رومیوں کے نام خط
ابواب کا خاکہ
1
سلام دُعا (1-7)
روم جانے کی خواہش (8-15)
نیک شخص ایمان کی بِنا پر زندہ رہے گا (16، 17)
بُرے لوگ کوئی بہانہ پیش نہیں کر سکتے (18-32)
2
3
”خدا ہمیشہ سچا ثابت ہو“ (1-8)
یہودی اور یونانی سب گُناہگار ہیں (9-20)
ایمان رکھنے والا نیک ٹھہر سکتا ہے (21-31)
4
5
6
بپتسمے سے مسیح کے شریک (1-11)
گُناہ کو جسم پر حکمرانی نہ کرنے دیں (12-14)
گُناہ کے غلام نہیں بلکہ خدا کے (15-23)
7
شریعت سے آزادی کے سلسلے میں مثال (1-6)
شریعت کے ذریعے گُناہ ظاہر ہو گیا (7-12)
”مَیں وہ کام کرتا ہوں جو مَیں نہیں کرنا چاہتا“ (13-25)
8
پاک روح زندگی دیتی اور آزاد کرتی ہے (1-11)
روح ہمارے دل کے ساتھ گواہی دیتی ہے (12-17)
مخلوقات بےتابی سے اِنتظار کر رہی ہیں (18-25)
”پاک روح ہمارے لیے اِلتجا کرتی ہے“ (26، 27)
کچھ لوگوں کو بیٹے کے طور پر بلایا جاتا ہے (28-30)
کوئی چیز ہمیں خدا کی محبت سے جُدا نہیں کر سکتی (31-39)
9
بنیاِسرائیل پر افسوس (1-5)
ابراہام کی اولاد کون ہیں؟ (6-13)
کوئی بھی شخص خدا پر نکتہچینی نہیں کر سکتا (14-26)
صرف کچھ ہی باقی رہیں گے (27-29)
اِسرائیلیوں کو ٹھوکر لگی (30-33)
10
11
تمام اِسرائیلی ترک نہیں کیے گئے (1-16)
زیتون کے درخت کی مثال (17-32)
خدا کی دانشمندی کی اِنتہا نہیں (33-36)
12
جسم کو قربانی کے طور پر پیش کریں (1، 2)
ایک جسم لیکن فرق فرق نعمتیں (3-8)
سچے مسیحی بننے کے لیے ہدایات (9-21)
13
حاکموں کے تابعدار ہوں (1-7)
محبت شریعت کو پورا کرتی ہے (8-10)
روشنی کے ہتھیاروں کو پہن لیں (11-14)
14
ایک دوسرے پر نکتہچینی نہ کریں (1-12)
کسی کے لیے ٹھوکر کا باعث نہ بنیں (13-18)
اپنے کاموں سے امن کو فروغ دیں (19-23)
15
ایک دوسرے کو قبول کریں (1-13)
پولُس کو غیریہودیوں کو خوشخبری سنانے کے لیے بھیجا گیا (14-21)
سفر کے سلسلے میں پولُس کا منصوبہ (22-33)
16
پولُس فیبے کو متعارف کراتے ہیں (1، 2)
روم کے مسیحیوں کو سلام (3-16)
اِختلاف پیدا کرنے والوں سے دُور رہنے کی نصیحت (17-20)
پولُس کے ہمخدمتوں کی طرف سے سلام (21-24)
مُقدس راز سے پردہ ہٹ گیا (25-27)