عورتیں جا ئےملازمت پر احترام دیا جاتا ہے؟
”خواہ غیر شادیشدہ یا شادیشدہ، مردوں کی اکثریت عورتوں کو قابلتعاقب سمجھتی ہے۔“ جینی، ایک سابقہ قانونی سیکرٹری۔
ہسپتالوں کے ماحول میں جنسی ایذارسانی اور عورتوں کے ساتھ بدسلوکی مشہور ہے۔“ سارہ ، ایک رجسٹرڈ نرس۔
”مجھے جا ئےملازمت پر مباشرت کے لئے متواتر تجاویز پیش کی جاتی تھیں یعنی غیراخلاقی تجاویز۔“ جین، ایک رجسٹرڈ نرس۔
کیا یہ واقعات ایک غیرمعمولی صورتحال کو پیش کرتے ہیں، یا یہ ہر طرف پھیلے ہوئے ہیں؟ اویک ! نے جا ئےملازمت کا تجربہ رکھنے والی چند عورتوں کا انٹرویو لیا۔ کیا انکے ہم پیشہ مرد کارکن انہیں احترام دیتے اور ان کیساتھ عزت کا برتاؤ کرتے تھے؟ انکے تبصروں میں سے چند یہ تھے:
سائرہ، نیوجرسی، یو۔ایس۔اے کی ایک نرس، جسے یو۔ایس ملٹری ہسپتال میں نو سال کا تجربہ ہے: ”مجھے یاد ہے جب میں سان انٹونیو، ٹیکساس میں کام کرتی تھی تو کڈنی ڈائیلیسس ڈیپارٹمنٹ میں ایک اسامی نکلی۔ میں نے ڈاکٹروں کے ایک گروپ سے دریافت کیا کہ اس ملازمت کو حاصل کرنے کیلئے مجھے کیا کرنا چاہیے۔ ایک ڈاکٹر نے احمقانہ مسکراہٹ کیساتھ جواب دیا، ”ڈاکٹر انچارج کیساتھ ایک رات گذار لو۔“ میں نے فقط یہ کہا کہ ”مجھے ان شرائط کیساتھ ملازمت نہیں چاہیے۔“ لیکن اکثر اسی طرح سے ترقیوں۔ اور ملازمتوں کا فیصلہ کیا جاتا ہے۔ عورتوں کو بااثر بوالہوس مرد کے سامنے ہار ماننی پڑتی ہے۔
”ایک دوسرے موقع پر میں انتہائی نگہداشت کے شعبہ میں کام کر رہی تھی اور ایک مریض کے آئی۔ویز [انٹرا وینس لائینز] لگا رہی تھی کہ ایک ڈاکٹر ادھر آگیا اور مجھے پیچھے سے چٹکی بھری۔ میں نے شدید ناراضگی کا اظہار کیا اور غصے سے ساتھ والے کمرے میں چلی گئی۔ وہ میرے پیچھے آیا اور کوئی انتہائی غیرمہذب بات کہی۔ میں نے اسے دھکا دیکر عین کچرے کے ڈبہ میں گرا دیا! اور خود میں سیدھی مریض کے پاس چلی گئی۔ یہ کہنے کی ضرورت نہیں کہ اسکے بعد پھر کبھی اس نے مجھے پریشان نہیں کیا!“
مریم، مصر کی ایک شادیشدہ عورت جو پہلے قاہرہ میں سیکرٹری کی ملازمت کرتی تھی، وہ مصری مسلم پسمنظر میں ملازمت کرنے والی عورتوں کیلئے بیان کرتی ہے، ”یہاں مغربی معاشرہ کی نسبت عورتیں زیادہ حیادار لباس زیبتن کرتی ہیں۔ میں نے اپنی جا ئےملازمت میں کوئی جنسی ایذارسانی نہیں دیکھی۔ لیکن قاہرہ کی زیرزمین ٹرینوں میں اس درجہ تک ایذارسانی ہے کہ اب ٹرین کا پہلا ڈبہ عورتوں کیلئے مخصوص کر دیا گیا ہے۔“
جین، خاموش طبع مگر پرعزم اور بحیثیت نرس ۲۰ سالہ تجربہ رکھنے والی عورت نے کہا: ”میں اپنی جا ئےملازمت کے کسی بھی مرد کیساتھ سیروتفریح کے لئے نہ جانے کی پالیسی پر سختی سے عمل پیرا رہی۔ لیکن ایذارسانی ہوتی رہی خواہ میرا واسطہ ڈاکٹروں کے ساتھ رہا یا مرد اردلیوں کے ساتھ ۔ وہ سب سمجھتے تھے کہ انہیں نفسیاتی برتری حاصل ہے۔ اگر ہم نرسوں نے ان کیساتھ جنسی خواہشات کیلئے ”تعاون“ نہ کیا تو جب ہمیں مریض کو اٹھا کر پلنگ پر ڈالنے یا کسی دوسرے کام کیلئے ان کی مدد کی ضرورت ہوگی تو اس وقت اردلی ہمارے کام نہیں آئینگے۔“
جینی نے سات سال تک قانونی سیکرٹری کے طور پر ملازمت کی۔ وکیلوں کیساتھ کام کرتے ہوئے اس نے جو کچھ دیکھا وہ اسے یوں بیان کرتی ہے۔ ”خواہ شادیشدہ یا غیرشادیشدہ، آدمیوں کی اکثریت عورتوں کو قابلتعاقب سمجھتی تھی۔ ان کا رویہ یہ تھا ”ہم نے اسے وکیلوں کے طور پر حاصل کیا ہے، اور عورتیں ہمارے استحقاق میں سے ایک ہیں۔“ اور ثبوت یہ ظاہر کرتے ہیں کہ دیگر پیشہور بھی یہی رائے رکھتے ہیں۔ لیکن ایک عورت اس ایذارسانی میں تخفیف لانے کیلئے کیا کر سکتی ہے؟
ڈارلین، ایک سیاہ فام امریکی جو بطور ایک سیکرٹری کے اور ایک ہوٹل میں بھی میزبان کے طور پر کام کرتی تھی اس نے کہا: ”اگر “آپ چالچلن کی بابت اپنی حدود مقرر کرنے میں ناکام ہو جاتے ہیں تو حالات بگڑ سکتے ہیں۔ اگر ایک آدمی آپ کے ساتھ چھیڑچھاڑ کرتا ہے اور آپ بھی جواباً چھیڑچھاڑ کرتی ہیں تو حالات باآسانی قابو سے باہر ہو سکتے ہیں۔ مختلف مواقع پر مجھے اپنا مؤقف صاف طور پر بیان کرنا پڑا۔ میں نے ایسے اظہارات استعمال کئے مثلاً ”اگر آپ مجھ سے اسطرح کی گفتگو نہ کریں تو میں اس کی قدر کرونگی۔“ ایک دوسرے موقع پر میں نے کہا: ”جو کچھ آپ نے کہا بطور ایک شادیشدہ عورت کے مجھے اس سے دکھ پہنچا اور میرا خیال ہے کہ میرا شوہر بھی اسے پسند نہیں کریگا۔“
اصل بات یہ ہے کہ اگر آپ احترام چاہتی ہیں تو آپ کو اس کا اہل بننا ہوگا۔ اور میں نہیں سمجھتی کہ کیسے کوئی عورت احترام کے اہل بن سکتی ہے اگر وہ اس گفتگو میں جسے میں لاکرروم گفتگو گھٹیا لطیفے اور جنسی اشارے کہتی ہوں آدمیوں کا مقابلہ کرنے کی کوشش کرتی ہے۔ اگر آپ قابلقبول اور ناقابلقبول گفتگو اور کردار کے درمیان حدبندی کو واضح نہیں کرتی ہیں تو کوئی بھی شخص اس کو عبور کرنے کی کوشش کریگا۔“
دھمکانے والے مرد
کونی، ۱۴ سالہ تجربہیافتہ، نرس، نے ایک دیگر قسم کی ایذارسانی کی بابت وضاحت کی جو متعدد حالات میں غیرمتوقع طور پر رونما ہو سکتی ہے۔ ”میں ایک ڈاکٹر کیساتھ معمول کے مطابق پٹی بدلنے کا کام کر رہی تھی۔ میں نے ان تمام معیاری اصولوں کے تحت کام کیا جو میں سیکھ چکی تھی۔ میں زخم کو صاف ستھرا کرنے اور اسی طرح کی دوسری تمام تکنیک سے واقف ہوں۔ مگر اس ڈاکٹر کی نظر میں کچھ بھی صحیح نہ تھا۔ وہ مجھ پر چلاتا اور غصہ میں بولتا اور میری ہر حرکت پر نکتہچینی کرتا۔ عورتوں کی اسطرح سے تحقیر کرنا ایک عام بات ہے۔ کچھ آدمیوں کیساتھ انا کا مسئلہ ہوتا ہے اور ایسا لگتا ہے کہ ان کیلئے اپنے ساتھ کام کرنے والی عورتوں پر اپنا اختیار ٹھونسنا لازمی ہوتا ہے۔“
گزشتہ حوالہشدہ سارہ نے اس ضمن میں اپنے تجربہ کا اضافہ کیا: ”میں ایک آپریشن کی تیاری کا کام کر رہی تھی کہ میں نے اپنے مریض کی اہم علامات کا معائنہ کیا۔ اس کی ای۔کے۔جی [الیکٹروکارڈیوگرام] کا انداراج اسقدر بےقاعدہ تھا کہ میں جانتی تھی کہ اسکی حالت آپریشن کرانے کی ہرگز نہیں۔ میں نے غلطی یہ کی کہ سرجن کی توجہ اسطرف دلا دی۔ وہ طیش میں آگیا اور اسکا جواب تھا: ”نرسوں کو تو رفع حاجت کے برتن (بیڈپین) کی طرف توجہ دینی چاہیے نہ کہ ای۔کے۔جی کی طرف۔“ چنانچہ میں یہ بات ہیڈ انیستھیزیآلوجسٹ کی توجہ میں لائی، اس نے کہا کہ ان حالات میں اس کا عملہ سرجن کیساتھ تعاون نہیں کریگا۔ اس پر سرجن نے پلٹ کر مریض کی بیوی سے کہا کہ اب تک اسکے شوہر کا آپریشن نہ ہونے کی قصوروار میں ہوں! ایسے حالات میں ایک عورت کبھی بھی جیت نہیں سکتی۔ کیوں؟ اسلئے کہ آپ نے غیرارادی طور پر ایک مرد کی انا کو خطرے میں ڈالدیا ہے۔“
صاف عیاں ہے کہ عورتوں کو اکثر جائےملازمت پر ایذارسانی اور تذلیلی رویہ کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ لیکن قانون کے سامنے ان کی حیثیت کیا ہے؟
عورتیں اور آئین
بعض ممالک میں قانون کے تحت صرف نظریاتی مساوات حاصل کرنے کیلئے عورتوں کو کئی صدیاں لگ گئی ہیں۔ اور جہاں قانون کھل کر مساوات کی وضاحت کرتا ہے وہاں اکثر ایک خلیج نظریہ کو عمل سے جدا کر دیتی ہے۔
یو۔این۔ کی اشاعت دی ورلڈز ویمن ۱۹۷۰-۱۹۹۰ بیان کرتی ہے: ”اس خلیج [حکومتی پالیسی کی خلیج] کا بیشتر حصہ ان قوانین کے ذریعے عملی شکل اختیار کرتا ہے جو زمین کی ملکیت رکھنے، پیسہ قرض پر لینے اور کسی معاہدہ میں شریک ہونے کے لئے آدمیوں کے مساوی عورتوں کے حقوق کو رد کرتا ہے۔“ جیسا کہ یوگنڈا کی ایک عورت نے کہا: ”ہم متواتر دوسرے درجہ کی شہری رہتی ہیں بلکہ تیسرے درجہ کی، کیونکہ ہمارے بیٹے بھی ہم سے پہلے آتے ہیں۔ بعض اوقات تو گدھوں اور ٹریکٹروں کیساتھ بھی ہم سے بہتر سلوک کیا جاتا ہے۔“
ٹائم لائف کی اشاعت مین اینڈ ویمن بیان کرتی ہے: ”۱۹۲۰ میں، ریاستہائے متحدہ میں ۱۹ ویں ترمیم نے عورتوں کے ووٹ دینے کے حق کی تصدیق کی تھی اس کے بہت بعد جب کہ متعدد یورپی ممالک میں وہ پہلے ہی اس حق کو حاصل کر چکی تھیں۔ مگر برطانیہ میں حق رائے دہی ۱۹۲۸ تک نہیں دیا گیا تھا (اور جاپان میں دوسری عالمی جنگ کے بعد تک )۔“ عورتوں کیساتھ سیاسی ناانصافی پر احتجاج کرنے کیلئے، را ئےدہی کے حق کی حامی ایک عورت، ایملی ویلڈنگ ڈیویسن، ۱۹۱۳ کی ڈاربی ریس میں بادشاہ کے گھوڑے کے سامنے آ گئی اور ماری گئی۔ وہ عورتوں کیلئے مساوی حقوق کی تحریک میں ایک شہید بن گئی۔
یہ حقیقت کہ ۱۹۹۰ تک ، یو۔ایس۔ سینٹ نے ”عورتوں کے خلاف تشدد ایکٹ“ پر محض غور ہی کیا تھا ظاہر کرتی ہے کہ آئینساز جماعت جس پر مردوں کا تسلط ہے عورتوں کی ضروریات پر جوابی عمل کرنے کیلئے سستروی سے کام لیتی رہی ہے۔
دنیا بھر میں عورتوں کیساتھ برتاؤ کی یہ مختصر تصویر اس سوال کی جانب ہماری راہنمائی کرتی ہے، کیا کبھی حالات اس سے مختلف ہونگے؟ حالات میں تبدیلی کے لئے کیا ضروری ہے؟ آئندہ کے دو مضامین ان سوالات پر بحث کریں گے۔ (۲ ۹ ۷/۸ g۹)
[بکس/تصویر]
کون کم مراعات یافتہ ہیں؟
دنیا میں کئے جانے والے کام کا دو تہائی حصہ عورتیں انجام دیتی ہیں۔ وہ افریقہ اور ایشیا کی خوراک کا ۶۰ سے ۸۰ فیصد اور لاطینی امریکہ کی خوراک کا ۴۰ فیصد پیدا کرتی ہیں، پھر بھی وہ دنیا کی آمدنی کا دسواں حصہ ہی کماتی ہیں اور دنیا کی املاک کے ایک فیصد سے کم کی مالک ہیں۔ وہ دنیا کے غرباء میں سب سے غریب ہیں۔“ مے یو بی دا مدر آف آ ہنڈرڈ سنز، از ایلزبتھ بیوملر۔
”حقیقت یہ ہے کہ [دنیا کے کچھ حصوں میں] چھوٹی بچیاں اسکول نہیں جاتیں کیونکہ وہاں پینے کا صاف پانی نہیں۔ . . . میں نے نوعمر لڑکیوں کو بیس اور بعض اوقات تیس کلومیٹر دور سے پانی لاتے دیکھا ہے، جس میں کہ پورا ایک دن صرف ہوتا ہے۔ جب تک یہ چودہ یا پندرہ برس کی ہوتی ہیں، یہ لڑکیاں . . . کبھی سکول نہیں گئیں، انہوں نے کچھ نہیں سیکھا ہوتا۔“ یاک ایوکوستو، دی یونیسکو کوریئر نومبر ۱۹۹۱۔
[تصویر]
جنسی ایذارسانی برداشت کرنا ضروری نہیں