یہوواہ کے گواہوں کی آن لائن لائبریری
یہوواہ کے گواہوں کی
آن لائن لائبریری
اُردو
  • بائبل
  • مطبوعات
  • اِجلاس
  • جاگو93 8/‏1
  • کلیسیا میں عورتوں کو احترام دینا

اِس حصے میں کوئی ویڈیو دستیاب نہیں ہے۔

ہم معذرت خواہ ہیں کہ ویڈیو لوڈ نہیں ہو سکی۔

  • کلیسیا میں عورتوں کو احترام دینا
  • جاگو!‏—‏1993ء
  • ذیلی عنوان
  • ملتا جلتا مواد
  • ایک ”‏نازک ظرف“‏ کیسے؟‏
  • تبدیلی کیلئے کس چیز کی ضرورت ہے؟‏
  • بیاہتا جوڑوں کیلئے دانشمندانہ راہنمائی
    مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏2005ء
  • روزمرہ زندگی میں عورتوں کا احترام کرنا
    جاگو!‏—‏1993ء
  • اَے بیویو!‏ اپنے شوہروں کا دل سے احترام کرو
    مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏2007ء
  • مسیحی عورتیں عزت‌واحترام کی مستحق ہیں
    مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏1995ء
مزید
جاگو!‏—‏1993ء
جاگو93 8/‏1

کلیسیا میں عورتوں کو احترام دینا

مسیحیوں کے لئے بائبل سرداری کا ایک الہی سلسلہ مقرر کرتی ہے جس میں مسیح خدا کے تابع، آدمی مسیح کے تابع، اور عورت اپنے شوہر کے تابع ہے۔ (‏۱-‏کرنتھیوں ۱۱:‏۳)‏ بہرحال، یہ تابعداری آمریت کی طرف اشارہ نہیں کرتی۔ خاندان میں سرداری کو تشدد کے ذریعہ ہرگز قائم نہیں کیا جاتا، خواہ وہ جسمانی ہو، نفسیاتی ہو یا زبانی ہو۔ مزیدبرآں، مسیحی سرداری نسبتی ہے اور یہ مطلب نہیں رکھتی کہ شوہر مطلق‌العنان ہو سکتا ہے جو اپنے آپ کو غلطی سے مبرا سمجھتا ہے۔ a یہ جاننا کہ کیسے اور کب یہ کہنا ہے کہ ”‏معاف کر دیں، آپ ہی صحیح تھیں“‏ متعدد شادیوں کو باہمی طور پر فرحت‌بخش اور دیرپا ہونے میں مدد دے سکتا ہے۔ تاہم، کتنی آسانی کے ساتھ انکساری کے یہ اظہارات گلے میں ہی پھنس کر رہ سکتے ہیں! کلسیوں ۳‏:‏۱۲-‏۱۴، ۱۸۔‏

مشورت برائے شادی میں، مسیحی رسول پولس اور پطرس ہمیں متواتر مسیح کے نمونہ کی طرف واپس لاتے ہیں۔ ایک شوہر اس فرحت‌بخش نمونہ کی نقل کی وجہ سے قابل‌احترام بنتا ہے جسے یسوع نے قائم کیا تھا، کیونکہ ”‏شوہر بیوی کا سر ہے جیسے کہ مسیح کلیسیا کا سر ہے اور وہ خود اس بدن کا بچانے والا ہے۔“‏ افسیوں ۵:‏۲۳‏۔‏

شوہروں کیلئے پطرس کی مشورت صاف واضح ہے:‏ ”‏اے شوہرو! تم بھی بیویوں کیساتھ عقلمندی سے بسر کرو۔“‏ (‏۱-‏پطرس ۳:‏۷)‏ ایک جدید ہسپانوی ترجمہ اپنے الفاظ میں اسکو یوں بیان کرتا ہے:‏ ”‏شوہروں کے بارے میں:‏ اپنی مشترکہ زندگی میں سمجھداری ظاہر کرو، بیوی کا لحاظ رکھتے ہو ئے۔“‏ یہ اظہارات متعدد عناصر کی طرف اشارہ کرتے ہیں، بشمول رشتہءازدواج میں لحاظ رکھنے کے۔ ایک شوہر کو اپنی بیوی کو محض جنسی تسکین کا ایک ذریعہ نہیں سمجھنا چاہئے۔ ایک بیوی نے جو بچپن میں بدفعلی کی شکار بنائی جا چکی تھی لکھا:‏ ”‏جس بیوی کو یہ تجربہ ہوا ہو اسے اسکا شوہر جو سہارا دے سکتا ہے کاشکہ اس کے بارے میں آپ کچھ مزید کہہ سکتے۔ ہم میں سے زیادہ‌تر بیویوں کو یہ جاننے کی ضرورت ہے کہ ہم سے حقیقی محبت کی جاتی ہے اور ہمارا خیال کیا جاتا ہے، ایسا نہیں کہ ہمارا وجود بس جسمانی خواہشات کی تسکین کیلئے ہے یا جیسے ایک ملازمہ بغیر کسی جذباتی لگاؤ کے۔“‏ b شادی کا آغاز خدا نے کیا تھا تاکہ شوہر اور بیوی ایکدوسرے کے ساتھی اور مددگار بن سکیں۔ یہ ملکر کام کرنے اور باہمی عزت کا معاملہ ہے۔ پیدائش ۲:‏۱۸،‏ امثال ۳۱:‏۲۸، ۲۹‏۔‏

ایک ”‏نازک ظرف“‏ کیسے؟‏

پطرس شوہروں کیساتھ اپنی بیویوں کے انہیں ”‏نازک ظرف جان کر“‏ عزت کا برتاؤ کرنے کی مشورت بھی دیتا ہے۔ (‏۱-‏پطرس ۳:‏۷)‏ پطرس کا یہ کہنے سے کہ عورت ایک ”‏نازک ظرف“‏ ہے کیا مطلب ہو سکتا تھا؟ یقیناً، عورت جسمانی طور پر آدمی سے اوسطاً کمزور ہے۔ استخوانی ڈھانچہ اور عضلاتی ساخت کا فرق اسی کی وجہ سے ہے۔ لیکن اگر ہم باطنی اخلاقی قوت کی بات کریں تو عورت کسی طرح بھی آدمی سے کمزور نہیں۔ عورتوں نے سالہاسال تک ایسے حالات کو برداشت کیا ہے جنہیں آدمیوں نے ذرا سی دیر کو برداشت نہ کیا ہوتا بشمول ایک پرتشدد اور شرابی ساتھی کی بدسلوکی کے۔ اور سوچیں کہ ایک عورت بچہ کی پیدائش کی خاطر کیا کچھ برداشت کرتی ہے، بمعہ دوران‌پیدائش گھنٹوں کے دردحمل کے! کوئی بھی حساس شوہر جس نے پیدائش کا معجزہ دیکھا ہو اسے اپنی بیوی اور اسکی باطنی قوت کا اور بھی زیادہ احترام کرنا چاہئے۔‏

باطنی اخلاقی قوت کے اس معاملہ پر، حنا۔ لیوائی۔ ہاس، ایک یہودی عورت نے جو ۱۹۴۴ میں ریوینز بروک کے نازی اجتماعی کیمپ میں تھی اپنی ڈائری میں لکھا:‏ ”‏یہاں ایک چیز مجھے انتہائی طور پر پریشان کرتی ہے۔ اور وہ یہ دیکھنا ہے کہ آدمی عورتوں کی نسبت کہیں زیادہ کمزور اور مشکلات کا مقابلہ کرنے کے لئے کہیں زیادہ کم اہل ہیں جسمانی طور پر اور اکثر اخلاقی طور پر بھی۔ اپنے نفس پر قابو رکھنے کے ناقابل ہوتے ہوئے، وہ اخلاقیات کی ایسی کمی کا مظاہرہ کرتے ہیں کہ انسان ان پر محض افسوس ہی کر سکتا ہے۔“‏ مدرز ان دی فادر لینڈ، از کلاڈیا کونز۔‏

اس تجربہ سے یہ واضح ہوتا ہے کہ اس کی کوئی ٹھوس بنیاد نہیں کہ عورتوں کے خلاف محض شاید نسبتاً کمزور ہونے کی وجہ سے امتیاز برتا جائے۔ ایڈون ریشیوئر نے تحریر کیا:‏ ”‏جدید وقتوں میں یہ عام طور پر تسلیم کیا جاتا ہے کہ عورتوں میں قوت‌ارادی اور نفسیاتی طاقت آدمیوں سے زیادہ ہوتی ہے۔“‏ (‏دی جیپنیز)‏ اس طاقت کو مسیحی کلیسیا میں استعمال کیا جا سکتا ہے جب پختہ عورتیں ایسی عورتوں کی مدد کرنے کے لائق ہوں جو شدید جذباتی دباؤ میں ہیں۔ یقیناً، بعض حالات میں بدسلوکی کی شکار ایک عورت کیلئے آدمی کی بجائے ایک عورت سے فوری امداد لینا سہل ہوتا ہے۔ اگر ضرورت پڑے تو مزید رہبری کیلئے ایک مسیحی بزرگ سے مشورہ لیا جا سکتا ہے۔ ۱-‏تیمتھیس ۵:‏ ۹، ۱۰، یعقوب ۵:‏۱۴، ۱۵‏۔‏

عورت کے ردعمل کو جذباتی کہہ کر اور اس کی وجہ ”‏ماہواری“‏ بتاتے ہوئے معاملہ کو دبا کر خارج کر دینا عورتوں کو برہم کر دیتا ہے۔ بیٹی، ایک باعمل مسیحی نے بیان کیا:‏ ”‏جیساکہ پطرس رسول نے تحریر کیا، ہمیں معلوم ہے کہ زیادہ نازک جسمانی ساخت کے ساتھ ہم کئی لحاظ سے ”‏نازک ظرف“‏ ہیں، کمزور ہیں۔ لیکن اس کا یہ مطلب نہیں، کہ ہر نسوانی ردعمل کو ہماری ”‏ماہواری“‏ سے منسوب کرتے ہوئے ایک فورمین یا نگران کو شفیق اور پدرانہ ہونا چاہئے۔ ہم ذہین ہیں اور چاہتی ہیں کہ ہماری بات عزت کے ساتھ سنی جا ئے۔“‏

سب ہی عورتیں جذباتی نہیں ہوتیں، بالکل جیسے سب ہی آدمی غیرجذباتی نہیں ہوتے۔ ہر شخص کو ایک فردواحد کے طور پر سمجھنا چاہئے۔ بیٹی، جس کا پہلے حوالہ دیا گیا اس نے، اویک ! کو بتایا:‏ ”‏صنف کی بنیاد پر کسی زمرہ میں ہونا مجھے پسند نہیں۔ میں نے آدمیوں کو روتے اور موڈ سے مغلوب ہوتے دیکھا ہے۔ اور ایسی عورتیں بھی ہیں جو جذبات سے بالکل عاری ہوتی ہیں۔ چنانچہ آدمی صنف کے لئے سوچے بغیر حقیقت پسندی کے ساتھ ہماری بات سنیں۔“‏

تبدیلی کیلئے کس چیز کی ضرورت ہے؟‏

اگر بہتری کیلئے ایک تبدیلی لانی ہے، تو کچھ لوگ کہتے ہیں یہ کافی نہیں کہ عورتیں اپنے حقوق اور انصاف کیلئے مہم چلائیں، نہ ہی یہ کافی ہے کہ آدمی عورتوں کیلئے احترام کا کوئی علامتی اشارہ کریں۔ ہر معاشرہ اور ماحول میں، آدمیوں کو صورتحال کے مطابق اپنے کردار کا جائزہ لینا چاہئے اور خود سے پوچھنا چاہئے کہ وہ عورتوں کیلئے زندگی کو زیادہ خوشگوار اور فرخت‌بخش بنانے کی خاطر کیا کر سکتے ہیں۔ متی ۱۱:‏۲۸، ۲۹‏۔‏

مصنفہ اور شاعرہ کیتھا پولٹ نے ٹائم میں تحریر کیا:‏ ”‏زیادہ‌تر آدمی، بیشک ، عصمت‌دری، ماردھاڑ، یا قتل نہیں کرتے۔ لیکن اس کا یہ بھی مطلب نہیں، جیساکہ ان میں سے زیادہ‌تر سوچتے ہیں کہ عورتوں کے خلاف تشدد سے ان کا کچھ واسطہ نہیں۔ ہم میں سے ہر ایک اپنی روزمرہ زندگی میں ان معاشرتی نقوش اور مفروضوں کو تشکیل دینے میں مدد دیتا ہے جو واجب کی تشریح کرتے ہیں۔ .‏.‏.‏ میں آدمیوں کے تعصبات اور خصوصی اختیارات کو چیلنج کرتے ہوئے، اور جس بدتر حالت میں ہم ہیں اسکی ذمہ‌داری کے لئے ان کے واجب حصے کو مدنظر رکھتے ہوئے، سنجیدگی کے ساتھ ذاتی جانچ پڑتال میں مصروف ہونے کے بارے میں بات کر رہی ہوں۔“‏

لیکن اگرچہ پوری دنیا میں آدمی عورتوں کیلئے اپنے رویوں میں بنیادی تبدیلی لے آئیں تو بھی ان ناانصافیوں کا جو نوع‌انسانی کو ایذا پہنچا رہی ہیں، یہ مکمل حل نہ ہوگا۔ کیوں؟ اسلئے کہ آدمی ناانصافیوں اور وحشیانہ حرکتوں کا دکھ نہ صرف عورتوں کو دے رہے ہیں بلکہ اپنے ہمسر آدمیوں کو بھی۔ جنگ ، تشدد، موت کے دستے، اور دہشت‌گردی متعدد ممالک میں روز کا معمول ہیں۔ ضرورت جس چیز کی ہے وہ پوری زمین کیلئے حکمرانی کا ایک مکمل نیا نظام ہے۔ اور تمام نوع‌انسانی کیلئے نئی تعلیم۔ اور یہی خدا نے آسمان سے زمین پر اپنی بادشاہتی حکمرانی کے ذریعہ کرنے کا وعدہ کیا ہے۔ صرف تب ہی آدمیوں اور عورتوں کے درمیان حقیقی باہمی احترام وجود میں آئے گا۔ بائبل یسعیاہ ۵۴:‏۱۳ میں اسے یوں بیان کرتی ہے:‏ ”‏تیرے فرزند خداوند سے تعلیم پائیں گے اور تیرے فرزندوں [‏اور بیٹیوں]‏ کی سلامتی کامل ہوگی۔“‏ جی‌ہاں، یہوواہ کے راست اصولوں کی مناسب تعلیم باہمی احترام کی نئی دنیا کیلئے معاونت کرے گی۔ (‏۹۲ ۱۵ ۷/۸ g)‏

‏[‏فٹ‌نوٹ]‏

a دیکھیں ”‏شادی میں تابعداری کا کیا مطلب ہے؟“‏ دی واچ‌ٹاور، دسمبر ۱۵، ۱۹۹۱، صفحات ۱۹-‏۲۱۔‏

b دیکھیں اویک ! اکتوبر ۸، ۱۹۹۱، صفحات ۳-‏۱۱، اپریل ۸، ۱۹۹۲، صفحات ۲۴-‏۲۷۔‏

‏[‏تصویر]‏

اکثر ایک پختہ عورت مفید مشورہ دے سکتی ہے

‏[‏تصویر]‏

گھریلو کام کاج میں حصہ لینا ایک ایسا طریقہ ہے جس سے ایک شوہر اپنی بیوی کیلئے احترام ظاہر کر سکتا ہے

    اُردو زبان میں مطبوعات (‏2026-‏2000)‏
    لاگ آؤٹ
    لاگ اِن
    • اُردو
    • شیئر کریں
    • ترجیحات
    • Copyright © 2026 Watch Tower Bible and Tract Society of Pennsylvania
    • اِستعمال کی شرائط
    • رازداری کی پالیسی
    • رازداری کی سیٹنگز
    • JW.ORG
    • لاگ اِن
    شیئر کریں