بائبل کا نقطۂنظر
کیا جو ئےبازی مسیحیوں کیلئے ہے؟
جوئےبازی ایک مہنگی لت ہے۔ یہ اکثر ایک شخص کی آدھی آمدنی ہڑپ کرتی اور بڑے قرضوں کا باعث بنتی ہے۔ یہ لت شادیوں اور ذرائع معاش کو برباد کر سکتی ہے اور بعض کے جرم میں ملوث ہونے کا باعث بھی بن سکتی ہے۔ اس کے متاثرین نشے کا شکار ہو جاتے ہیں اور دوسرے نشہبازوں کی طرح معاشرتی اور جذباتی طور پر الگتھلگ رہنے کی علامات میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔
جوئےبازی اس قدر ہمہگیر ہے کہ بعض ممالک اسے ایک ”قومی تفریح“ خیال کرتے ہیں۔ تاہم، جوئےبازی، درحقیقت، ہے کیا؟ دی ورلڈ بک انسائیکلوپیڈیا بیان کرتا ہے کہ جوئےبازی، ”مستقبل میں ہونے والے کسی واقعہ کے نتیجے کے بارے میں شرط لگانا“ ہے۔ ”جوئےباز جس نتیجے کی پیشبینی کرتے ہیں اس پر عموماً پیسے یا شرط کے روپے کے برابر کی قیمت کی کسی دوسری شے کی شرط لگاتے ہیں۔ جب نتیجہ نکل آتا ہے تو جیتنے والا ہارنے والے کی شرط پر لگائی ہوئی رقم بھی لے لیتا ہے۔“
جوئےبازی کوئی نئی چیز نہیں ہے۔ وسطی امریکہ کے قدیم مایا پہلے کبھی مقبول بال گیم کھیلا کرتے تھے جو کہ پوکٹاٹوک کہلاتی تھی—جو ازٹکس میں بطور تلاشتلی کے مشہور تھی—”جس میں بعض، [کھیل پر قماربازی کے ذریعے] اپنی دولت ہارنے کے بعد، اپنی زندگیاں بھی داؤ پر لگا دیا کرتے تھے،“ رسالہ امریکاز کہتا ہے۔ ان قدیم لوگوں کو شرط لگانے کا جنون ہو گیا تھا، بعضاوقات ”ربر کی گیند کی ایک ناپائیدار اُچھال پر غلامی کی زندگی بسر کرنے کا خطرہ مول لے لیا کرتے تھے۔“
کیوں بہتیروں کو جوئےبازی کا جنون ہو گیا ہے؟ ریاستہائے متحدہ میں، پبلک گیمنگ ریسرچ انسٹیٹیوٹ کے صدر، ڈؔؤین برک کے مطابق، ”زیادہ سے زیادہ لوگ جوئےبازی کو ایک طرح سے فرصت کے وقت کی ایک قابلِقبول سرگرمی کے طور پر خیال کرتے ہیں۔“ بعض مذہبی تنظیمیں بھی فنڈز میں اضافے کرنے کے ایک ذریعہ کے طور پر جوئےبازی کی اجازت دیتی ہیں۔
اگرچہ جوئےبازی مقبول ہے اور اسکی تاریخ بڑی پُرانی ہے تو بھی کیا یہ مسیحیوں کیلئے محض ایک بےضرر تفریح ہو سکتی ہے؟ یا کیا اس میں اس سے زیادہ کچھ شامل ہے؟
لوگ جؤا کیوں کھیلتے ہیں؟
مختصراً، جیتنے کیلئے۔ جوئےبازوں کیلئے، جوئےبازی ملازمت کرنے میں شامل تربیت اور کوشش کے بغیر ہی پیسہ کمانے کا ہیجانخیز اور تیزتر طریقہ دکھائی دیتا ہے۔ کافی زیادہ وقت ”بڑی جیت“ اور اس رقم کی بابت خیالی پلاؤ پکانے میں گزار دیا جاتا ہے جو انہیں شہرت اور چیزیں عطا کر سکتی ہے۔
لیکن قمارباز کے جیتنے کے امکانات بیحد غیرمتوقع ہوتے ہیں۔ مثال کے طور پر، ماہرِشماریات راؔلف لش کہتے ہیں کہ جرمنی میں ”سال کے دوران [جرمن لاٹری] میں لگائی ہوئی رقم کو جیتنے کی بجائے آپ کے برقزدہ ہونے کا امکان چارگُنا زیادہ ہے۔“ اگر یہ معقول نہیں لگتا تو وہ مندرجہذیل موازنے کا اضافہ کرتے ہیں: ”اگر آپ مرد ہیں تو آپ کے ۱۰۰ [سال کی عمر] تک زندہ رہنے کے امکانات [لاٹری جیتنے] سے ۷،۰۰۰ گُنا زیادہ ہیں۔“ ستمظریفی تو یہ ہے کہ ایک قمارباز اس سے واقف ہو سکتا ہے۔ پس، کیا چیز اُسے جؤا کھیلنے پر اُکساتی رہتی ہے؟
ڈاکٹر راؔبرٹ کسٹر کی کتاب جب قسمت ہار جاتی ہے (انگریزی) میں اس کے مطابق، بعض جؤا کھیلنے والوں کے لئے، ”مالی فائدہ تو جیتنے کا محض ایک رخ ہے۔ . . . ان کے لئے اہم چیز وہ رَشک، عزت، تعریف، خوشامد ہے جس کا کہ جیتا ہوا پیسہ مستحق ہو سکتا ہے۔“ وہ اضافہ کرتا ہے کہ ایسوں کے لئے ”پیسے کا دکھاوا کرنے کے قابل ہونا یا صرف یہ کہنے کے قابل ہونا، ’میں نے لال لال نوٹ جیتے ہیں‘ اور تعریف سے پھولے نہ سمانا ایک ہیجانخیز بات ہے۔“
اس کی دوسری طرف، جیتنا—اور اسکے ساتھ وابستہ جوشوجذبہ—بہتیرے قماربازوں کیلئے کافی نہیں ہے۔ جؤا کھیلنے کی خواہش اسقدر شدید ہو سکتی ہے کہ وہ مجبوراً جوئےباز بن جاتے ہیں۔ گیمبلرز ایناکِھچےکِنّامس کے ممبران سے متعلق ڈاکٹر کسٹرؔ کے ایک جائزے میں، وہ جن کا سروے کیا گیا ان میں سے ۷۵ فیصد نے کہا کہ یہ انکی عادت میں شامل ہے کہ وہ جیتنے کی بابت شیخی ماریں گے اس وقت بھی جبکہ وہ ہار رہے ہوں! جیہاں، جوئےبازی اتنی ہی شدید اور تباہکُن لت بن سکتی ہے جیسے کہ الکحل یا کسی دوسرے نشے کی لت۔ کتنے قماربازوں نے تفریح سے غلامی کی حد کو پار کر لیا ہے؟ کتنے ایسے ہیں جنہوں نے یہ کیا ہے اور کتنے ایسے ہیں جو اسکی بابت جانتے بھی نہیں؟
خدا کا نقطۂنظر
بائبل جوئےبازی پر تفصیل سے بحث نہیں کرتی۔ تاہم، یہ ہمیں ایسے اصول فراہم کرتی ہے جو کہ ہمیں اسکا تعیّن کرنے میں مدد دیتے ہیں کہ جوئےبازی کی بابت خدا کا کیا نظریہ ہے۔
تجربے نے ظاہر کر دیا ہے کہ جوئےبازی لالچ کو منعکس کرتی ہے۔ بائبل یہ آگاہی دیتے ہوئے، پُرزور طور پر لالچ کو رد کرتی ہے کہ ’لالچی شخص کی خدا کی بادشاہی میں کچھ میراث نہیں۔‘ (افسیوں ۵:۵) لالچ اس وقت بھی دکھائی دیتا ہے جب قمارباز ہارتے ہیں۔ ایک صاحبِاختیار شخص کے مطابق، قمارباز ”’بڑی جیت‘ کے چکر میں—جو کچھ وہ ہار چکا ہے اسے واپس جیتنے کی کوشش کرتا ہے۔ اگر وہ جیت جاتا ہے تو وہ اس سے بڑی شرط لگاتا ہے اور آخرکار اپنی ’بڑی جیت‘ بھی گنوا بیٹھتا ہے۔“ جیہاں، یقینی طور پر لالچ جوئےبازی کا ایک حصہ ہے۔
بعض جوئےبازی کو اپنے غرور کو تقویت دینے کے ایک ذریعے کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔ مجبوراً جوئےباز بن جانے والوں پر کئے گئے ایک سروے نے ظاہر کیا کہ ۹۴ فیصد جوئےبازی کو ”اپنی اَنا کو تعمیر کرنے والا عمل“ خیال کرتے ہیں اور ۹۲ فیصد نے کہا کہ جب وہ جؤا کھیلتے ہیں تو وہ خود کو ”بڑا آدمی“ محسوس کرتے ہیں۔ تاہم، خدا کہتا ہے: ”غرور اور گھمنڈ . . . سے مجھے نفرت ہے۔“ لہٰذا، مسیحیوں کو انکساری اور فروتنی پیدا کرنے کی تاکید کی گئی ہے۔—امثال ۸:۱۳؛ ۲۲:۴؛ میکاہ ۶:۸۔
جوئےبازی کاہلی کا باعث بھی بن سکتی ہے، چونکہ یہ بغیر محنت کے دولت کمانے کا ایک آسان طریقہ دکھائی دیتا ہے۔ لیکن خدا کا کلام واضح طور پر مسیحیوں کو مستعد اور محنتی ہونے کی ترغیب دیتا ہے۔—افسیوں ۲۸۴۔
اسکے علاوہ، جسے وہ قسمت کہتے ہیں وہ بعض جؤابازوں کیلئے اس قدر اہم بن جاتی ہے کہ وہ اسے اپنا دیوتا بناتے ہوئے اسکے زیرِاثر آ جاتے ہیں۔ یہ بالکل بائبل میں ان آدمیوں کی سرگزشت کی طرح ہے جو ”مشتری [”خوش قسمتی کے خدا،“ اینڈبلیو] کیلئے دسترخوان چن رہے“ تھے۔ اپنے بتپرستانہ فعل کی وجہ سے، ”تلوار“ انکا مقدر بن چکی تھی۔—یسعیاہ ۶۵:۱۱، ۱۲۔
اس وقت کیا ہو جب ایک شخص کو جؤا کھیلنے کے لئے مُفت لاٹری کا ٹکٹ یا رقم دی جاتی ہے؟ دونوں صورتوں میں، ایسی پیشکش کو قبول کرنا جوئےبازی کے عمل کی حمایت کرنا ہوگا—ایک ایسا عمل جو خدائی اصولوں کی مطابقت میں نہیں۔
نہیں، جوئےبازی مسیحیوں کیلئے نہیں ہے۔ جیسے کہ ایک رسالے کا ایڈیٹر بیان کرتا ہے، ’جوئےبازی نہصرف غلط ہے بلکہ یہ غیردانشمندانہ کام بھی ہے۔‘