ان جگہوں پر نگاہ کریں جنہیں ہم گھر کہتے ہیں
”اگرچہ ہم آسائشوں اور محلوں کے اندر گھومیں پھریں، مگر گھر جیسی کوئی جگہ نہیں ہے خواہ یہ کتنا ہی ادنی کیوں نہ ہو۔“—جان ہاورڈ پین
آپ گھر کسے کہتے ہیں؟ ایک عالیشان مکان کو جسے پیشہور معماروں نے جدید سامان سے تعمیر کیا ہو؟ یا ایسے مکان کو جسے اسکے مالکان نے مقامی گردونواح میں پائے جانے والے مال سے تعمیر کیا ہو۔ آئیے ایسے مقامات کا ایک سرسری سا جائزہ لیں جنہیں پوری دنیا میں لوگ گھر کہتے ہیں۔
ہمارا پہلا مقام ایل سالویڈر کا ملک ہے، جہاں ہماری ملاقات حورحے اور اسکے والدین سے ہوتی ہے جو ایک چھوٹے سے گاؤں ٹیحیسٹپکے میں رہتے ہیں۔ جب ہم حورحے کے گھر کا دورہ کرتے ہیں تو ہماری توجہ اسکے فرش کی طرف جاتی ہے جو محض زمین ہے۔ چھت کے ستون درخت کے تنوں سے بنے ہیں جنکو زمین میں نصب کیا گیا ہے۔ کچی اینٹوں کی دیواروں کو مٹی کا پلستر کیا ہوا ہے۔ کھپریل کی چھت کو دیواروں سے بڑھا کر بنایا جاتا ہے تاکہ وہ سایہ مہیا کریں اور دیواروں کو بارش سے محفوظ رکھیں۔ تاہم، ایل سالویڈر کے بہتیرے لوگ، کھپریل کی بجائے، لمبی گھاس سے چھت بناتے ہیں، جسکی موٹائی ۱۵ سینٹی میٹر ہوتی ہے۔
کولمبیا میں بعض دیہاتی لوگ بھی کموبیش ایسے ہی گھروں میں رہتے ہیں۔ چاروں اطراف زمین میں نصب کئے ہوئے کھمبوں کے درمیان، بانس کے ٹکڑوں پر مٹی کے پلستر کی دیوار بنائی جاتی ہے۔ اسکی چھت کھجور کے پتوں پر مشتمل ہوتی ہے جنہیں سہارا دینے والے کھمبوں پر ڈال دیا جاتا ہے۔
تاکوارمبو، یوروگوئے، میں بعض گھر ایسی کچی اینٹوں سے تعمیر کئے جاتے ہیں جو گھوڑے کی کھاد، مٹی اور پانی کے آمیزے سے بنتی ہیں۔ اس آمیزے کو لکڑی کے سانچوں میں ڈالکر کسی ہموار سطح پر دھوپ میں سوکھنے کیلئے رکھ دیا جاتا ہے۔ پکی (سخت) اینٹوں کو دیواروں کیلئے استعمال کیا جاتا ہے، اور چھپر کی چھت کو سہارا دینے والے کھمبوں پر ٹکا دیا جاتا ہے۔ کھڑکیوں میں شیشے کی بجائے، لکڑی کے کواڑ استعمال ہوتے ہیں، اور فرش سادہ زمین کے ہوتے ہیں۔
یوروگوئے کے اندرون بعض غریب خاندان مٹی کے گھروں میں رہتے ہیں۔ کچی اینٹوں کے مکانوں کی طرح ایسے گھر گرمیوں میں ٹھنڈے اور سردیوں میں گرم ہوتے ہیں۔ گھاس کے تختہ کے بلاکوں کو مضبوطی سے ایکدوسرے میں پھنسا کر اس طرح سے رکھا جاتا ہے جو ۶. میٹر موٹی اور ۸.۱ میٹر لمبی دیوار بناتی ہے۔ سرکنڈوں کو چھت کے سہاروں سے باندھ دیا جاتا ہے تاکہ ۱۸ سینٹی میٹر موٹا چھپر بنایا جا سکے۔ بعض مالک مکان بیرونی دیواروں کو سخت، ہموار سطح دینے کیلئے انہیں مٹی اور گائے کے گوبر کے آمیزے سے پلستر کرتے ہیں۔ گھر کو حصوں میں تقسیم کرنے کیلئے درختوں کے پودوں کا چوکھٹا بنا کر اسے ٹاٹ کی ایسی تھیلیوں سے ڈھانپ دیا جاتا ہے جو آپس میں سلی ہوتی ہیں۔ بعض اوقات ان ٹاٹوں پر مٹی کا پلستر کر دیا جاتا ہے۔
ندی یا دلدلی جگہوں کے قریب واے علاقوں میں، اندرون یوروگوئے کے بعض باشندے سرکنڈوں کے گھروں میں رہتے ہیں، جنکا ڈھانچہ تازہ کٹے ہوئے درختوں کی شاخوں سے بنا کر سرکنڈوں کے گٹھوں کو مضبوطی سے باندھ دیا جاتا ہے۔ یہ کسطرح کیا جاتا ہے؟ سرکنڈوں کو ۵.۱ میٹر سے ۸.۱ میٹر کی لمبائی میں کاٹا جاتا ہے اور نمی ختم ہونے تک انہیں دھوپ میں سکھایا جاتا ہے۔ پھر انہیں تقریباً ۲۳ سینٹی میٹر موٹے گٹھوں میں باندھا جاتا ہے، اور بالآخر انہیں ڈھانچہ سے باندھ دیا جاتا ہے تاکہ گھر کی دیوار اور چھت بنائی جائے۔
تیرتے ہوئے گھر
پیرو میں اکیتوس کے شہر کے قریب، محدود آمدنی کا حامل شخص اپنا مکان دریائے ایمزن پر بناتا ہے۔ تو پھر وہ اپنا مکان بہہ جانے سے کیسے بچاتا ہے؟ وہ بڑی بڑی، کم وزن لکڑیوں کو جنگل سے کاٹتا ہے کہ بیڑا بنائے، اور وہ اسے دریا کی تہہ میں نصب کردہ کھمبوں کے ذریعے لنگرانداز کر دیتا ہے۔ بیڑے کو مضبوطی سے کھمبوں کیساتھ جوڑے دینے کے بعد وہ اس پر اپنا گھر بناتا ہے یعنی چاروں طرف بانس اور چھپر کی چھت والی ایک کمرے کی عمارت۔ اس مکان کا ہوا—چاروں طرف لگے ہوئے بانسوں کے ٹکڑوں کے درمیان سے گزرنے والی ہوا—کو صاف کرکے گرم یا سرد کرنے کا اپنا ہی طریقہ ہے۔ اکثراوقات منطقہحارہ شدید گرمی کے باعث ایک پوری دیوار چھوڑ دی جاتی ہے۔
سونے کی جگہ عام طور پر لکڑی کے پلنگ، کھٹولے یا زمینی چٹائیوں پر مشتمل ہوتی ہے۔ اگرچہ یہ گھر اکیتوس کے اکثر گھروں کے مقابلے میں پرانی طرز کا ہے، مگر غریبوں کا مسکن یہی ہے۔
پیرو میں خوبصورت ٹٹیکاکا جھیل پر، سرکنڈوں کے مکان تیرتے جزیروں پر تعمیر ہوتے ہیں۔ جزیرے بھی سرکنڈوں سے بنتے ہیں جو مختلف سائزوں کے ہوتے ہیں، کچھ تو اتنے چھوٹے ہوتے ہیں جتنا ٹینس کورٹ۔ اس جھیل میں سرکنڈے بکثرت پائے جاتے ہیں جو سطح سمندر سے ۳۸۰۰ میٹر بلند ہے۔
خوش تدبیر باشندے سرکنڈوں کے گٹھوں کو اکٹھا باندھکر اپنے گھروں کی دیواریں اور چھتیں بناتے ہیں، جو تیرتے ہوئے چبوترے پر تعمیر کئے جاتے ہیں۔ سال میں ایک بار لوگ چبوترے کے سرکنڈوں کی سب سے اوپری تہہ کی مرمت کرتے ہیں، جو سب سے نیچے کی تہہ کے بوسیدہ ہو جانے کی تلافی کر دیتی ہے۔ چبوترہ تقریباً ۸.۱ میٹر موٹا ہوتا ہے، اور پیندا بتدریج سڑ جاتا ہے۔
ایک مختلف قسم کا تیرنے والا مکان، وہ مکان جسے بعض چینی گھر کہتے ہیں، ہانگ کانگ میں پایا جا سکتا ہے۔ یہ کوئی غیرمعمولی بات نہیں ہے کہ ایک ایسی چھوٹی آبی ٹیکسی جو کرایہ پر مسافروں کو ہانگ کانگ کی آبرڈین بندرگاہ سے لیکر آتی ہے وہ ٹیکسی چلانے والوں کے خاندان کیلئے تیرتے مکان کا کام بھی دے۔ اسی پر خاندان پکاتا، کھاتا اور سوتا ہے۔ دیگر چینی خاندان اپنی ساری زندگی مچھلیاں پکڑنے والی ناؤ میں گزار دیتے ہیں جنہیں جنکس کہا جاتا ہے، جو ان کیلئے گھر بن گئی ہیں۔
یورپ میں متعدد دریا اور نہریں ہیں جو کشتیوں میں سامان تجارت ایک جگہ سے دوسری جگہ لیجانے کے کام آتی ہیں۔ بعض خاندان جو ان کشتیوں کو چلاتے ہیں وہ اسکے ایک حصے کو رہائشی کمروں میں تبدیل کر دیتے ہیں اور یوں یہ کشتی انکا تیرنے والا گھر بن جاتی ہے۔
بورنیو طرز کے اپارٹمنٹ گھر
بورنیو جزیرہ کے وہ لوگ جو ابانس یا سی ڈیاکس کہلاتے ہیں، وہ لمبے مکان بناتے ہیں جنکو انکی زبان میں اپارٹمنٹ بلڈنگ کہا جاتا ہے۔ یہ لمبی اور نیچی عمارتیں جنکو زمین میں نصبشدہ متعدد ستون سہارا دیتے ہیں، دریا کے کناروں کی اونچی ڈھلوانوں پر واقع ہوتے ہیں۔ ہر لمبا مکان ایک پوری برادری پر مشتمل ہوتا ہے، جیسے ایک چھت کے نیچے پورا گاؤں۔
ہر مکان کی لمبائی برادری کی تعداد کے مطابق مختلف ہوتی ہے، جو دس سے لیکر ایک سو افراد تک ہو سکتی ہے۔ جیسے جیسے شادی کے ذریعے مزید خاندان بنتے ہیں، گھر کی لمبائی کو مزید بڑھا دیا جاتا ہے کہ انہیں رہائش فراہم کی جائے۔
ہر خاندان کا اپنا اپارٹمنٹ ہوتا ہے۔ خاندان کے افراد اپنے مکان میں کس طرح پہنچتے ہیں؟ ایک کھلے دالان کے ذریعے جو مکان کی پوری لمبائی تک جاتا ہے۔ آگے کو نکلی ہوئی چھپر کی چھت دالان کو سایہ مہیا کرتی ہے اور بارش سے محفوظ رکھتی ہے۔ یہاں کے مکین جب گھر پر ہوں تو اپنا زیادہتر وقت اسی دالان میں گزارتے ہیں، ایکدوسرے سے ملتےجلتے یا دستکاری کرتے ہیں، جیسے ٹوکریاں بنانا یا کپڑے بننا۔
ہر اپارٹمنٹ کے اندر، خاندان پکاتا، کھاتا اور سوتا ہے۔ اپارٹمنٹوں اور دالان کے اوپر بالاخانہ کو کھیتی باڑی کے سامان اور چاول کا ذخیرہ کرنے کیلئے استعمال کیا جاتا ہے۔ یہ غیرشادیشدہ لڑکیوں کیلئے سونے کے کمروں کا کام بھی دیتا ہے۔ غیرشادیشدہ نوجوان مرد باہر دالان کے فرش پر چٹائیوں پر سوتے ہیں۔
مغربی شہروں میں کثیرالمنزل اپارٹمنٹوں کے برعکس، ان لمبے گھروں میں کوئی غسل خانے یا بیتالخلاء نہیں ہوتے۔ قریبی دریا نہانے کیلئے استعمال ہوتا ہے، اور کوڑا کرکٹ سلیٹ کے فرش کے ذریعے ۴ میٹر نیچے زمین میں اتارا جاتا ہے جہاں سور اور مرغیاں اسکو ٹھکانے لگا دیتے ہیں۔
زیرزمین مکان
انیسویں صدی کے دوران، ریاستہائےمتحدہ کے متعدد ابتدائی آبادکار لکڑی یا مٹی سے مکان بناتے تھے، لیکن بعض اپنے گھر زیرزمین تعمیر کرتے تھے۔ وہ پہاڑی نالہ کے کنارے ایک کمرے کی جگہ کی کھودائی کرتے جسکی چھت کی سطح دریا کے کنارے کے برابر ہوتی۔ چھت سے ایک انگیٹھی کا پائپ نکال دیا جاتا تھا تاکہ کھانا پکانے اور گھر گرم رکھنے کی آگ کے دھوئیں کو باہر نکالا جا سکے۔ سچ ہے، کہ یہ زیرزمین گھر تاریک تھے، لیکن سردیوں میں گرم بھی ہوتے تھے۔ تنہا رہنے والے مردوں کیلئے یہ کوئی غیرمعمولی بات نہیں تھی کہ زیرزمین گھر میں اپنے گھوڑوں اور بیلوں کیساتھ رہیں۔
آجکل تائیوان کے قریب آرکڈ کے جزیرے پر یامی ابھی تک ایسے روایتی گھر تعمیر کرتے ہیں جو زیادہتر زیرزمین ہوتے ہیں۔ پتھروں کو کھلی ہوئی کھائی کی دیواروں کے اردگرد لگا دیا جاتا ہے، اور ایک نالی اسے بارش کے طوفان کے دوران پانی کیساتھ بھرنے سے محفوظ رکھتی ہے۔ لکڑی کی کڑیاں چھپر کی چھت اور شہتیروں کو سہارا دیتی ہیں۔ اور زمین کے اوپر، ہر گھر کا ایک علیحدہ چھوٹا سا بغیر دیوار کا ڈھانچہ ہوتا ہے جسکے ساتھ ہی ذرا سا بلند چبوترہ مزید ایک چھپر کی چھت سے ڈھکا ہوتا ہے۔ یہ سایہدار چبوترہ خاندان کیلئے ٹھنڈا برج بن جاتا ہے۔ جہاں وہ منطقہحارہ کی دوپہر کی گرمی کی تپش سے بچ سکتے ہیں۔ تاہم وہاں دیگر ایسے لوگ بھی ہیں جنکے گھر مکمل طور پر زیرزمین ہیں۔
چند سال قبل، دنیا کے ایک مختلف حصے میں غاروں کو گھر کے طور پر استعمال کرنے کے خیال نے ایک نیا موڑ لیا۔ فرانس کی وادیلووار میں، امیر گھرانوں میں غاروں کے اندر رہنا ایک فیشن بن گیا۔ ایک غار کو بیٹھک، کھانے کے کمرے اور باورچی خانے میں تبدیل کر دیا جاتا تھا یعنی یکے بعد دیگرے کوٹھڑیوں کا ایک سلسلہ ٹیلوں کے انتہائی اندرونی حصے تک وسیع ہوتا تھا۔ ایک اور گھر کو ایسی طرز پر بنایا گیا جس میں بہت سی غاروں کو ساتھ ساتھ ترتیب دیا گیا تھا۔ ہر غار میں کھڑکیاں ہوتی تھیں اور شیشے سے بنا ہوا ایک دروازہ ہوتا تھا جو غار کے منہ پر بنایا جاتا تھا، تاکہ اندر روشنی داخل ہو سکے۔ جو خاندان ان غاروں میں رہتے تھے انہیں ان گھروں کو پانی، بجلی، اور دیگر سہولیات سے جدید بنانے کیلئے کافی اخراجات کرنے پڑتے تھے، بمع ہوا کے اخراج کے انتظام کے تاکہ پھپھوندی اور نمی سے محفوظ رہیں۔
جن گھروں پر ہم نے یہاں غور کیا ہے شاید وہ آپکے گھروں سے مختلف ہوں۔ لیکن جو لوگ دنیا کے مختلف حصوں میں ایسے گھروں میں رہتے ہیں، انکے لئے یہ ”گھر،“ ہے۔ (۲۱ ۱۲/۸ g۹۲)