دنیا کا نظارہ کرنا
اَمن کے مہلک مِشن
جرمن اخبار فرینکفرٹر الجمینی زیٹنگ بیان کرتا ہے کہ اب تک ریاستہائے متحدہ کے اَمن برقرار رکھنے کے مِشنوں میں خدمات کے دوران، ایک ہزار سے زائد اشخاص جاںبحق ہو چکے ہیں۔ اس تعداد میں وہ لوگ شامل نہیں ہیں جنہوں نے یواین لڑائی کے اجتماعی مِشنوں میں اپنی جانیں گنوا دیں، جیسےکہ خلیج کی جنگ میں۔ ان ۱،۰۰۰ اموات میں سے ۲۰۰ سے زائد صرف ۱۹۹۳ میں واقع ہوئیں۔ اتنی زیادہ کیوں؟ اخبار نے وضاحت کی کہ اقوامِمتحدہ اب ایک مختلف قسم کی لڑائی میں ملوث ہو رہی ہے۔ جبکہ ماضی میں اقوامِمتحدہ دوسرے ممالک کے مابین لڑائیوں کے سمجھوتے پر توجہ دیتی اور اُنکی نگرانی کرتی تھی، اب تنظیم ”ایسی خانہجنگیوں میں“ اُلجھی ہوئی ہے ”جس میں حکومت کا اختیار ختم ہو جاتا ہے اور جنگ میں ملوث تنظیمیں بھی یواین کے عملے کو بچانے میں ناکام رہتی ہیں۔“
ازبستس (فائرپروف مادہ) سے آگاہی جاری ہے
نیو سائنٹسٹ میگزین بیان کرتا ہے کہ تحفظ فراہم کرنے والے حکام کے غلط اندازے کے باعث، ہزاروں برطانوی تعمیراتی کارکُن ازبستس سے متعلق کینسر کی وجہ سے ہلاک ہو جائیں گے۔ برسوں پہلے، ۱۹۶۰ کے دہے میں، جب طبّی ماہرین کا خیال تھا کہ ازبستس فائبرز صحت کے لئے مُضر ہیں تو برطانوی حکومت نے ان فائبرز کے ہوا میں ارتکاز کو کم کرنے کے لئے فیکٹری سے متعلق ضابطے نافذ کر دیئے۔ تاہم، محققین اب دریافت کرتے ہیں کہ ملازمین جنہیں سب سے زیادہ خطرہ لاحق تھا وہ کارپینٹر، الیکٹریشنر، پلمبر اور گیس فٹر تھے جو ازبستس سے متعلق مصنوعات کے ساتھ غیرمحفوظ حالت میں کام کرتے تھے۔ چونکہ ایک قسم کا پھیپھڑوں کا سرطان نمودار ہونے میں ۳۰ سال لیتا ہے، اسلئے یہ غلطی حال ہی میں منظرِعام پر آئی ہے۔ اس وقت یہ معلوم نہیں کہ کونسے تعمیراتی طریقے یا ازبستس مصنوعات زیادہ مُہلک ہیں۔ نتیجتاً، برؔطانیہ کی ہیلتھ اینڈ سیفٹی ایگزیکٹو تعمیراتی کارکنوں کو تاکید کرتی ہے کہ اگر وہ کوئی ایسی چیز دریافت کرتے ہیں جس میں ازبستس ہے تو انتہائی احتیاط برتیں اور اپنی تشویش کی بابت اپنے آجروں کو آگاہ کریں، جنہیں چاہئے کہ اشیاء کی چھانبین کریں اور مناسب تحفظ فراہم کریں۔
انتقالِخون کے مزید خطرات
آؔسٹریلیا کے کنبیرا ٹائمز کے مطابق، ریڈکراس نے ڈاکٹروں کو خبردار کِیا ہے کہ آلودہ خون مُہلک وبائی امراض منتقل کر سکتا ہے اور یہ کہ ابھی تک اس نامیاتی اجسام کو الگ کرنے کا کوئی حتمی طریقہ موجود نہیں ہے۔ دی میڈیکل جرنل آف آسٹریلیا کے ایک بیان کا حوالہ دیتے ہوئے، دی ٹائمز کہتا ہے کہ نیو ساؤتھ ویلز کی ریاست میں ۱۹۸۰ اور ۱۹۸۹ کے دوران چار لوگ اس جراثیم سے آلودہ خون کی وجہ سے مر گئے۔ اخبار کے مضمون نے مزید بیان کِیا: ”مسئلہ یہ ہے کہ جرثومہ، یرسینیا اینٹروکولیٹیکا، اُس وقت جبکہ خون منجمد ہونے کو ہوتا ہے تو پورے خون کے پیکٹوں میں بڑی تیزی کیساتھ نسلکشی کر سکتا ہے۔ لوگ جنہیں خون کا عطیہ دینے سے کئی ہفتے پہلے معدے کی بیماری تھی وہ بھی کبھیکبھار یہ نامیاتی اجسام منتقل کر سکتے ہیں، جوکہ بعد میں بہت زیادہ نسلکشی کر سکتے ہیں جبکہ خون سٹوریج میں ہے اور ٹرانسفیوژن کا منتظر ہے۔ خون حاصل کرنے والے مریض ٹاکسک شاک (بلڈپریشر میں کمی اور حرکتِقلب میں تیزی) اور موت کا شکار ہو سکتے ہیں۔“
پولیو پر جزوی فتح
مفلوج کرنے والا پولیوملائٹس جو عام طور پر پولیو کہلاتا ہے، کی بابت کہا جاتا ہے کہ پوری تاریخ میں تقریباً ۱۰ ملین سے زیادہ لوگوں کو ہلاک یا اپاہج کر چکا ہے۔ اس کی تصویرکشی پیچھے قدیم مصرؔ، یوؔنان اور رؔوم کی مجسّمہسازی میں کی گئی ہے۔ عام طور پر بچوں کو متاثر کرتے ہوئے، یہ سانس رُکنے کے باعث فالج یا موت کا سبب بن سکتا ہے۔ ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کی ایک شاخ، پین امریکن ہیلتھ آرگنائزیشن کے مطابق، اب، مغربی نصفکُرہ میں پولیو کا بالکل خاتمہ ہو گیا ہے۔ اس سلسلے میں آخری مریض جسکی اطلاع ملی وہ ۱۹۹۱ میں ایک پریووین بچہ تھا جو ایک ٹانگ کے نقصان کے ساتھ زندہ بچ گیا۔ تاہم، چیچک سے بالکل مختلف، جو ۱۹۷۷ میں عالمی پیمانے پر ختم کر دی گئی تھی، پولیو کا وائرس ابھی تک دیگر خطوں میں پایا جاتا ہے اور ممکنہ طور پر آبادکاری کی غرض سے آنے والوں اور سیاحت کے ذریعے امریکہ میں دوبارہ شروع ہو سکتا ہے۔ گزشتہ مکمل رپورٹ نے سال (۱۹۹۳) کے لئے ۱۰،۰۰۰ سے کم مریضوں کی نشاندہی کی تھی۔ صحت کے ماہرین کا کہنا ہے کہ جبتک پوری طرح قابو نہیں پا لیا جاتا، بیماری کے خلاف بچاؤ کا عمل جاری رہنا چاہئے۔
اس دانت کو بچائیں!
اگر کوئی دانت اچانک نکل جاتا ہے تو اسے پھینک نہ دیں، یوسی برکلی ویلنیس لیٹر مشورہ دیتا ہے۔ ”تحقیق ظاہر کرتی ہے کہ اگر آپ ۳۰ منٹ کے اندر اندر دانتوں کے ماہر تک پہنچ جاتے ہیں تو آپ کے پاس دانت کے کامیابی کے ساتھ دوبارہ جڑنے کا ۵۰ فیصد امکان ہے۔“ آپ کو کیا کرنا چاہئے؟ جہاں تک ممکن ہو پُرسکون رہنے کی کوشش کریں۔ دانت کو اُوپر سے پکڑیں اور نیمگرم پانی میں آہستہ آہستہ دھوئیں—اسے رگڑیں نہیں۔ اپنے دانتوں کے ڈاکٹر کو ٹیلیفون کر کے اپنی آمد سے آگاہ کریں اور اگر وہ آپ کو کچھ اور نہ کہے، تو دانت کو آہستہ سے واپس اُس کے خانے میں ڈال دیں۔ دانت کو اچھی طرح بٹھانے کیلئے کسی صاف کپڑے یا رومال کو پانچ منٹ کیلئے دانتوں میں دبائیں اور جب تک آپ دانتوں کے ڈاکٹر تک پہنچ نہیں جاتے مناسب دباؤ کے ساتھ دباتے رہیں۔ اگر آپ فوری طور پر دانت کو واپس اُس کے خانے میں نہیں ڈال سکتے تو اسے اپنے مُنہ کے لعاب میں تر رکھیں۔ اُن بچوں کے سلسلے میں جو اتنے چھوٹے ہیں کہ شاید دانت کو نگل ہی جائیں، اسے ایک پلاسٹک کی تھیلی یا کپ میں رکھیں اور اسے دُودھ یا چٹکی بھر نمک ملے پانی میں رکھیں۔ اگر زیادہ وقت بھی گزر جائے تو بھی دانتوں کے ڈاکٹر کے پاس جائیں، اور یہ اچھا ہوگا کہ اُسے یہ فیصلہ کرنے دیں کہ کیا کِیا جائے۔ ”دانت کو بچانا واقعی اس کوشش کا مستحق ہے،“ رپورٹ بیان کرتی ہے۔
ورلڈ ہیلتھ سروے
عالمی ادارۂصحت (ڈبلیوایچاو)، عالمی صحت کے اپنے پہلے سالانہ سروئے میں بیان کرتا ہے کہ دُنیا کی آبادی کا تقریباً ۴۰ فیصد—دو بلین سے زیادہ لوگ—کسی نہ کسی وقت بیمار رہتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ زیادہتر بیماری اور علالت غیرضروری اور ایسی ہے جس پر قابو پایا جا سکتا ہے۔ اسکی تہہ میں چھپا سب سے بڑا مسئلہ غربت ہے، کیونکہ دُنیا کے ۶.۵ بلین لوگوں کی نصف سے زیادہ تعداد ضروری ادویات سے محروم ہے، اسکے ایک تہائی بچے غذائی قلّت کا شکار ہیں، اور دُنیا میں لوگوں کا تقریباً پانچواں حصہ اپنی بیماریوں کی روکتھام یا علاج کیلئے بہت ہی کم یا کوئی وسائل نہیں رکھتا ہے۔ مُہلکترین بیماریاں—عارضۂقلب، فالج، پھیپھڑوں سے متعلق بیماری، تپِدق، ملیریا اور تنفّسی بیماریاں اور اسکے علاوہ پانچ سال سے کم عمر کے بچوں میں اسہال—ہر سال لاکھوں کو ہلاک کرتی ہیں۔ تاہم، رپورٹ بیان کرتی ہے کہ گزشتہ ۲۵ سالوں کے دوران، متوقع عمر ۶۱ سال سے بڑھ کر ۶۵ سال ہو گئی ہے۔ ”ایسے لاکھوں لوگوں کے واسطے جن کیلئے بقا روزمرّہ کی جدوجہد ہے، طویل عمر کا امکان بخشش کی بجائے شاید سزا کی مانند دکھائی دے،“ ڈبلیوایچاو کے ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر ہیرؔوشی ناکاجیما نے بیان کِیا۔
بتیوں کو نظرانداز کرنا
بیونوس ائیرز اخبار کلارین کے مطابق، اؔرجنٹینا میں، ۱۹۹۴ کے دوران گاڑیوں کے ۷،۷۰۰ مُہلک حادثات ہوئے۔ ان حادثات میں ۱۳،۵۰۵ لوگ شدید زخمی اور ۹،۱۲۰ ہلاک ہوئے۔ حکومت کی ایک ایجنسی کے ذریعے کئے گئے ایک تجزیے نے آشکارا کِیا کہ گاڑیوں کے تمام حادثات کا ۹۰ فیصد ڈرائیور اور راہگیروں کے ٹریفک قوانین کی خلافورزی کرنے کے باعث واقع ہوتا ہے۔ شہروں میں سب سے زیادہ ہونے والے حادثات آپس میں ٹکرانے سے ہوتے ہیں جوکہ ٹریفک کی سرخ بتّی کو نظرانداز کرنے کے نتیجے میں واقع ہوتے ہیں۔ ایک سرکاری اہلکار، اؔیڈورڈو برٹوٹی، نے بیان کِیا کہ اگرچہ دوسرے ممالک میں ٹریفک کی سرخ بتّی کو نظرانداز کرنا ناقابلِتصور ہے، اؔرجنٹینا میں ”یہ نہ صرف روزمرّہ کا معمول ہے بلکہ ایسے لوگ بھی ہیں جو ایسا کرنے میں فخر محسوس کرتے ہیں۔“
خواندگی اور صحت
یونیسکو (اقوامِمتحدہ کی تعلیمی، سائنسی، اور ثقافتی تنظیم) کے بیانکردہ اعدادوشمار کے مطابق، اعلیٰ درجے کی خواندگی متوقع عمر میں طوالت کا باعث بن سکتی ہے۔ ”لوگ جنہوں نے پڑھنا اور لکھنا سیکھ لیا ہے،“ میگزین یونیسکو سورسز بیان کرتا ہے، ”صفائیستھرائی اور صحت کی دیکھبھال کے سلسلے میں زیادہ توجہ دیتے ہیں؛ وہ بیماری کی صورت میں جان گنوانے کیطرف کم اور ڈاکٹر سے رجوع کرنے کی طرف غالباً زیادہ مائل ہوتے ہیں۔“ تاہم، خواندگی اُن عناصر میں سے صرف ایک ہے جو طویل عمر پر اثرانداز ہوتے ہیں۔ ”طبّی علاج تک رسائی، خاندان کے مالی حالات اور معاشرتی ماحول“ بھی اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
خواتین یا مرد—کون زیادہ دیر تک کام کرتے ہیں؟
شمالی امریکہ اور آسٹرؔیلیا کے علاوہ، ہر جگہ خواتین ملازمت پر مردوں کی نسبت زیادہ دیر تک کام کرتی ہیں، یونیپا (یونائیٹڈ نیشنز پاپولیشن فنڈ) کا میگزین پوپولی بیان کرتا ہے۔ سب سے بڑا فرق افرؔیقہ اور ایشیا-بحرالکاہل کے خطے میں ہے، جہاں مزدوروں کے طور پر، خواتین مردوں کی نسبت اوسطاً ۱۲ گھنٹے فی ہفتہ زیادہ کام کرتی ہیں۔ ”بہت سے ترقیپذیر ممالک میں،“ میگزین بیان کرتا ہے، ”خواتین محض اپنے زندہ رہنے کے دس سال پُرانے ناکافی معیاروں کو قائم رکھنے کی کوشش میں اب ہر ہفتے ۶۰-۹۰ گھنٹے کام کر رہی ہیں۔“ اس اثنا میں، صنعتی دُنیا میں، گھریلو کامکاج میں مردوں کی شرکت میں اضافہ ہو رہا ہے۔ ”لیکن،“ پوپولی واضح کرتا ہے، یہ اضافہ ”حسبِمعمول کھانا پکانے، صفائی کرنے اور کپڑے دھونے کے سلسلے میں زیادہ مساوی تقسیم کی وجہ سے نہیں ہے۔ بلکہ اسلئے ہے کہ مرد خریداری جیسے کاموں کیلئے زیادہ وقت لے رہے ہیں۔“
پودے جو ”یادداشت“ رکھتے ہیں
جب حملہ کِیا جاتا ہے تو بہت سے پودے اپنے حملہآوروں سے بچنے کیلئے کیمیکل پیدا کرتے ہیں۔ نیو سائنٹسٹ میگزین بیان کرتا ہے کہ بعض تو دوبارہ حملہ کئے جانے کی صورت میں اُنہیں اَور زیادہ تیزی کیساتھ ناپسندیدہ زہریلے مادے پیدا کرنا شروع کرنے کی اجازت دیتے ہوئے، حملے کی ”یادداشت“ بھی تشکیل دے لیتے ہیں۔ تمباکو کے پتے کو کھانے والی سنڈی جیسمونک ایسڈ کی تیاری کو تیز کر دیتی ہے جوکہ جڑوں تک پہنچ جاتی ہے۔ یہ نکوٹین کی پیداوار کو شروع کرتا ہے، جوکہ پتوں میں واپس جاتے ہوئے اُنہیں کھانے والوں کیلئے ناپسندیدہ بنا دیتی ہے۔ پہلے ہی سے ایسڈ سے متاثرہ جڑوں والے پودوں نے حملے کیلئے جلدی ردِعمل دکھایا۔ ”یہ تجویز کرتا ہے کہ بلاشُبہ پودے یادداشت رکھتے ہیں،“ بوفیلو میں سٹیٹ یونیورسٹی آف نیو یارک کے اینؔ بالڈون بیان کرتے ہیں۔