بارودی سُرنگیں—ایک عالمگیر خطرہ
ہر ماہ ۶۰ سے زائد ممالک میں ہزاروں معصوم مرد، عورتیں اور بچے بارودی سُرنگوں کے ذریعے اپاہج ہوتے اور بعض ہلاک ہوتے ہیں۔ یہ اندازہ لگایا گیا ہے کہ فوجیوں کے خلاف بچھائی گئی سُرنگوں نے کیمیاوی، حیاتیاتی اور نیوکلیئر جنگوں سے زیادہ لوگوں کو ہلاک اور زخمی کیا ہے۔ حقوقِانسانی کی محافظ تنظیم کی تحقیق کے مطابق، صرف کمبوڈیا میں ہی کوئی ۳۰،۰۰۰ لوگ سُرنگوں کی وجہ سے اپاہج ہو گئے ہیں۔
یہ چھوٹی چھوٹی دھماکاخیز سُرنگیں مختلف لڑائیوں کے دوران زمین میں بچھائی گئی ہیں اور ان میں سے زیادہتر کو کبھی بھی ہٹایا نہیں گیا۔ یہ اندازہ لگایا گیا ہے کہ ان میں سے کوئی ۱۰۰ ملین کے قریب ۶۰ سے زائد ممالک میں ابھی تک بچھی ہوئی ہیں۔ یہ صرف ایک قدم رکھنے سے بھی پھٹ سکتی ہیں اور یہ جنگوں میں اسلئے مقبول ہیں کیونکہ یہ انتہائی سستی اور مؤثر ہیں۔ اسکی ایک قسم کی قیمت صرف ۳ ڈالر (یو۔ایس۔) ہے۔ ایک دوسری جو ۷۰۰ فولادی بالز کو ریلنے کی قوت رکھتی اور ۴۰ میٹر تک مار کرتی ہے، اسکی قیمت صرف ۲۷ ڈالر ہے۔ اس کی مانگ اتنی زیادہ ہے کہ دی نیویارک ٹائمز بیان کرتا ہے، ۴۸ قومیں اب ۳۴۰ مختلف قسم کی سُرنگیں تیار کرتی اور فروخت کرتی ہیں۔ اور جتنی زیادہ سُرنگیں صاف کرنے کے عمل سے غیرمؤثر بنائی جاتی ہیں اس سے کہیں زیادہ ہر روز بچھائی جاتی ہیں۔
چونکہ بہتیری فوجیں اپنی سُرنگوں کا نقشہ نہیں بناتی ہیں، اسلئے سُرنگوں کو صاف کرنا مشکل اور مہنگا ہے؛ اور زیادہ سے زیادہ سُرنگیں لکڑی، پلاسٹک اور دیگر ایسی چیزوں سے تیار کی جاتی ہیں جو کہ دھات سے بنے ہوئے دریافت کرنے والے آلے سے بچ نکلتی ہیں۔ یو.ایس. سینیٹر پیٹرؔک لیہی، جس نے اس طرح کے اسلحے کو برآمد کرنے کی پابندی کا حکم دیا، اس نے بیان کیا: ”نیدرلینڈ میں، ابھی تک لوگ دوسری عالمی جنگ میں جرمنوں کی بچھائی ہوئی سُرنگوں سے ہلاک ہو رہے ہیں۔ ذرا سوچیں کہ افغانستان، کمبوڈیا، انگولا، بوسنیا اور دیگر تمام ایسے ملکوں کا کیا حال ہوگا جہاں بہت زیادہ سُرنگیں بچھائی گئی ہیں۔“
صرف خدا کی جلد آنے والی نئی دنیا ہی ایسے مسائل کو حل کریگی۔ اسکا کلام وعدہ کرتا ہے: ”[خدا] زمین کی انتہا تک جنگ موقوف کراتا ہے۔ وہ کمان کو توڑتا اور نیزے کے ٹکڑے کر ڈالتا ہے۔ وہ [جنگی] رتھوں کو آگ سے جلا دیتا ہے۔“—زبور ۴۶:۹۔