے غیرمنقولہ جائداد کو فروغ دینے، شہری علاقے کی توسیع اور زراعت کی ترقی کیلئے ختم کر دیا جانا چاہئے۔ ”اس پر بند باندھیں، اس پر پشتہ بنائیں، اس کا پانی نکالیں، اسکا رُخ موڑیں“ یہ اُنکا نعرہ بن گیا۔ ۱۹۰۵ میں، فلوریڈا کے گورنر کے طور پر اپنے الیکشن سے پہلے، این. بی. براورڈ نے اس ”بیماری کے گھر“ سے پانی کی آخری بوند تک نکالنے کا وعدہ کِیا۔
یہ بےبنیاد وعدے نہیں تھے۔ مٹی ہٹانے والی بڑی بڑی مشینیں اور دریا صاف کرنے والے آلات لائے گئے۔ یو.ایس. آرمی کے پیشہور انجینیئروں کی نگرانی میں، تربتر علاقے کے ایک ملین مربع میٹر کو اس عمل کے ذریعے ختم کرتے ہوئے، ۹۰ کلومیٹر لمبی اور ۹ میٹر گہری نہریں کھودی گئیں۔ بڑے بڑے سیلابی پشتے، بند اور پانی کے نکاس کے مراکز تعمیر کئے گئے اور جنگلات کے سرسبز میدانوں میں سے مزید نہریں اور سڑکیں نکالی گئیں۔ نئے وسیع تعمیرشُدہ کھیتوں کی آبیاری کیلئے حیواناتی زندگی سے پُر ان بیشقیمت، زندگیبخش پانیوں کا رُخ موڑ دیا گیا۔ بڑے بڑے رہائشی منصوبوں، شاہراؤں، کاروباری مراکز اور گاف کے میدان بنانے کیلئے جنگلات کے اَور زیادہ کھلے میدان کو ہڑپ کرتے ہوئے، ساحلی شہر بھی مغرب کی طرف بڑھنے لگے۔
اگرچہ جنگلات کے سرسبز میدانوں کے ایک حصے کو ۱۹۴۷ میں نیشنل پارک قرار دیا گیا تھا، پانی کے نکاس اور رُخ موڑنے کی رفتار تباہکُن طور پر تیز رہی۔ ماہرِماحولیات اس بات سے متفق ہیں کہ جنگلات کے سرسبز میدانوں کا مسلسل نکاس—اور ایسا کرنے کیلئے لاکھوں ڈالر خرچ کرنا—ایک بڑی حماقت تھی۔ چند ایک سمجھتے تھے کہ پانی کے بہاؤ کو منقطع کرنے کا جنگلات کے سرسبز میدانوں میں پائے جانے والے جانداروں پر تباہکُن اثر ہوگا۔ اس نقصان کے منظرِعام پر آنے میں عشرے بیت گئے۔
تاہم، ۱۹۸۰ کے دہے کے وسط میں، ماہرِماحولیات اور ماہرِحیاتیات یہ آگاہی دے رہے تھے کہ جنگلات کے سرسبز میدان ختم ہو رہے ہیں۔ ایسا دکھائی دیتا تھا کہ گویا وہاں پر موجود ہر جاندار شے چیخ چیخ کر مدد کیلئے پکارتے ہوئے شکایت کر رہی تھی۔ پانی کے تالاب جہاں گھڑیال رہتے تھے خشکسالی کے دوران خشک ہونے شروع ہو گئے۔ جب بارشیں ہوئیں اور علاقے پانی سے بھر گئے تو اُنکے آشیانے اور انڈے بہہ گئے۔ اب اُنکی تعداد بڑی تیزی سے کم ہو رہی ہے۔ ایسی خبریں موصول ہوئی ہیں کہ وہ اپنے بچوں کو کھا رہے ہیں۔ وہ پرندے جو خوراک کی تلاش میں پانی میں گھومتے پھرتے تھے جنکی تعداد اُس علاقے میں کبھی ایک ملین سے بھی زیادہ تھی—تقریباً ۹۰ فیصد کمی کیساتھ اب ہزاروں تک پہنچ گئی ہے۔ خوبصورت گلابی سپونبلز جو اپنے گھروں کو لوٹتے وقت کبھی آسمان کو سیاہ کر دیا کرتے تھے گھٹتے گھٹتے اب تعداد میں بالکل کم رہ گئے ہیں۔ ۱۹۶۰ کے دہے سے لیکر، گھونسلوں میں رہنے والے وڈسٹروکس پرندوں کی تعداد ۶،۰۰۰ سے کم ہو کر صرف ۵۰۰ رہ گئی ہے، اس کے ناپید ہونے کا خطرہ ہے۔ اسکے علاوہ ریاست کی صدفی مچھلیوں کی پیداوار کیلئے فلوریڈا خلیج کے زرخیز مراکز کو بھی خطرات درپیش ہیں۔ ایک رپورٹ کے مطابق، ہرن سے لیکر کچھوے تک دیگر تمام ممالیہ جانوروں کی تعداد میں بھی ۷۵ فیصد سے ۹۵ فیصد کمی واقع ہوئی ہے۔
زراعت اور انسانی سرگرمیوں کی متواتر بےجا مداخلت کھادوں اور کیڑےمار ادویات کی زمین میں جذب ہونے والی آلودہ اشیاء پر منتج ہوئی ہے جنہوں نے آہستہ آہستہ زمین اور پانی کو آلودہ کر دیا ہے۔ دلدل میں مچھلیوں سے لیکر رکونز اور گھڑیال اور کچھوؤں تک ایک دوسرے کی خوراک بننے کے لحاظ سے ان میں سیسے کی بڑی مقدار پائی گئی ہے۔ ماہیگیروں کو ایسے پانیوں میں پائی جانے والی خاردار پروں والی مچھلی اور کیٹفش کھانے سے منع کِیا گیا ہے جو زمین سے رِس رِس کر آنے والے سیسے سے بھرے ہوئے ہیں۔ سیسے کے زہر کے علاوہ بِلااجازت شکار کرنے والوں کے ذریعے، چیتے انسان کے حملے کا نشانہ بھی بنے ہیں۔ یہ جانور اِسقدر خطرے کا شکار ہے کہ یہ خیال کِیا جاتا ہے کہ پوری ریاست میں انکی تعداد ۳۰ سے بھی کم اور پارک میں ۱۰ سے بھی کم ہے۔ جنگلات کے سرسبز میدانوں کے بعض پودے بھی ناپید ہونے کے قریب ہیں۔
بعض مشاہدین اور ماحولیات کے ماہرین کا خیال ہے کہ شاید جنگلات کے سرسبز میدان اُس حالت کو پہنچ گئے ہیں جہاں بہتری کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ تاہم، حکومت اور پارک کے حکام اور ماحولیات کے بہت سے ماہرین کا خیال ہے کہ حکومت اور وفاقی ایجنسیوں کی طرف سے مالی امداد اور فوری کارروائی کیساتھ، جنگلات کے سرسبز میدانوں کو بچایا جا سکتا ہے۔ ”درحقیقت کوئی نہیں جانتا کہ کب اسطرح کی بڑی اور پیچیدہ چیز ناپید ہو جائیگی،“ ایک اہلکار نے بیان کِیا۔ ”ہو سکتا ہے یہ پہلے ہی واقع ہو چکا ہو۔“ ماہرِحیاتیات جان اوگڈن تسلیم کرتا ہے کہ جنگلات کے سرسبز میدان کو قابلِکاشت بنانے کا امکان زیادہ اُمیدافزا تو نہیں ہے مگر وہ پُراُمید ہے۔ ”مجھے ایسا ہونا پڑیگا،“ اُس نے کہا۔ ”اسکا نعمالبدل ایک حیاتیاتی بیابان ہے جس میں کہیں کہیں چند ایک مگرمچھ، کسی جگہ پر پرندوں کے کچھ گھونسلے اور درمیان میں بُھس بھرے ہوئے چیتے کا ایک عجائب گھر ہو۔“
پورے مُلک میں فلوریڈا کے افسرانِبالا، ماہرِحیاتیات اور ماحولیات کے ماہرین کا احتجاج واشنگٹن میں ریاستہائےمتحدہ کے صدر اور نائب صدر سمیت وفاقی اہلکاروں اور سیاستدانوں تک پہنچ گیا ہے۔ اب یہ ایک بار پھر یو.ایس. کے منصوبے کا حصہ ہے۔ آرمی کے پیشہور انجینیئروں کو ایک بار پھر اُسی کام کا آغاز کرنا پڑا ہے جسے اُنکے پیشروں نے سالوں پہلے شروع کِیا تھا۔ اُنکا نیا منصوبہ جنگلات کے اس سرسبز وسیع میدان کو اور اس میں پائے جانے والے جانداروں کو نقصان پہنچانے، اس پر بند باندھنے اور اس کے پانیوں کا رُخ موڑنے کی بجائے، اُنہیں بچانا ہے۔
واضح طور پر پانی کا مسئلہ ہے۔ ”کامیابی کا راز صرف صافستھرا پانی—اور اسکی افراط ہے،“ یو.ایس. نیوز اینڈ ورلڈ رپورٹ نے لکھا اور ”یہ صرف زرعی یا دیہی علاقوں کو فراہمکردہ پانی کو کم کرنے سے ہی ممکن ہے۔ جنوبی فلوریڈا کے گنے کے کھیت اور سبزیوں کے فارم ہی امکانی ہدف ہیں۔“ ”پانی کی تقسیم کافی مشکل ہوگی مگر ہم نے کافی پانی فراہم کِیا ہے اور ہم اَور زیادہ نہیں کر سکتے،“ جنگلات کے وسیع سرسبز پارک کے سپرنٹنڈنٹ رابرٹ چانڈلر نے بیان کِیا۔ ”دوسروں کو اس پر سنجیدگی سے گفتگو کرنی پڑیگی،“ اُس نے کہا۔ ”جنگلات کے سرسبز میدان کو کاشتکاری کے قابل بنانے کی بابت آواز بلند کرنے والوں کو خطرہ ہے کہ اس منصوبے کے خلاف سب سے زیادہ جدوجہد فلوریڈا میں گنے کے کاشتکار اور کسان کرینگے جن کی جنگلات کے ان سرسبز کھلے میدانوں میں زرعی اراضی ہے۔ جنگلات کے سرسبز میدانوں میں جانداروں کو خطرے میں ڈال کر پانی کا زیادہتر حصہ اُن کسانوں کی ضروریات کو پورا کرنے کیلئے استعمال کِیا جاتا ہے۔
جنگلات کے سرسبز میدانوں کو ازسرِنو قابلِکاشت بنانا اور بچانا تاریخ میں بحالی کا سب سے بڑا جرأتمندانہ اور انتہائی مہنگا منصوبہ ہوگا۔ ”اس کیلئے بہت زیادہ پیسہ درکار ہے، ہمیں بہت زیادہ زمین درکار ہے اور ہم ایک ایسے پیمانے پر ماحولیات کی بحالی کی بابت بات کر رہے ہیں جو ہم نے دُنیا میں پہلے کبھی نہیں دیکھی،“ ورلڈ وائلڈلائف فنڈ میں جنگلات کے سرسبز میدان کے پروجیکٹ کے سربراہ نے بیان کِیا۔ ”آئندہ ۱۵ سے ۲۰ سال کے اندر، تقریباً ۲ بلین ڈالر کی قیمت پر،“ سائنس میگزین نے بیان کِیا، ”پیشہور فوجی دستے اور حکومت اور دیگر وفاقی ایجنسیاں پورے فلوریڈا کے جنگلات کے ماحول کے پانی کے بہاؤ اور نکاسی کا اور اسکے ساتھ ساتھ ۱۴،۰۰۰ مربع کلومیٹر کے کیچڑ والے اور باقاعدہ پانی کی نکاسی والے علاقوں میں ردوبدل کرنے کا منصوبہ رکھتی ہیں۔“
نیز، یہ منصوبہ جھیل اوکیکوبی کے قریب تقریباً ۱۰۰،۰۰۰ ایکڑ زرعی اراضی خریدنے اور اسے دلدلی زمین میں تبدیل کرنے کا تقاضا کرتا ہے جوکہ باقیماندہ زرعی اراضی سے پانی نکالتے ہوئے آلودہ کرنے والی اشیاء کو باہر نکال دیگا۔ گنے کے کاشتکار جنگلات کے سرسبز میدانوں کی صفائی کیلئے اَور زیادہ رقم حاصل کرنے کیلئے وفاقی صنعت کے ایک پونڈ پر ایک سینٹ کی امداد کے ختم کئے جانے کی تجویز کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں۔ ”اس کی ادائیگی اُن لوگوں کو کرنی چاہئے جنہوں نے اس کے خاتمے سے سب سے زیادہ فائدہ اُٹھایا تھا: یعنی فلوریڈا کے گنے کے کاشتکار اور اسے کام میں لانے والوں کو،“ یوایساے ٹوڈے کے اخبار نے اداریے میں لکھا۔ یہ تخمینہ لگایا گیا ہے کہ فلوریڈا میں گنے کی فصل پر ایک پونڈ پر ایک سینٹ کے لگان سے ۳۵ ملین ڈالر سالانہ حاصل ہونگے۔
یہ توقع کی جاتی ہے کہ کسانوں اور گنے کے کاشتکاروں کی ماہرینِحیاتیات، ماہرینِماحولیات اور قدرتی مناظر سے لگاؤ رکھنے والوں کے مابین جدوجہد ریاستہائےمتحدہ کے دیگر حصوں کی طرح جاری رہیگی جہاں ایک دوسرے کے خلاف اسی طرح کی دھڑےبندیاں ہوتی رہتی ہیں۔ نائب صدر گور نے تعاون کیلئے اپیل کی۔ ”باہم ملکر کام کرنے سے،“ اُس نے کہا، ”ہم اس فرق کو مٹا سکتے ہیں اور ایک صحتمند ماحول اور ایک خوشگوار معیشت کو یقینی بنا سکتے ہیں۔ لیکن عمل کرنے کا وقت اب ہی تو ہے۔ دُنیا میں اَور کہیں سرسبز میدانوں پر مشتمل علاقہ نہیں ہے۔“
[صفحہ 13 پر تصویر]
گھڑیال
[صفحہ 14 پر تصویر]
گنجا عقاب
[صفحہ 15 پر تصویر]
وائٹ ابز
[صفحہ 15 پر تصویر]
گھونسلا بناتے ہوئے اینہنگس یا سنیکبرڈز کا جوڑا
[صفحہ 16 پر تصویر]
لمپکن جو رونے والا پرندہ بھی کہلاتا ہے
[صفحہ 16 پر تصویر]
بڑا نیلا بگلا
[صفحہ 16 پر تصویر]
کورمورنٹ چیکس
[صفحہ 17 پر تصویر]
مٹی میں پائے جانے والے رکون کی تگڈم
[صفحہ 17 پر تصویر]
ایگریٹ