رسولوں کے اعمال
1 عزیز تھیُفِلُس، مَیں نے اپنی پہلی کتاب میں اُن سب باتوں کے بارے میں لکھا تھا جو یسوع نے شروع سے لے کر تب تک کیں اور سکھائیں 2 جب تک اُنہیں آسمان پر نہیں اُٹھایا گیا۔ اور آسمان پر جانے سے پہلے اُنہوں نے پاک روح کے ذریعے اُن رسولوں کو ہدایات دیں جنہیں اُنہوں نے چُنا تھا۔ 3 اذیت اُٹھانے کے بعد اُنہوں نے ٹھوس ثبوت دے کر رسولوں کو یقین دِلایا کہ وہ زندہ ہو گئے ہیں۔ وہ 40 (چالیس) دن تک اُنہیں دِکھائی دیتے رہے اور خدا کی بادشاہت کے بارے میں بتاتے رہے۔ 4 اِس دوران اُنہوں نے رسولوں کو حکم دیا: ”یروشلیم کو چھوڑ کر نہ جانا بلکہ اُس نعمت کا اِنتظار کرنا جس کا باپ نے وعدہ کِیا ہے اور جس کے بارے میں مَیں آپ کو بتا چُکا ہوں۔ 5 کیونکہ یوحنا نے پانی سے بپتسمہ دیا لیکن آپ کو کچھ دن بعد پاک روح سے بپتسمہ دیا جائے گا۔“
6 جب وہ سب اِکٹھے تھے تو رسولوں نے یسوع سے پوچھا: ”مالک، کیا آپ ابھی اِسرائیل کی بادشاہت بحال کریں گے؟“ 7 اُنہوں نے جواب دیا: ”یہ آپ کا کام نہیں کہ اُن وقتوں یا زمانوں کے بارے میں جانیں جنہیں مقرر کرنے کا اِختیار باپ نے اپنے پاس رکھا ہے۔ 8 لیکن جب پاک روح آپ پر نازل ہوگی تو آپ کو قوت ملے گی اور آپ یروشلیم میں، سارے یہودیہ اور سامریہ میں اور زمین کی اِنتہا تک میرے گواہ ہوں گے۔“ 9 جب یسوع یہ باتیں کہہ چکے تو وہ رسولوں کے دیکھتے دیکھتے آسمان پر اُٹھا لیے گئے اور ایک بادل نے اُنہیں رسولوں کی نظروں سے چھپا لیا۔ 10 اور جب وہ یسوع کو آسمان کی طرف جاتے دیکھ رہے تھے تو اچانک دو آدمی جنہوں نے سفید کپڑے پہنے تھے، آ کر اُن کے پاس کھڑے ہو گئے 11 اور کہنے لگے: ”گلیلیو، آپ آسمان کی طرف کیوں دیکھ رہے ہیں؟ یہی یسوع جنہیں آسمان پر اُٹھا لیا گیا، اُسی طرح آئیں گے جس طرح آپ نے اُنہیں آسمان پر جاتے دیکھا۔“
12 پھر رسول اُس پہاڑ سے یروشلیم واپس گئے جسے کوہِزیتون کہتے ہیں۔ یہ پہاڑ یروشلیم کے قریب ہی ہے یعنی اُس فاصلے پر جو سبت کے دن طے کرنے کی اِجازت ہے۔ 13 جب وہ وہاں پہنچے تو وہ اُس گھر کے اُوپر والے کمرے میں گئے جہاں وہ ٹھہرے ہوئے تھے۔ اور وہ یہ لوگ تھے: پطرس، یوحنا، یعقوب، اندریاس، فِلپّس، توما، برتُلمائی، متی، حلفئی کے بیٹے یعقوب، شمعون عرف جوشیلا اور یعقوب کے بیٹے یہوداہ۔ 14 اور وہ سب مل کر دُعا کِیا کرتے تھے اور اُن کے ساتھ کچھ عورتیں اور یسوع کی ماں مریم اور یسوع کے بھائی بھی تھے۔
15 اُن دنوں میں جب تقریباً 120 لوگ جمع تھے تو پطرس نے کھڑے ہو کر کہا: 16 ”بھائیو، یہ لازمی تھا کہ وہ صحیفہ پورا ہو جس میں پاک روح نے داؤد کے ذریعے یہوداہ کے بارے میں پیشگوئی کی۔ یہی یہوداہ گِرفتار کرنے والوں کو یسوع تک لے گیا 17 حالانکہ وہ ہمارا ساتھی تھا اور ہمارے ساتھ مل کر خدمت کرتا تھا۔ 18 (اِسی آدمی نے اپنے بُرے کام سے پیسے کمائے اور اِن سے ایک زمین خریدی۔ اور وہ سر کے بل گِرا اور اُس کا پیٹ پھٹ گیا اور اُس کی آنتیں باہر نکل آئیں۔ 19 یہ بات یروشلیم کے سب لوگوں کو پتہ چل گئی اِس لیے اُس زمین کو اُن کی زبان میں ہقلدما یعنی خون کا میدان کہا جانے لگا۔) 20 زبور کی کتاب میں لکھا ہے: ”اُس کی رہائشگاہ اُجڑ جائے اور اِس میں کوئی نہ بسے“ اور ”نگہبان کا عہدہ اُس کی جگہ کوئی اَور سنبھالے۔“ 21 لہٰذا یہ ضروری ہے کہ اُس کی جگہ کسی ایسے شخص کو مقرر کِیا جائے جو اُس سارے عرصے میں ہمارے ساتھ تھا جب ہمارے مالک یسوع ہمارے درمیان تھے 22 یعنی اُس وقت سے جب اُنہوں نے یوحنا سے بپتسمہ لیا اُس وقت تک جب وہ آسمان پر اُٹھائے گئے۔ اور وہ شخص ہماری طرح اِس بات کا گواہ بھی ہو کہ یسوع جی اُٹھے ہیں۔“
23 لہٰذا اُنہوں نے دو آدمیوں کے نام پیش کیے۔ ایک تو یوسف تھا جسے برسبّا اور یُوستُس بھی کہا جاتا تھا اور دوسرا متیاہ تھا۔ 24 پھر اُنہوں نے دُعا کی اور کہا: ”اَے یہوواہ،* تُو سب کے دلوں کو جانتا ہے۔ ہمیں بتا کہ تُو نے اِن دونوں میں سے کس کو چُنا ہے 25 کہ اُس خدمت اور رسول کے عہدے کو سنبھالے جسے یہوداہ نے اپنی روِش پر چلنے کے لیے ترک کر دیا۔“ 26 پھر اُنہوں نے قُرعہ* ڈالا اور قُرعہ متیاہ کے نام نکلا اور وہ 12 رسولوں میں شمار ہوئے۔
2 عیدِپنتِکُست پر سب شاگرد ایک جگہ جمع تھے۔ 2 اچانک آسمان سے ایک آواز آئی جو بالکل ویسی تھی جیسی تیز ہوا کی ہوتی ہے اور اِس سے وہ گھر گونج اُٹھا جہاں وہ بیٹھے تھے۔ 3 اور اُنہیں آگ کے شعلوں جیسا کچھ* دِکھائی دیا جو الگ الگ ہو کر اُن میں سے ہر ایک پر ٹھہر گیا۔ 4 وہ سب پاک روح سے معمور ہو گئے اور فرق فرق زبانیں بولنے لگے جیسے پاک روح نے اُنہیں توفیق دی۔
5 اُس وقت یروشلیم میں زمین کے کونے کونے سے خداپرست یہودی آئے ہوئے تھے۔ 6 جب یہ آواز سنائی دی تو بہت سے لوگ جمع ہو گئے اور اُلجھن میں پڑ گئے کیونکہ شاگرد اُن سب کی زبانیں بول رہے تھے۔ 7 وہ حیران تھے اور کہہ رہے تھے: ”یہ لوگ تو گلیلی ہیں۔ 8 تو پھر یہ ہماری زبانیں کیسے بول سکتے ہیں؟ 9 یہاں پارتھی، مادی اور عیلامی ہیں اور کچھ مسوپتامیہ، یہودیہ، کپدُکیہ، پُنطُس، صوبہ آسیہ، 10 فروگیہ، پمفیلیہ اور مصر سے اور کُرینے کے قریب لیبیا کے علاقوں سے ہیں اور کچھ روم سے آئے ہیں۔ ہم سب یا تو پیدائشی یہودی ہیں یا پھر ہم نے یہودی مذہب اپنایا ہے۔ 11 یہاں کچھ لوگ کرِیٹ سے ہیں اور کچھ عرب سے۔ لیکن ہم اپنی اپنی زبان میں خدا کے شاندار کاموں کے بارے میں سُن رہے ہیں۔“ 12 وہ سب حیرانوپریشان تھے اور ایک دوسرے سے کہہ رہے تھے: ”آخر یہ سب کیا ہے؟“ 13 لیکن کچھ لوگ شاگردوں کا مذاق اُڑا رہے تھے اور کہہ رہے تھے: ”یہ لوگ مے کے نشے میں دُھت ہیں۔“
14 اِس پر پطرس 11 رسولوں کے ساتھ کھڑے ہوئے اور بلند آواز میں کہا: ”یہودیہ اور یروشلیم کے لوگو، میری باتیں دھیان سے سنیں۔ 15 یہ لوگ نشے میں نہیں ہیں جیسے آپ سوچ رہے ہیں کیونکہ دن کا تیسرا گھنٹہ* ہے۔ 16 دراصل جو کچھ ہو رہا ہے، وہ یوایل نبی کی اِس پیشگوئی کے مطابق ہے: 17 ”خدا کہتا ہے کہ ”آخری زمانے میں مَیں اپنی روح ہر طرح کے لوگوں پر نازل کروں گا اور تمہاری بیٹیاں اور بیٹے نبوّت کریں گے اور تمہارے جوان رُویا دیکھیں گے اور تمہارے بزرگ خواب دیکھیں گے۔ 18 اُس زمانے میں مَیں اپنے بندوں اور بندیوں پر بھی اپنی روح نازل کروں گا اور وہ نبوّت کریں گے۔ 19 اور مَیں اُوپر آسمان میں حیرتانگیز کام کروں گا اور نیچے زمین پر نشانیاں دِکھاؤں گا یعنی دھوئیں کے بادل اور خون اور آگ۔ 20 اِس سے پہلے کہ یہوواہ* کا عظیم اور شاندار دن آئے، سورج تاریک ہو جائے گا اور چاند خون بن جائے گا۔ 21 لیکن جو شخص یہوواہ* کا نام لیتا ہے، وہ نجات پائے گا۔“ “
22 اِسرائیلیو، میری یہ باتیں سنیں: یسوع ناصری کو خدا نے بھیجا تھا اور یہ بات اُن حیرتانگیز کاموں، نشانیوں اور معجزوں سے ظاہر ہو گئی جو خدا نے اُن کے ذریعے کیے تھے۔ آپ بھی تو اِن باتوں سے واقف ہیں۔ 23 اُنہیں خدا کی مرضی اور اِرادے کے مطابق آپ کے حوالے کِیا گیا اور آپ نے اُنہیں گُناہگار آدمیوں کے ہاتھوں سُولی* دِلوائی اور اُنہیں مار ڈالا۔ 24 لیکن خدا نے اُنہیں زندہ کر کے موت کی زنجیروں سے رِہائی دِلائی کیونکہ ممکن نہیں تھا کہ موت اُنہیں باندھ کر رکھے۔ 25 کیونکہ داؤد نے اُن کے بارے میں کہا: ”مَیں ہمیشہ یہوواہ* کو دیکھتا رہتا ہوں؛ وہ میری دائیں طرف ہے اِس لیے مَیں ڈگمگاؤں گا نہیں۔ 26 لہٰذا میرا دل بہت خوش ہے اور میری زبان خوشی سے جھوم اُٹھی ہے۔ مَیں اپنی اُمید کو تھامے رکھوں گا؛ 27 کیونکہ تُو مجھے* قبر* میں نہیں رہنے دے گا اور اپنے وفادار خادم کی لاش کو سڑنے نہیں دے گا۔ 28 تُو نے مجھے زندگی کی راہ دِکھائی ہے؛ تیرے حضور مجھے بڑی خوشی ملے گی۔“
29 بھائیو، اب مَیں ہمارے خاندان کے سربراہ داؤد کے بارے میں کُھل کر بات کرنے جا رہا ہوں۔ وہ مر گئے اور اُنہیں دفن کِیا گیا اور اُن کی قبر آج تک یہاں موجود ہے۔ 30 وہ ایک نبی تھے اور اُنہیں پتہ تھا کہ خدا نے قسم کھا کر اُن سے عہد باندھا ہے کہ اُن کی نسل میں سے ایک شخص اُن کے تخت پر بیٹھے گا۔ 31 اِس لیے وہ پہلے سے جانتے تھے کہ مسیح مُردوں میں سے زندہ ہوگا اور اُسے قبر* میں نہیں چھوڑا جائے گا اور اُس کی لاش نہیں سڑے گی اور اُنہوں نے اِس بات کا ذکر بھی کِیا۔ 32 اور واقعی خدا نے یسوع کو زندہ کِیا اور ہم سب اِس بات کے گواہ ہیں۔ 33 چونکہ یسوع کو خدا کی دائیں طرف بیٹھنے کا شرف عطا کِیا گیا اور باپ کی طرف سے وہ پاک روح ملی جس کا وعدہ کِیا گیا تھا اِس لیے اُنہوں نے ہم پر پاک روح نازل کی جیسا کہ آپ دیکھ اور سُن سکتے ہیں۔ 34 داؤد تو آسمان پر نہیں گئے لیکن اُنہوں نے خود کہا: ”یہوواہ* نے میرے مالک سے کہا کہ ”میری دائیں طرف بیٹھو 35 جب تک کہ مَیں تمہارے دُشمنوں کو تمہارے پاؤں کی چوکی کی طرح نہ کر دوں۔“ “ 36 لہٰذا تمام اِسرائیلی جان لیں کہ خدا نے یسوع کو مالک اور مسیح بنایا، ہاں، اُسی کو جس کو آپ نے سُولی دی۔“
37 یہ سب باتیں لوگوں کے دل کو لگیں اور اُنہوں نے پطرس اور دوسرے رسولوں سے کہا: ”بھائیو، بتائیں کہ ہمیں کیا کرنا چاہیے؟“ 38 پطرس نے کہا: ”توبہ کریں اور آپ میں سے ہر ایک یسوع مسیح کے نام سے بپتسمہ لے تاکہ آپ کے گُناہ معاف ہو جائیں۔ پھر آپ کو پاک روح کی نعمت ملے گی۔ 39 کیونکہ اِس نعمت کا وعدہ آپ سے اور آپ کی اولاد سے اور اُن سب سے کِیا گیا ہے جو دُور ہیں، ہاں، اُن سب سے جنہیں یہوواہ* ہمارا خدا چُنے گا۔“ 40 پطرس نے اُن سے اَور بھی بہت سی باتیں کہیں اور اچھی طرح گواہی دی۔ اُنہوں نے بار بار نصیحت کی کہ ”اِس بگڑی ہوئی پُشت سے الگ ہو جائیں۔“ 41 جن لوگوں نے خوشی سے اِس پیغام کو قبول کِیا، اُنہوں نے بپتسمہ لے لیا۔ اُس دن تقریباً 3000 لوگ* شاگردوں میں شامل ہوئے۔ 42 اور وہ رسولوں سے تعلیم پاتے، ایک دوسرے سے ملتے جلتے، مل کر کھانا کھاتے اور دُعا کرتے تھے۔
43 اور سب لوگوں* پر خوف چھا گیا کیونکہ رسول بہت سے معجزے اور نشانیاں دِکھانے لگے۔ 44 جو لوگ ایمان لائے، وہ سب ایک دوسرے کے ساتھ جمع ہوتے تھے اور اپنی چیزیں ایک دوسرے کے ساتھ بانٹتے تھے۔ 45 وہ اپنی جائیداد اور زمینیں بیچ کر رقم ہر ایک کی ضرورت کے مطابق تقسیم کرتے تھے۔ 46 اور وہ ہر روز ہیکل* میں جمع ہوتے تھے اور کھانا کھانے کے لیے ایک دوسرے کے گھر جاتے تھے اور اپنا کھانا پورے خلوص اور خوشی سے دوسروں کے ساتھ بانٹتے تھے۔ 47 وہ خدا کی بڑائی کرتے تھے اور لوگوں کی نظر میں نیک نام تھے۔ اور یہوواہ* نجات پانے والے لوگوں کی تعداد میں روزبروز اِضافہ کر رہا تھا۔
3 ایک دن پطرس اور یوحنا دُعا کے وقت یعنی نویں گھنٹے* ہیکل* جا رہے تھے۔ 2 اُس وقت کچھ لوگ ایک آدمی کو اُٹھا کر لائے جو پیدائش سے لنگڑا تھا۔ وہ اُسے ہر روز ہیکل کے اُس دروازے کے قریب بٹھاتے تھے جو خوبصورت دروازہ کہلاتا ہے تاکہ وہ اندر جانے والوں سے بھیک مانگے۔ 3 جب اُس نے پطرس اور یوحنا کو ہیکل کے اندر جاتے دیکھا تو اُس نے بھیک مانگی۔ 4 پطرس اور یوحنا نے اُس کی طرف دیکھا۔ پھر پطرس نے اُس سے کہا: ”ہماری طرف دیکھیں۔“ 5 وہ یہ سوچ کر اُن کی طرف دیکھنے لگا کہ اُسے کچھ ملے گا۔ 6 لیکن پطرس نے کہا: ”میرے پاس سونا اور چاندی تو نہیں ہے مگر جو میرے پاس ہے، وہ مَیں آپ کو دیتا ہوں۔ ناصرت کے یسوع مسیح کے نام سے اُٹھیں اور چلیں پھریں!“ 7 پھر پطرس نے اُس کا دایاں ہاتھ پکڑا اور اُسے اُٹھایا۔ اُسی وقت اُس کے پاؤں اور ٹخنے مضبوط ہو گئے 8 اور وہ اُچھل کر کھڑا ہو گیا اور چلنے لگا اور پطرس اور یوحنا کے ساتھ ہیکل میں گیا۔ وہ اُچھل رہا تھا اور خدا کی بڑائی کر رہا تھا 9 اور سب لوگوں نے اُسے چلتے پھرتے اور خدا کی بڑائی کرتے دیکھا۔ 10 وہ پہچان گئے کہ یہ وہی آدمی ہے جو ہیکل کے اُس دروازے کے پاس بیٹھ کر بھیک مانگتا تھا جو خوبصورت دروازہ کہلاتا ہے۔ اُسے اپنے پیروں پر کھڑے دیکھ کر اُن کی حیرت کی اِنتہا نہ رہی۔
11 اُس آدمی نے ابھی تک پطرس اور یوحنا کا ہاتھ پکڑا ہوا تھا۔ وہ اُس برآمدے میں کھڑے تھے جسے سلیمان کا برآمدہ کہا جاتا ہے۔ اُنہیں دیکھ کر سب لوگ حیرت کے مارے بھاگتے ہوئے اُن کی طرف آئے۔ 12 جب پطرس نے یہ دیکھا تو اُنہوں نے لوگوں سے کہا: ”اِسرائیلیو، آپ اِتنا حیران کیوں ہو رہے ہیں اور ہمیں ایسے کیوں دیکھ رہے ہیں جیسے ہم نے اپنی طاقت یا اپنی دینداری سے اِس آدمی کو ٹھیک کِیا ہو؟ 13 ہمارے باپدادا ابراہام اور اِضحاق اور یعقوب کے خدا نے اپنے خادم یعنی یسوع کو عزت دی جسے آپ نے دُشمنوں کے حوالے کر دیا اور پیلاطُس کے سامنے ٹھکرا دیا حالانکہ وہ اُنہیں رِہا کرنے کا فیصلہ کر چُکا تھا۔ 14 ہاں، آپ نے ایک مُقدس اور نیک شخص کو ٹھکرا دیا اور ایک قاتل کو رِہا کرنے کا مطالبہ کِیا 15 اور یوں زندگی کے عظیم پیشوا کو مار ڈالا۔ لیکن خدا نے اُسے زندہ کِیا اور ہم اِس بات کے گواہ ہیں۔ 16 اُسی کے نام سے اور اُس کے نام پر ہمارے ایمان سے یہ آدمی جسے آپ جانتے ہیں اور دیکھ رہے ہیں، تندرست ہو گیا۔ ہاں، چونکہ ہم یسوع پر ایمان رکھتے ہیں اِس لیے یہ آدمی آپ سب کے سامنے اپنے پیروں پر کھڑا ہے۔ 17 بھائیو، مَیں جانتا ہوں کہ آپ نے اپنے حکمرانوں کی طرح یہ کام انجانے میں کِیا۔ 18 لیکن اِس طرح خدا کی وہ باتیں پوری ہو گئیں جو اُس نے تمام نبیوں کے ذریعے پہلے سے بتائی تھیں یعنی یہ کہ اُس کے مسیح کو اذیت اُٹھانی پڑے گی۔
19 لہٰذا توبہ کریں اور اپنی روِش بدلیں تاکہ آپ کے گُناہ مٹائے جائیں اور یہوواہ* کی طرف سے تازگی کے دن آئیں 20 اور وہ مسیح کو بھیجے جسے آپ کے لیے مقرر کِیا گیا ہے یعنی یسوع کو۔ 21 اُسے تب تک آسمان میں رہنا ہے جب تک اُن سب چیزوں کو بحال کرنے کا وقت نہیں آ جاتا جن کے بارے میں خدا نے قدیم زمانے میں اپنے مُقدس نبیوں کے ذریعے بتایا۔ 22 مثال کے طور پر موسیٰ نے کہا: ”یہوواہ* آپ کا خدا آپ کے بھائیوں میں سے آپ کے لیے میرے جیسا نبی مقرر کرے گا۔ اُس کی باتوں پر ضرور عمل کریں۔ 23 جو شخص* اُس نبی کی بات پر عمل نہیں کرے گا، اُس کا نامونشان مٹا دیا جائے گا۔“ 24 اِس کے علاوہ سموئیل اور اُن کے بعد آنے والے تمام نبیوں نے بھی اِس زمانے کا اِعلان کِیا تھا۔ 25 آپ اِن نبیوں کے بیٹے ہیں اور اُس عہد کے وارث بھی ہیں جو خدا نے آپ کے باپدادا سے باندھا تھا۔ اُس نے ابراہام سے کہا: ”تمہاری نسل کے ذریعے زمین کے سب خاندانوں کو برکت ملے گی۔“ 26 خدا نے اپنے خادم کو مقرر کرنے کے بعد اُسے سب سے پہلے آپ کے پاس بھیجا تاکہ آپ کو بُرے کاموں سے باز رکھے اور یوں آپ کو برکت دے۔“
4 پطرس اور یوحنا لوگوں سے بات کر ہی رہے تھے کہ ہیکل* کا نگران کاہنوں اور صدوقیوں کے ساتھ وہاں آ پہنچا۔ 2 وہ غصے میں تھے کیونکہ رسول، لوگوں کو تعلیم دے رہے تھے اور سرِعام بتا رہے تھے کہ یسوع مُردوں میں سے زندہ ہو گئے ہیں۔ 3 اُنہوں نے اُن دونوں کو گِرفتار کر لیا اور اُنہیں اگلے دن تک قیدخانے میں رکھا کیونکہ شام ہو چکی تھی۔ 4 لیکن بہت سے لوگ جنہوں نے پطرس کی تقریر سنی تھی، ایمان لے آئے اور آدمیوں کی تعداد تقریباً 5000 ہو گئی۔
5 اگلے دن یہودیوں کے حاکم، بزرگ اور شریعت کے عالم یروشلیم میں جمع ہوئے۔ 6 اُن کے ساتھ کائفا، یوحنا، سکندر، اعلیٰ کاہن حنّا اور اُس کے رشتےدار بھی تھے۔ 7 اُنہوں نے پطرس اور یوحنا کو اپنے بیچ کھڑا کِیا اور اُن سے پوچھا: ”تُم یہ کام کس کے نام سے کرتے ہو؟ تمہیں کس نے یہ اِختیار دیا ہے؟“ 8 پطرس نے پاک روح سے معمور ہو کر جواب دیا:
”قوم کے حاکمو اور بزرگو، 9 آج ہم سے اِس لیے پوچھگچھ کی جا رہی ہے کیونکہ ہم نے ایک لنگڑے آدمی کے ساتھ بھلائی کی۔ اگر آپ جاننا چاہتے ہیں کہ اِس آدمی کو کس نے ٹھیک کِیا 10 تو آپ لوگ اور باقی تمام اِسرائیلی یہ جان لیں کہ یہ آدمی ناصرت کے یسوع مسیح کے نام سے آپ کے سامنے بالکل تندرست کھڑا ہے۔ ہاں، اُسی یسوع کے نام سے جسے آپ نے سُولی* دی لیکن جسے خدا نے مُردوں میں سے زندہ کِیا۔ 11 وہی وہ ”پتھر ہے جس کو مزدوروں نے یعنی آپ نے ٹھکرا دیا لیکن وہ کونے کا سب سے اہم پتھر* بن گیا۔“ 12 دراصل کسی اَور کے ذریعے نجات ممکن نہیں کیونکہ خدا نے زمین پر کوئی اَور نام نہیں چُنا جس کے ذریعے ہمیں نجات ملے۔“
13 جب اُن لوگوں نے دیکھا کہ پطرس اور یوحنا اِتنی دلیری سے بات کر رہے ہیں حالانکہ وہ کم پڑھے لکھے* اور معمولی آدمی ہیں تو وہ دنگ رہ گئے اور اُنہیں اندازہ ہو گیا کہ وہ دونوں یسوع کے ساتھ ہوتے تھے۔ 14 اور چونکہ وہ اُس آدمی کو جو ٹھیک ہو گیا تھا، اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے تھے اِس لیے وہ آگے سے کچھ نہ کہہ سکے۔ 15 لہٰذا اُنہوں نے اُن دونوں کو عدالتگاہ سے باہر جانے کا حکم دیا اور آپس میں صلاح مشورہ کرنے لگے۔ 16 وہ ایک دوسرے سے کہہ رہے تھے: ”اِن آدمیوں کے ساتھ کیا کِیا جائے؟ اِنہوں نے ایک ایسا معجزہ کِیا ہے جسے یروشلیم کے تمام باشندے دیکھ سکتے ہیں اور ہم اِس حقیقت کو جھٹلا نہیں سکتے۔ 17 ایسا کرتے ہیں کہ اُنہیں دھمکاتے ہیں کہ آج کے بعد اِس نام کے بارے میں کسی سے بات نہ کریں تاکہ اِس واقعے کی خبر اَور نہ پھیلے۔“
18 اِس کے بعد اُنہوں نے اُن دونوں کو بلایا اور حکم دیا کہ وہ یسوع کے نام سے نہ تو تعلیم دیں اور نہ ہی کوئی اَور بات کہیں۔ 19 لیکن پطرس اور یوحنا نے جواب دیا: ”اگر آپ سمجھتے ہیں کہ خدا کی نظر میں یہ مناسب ہے کہ ہم اُس کی بات ماننے کی بجائے آپ کی بات مانیں تو یہ آپ کی رائے ہے۔ 20 لیکن جہاں تک ہمارا تعلق ہے، ہم اُن باتوں کے بارے میں چپ نہیں رہ سکتے جو ہم نے دیکھی اور سنی ہیں۔“ 21 اِس پر اُن لوگوں نے اُنہیں پھر سے دھمکایا اور چھوڑ دیا کیونکہ وہ اُن کو سزا دینے کی کوئی وجہ ڈھونڈ نہیں پائے۔ اِس کے علاوہ وہ لوگوں سے بھی ڈرتے تھے کیونکہ لوگ اُس واقعے کی وجہ سے خدا کی بڑائی کر رہے تھے۔ 22 دراصل جس آدمی کو معجزانہ طور پر ٹھیک کِیا گیا تھا، اُس کی عمر 40 (چالیس) سال سے زیادہ تھی۔
23 رِہا ہونے کے بعد وہ دونوں دوسرے شاگردوں کے پاس گئے اور اُنہیں بتایا کہ اعلیٰ کاہنوں اور بزرگوں نے اُن سے کیا کہا ہے۔ 24 یہ سُن کر اُن سب نے یہ دُعا کی:
”اَے کائنات کے مالک، تُو ہی نے آسمان اور زمین اور سمندر اور اِن میں موجود سب چیزیں بنائی ہیں۔ 25 تُو ہی نے اپنے خادم اور ہمارے باپ داؤد کو پاک روح کے ذریعے یہ کہنے کی ترغیب دی کہ ”قومیں غصے میں کیوں آئیں اور لوگ فضول باتوں پر دھیان کیوں دینے لگے؟ 26 زمین کے بادشاہ مقابلے کے لیے تیار ہو گئے اور حکمران متحد ہو کر یہوواہ* اور اُس کے مسیح کے خلاف جمع ہو گئے۔“ 27 اور ایسا ہی ہوا۔ ہیرودیس اور پُنطیُس پیلاطُس اور غیریہودی اور اِسرائیلی سب اِس شہر میں تیرے مُقدس خادم یسوع کے خلاف جسے تُو نے مسح* کِیا تھا، جمع ہوئے 28 تاکہ وہ کام کریں جو تیری قدرت اور مرضی کے مطابق پہلے سے طے تھا۔ 29 اَے یہوواہ،* اُن کی دھمکیوں پر توجہ دے اور اپنے غلاموں کو توفیق دے کہ دلیری سے تیرا کلام سناتے رہیں۔ 30 اَے خدا، اپنی قدرت کے ذریعے لوگوں کو شفا دے اور اپنے مُقدس خادم یسوع کے نام سے معجزے اور نشانیاں دِکھا جیسے تُو نے آج تک کِیا ہے۔“
31 جب وہ یہ اِلتجا کر چکے تو وہ جگہ جہاں وہ جمع تھے، ہلنے لگی اور وہ سب کے سب پاک روح سے معمور ہو گئے اور دلیری سے خدا کا کلام سنانے لگے۔
32 وہ سب لوگ جو ایمان لائے تھے، یکدل اور یکجان تھے اور اُن میں سے کوئی بھی اپنی کسی چیز کو اپنا نہیں سمجھتا تھا بلکہ وہ سب اپنی چیزیں ایک دوسرے کے ساتھ بانٹتے تھے۔ 33 اور رسول بڑی مہارت سے اِس بات کی گواہی دیتے تھے کہ ہمارے مالک یسوع جی اُٹھے ہیں اور اُن سب کو خدا کی عظیم رحمت حاصل تھی۔ 34 اُن میں سے کوئی بھی شخص ضرورتمند نہیں تھا کیونکہ جس کے پاس زمینیں اور گھر ہوتے، وہ اِنہیں بیچ دیتا 35 اور رقم لا کر رسولوں کے قدموں میں رکھ دیتا۔ پھر وہ رقم ہر ایک کی ضرورت کے مطابق تقسیم کی جاتی۔ 36 وہاں ایک شاگرد تھا جس کا نام یوسف تھا۔ یوسف کو رسولوں نے برنباس کا لقب دیا تھا (جس کا ترجمہ ہے: تسلی کا بیٹا)۔ وہ ایک لاوی تھے اور قبرص میں پیدا ہوئے تھے۔ 37 اُن کے پاس بھی کچھ زمین تھی۔ اُنہوں نے اِس زمین کو بیچ دیا اور رقم لا کر رسولوں کے قدموں میں رکھ دی۔
5 اور ایک آدمی حننیاہ اور اُس کی بیوی سفیرہ نے بھی کچھ زمین بیچی۔ 2 مگر اُس نے اپنی بیوی کی رضامندی کے ساتھ بڑی چالاکی سے کچھ رقم اپنے پاس رکھ لی اور باقی لا کر رسولوں کے قدموں میں رکھ دی۔ 3 پطرس نے اُس سے کہا: ”حننیاہ، آپ نے شیطان کے بہکاوے میں آ کر پاک روح سے جھوٹ کیوں بولا اور زمین کی کچھ رقم اپنے پاس کیوں رکھی؟ 4 کیا وہ زمین آپ کی نہیں تھی؟ اور جب آپ نے اِسے بیچا تو کیا وہ رقم آپ کی نہیں تھی؟ تو پھر آپ نے ایسی حرکت کرنے کا کیوں سوچا؟ آپ نے اِنسانوں سے نہیں بلکہ خدا سے جھوٹ بولا ہے۔“ 5 یہ سُن کر حننیاہ گِر پڑا اور مر گیا۔ اور جس جس نے بھی یہ خبر سنی، اُس پر خوف چھا گیا۔ 6 پھر جوان آدمی اُٹھے اور اُس کی لاش کو کپڑوں میں لپیٹا اور لے جا کر دفنا دیا۔
7 اِس کے کوئی تین گھنٹے بعد اُس کی بیوی وہاں آئی۔ اُسے نہیں پتہ تھا کہ اُس کے شوہر کے ساتھ کیا ہوا ہے۔ 8 پطرس نے اُس سے پوچھا: ”کیا آپ دونوں نے زمین اِتنے ہی پیسوں میں بیچی تھی؟“ اُس نے جواب دیا: ”جی، اِتنے ہی پیسوں میں بیچی تھی۔“ 9 اِس پر پطرس نے کہا: ”آپ دونوں نے یہوواہ* کی روح کا اِمتحان لینے کا منصوبہ کیوں بنایا؟ دیکھیں! جو لوگ آپ کے شوہر کو دفنا کر آئے ہیں، وہ دروازے پر کھڑے ہیں اور آپ کو بھی اُٹھا کر لے جائیں گے۔“ 10 اُسی لمحے وہ پطرس کے قدموں میں گِری اور مر گئی۔ جب جوان آدمی اندر آئے تو اُنہوں نے دیکھا کہ وہ مر گئی ہے۔ وہ اُسے اُٹھا کر لے گئے اور اُس کے شوہر کے ساتھ دفنا دیا۔ 11 تب پوری کلیسیا* پر اور اُن سب پر خوف طاری ہو گیا جنہوں نے اِس واقعے کے بارے میں سنا۔
12 اور رسول سرِعام بہت سے معجزے اور نشانیاں دِکھاتے اور وہ سب سلیمان کے برآمدے میں جمع ہوتے۔ 13 اور دوسرے لوگوں میں اِتنی جُرأت نہیں تھی کہ اُن کے ساتھ جمع ہوں لیکن وہ اُن کی تعریف ضرور کرتے تھے۔ 14 اور بہت سے آدمی اور عورتیں ہمارے مالک پر ایمان لائے اور شاگردوں کی تعداد میں اِضافہ ہوتا گیا۔ 15 لوگ بیماروں کو چوکوں میں لاتے اور اُنہیں چارپائیوں اور چٹائیوں پر لِٹاتے تاکہ جب پطرس وہاں سے گزریں تو اُن کا سایہ ہی اُن پر پڑ جائے۔ 16 اِس کے علاوہ یروشلیم کے آسپاس کے شہروں سے لوگ بیماروں کو اور اُن لوگوں کو لاتے جو بُرے فرشتوں* کے قبضے میں تھے اور وہ سب کے سب ٹھیک ہو جاتے۔
17 لیکن کاہنِاعظم اور اُس کے ساتھی جو صدوقی فرقے کے تھے، حسد کے مارے رسولوں کے خلاف اُٹھے 18 اور اُنہیں گِرفتار کر کے شہر کے قیدخانے میں ڈال دیا۔ 19 مگر یہوواہ* کے فرشتے نے رات کو قیدخانے کے دروازے کھول دیے اور رسولوں کو باہر لا کر کہا: 20 ”ہیکل* میں جائیں اور لوگوں کو زندگی کا پیغام سنائیں۔“ 21 رسول صبح سویرے ہیکل میں گئے اور لوگوں کو تعلیم دینے لگے۔
اِس دوران کاہنِاعظم اور اُس کے ساتھیوں نے عدالتِعظمیٰ اور بنیاِسرائیل کے بزرگوں کی جماعت کو اِکٹھا کِیا اور سپاہیوں کو بھیجا تاکہ رسولوں کو قیدخانے سے لائیں۔ 22 لیکن جب سپاہی وہاں پہنچے تو رسول قیدخانے میں نہیں تھے۔ لہٰذا اُنہوں نے واپس آ کر یہ خبر دی کہ 23 ”قیدخانے کو تالا لگا ہوا تھا اور سپاہی دروازوں پر پہرا دے رہے تھے لیکن جب ہم نے قیدخانے کو کھولا تو وہاں کوئی نہیں تھا۔“ 24 جب ہیکل کے نگران اور اعلیٰ کاہنوں نے یہ سنا تو وہ سوچنے لگے کہ اب کیا ہوگا؟ 25 اِسی دوران کسی نے آ کر خبر دی کہ ”دیکھیں! جن آدمیوں کو آپ نے قید میں ڈالا تھا، وہ ہیکل میں ہیں اور لوگوں کو تعلیم دے رہے ہیں۔“ 26 اِس پر ہیکل کا نگران اپنے سپاہیوں کے ساتھ گیا۔ وہ رسولوں کو لے کر آئے لیکن زبردستی نہیں کیونکہ اُنہیں ڈر تھا کہ اُن پر پتھراؤ کِیا جائے گا۔
27 اُنہوں نے رسولوں کو لا کر عدالتِعظمیٰ کے سامنے کھڑا کر دیا۔ پھر کاہنِاعظم نے رسولوں سے پوچھگچھ کی 28 اور کہا: ”ہم نے تمہیں کتنی سختی سے تاکید کی تھی کہ اِس نام سے تعلیم نہ دینا لیکن تُم لوگوں نے تو پورے یروشلیم میں اپنی تعلیم پھیلا دی ہے اور اُس آدمی کا خون ہمارے سر ڈالنے پر تُلے ہو۔“ 29 اِس پر پطرس اور باقی رسولوں نے جواب دیا: ”ہمارے لیے خدا کا کہنا ماننا اِنسانوں کا کہنا ماننے سے زیادہ ضروری ہے۔ 30 ہمارے باپدادا کے خدا نے یسوع کو زندہ کِیا جن کو آپ لوگوں نے سُولی* پر لٹکا کر مار ڈالا تھا۔ 31 خدا نے اُنہی کو اپنی دائیں طرف بیٹھنے کا شرف دیا اور اُنہیں عظیم پیشوا اور نجاتدہندہ بنایا تاکہ اِسرائیل کو توبہ کرنے اور گُناہوں کی معافی حاصل کرنے کا موقع ملے۔ 32 اور ہم اِن باتوں کے گواہ ہیں اور پاک روح بھی اِن کی گواہ ہے۔ یہ وہی پاک روح ہے جو خدا نے اُن لوگوں کو دی ہے جو اُس کا کہنا مانتے ہیں۔“
33 یہ سُن کر وہ آگبگولا ہو گئے اور رسولوں کو مار ڈالنا چاہتے تھے۔ 34 لیکن پھر عدالتِعظمیٰ میں ایک فریسی کھڑا ہوا جس کا نام گملیایل تھا۔ وہ شریعت کا عالم تھا اور سب لوگ اُس کی بڑی عزت کرتے تھے۔ اُس نے حکم دیا کہ ”اِن کو تھوڑی دیر کے لیے باہر لے جاؤ۔“ 35 پھر اُس نے کہا: ”اِسرائیل کے پیشواؤ، سوچ سمجھ کر فیصلہ کریں کہ آپ اِن آدمیوں کے ساتھ کیا کریں گے۔ 36 یاد ہے کہ کچھ عرصہ پہلے تھیوداس اُٹھا تھا جو اپنے آپ کو بڑی چیز سمجھتا تھا۔ اُس نے تقریباً 400 آدمیوں کو اپنے ساتھ ملا لیا۔ لیکن وہ مارا گیا اور اُس کے ساتھی تتربتر ہو گئے اور اُن کی تحریک ناکام ہو گئی۔ 37 اِس کے بعد مردمشماری کے زمانے میں گلیل کا یہوداہ اُٹھا تھا۔ اُس نے بھی لوگوں کو اپنے پیچھے لگا لیا تھا۔ لیکن وہ بھی مر گیا اور اُس کے حمایتی بھی تتربتر ہو گئے۔ 38 لہٰذا موجودہ صورتحال میں میرا مشورہ ہے کہ اِن آدمیوں کے کام میں دخل نہ دیں بلکہ اِنہیں چھوڑ دیں۔ کیونکہ اگر یہ تعلیم یا کام اِنسانوں کی طرف سے ہے تو یہ مٹ جائے گا۔ 39 لیکن اگر یہ خدا کی طرف سے ہے تو آپ اِسے مٹا نہیں سکیں گے۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ آپ خدا کا مقابلہ کرنے والے بن جائیں۔“ 40 اُن لوگوں نے گملیایل کا مشورہ مان لیا اور رسولوں کو بلوایا، اُنہیں پٹوایا اور حکم دیا کہ یسوع کے نام سے تعلیم دینا بند کر دیں اور پھر اُنہیں جانے دیا۔
41 جب رسول عدالتِعظمیٰ کے سامنے سے گئے تو وہ بہت خوش تھے کیونکہ اُنہیں یسوع کے نام کی خاطر بےعزت ہونے کا شرف ملا۔ 42 اور وہ ہر دن ہیکل میں اور گھر گھر جا کر تعلیم دیتے رہے اور مسیح یسوع کے بارے میں خوشخبری سناتے رہے۔
6 اُن دنوں میں جب شاگردوں کی تعداد بڑھتی جا رہی تھی تو یونانی بولنے والے یہودی عبرانی بولنے والے یہودیوں کے خلاف شکایت کرنے لگے کیونکہ ہر روز جب کھانا تقسیم ہوتا تھا تو اُن کی بیواؤں کو نظرانداز کِیا جاتا تھا۔ 2 اِس لیے 12 رسولوں نے تمام شاگردوں کو اِکٹھا کِیا اور اُن سے کہا: ”یہ مناسب نہیں کہ ہم خدا کے کلام کی تعلیم دینا چھوڑ کر کھانا تقسیم کرنے لگیں۔ 3 اِس لیے بھائیو، اپنے درمیان سے سات نیک نام* آدمیوں کو چُن لیں جو پاک روح اور دانشمندی سے معمور ہوں تاکہ ہم اُنہیں اِس ضروری کام کے لیے مقرر کریں 4 جبکہ ہم دُعا کرنے اور خدا کے کلام کی تعلیم دینے میں مشغول رہیں۔“ 5 یہ بات شاگردوں کو پسند آئی اور اُنہوں نے اِن آدمیوں کو چُنا: ستفنُس جو مضبوط ایمان کے مالک اور پاک روح سے معمور تھے؛ انطاکیہ کے نیکلاؤس جنہوں نے یہودی مذہب اپنایا تھا؛ فِلپّس؛ پروخورُس؛ نیکانور؛ تیمون اور پرمِناس۔ 6 پھر وہ اِن آدمیوں کو رسولوں کے پاس لائے اور رسولوں نے دُعا کر کے اُن پر ہاتھ رکھے۔
7 اِس کے نتیجے میں خدا کا کلام پھیلتا رہا اور یروشلیم میں شاگردوں کی تعداد میں بڑا اِضافہ ہوا یہاں تک کہ بہت سے کاہن بھی ایمان لے آئے۔
8 ستفنُس کو خدا کی خوشنودی حاصل تھی اور وہ خدا کی طاقت سے معمور تھے اور سرِعام بڑے بڑے معجزے اور نشانیاں دِکھاتے تھے۔ 9 لیکن لِبرتینوں کی جماعت کے کچھ آدمی، کُرینے اور اِسکندریہ اور کِلکیہ اور آسیہ کے کچھ آدمیوں کے ساتھ ستفنُس سے بحث کرنے کے لیے آئے۔ 10 مگر چونکہ ستفنُس دانشمندی اور پاک روح سے معمور ہو کر بات کر رہے تھے اِس لیے وہ آدمی اُن کا مقابلہ نہیں کر پائے۔ 11 پھر اُن لوگوں نے کچھ آدمیوں کو یہ کہنے کی پٹی پڑھائی کہ ”ہم نے اِس آدمی کو موسیٰ اور خدا کے خلاف کفر بکتے سنا ہے۔“ 12 اُنہوں نے دوسرے لوگوں، بزرگوں اور شریعت کے عالموں کو اُکسایا اور وہ سب جا کر ستفنُس پر ٹوٹ پڑے اور اُنہیں پکڑ کر عدالتِعظمیٰ کے سامنے لے گئے۔ 13 وہاں اُنہوں نے جھوٹے گواہوں کو پیش کِیا جنہوں نے کہا: ”یہ آدمی اِس مُقدس عمارت اور شریعت کے خلاف بولتا رہتا ہے۔ 14 ہم نے اپنے کانوں سے سنا ہے کہ اِس نے کہا تھا کہ یسوع ناصری اِس عمارت کو ڈھا دے گا اور اُن روایتوں کو بدل دے گا جو موسیٰ نے ہمیں دی ہیں۔“
15 جب اُن سب نے جو عدالتِعظمیٰ میں بیٹھے تھے، ستفنُس کی طرف دیکھا تو اُن کا چہرہ ایک فرشتے کے چہرے جیسا لگ رہا تھا۔
7 کاہنِاعظم نے ستفنُس سے پوچھا: ”کیا یہ سچ ہے؟“ 2 اُنہوں نے جواب دیا: ”بھائیو اور بزرگو، میری بات سنیں۔ ہمارا شاندار خدا ہمارے باپ ابراہام پر اُس وقت ظاہر ہوا جب وہ ابھی حاران نہیں گئے تھے بلکہ مسوپتامیہ میں رہتے تھے۔ 3 اُس نے اُن سے کہا: ”اپنے ملک اور رشتےداروں کو چھوڑ کر اُس ملک میں جاؤ جو مَیں تمہیں دِکھاؤں گا۔“ 4 اِس لیے وہ کسدیوں کے ملک کو چھوڑ کر حاران میں رہنے لگے۔ پھر جب اُن کے والد فوت ہو گئے تو خدا اُنہیں اِس ملک میں لایا جس میں آپ رہتے ہیں۔ 5 لیکن اُس نے اُنہیں اِس ملک میں ذرا سی بھی زمین وراثت میں نہیں دی یہاں تک کہ ایک چپا بھی نہیں۔ مگر اُس نے وعدہ کِیا کہ وہ اُن کو اور اُن کے بعد اُن کی اولاد کو اِس ملک کا مالک بنائے گا حالانکہ ابھی اُن کی کوئی اولاد نہیں ہوئی تھی۔ 6 خدا نے یہ بھی کہا کہ اُن کی نسل ایک ایسے ملک میں پردیسی کے طور پر رہے گی جو اُس کا نہیں ہوگا اور اُسے غلام بنایا جائے گا اور 400 سال تک اذیت پہنچائی جائے گی۔ 7 اُس نے یہ بھی کہا کہ ”مَیں اُس قوم کو سزا دوں گا جو میرے بندوں کو غلام بنائے گی اور اِس کے بعد وہ اُس ملک سے نکل آئیں گے اور اِس جگہ آ کر میری عبادت کریں گے۔“
8 خدا نے ابراہام سے ایک عہد بھی باندھا جس کی نشانی ختنہ تھی اور ابراہام، اِضحاق کے باپ بنے اور اُنہوں نے آٹھویں دن اپنے بیٹے کا ختنہ کِیا۔ اور اِضحاق، یعقوب کے باپ بنے* اور یعقوب ہمارے خاندان کے 12 سربراہوں کے۔ 9 یہ سربراہ یوسف سے حسد کرنے لگے اور اُنہیں بیچ دیا۔ یوں یوسف مصر پہنچ گئے مگر خدا اُن کے ساتھ تھا۔ 10 اُس نے اُنہیں تمام مصیبتوں سے نجات دِلائی اور اُنہیں دانشمندی عطا کی اور مصر کے بادشاہ فرعون کی خوشنودی حاصل کرنے کے قابل بنایا۔ اور فرعون نے اُنہیں مصر اور اپنے سارے گھر کا نگران بنا دیا۔ 11 مگر پھر ایک بہت بڑی مصیبت آن پڑی۔ مصر اور کنعان میں قحط پڑ گیا اور ہمارے باپدادا کے پاس کھانے کو کچھ نہ رہا۔ 12 لیکن یعقوب نے سنا کہ مصر میں اناج ہے اِس لیے اُنہوں نے ہمارے باپدادا کو وہاں بھیجا۔ 13 اور جب وہ دوسری بار وہاں گئے تو یوسف نے اپنے بھائیوں کو بتایا کہ وہ کون ہیں اور فرعون بھی یوسف کے خاندان کے بارے میں جان گیا۔ 14 پھر یوسف نے ایک پیغام بھیجا اور اپنے باپ یعقوب اور اپنے سب رشتےداروں کو کنعان سے بلایا۔ وہ کُل ملا کر 75 (پچھتّر) لوگ* تھے۔ 15 لہٰذا یعقوب مصر گئے اور وہ اور ہمارے باپدادا وہیں پر فوت ہوئے۔ 16 اُنہیں سِکم لے جایا گیا اور اُس قبر میں رکھا گیا جو ابراہام نے ہمور کے بیٹوں کو چاندی کے سِکے دے کر خریدی تھی۔
17 جوںجوں اُس وعدے کے پورا ہونے کا وقت نزدیک آ رہا تھا جو خدا نے ابراہام سے کِیا تھا، مصر میں ہماری قوم کی تعداد بڑھتی جا رہی تھی۔ 18 پھر مصر میں ایک نیا بادشاہ آیا جو یوسف کو نہیں جانتا تھا۔ 19 اُس نے ہماری قوم سے بڑی چالاکی کی اور بےرحمی سے ہمارے باپدادا کو مجبور کر دیا کہ اپنے ننھے بچوں کو چھوڑ دیں تاکہ وہ مر جائیں۔ 20 اُسی دوران موسیٰ پیدا ہوئے جو بہت ہی خوبصورت* تھے۔ وہ تین مہینے تک اپنے باپ کے گھر میں پلے۔ 21 لیکن جب اُن کے ماں باپ اُنہیں چھوڑنے پر مجبور ہو گئے تو فرعون کی بیٹی نے اُنہیں گود لے لیا اور اُن کی پرورش کی۔ 22 لہٰذا موسیٰ نے مصر کے تمام علوم کی تعلیم پائی اور اُن کی باتیں اور کام بہت مؤثر تھے۔
23 جب وہ 40 (چالیس) سال کے ہوئے تو اُن کے دل میں آیا کہ جا کر اپنے بھائیوں یعنی بنیاِسرائیل کی صورتحال کا جائزہ لیں۔ 24 اُنہوں نے دیکھا کہ ایک مصری ایک اِسرائیلی پر ظلم کر رہا ہے اور اُنہوں نے اِسرائیلی کو بچانے کے لیے اور اُس کا بدلہ لینے کے لیے مصری کو مار ڈالا۔ 25 اُنہوں نے سوچا کہ اُن کے بھائی سمجھ جائیں گے کہ خدا اُن کے ذریعے اِسرائیل کو نجات دِلا رہا ہے لیکن وہ یہ بات نہیں سمجھے۔ 26 اگلے دن اُنہوں نے دیکھا کہ دو اِسرائیلی لڑ رہے ہیں۔ اُنہوں نے اُن کی صلح کرانے کے لیے کہا: ”آپ لوگ تو بھائی ہیں۔ پھر آپ ایک دوسرے سے کیوں لڑ رہے ہیں؟“ 27 لیکن جو اِسرائیلی اپنے پڑوسی کو مار رہا تھا، اُس نے موسیٰ کو دھکا دے کر ایک طرف کر دیا اور اُن سے کہا: ”تمہیں کس نے ہم پر حاکم اور منصف مقرر کِیا ہے؟ 28 کیا تُم مجھے بھی اُسی طرح مار ڈالنا چاہتے ہو جس طرح تُم نے کل اُس مصری کو مار ڈالا تھا؟“ 29 یہ سُن کر موسیٰ وہاں سے بھاگ گئے اور جا کر ملک مِدیان میں رہنے لگے جہاں وہ پردیسی تھے اور جہاں اُن کے دو بیٹے ہوئے۔
30 اُنہیں وہاں رہتے ہوئے 40 (چالیس) سال ہو چکے تھے۔ پھر ایک دن جب وہ کوہِسینا کے ویرانے میں تھے تو ایک فرشتہ ایک جلتی ہوئی جھاڑی کے شعلے میں اُن پر ظاہر ہوا۔ 31 موسیٰ یہ منظر دیکھ کر دنگ رہ گئے۔ لیکن جب وہ اِسے قریب سے دیکھنے کے لیے آگے بڑھے تو یہوواہ* کی یہ آواز سنائی دی کہ 32 ”مَیں تمہارے باپدادا ابراہام اور اِضحاق اور یعقوب کا خدا ہوں۔“ موسیٰ خوف کے مارے کانپنے لگے اور اُنہیں آگے جانے کی جُرأت نہ ہوئی۔ 33 یہوواہ* نے اُن سے کہا: ”اپنے جُوتے اُتار دو کیونکہ یہ جگہ جہاں تُم کھڑے ہو، پاک ہے۔ 34 بےشک مَیں نے وہ ظلم دیکھا ہے جو مصر میں میرے بندوں پر ہو رہا ہے اور مَیں نے اُن کا کراہنا بھی سنا ہے اور مَیں اُنہیں نجات دِلانے اُترا ہوں۔ اور اب مَیں تمہیں مصر بھیجوں گا۔“ 35 یہ وہی موسیٰ تھے جنہیں بنیاِسرائیل نے یہ کہہ کر ٹھکرا دیا تھا کہ ”تمہیں کس نے ہم پر حاکم اور منصف مقرر کِیا ہے؟“ لیکن خدا نے اُنہی کو اُس فرشتے کے ذریعے حاکم اور نجاتدہندہ بنا کر بھیجا جو جلتی ہوئی جھاڑی میں ظاہر ہوا تھا۔ 36 وہی بنیاِسرائیل کو غلامی سے نکال لائے اور اُنہی نے مصر میں اور بحیرۂاحمر* پر اور ویرانے میں 40 (چالیس) سال تک بہت سے معجزے اور نشانیاں دِکھائیں۔
37 اِسی موسیٰ نے بنیاِسرائیل سے کہا: ”خدا آپ کے بھائیوں میں سے آپ کے لیے میرے جیسا نبی مقرر کرے گا۔“ 38 موسیٰ وہی شخص تھے جو ویرانے میں بنیاِسرائیل کے ساتھ تھے اور اُن کے ساتھ وہ فرشتہ بھی تھا جس نے کوہِسینا پر اُن سے اور ہمارے باپدادا سے بات کی تھی۔ اُنہی کو ہمارے لیے خدا کا ابدی پیغام دیا گیا۔ 39 لیکن ہمارے باپدادا نے اُن کا کہنا ماننے سے اِنکار کر دیا اور اُنہیں دھکا دے کر ایک طرف کر دیا اور دل میں مصر واپس لوٹ جانے کا فیصلہ کر لیا۔ 40 اِس لیے اُنہوں نے ہارون سے کہا: ”ہمارے لیے ایسے دیوتا بناؤ جو ہمارے آگے آگے جائیں کیونکہ کچھ پتہ نہیں کہ اُس موسیٰ کے ساتھ کیا ہوا ہے جو ہمیں مصر سے نکال لایا۔“ 41 لہٰذا اُنہوں نے ایک بچھڑا بنایا اور اُس بُت کے آگے نذرانے چڑھانے اور جشن منانے لگے جسے اُنہوں نے اپنے ہاتھوں سے بنایا تھا۔ 42 اِس لیے خدا نے اُن سے مُنہ موڑ لیا اور اُنہیں سورج، چاند اور ستاروں کی پوجا کرنے دی جیسا کہ نبیوں کی کتاب میں لکھا ہے: ”اَے اِسرائیل کے گھرانے، کیا تُو نے 40 (چالیس) سال تک ویرانے میں میرے لیے قربانیاں اور نذرانے چڑھائے؟ ہرگز نہیں! 43 بلکہ تُو مولک دیوتا کے خیمے اور رِفان دیوتا کے ستارے کو اُٹھائے پھرتا تھا یعنی اُن بُتوں کو جنہیں تُو نے بنایا تھا تاکہ اُن کی عبادت کرے۔ اِس لیے مَیں تجھے بابل بلکہ بابل سے بھی دُور جلاوطن کروں گا۔“
44 ویرانے میں ہمارے باپدادا کے پاس گواہی کا خیمہ تھا جسے خدا نے اُس نمونے کے مطابق بنانے کا حکم دیا تھا جو موسیٰ نے دیکھا تھا۔ 45 یہ خیمہ ہمارے باپدادا کو ورثے میں ملا۔ وہ اِسے یشوع کے ساتھ اُس ملک میں لائے جو اُن قوموں کا تھا جنہیں خدا نے ہمارے باپدادا کے سامنے سے بھگا دیا تھا۔ اور یہ خیمہ داؤد کے زمانے تک وہیں رہا۔ 46 داؤد کو خدا کی خوشنودی حاصل ہوئی اور اُنہوں نے اِلتجا کی کہ اُنہیں یعقوب کے خدا کے لیے ایک گھر بنانے کا شرف عطا کِیا جائے۔ 47 لیکن سلیمان وہ شخص تھے جنہوں نے خدا کے لیے ایک گھر بنایا۔ 48 دراصل خدا تعالیٰ ہاتھ سے بنے گھروں میں نہیں رہتا جس طرح ایک نبی نے کہا: 49 ”آسمان میرا تخت ہے اور زمین میرے پاؤں کی چوکی ہے۔ یہوواہ* کہتا ہے کہ تُم میرے لیے کس طرح کا گھر بناؤ گے؟ یا میرا گھر کہاں ہوگا؟ 50 کیا مَیں نے سب چیزیں نہیں بنائیں؟“
51 ڈھیٹھ آدمیو! تمہارے دل سُن ہیں اور تمہارے کان بند ہیں۔* تُم ہمیشہ پاک روح کی مخالفت کرتے ہو۔ جو تمہارے باپدادا نے کِیا، وہی تُم بھی کرتے ہو۔ 52 کیا کوئی ایسا نبی ہے جسے تمہارے باپدادا نے اذیت نہیں پہنچائی؟ بلکہ اُنہوں نے تو اُن نبیوں کو قتل کر دیا جنہوں نے اُس نیک شخص کے آنے کے بارے میں پیشگوئی کی جسے تُم لوگوں نے پکڑوایا اور قتل کِیا۔ 53 تُم لوگوں کو فرشتوں کے ذریعے شریعت ملی لیکن تُم نے اِس پر عمل نہیں کِیا۔“
54 ستفنُس کی یہ باتیں سُن کر وہ لوگ آگبگولا ہو گئے اور دانت پیسنے لگے۔ 55 لیکن ستفنُس نے جو پاک روح سے معمور تھے، آسمان کی طرف دیکھا اور اُنہیں خدا کی عظمت دِکھائی دی اور یسوع بھی دِکھائی دیے جو خدا کی دائیں طرف کھڑے تھے۔ 56 پھر اُنہوں نے کہا: ”دیکھو! مَیں آسمانوں کو کُھلا ہوا دیکھ رہا ہوں اور اِنسان کا بیٹا خدا کی دائیں طرف کھڑا ہے۔“ 57 اِس پر وہ لوگ چلّانے لگے۔ اُنہوں نے اپنے کانوں پر ہاتھ رکھ لیے اور مل کر ستفنُس پر ٹوٹ پڑے۔ 58 پھر وہ اُنہیں شہر سے باہر لے گئے اور سنگسار کرنے لگے۔ ستفنُس کے خلاف گواہی دینے والوں نے اپنے کپڑے ایک جوان آدمی کے قدموں میں رکھے جس کا نام ساؤل تھا۔ 59 جب ستفنُس پر پتھر برسائے جا رہے تھے تو اُنہوں نے اِلتجا کی: ”مالک یسوع، مَیں اپنا دم* آپ کے سپرد کرتا ہوں۔“ 60 پھر اُنہوں نے گھٹنے ٹیکے اور اُونچی آواز میں کہا: ”اَے یہوواہ،* یہ گُناہ اِن لوگوں کے ذمے نہ لگا۔“ اِس کے بعد وہ موت کی نیند سو گئے۔
8 اور ساؤل، ستفنُس کے قتل پر خوش تھے۔
اُس دن سے یروشلیم کی کلیسیا* کو بہت اذیت دی جانے لگی۔ اِس لیے رسولوں کے سوا باقی سب شاگرد یہودیہ اور سامریہ کے علاقوں میں چلے گئے۔ 2 لیکن خداپرست لوگ ستفنُس کو اُٹھا کر دفنانے کے لیے لے گئے اور اُن کی موت پر بڑا ماتم کِیا۔ 3 مگر ساؤل کلیسیا کو تباہ کرنے کی ہر ممکن کوشش کرنے لگے۔ وہ گھر گھر گھس کر آدمیوں اور عورتوں کو گھسیٹ کر باہر لاتے اور اُنہیں قید کرواتے۔
4 لیکن جو شاگرد یروشلیم سے گئے، وہ جگہ جگہ خدا کے کلام کی خوشخبری سناتے رہے۔ 5 فِلپّس شہر سامریہ* گئے اور وہاں کے لوگوں کو مسیح کے بارے میں خوشخبری سنانے لگے۔ 6 اور لوگوں نے اُن کی باتوں کو بڑے دھیان سے سنا اور اُن کے معجزوں کو بھی دیکھا۔ 7 بہت سے لوگوں میں بُرے فرشتے* تھے جو چلّا کر اُن میں سے نکل آئے۔ اِس کے علاوہ بہت سے فالجزدہ اور لنگڑے لوگ بھی ٹھیک ہو گئے۔ 8 اِس لیے اُس شہر میں خوشی کی لہر دوڑ گئی۔
9 اُس شہر میں ایک آدمی تھا جس کا نام شمعون تھا۔ وہ جادوگر تھا اور طرح طرح کے کرتب دِکھا کر سامری قوم کو حیران کر دیتا تھا۔ وہ اپنے آپ کو بڑی چیز سمجھتا تھا۔ 10 چھوٹے بڑے سب اُس کی باتیں دھیان سے سنتے اور کہتے: ”یہ آدمی خدا کی قوت ہے جو بڑی عظیم ہے۔“ 11 اُس نے کافی عرصے سے اپنی جادوگری سے لوگوں کو حیران کر رکھا تھا اِس لیے وہ اُس کی باتوں پر توجہ دیتے تھے۔ 12 لیکن جب فِلپّس نے لوگوں کو یسوع مسیح کے نام کے بارے میں اور خدا کی بادشاہت کے بارے میں خوشخبری سنائی تو وہ اُن کی باتوں پر ایمان لے آئے اور آدمیوں اور عورتوں نے بپتسمہ لیا۔ 13 شمعون بھی ایمان لے آئے اور بپتسمہ لینے کے بعد فِلپّس کے ساتھ ساتھ رہنے لگے۔ وہ اُن معجزوں اور نشانیوں سے حیران تھے جو فِلپّس دِکھا رہے تھے۔
14 جب یروشلیم میں رسولوں نے سنا کہ سامریوں نے خدا کے کلام کو قبول کر لیا ہے تو اُنہوں نے پطرس اور یوحنا کو وہاں بھیجا۔ 15 اُن دونوں نے وہاں جا کر دُعا کی کہ سامریوں پر بھی پاک روح نازل ہو 16 کیونکہ اُنہوں نے ہمارے مالک یسوع کے نام سے بپتسمہ تو لیا تھا لیکن ابھی تک اُنہیں پاک روح نہیں ملی تھی۔ 17 پطرس اور یوحنا نے اُن پر ہاتھ رکھے۔ اُس وقت سے اُن لوگوں کو پاک روح ملنے لگی۔
18 جب شمعون نے دیکھا کہ رسول، لوگوں پر ہاتھ رکھتے ہیں اور یوں لوگوں کو پاک روح ملتی ہے تو اُنہوں نے رسولوں کو پیسے دینے کی پیشکش کی 19 اور کہا: ”مجھے بھی یہ طاقت دیں تاکہ مَیں جس پر بھی ہاتھ رکھوں، اُسے پاک روح ملے۔“ 20 لیکن پطرس نے اُن سے کہا: ”تمہارے پیسے تمہارے ساتھ غرق ہوں کیونکہ تُم نے خدا کی نعمت کو پیسوں سے خریدنے کی کوشش کی۔ 21 تمہارا اِس کام میں کوئی حصہ نہیں ہے کیونکہ تمہارا دل خدا کی نظر میں صاف نہیں ہے۔ 22 اپنی اِس بُرائی سے توبہ کرو اور یہوواہ* سے اِلتجا کرو کہ اگر ممکن ہو تو وہ تمہاری بُری نیت کو معاف کر دے۔ 23 کیونکہ مَیں دیکھ رہا ہوں کہ تمہارے دل میں کڑوا زہر بھرا ہے اور تُم بُرائی کے غلام ہو۔“ 24 اِس پر شمعون نے اُن سے کہا: ”بھائیو، مہربانی سے میرے لیے یہوواہ* سے اِلتجا کریں کہ میرے ساتھ وہ نہ ہو جو آپ نے کہا ہے۔“
25 جب پطرس اور یوحنا وہاں اچھی طرح سے گواہی دے چکے اور یہوواہ* کا کلام سنا چکے تو وہ یروشلیم روانہ ہوئے اور راستے میں سامریوں کے بہت سے گاؤں میں خوشخبری سنائی۔
26 یہوواہ* کے فرشتے نے فِلپّس سے کہا کہ ”اُٹھیں اور جنوب کی طرف اُس سڑک پر جائیں جو یروشلیم سے غزہ کو جاتی ہے۔“ (یہ سڑک ویرانے سے گزرتی ہے۔) 27 فِلپّس وہاں گئے اور اُنہوں نے ایک ایتھیوپیائی خواجہسرا* کو دیکھا۔ وہ ایتھیوپیوں کی ملکہ یعنی کنداکے کا ایک اعلیٰ افسر تھا اور اُس کے سارے خزانے کا مختار تھا۔ وہ عبادت کرنے کے لیے یروشلیم گیا تھا 28 اور اب واپس جا رہا تھا۔ وہ اپنے رتھ پر بیٹھا اُونچی آواز میں یسعیاہ نبی کی کتاب پڑھ رہا تھا۔ 29 پاک روح نے فِلپّس سے کہا: ”اُس رتھ کے پاس جائیں۔“ 30 فِلپّس بھاگ کر اُس کے پاس گئے۔ اُنہوں نے سنا کہ خواجہسرا یسعیاہ نبی کی کتاب کو پڑھ رہا ہے۔ اُنہوں نے اُس سے پوچھا: ”کیا آپ اُن باتوں کو سمجھ رہے ہیں جو آپ پڑھ رہے ہیں؟“ 31 اُس نے جواب دیا: ”جب تک کوئی مجھے اِن باتوں کا مطلب نہ سمجھائے تب تک مَیں اِنہیں کیسے سمجھ سکتا ہوں؟“ پھر اُس نے اِصرار کِیا کہ فِلپّس رتھ پر اُس کے ساتھ بیٹھ جائیں۔ 32 وہ یہ صحیفہ پڑھ رہا تھا: ”اُسے ایک بھیڑ کی طرح ذبح کرنے کے لیے لایا گیا اور جس طرح میمنا* بال کترنے والے کے سامنے خاموش ہوتا ہے اُسی طرح اُس نے بھی مُنہ نہیں کھولا۔ 33 اُسے ذلیل کِیا گیا اور اُسے اِنصاف نہیں ملا۔ اُس کے حسبنسب کے متعلق تفصیل کون بتائے گا؟ کیونکہ اُس کی زندگی زمین سے مٹ گئی۔“
34 خواجہسرا نے فِلپّس سے کہا: ”مہربانی سے مجھے بتائیں کہ نبی یہ بات کس کے بارے میں کہہ رہے ہیں؟ اپنے بارے میں یا کسی اَور کے بارے میں؟“ 35 فِلپّس نے اِس صحیفے سے شروع کِیا اور اُسے یسوع کے بارے میں خوشخبری سنائی۔ 36 جب وہ اُس سڑک پر آگے بڑھے تو اُنہیں پانی دِکھائی دیا۔ خواجہسرا نے کہا: ”دیکھیں، یہاں کافی پانی ہے! اب تو مَیں بپتسمہ لے سکتا ہوں۔“ 37 —* 38 پھر اُس نے رتھ کو روکنے کا حکم دیا۔ وہ دونوں اُتر کر پانی میں گئے اور فِلپّس نے اُس کو بپتسمہ دیا۔ 39 جب وہ پانی سے باہر آئے تو یہوواہ* کی روح جلدی سے فِلپّس کو وہاں سے لے گئی اور خواجہسرا نے اُن کو پھر نہیں دیکھا بلکہ خوشی خوشی اپنا سفر جاری رکھا۔ 40 لیکن فِلپّس اشدود گئے اور وہاں سے قیصریہ گئے اور راستے میں اُس علاقے کے تمام شہروں میں خوشخبری سنائی۔
9 ساؤل ابھی بھی ہمارے مالک کے شاگردوں کو دھمکاتے پھر رہے تھے اور اُنہیں قتل کرنے کے درپے تھے۔ اِس لیے وہ کاہنِاعظم کے پاس گئے 2 اور اُس سے درخواست کی کہ دمشق کی یہودی جماعتوں* کے لیے حکمنامے جاری کرے تاکہ وہ وہاں جا سکیں اور اُن لوگوں کو گِرفتار کر کے یروشلیم لا سکیں جو مالک کی راہ پر چلتے ہیں، چاہے وہ مرد ہوں یا عورتیں۔
3 سفر کرتے کرتے جب وہ دمشق کے نزدیک پہنچے تو اچانک آسمان سے اُن کے اِردگِرد روشنی چمکی 4 اور وہ زمین پر گِر گئے اور اُنہیں یہ آواز سنائی دی: ”ساؤل، ساؤل، آپ مجھے اذیت کیوں پہنچا رہے ہیں؟“ 5 اُنہوں نے پوچھا: ”جناب، آپ کون ہیں؟“ اُس نے جواب دیا: ”مَیں یسوع ہوں جسے آپ اذیت پہنچا رہے ہیں۔ 6 اب اُٹھیں اور شہر میں جائیں۔ وہاں آپ کو بتایا جائے گا کہ آپ کو کیا کرنا ہے۔“ 7 جو آدمی ساؤل کے ساتھ سفر کر رہے تھے، وہ ہکا بکا کھڑے تھے کیونکہ اُنہیں آواز تو سنائی دے رہی تھی لیکن کوئی دِکھائی نہیں دے رہا تھا۔ 8 پھر ساؤل زمین سے اُٹھے۔ اُن کی آنکھیں کُھلی تھیں مگر اُنہیں کچھ نظر نہیں آ رہا تھا۔ اِس لیے اُن آدمیوں نے اُن کا ہاتھ پکڑا اور اُنہیں دمشق لے گئے۔ 9 ساؤل کو تین دن تک کچھ دِکھائی نہیں دیا اور اِس دوران اُنہوں نے نہ تو کچھ کھایا اور نہ ہی پیا۔
10 دمشق میں ایک شاگرد تھا جس کا نام حننیاہ تھا۔ ہمارے مالک نے ایک رُویا میں حننیاہ سے کہا: ”حننیاہ!“ اُنہوں نے جواب دیا: ”جی مالک۔“ 11 مالک نے اُن سے کہا: ”اُٹھیں اور اُس سڑک پر جائیں جو سیدھی کہلاتی ہے اور وہاں ساؤل کا پوچھیں جو ترسُس سے ہیں اور یہوداہ کے گھر میں ٹھہرے ہوئے ہیں۔ وہ دُعا کر رہے ہیں 12 اور اُنہوں نے رُویا میں دیکھا ہے کہ حننیاہ نام کا ایک آدمی اُن کے پاس آیا ہے اور اُس نے اُن پر ہاتھ رکھے ہیں تاکہ وہ دوبارہ دیکھ سکیں۔“ 13 لیکن حننیاہ نے جواب دیا: ”مالک، مَیں نے بہت سے لوگوں سے اِس آدمی کے بارے میں سنا ہے۔ اِس نے یروشلیم میں آپ کے مُقدسوں کو بڑا نقصان پہنچایا ہے۔ 14 اور اب یہ اعلیٰ کاہنوں کی اِجازت سے اُن لوگوں کو گِرفتار کرنے آیا ہے جو آپ کا نام لیتے ہیں۔“ 15 مگر مالک نے اُن سے کہا: ”جائیں، کیونکہ مَیں نے اِس آدمی کو چُنا ہے کہ میرا نام غیریہودیوں اور بادشاہوں اور بنیاِسرائیل تک پہنچائے 16 اور مَیں اُسے دِکھاؤں گا کہ اُسے میرے نام کی خاطر کتنا کچھ سہنا پڑے گا۔“
17 لہٰذا حننیاہ گئے اور اُس گھر میں داخل ہوئے اور اُنہوں نے ساؤل پر ہاتھ رکھے اور کہا: ”ساؤل، میرے بھائی، ہمارے مالک یسوع نے جو سفر کے دوران آپ پر ظاہر ہوئے تھے، مجھے آپ کے پاس بھیجا ہے تاکہ آپ دوبارہ دیکھ سکیں اور پاک روح سے معمور ہو جائیں۔“ 18 اور فوراً ہی ساؤل کی آنکھوں سے چھلکے سے گِرے اور اُنہیں دِکھائی دینے لگا۔ پھر وہ اُٹھے اور اُنہوں نے بپتسمہ لیا۔ 19 اِس کے بعد اُنہوں نے کچھ کھانا کھایا اور اُن کی طاقت بحال ہوئی۔
ساؤل کچھ دن دمشق میں شاگردوں کے ساتھ رہے 20 اور فوراً ہی یہودیوں کی عبادتگاہوں میں یہ تعلیم دینے لگے کہ یسوع ہی خدا کے بیٹے ہیں۔ 21 اور جو لوگ بھی اُن کی باتیں سنتے، وہ حیران رہ جاتے اور کہتے: ”کیا یہ وہی آدمی نہیں جس نے یروشلیم میں یسوع کا نام لینے والوں کا جینا مشکل کر دیا تھا؟ کیا وہ یہاں بھی اِسی مقصد سے نہیں آیا کہ اُن لوگوں کو گِرفتار کر کے اعلیٰ کاہنوں کے پاس لے جائے؟“ 22 لیکن ساؤل گواہی دینے کے کام میں مہارت حاصل کرتے رہے۔ وہ دلیلیں دے کر ثابت کرتے کہ یسوع ہی مسیح ہیں اِس لیے دمشق کے یہودی ہکا بکا رہ جاتے۔
23 کچھ عرصے بعد یہودیوں نے ساؤل کو مار ڈالنے کی سازش کی۔ 24 لیکن اُن کو اِس سازش کا پتہ چل گیا۔ یہودی دن رات شہر کے دروازوں پر نظر رکھے ہوئے تھے تاکہ جیسے ہی موقع ملے، ساؤل کو مار ڈالیں۔ 25 اِس لیے اُن کے شاگردوں نے رات کو اُنہیں ایک ٹوکرے میں بٹھایا اور شہر کی دیوار کی ایک کھڑکی سے نیچے اُتار دیا۔
26 جب ساؤل یروشلیم پہنچے تو اُنہوں نے شاگردوں سے ملنے کی بڑی کوشش کی لیکن وہ سب اُن سے ڈرتے تھے کیونکہ اُنہیں اِس بات پر یقین نہیں تھا کہ ساؤل، یسوع کے شاگرد بن گئے ہیں۔ 27 لہٰذا برنباس نے اُن کی مدد کی اور اُنہیں رسولوں کے پاس لے گئے اور تفصیل سے بتایا کہ راستے میں ساؤل نے کیسے ہمارے مالک کو دیکھا اور مالک نے اُن سے بات کی اور ساؤل نے کیسے دمشق میں یسوع کے نام سے بڑی دلیری سے گواہی دی۔ 28 اِس کے بعد ساؤل اُن کے ساتھ ساتھ رہے اور پورے یروشلیم میں آزادی سے گھومتے رہے اور بڑی دلیری سے ہمارے مالک کے نام سے گواہی دیتے رہے۔ 29 وہ یونانی بولنے والے یہودیوں سے بات کرتے اور اُن سے بحث کرتے اِس لیے اُنہوں نے اُن کو مار ڈالنے کی کوشش کی۔ 30 جب بھائیوں کو اِس بات کا علم ہوا تو وہ ساؤل کو قیصریہ لے گئے اور وہاں سے ترسُس بھیج دیا۔
31 پھر سارے یہودیہ اور گلیل اور سامریہ کی کلیسیا* کو کچھ عرصے کے لیے مخالفت سے سکون ملا اور وہ مضبوط ہوتی گئی۔ وہاں کے شاگرد یہوواہ* کا خوف رکھتے ہوئے زندگی گزار رہے تھے اور پاک روح کے ذریعے اُن کا حوصلہ بڑھ رہا تھا اِس لیے اُن کی تعداد میں اِضافہ ہوتا گیا۔
32 اُن دنوں میں پطرس سارے علاقے کا سفر کر رہے تھے اور وہ اُن مُقدسوں کے پاس بھی گئے جو لِدہ میں رہتے تھے۔ 33 وہاں ایک آدمی تھا جس کا نام اینیاس تھا۔ وہ آٹھ سال سے بستر پر پڑا تھا کیونکہ اُسے فالج تھا۔ 34 پطرس نے اُس سے کہا: ”اینیاس، یسوع مسیح آپ کو شفا دے رہے ہیں۔ اُٹھیں اور اپنا بستر ٹھیک کریں۔“ اِس پر وہ فوراً اُٹھ بیٹھا۔ 35 جب لِدہ اور میدانِشارون میں رہنے والے لوگوں نے اِس واقعے کے بارے میں سنا تو وہ ہمارے مالک پر ایمان لے آئے۔
36 اب یافا میں تبیتا نامی ایک شاگردہ تھیں۔ (تبیتا کا ترجمہ ہے: ڈورکس۔*) وہ نیک کام کرنے اور خیرات دینے میں پیش پیش رہتی تھیں۔ 37 لیکن اُن ہی دنوں میں وہ بیمار پڑ گئیں اور فوت ہو گئیں۔ اُن کی لاش کو غسل دیا گیا اور گھر کے اُوپر والے کمرے میں رکھ دیا گیا۔ 38 لِدہ، یافا کے نزدیک ہے۔ اِس لیے جب شاگردوں نے سنا کہ پطرس وہاں ہیں تو اُنہوں نے دو آدمیوں کو اِس اِلتجا کے ساتھ اُن کے پاس بھیجا کہ ”مہربانی سے جلدی ہمارے پاس آئیں۔“ 39 اِس پر پطرس اُٹھے اور اُن آدمیوں کے ساتھ گئے۔ جب وہ یافا پہنچے تو اُنہیں اُوپر والے کمرے میں لے جایا گیا۔ وہاں سب بیوائیں اُن سے ملنے آئیں۔ وہ بہت رو رہی تھیں اور اُنہیں وہ کپڑے اور چوغے دِکھا رہی تھیں جو ڈورکس نے بنائے تھے۔ 40 پطرس نے سب کو باہر جانے کو کہا اور گھٹنے ٹیک کر دُعا کی۔ پھر وہ لاش کی طرف مُڑے اور کہا: ”تبیتا، اُٹھیں!“ اِس پر اُنہوں نے آنکھیں کھولیں اور جب اُنہوں نے پطرس کو دیکھا تو وہ اُٹھ بیٹھیں۔ 41 پطرس نے اُن کا ہاتھ پکڑ کر اُنہیں اُٹھایا۔ پھر اُنہوں نے مُقدسوں اور بیواؤں کو بلایا اور اُنہیں دِکھایا کہ تبیتا زندہ ہیں۔ 42 یہ خبر پورے یافا میں پھیل گئی اور بہت سے لوگ ہمارے مالک پر ایمان لے آئے۔ 43 پطرس کافی دنوں تک یافا میں شمعون کے گھر رہے جن کا پیشہ چمڑا تیار کرنا تھا۔
10 اب قیصریہ میں ایک آدمی تھا جس کا نام کُرنیلیُس تھا۔ کُرنیلیُس اِطالوی دستے* میں فوجی افسر* تھے۔ 2 وہ بڑے مذہبی آدمی تھے۔ وہ اور اُن کے گھر والے خدا کا خوف رکھتے تھے۔ کُرنیلیُس بڑی خیرات دیا کرتے تھے اور خدا سے اِلتجائیں کِیا کرتے تھے۔ 3 ایک دن اُنہوں نے تقریباً نویں گھنٹے* رُویا میں خدا کے ایک فرشتے کو دیکھا جس نے اُن کے پاس آ کر کہا: ”کُرنیلیُس!“ 4 اِس پر کُرنیلیُس نے اُس کی طرف دیکھا اور خوفزدہ ہو کر کہا: ”جی مالک۔“ اُس نے کہا: ”خدا نے آپ کی دُعاؤں کو سنا ہے اور آپ کی خیرات کو دیکھا ہے اور وہ اِنہیں یاد رکھتا ہے۔ 5 اب کچھ آدمیوں کو یافا بھیجیں اور شمعون نامی ایک آدمی کو بلوائیں جو پطرس بھی کہلاتا ہے۔ 6 یہ آدمی اُس شمعون کے گھر ٹھہرا ہوا ہے جو چمڑا تیار کرتا ہے اور جس کا گھر سمندر کے پاس ہے۔“ 7 جیسے ہی فرشتہ وہاں سے گیا، کُرنیلیُس نے اپنے دو نوکروں کو بلایا اور ایک فوجی کو بھی جو اُن کے خادموں میں سے ایک تھا اور بڑا مذہبی تھا۔ 8 اُنہوں نے اُن کو سارا قصہ سنایا اور پھر اُنہیں یافا بھیجا۔
9 اگلے دن جب وہ راستے میں تھے اور شہر میں پہنچنے والے تھے تو پطرس تقریباً چھٹے گھنٹے* دُعا کرنے کے لیے چھت پر گئے۔ 10 لیکن اُنہیں بہت بھوک لگی اور اُنہوں نے کچھ کھانے کو مانگا۔ جس دوران اُن کے لیے کھانا تیار کِیا جا رہا تھا، اُن پر سکتہ طاری ہو گیا 11 اور اُنہوں نے دیکھا کہ آسمان کُھلا ہے اور ایک ایسی چیز* جو لینن کی بڑی سی چادر جیسی ہے، چاروں کونوں سے نیچے اُتاری جا رہی ہے۔ 12 اِس چادر میں طرح طرح کے چوپائے اور رینگنے والے جانور اور پرندے تھے۔ 13 پھر ایک آواز نے کہا: ”پطرس، اُٹھیں! اِن کو ذبح کریں اور کھائیں!“ 14 لیکن پطرس نے کہا: ”مالک، مَیں یہ ہرگز نہیں کر سکتا! مَیں نے کبھی کوئی ناپاک اور حرام چیز نہیں کھائی۔“ 15 آواز نے ایک بار پھر اُن سے بات کی اور کہا: ”اُن چیزوں کو ناپاک نہ کہیں جن کو خدا نے پاک کر دیا ہے۔“ 16 تیسری بار بھی ایسا ہی ہوا اور پھر فوراً ہی وہ چادر* آسمان پر اُٹھا لی گئی۔
17 پطرس اِس اُلجھن میں تھے کہ اِس رُویا کا کیا مطلب ہے۔ عین اُسی وقت کُرنیلیُس کے آدمیوں نے شمعون کے گھر کا پوچھا اور دروازے کے سامنے آ کر کھڑے ہو گئے۔ 18 اُنہوں نے گھر سے کسی کو بلایا اور پوچھا کہ ”کیا شمعون جو پطرس کہلاتے ہیں، یہاں ٹھہرے ہوئے ہیں؟“ 19 پطرس ابھی بھی اُس رُویا کے بارے میں سوچ رہے تھے کہ پاک روح نے اُن سے کہا: ”دیکھیں! تین آدمی آپ کا پوچھ رہے ہیں۔ 20 اُٹھیں، نیچے جائیں اور بِلاجھجک اُن کے ساتھ جائیں کیونکہ مَیں نے اُن کو بھیجا ہے۔“ 21 اِس پر پطرس نیچے گئے اور اُن آدمیوں سے کہا: ”مَیں ہی وہ شخص ہوں جس کا آپ پوچھ رہے ہیں۔ آپ کو مجھ سے کیا کام ہے؟“ 22 اُنہوں نے جواب دیا: ”ہم کُرنیلیُس کی طرف سے آئے ہیں جو فوجی افسر ہیں اور بڑے نیک اور خداپرست ہیں۔ ساری یہودی قوم اُن کی تعریف کرتی ہے۔ خدا نے ایک فرشتے کے ذریعے اُنہیں ہدایت دی کہ آپ کو اپنے گھر بلوائیں اور آپ کی بات سنیں۔“ 23 لہٰذا پطرس نے اُنہیں اندر بلایا اور اُنہیں رات کو وہاں ٹھہرایا۔
اگلے دن وہ اُٹھے اور اُن آدمیوں کے ساتھ چل پڑے اور یافا سے کچھ بھائی بھی اُن کے ساتھ گئے۔ 24 اِس کے اگلے دن وہ قیصریہ پہنچے۔ کُرنیلیُس اُن کا اِنتظار کر رہے تھے اور اُنہوں نے اپنے رشتےداروں اور قریبی دوستوں کو بھی بلا رکھا تھا۔ 25 جیسے ہی پطرس اندر داخل ہوئے، کُرنیلیُس اُن سے ملنے آئے اور اُن کے قدموں میں گِر کر اُن کی تعظیم کی۔ 26 لیکن پطرس نے اُنہیں اُٹھایا اور کہا: ”اُٹھیں! مَیں بھی تو اِنسان ہوں۔“ 27 جب پطرس اُن سے باتیں کرتے کرتے اندر گئے تو اُنہوں نے دیکھا کہ وہاں بہت سے لوگ جمع ہیں۔ 28 اُنہوں نے اُن سب سے کہا: ”آپ تو جانتے ہی ہیں کہ ایک یہودی کے لیے یہ جائز نہیں کہ کسی اَور قوم کے لوگوں سے ملنے آئے یا میل جول رکھے لیکن خدا نے مجھے دِکھایا ہے کہ مجھے کسی بھی آدمی کو ناپاک نہیں کہنا چاہیے۔ 29 اِس لیے جب آپ نے مجھے بلایا تو مَیں نے اِعتراض نہیں کِیا بلکہ آپ کے پاس آ گیا۔ اب مجھے بتائیں کہ آپ نے مجھے کیوں بلایا ہے۔“
30 اِس پر کُرنیلیُس نے کہا: ”چار دن پہلے تقریباً اِسی وقت یعنی نویں گھنٹے،* مَیں اپنے گھر میں دُعا کر رہا تھا کہ اچانک ایک آدمی جس نے اُجلے کپڑے پہنے ہوئے تھے، آ کر میرے سامنے کھڑا ہو گیا۔ 31 اُس نے مجھ سے کہا: ”کُرنیلیُس، خدا نے آپ کی دُعاؤں کو سنا ہے اور آپ کی خیرات کو دیکھا ہے اور وہ اِنہیں یاد رکھتا ہے۔ 32 اِس لیے کسی کو یافا بھیجیں اور شمعون کو بلوائیں جو پطرس کہلاتا ہے۔ یہ آدمی اُس شمعون کے گھر مہمان ہے جو چمڑا تیار کرتا ہے اور جس کا گھر سمندر کے پاس ہے۔“ 33 مَیں نے اُسی وقت آپ کو بلانے کے لیے آدمی بھیجے اور آپ کی بڑی مہربانی کہ آپ تشریف لائے۔ ہم سب وہ باتیں سننے کے لیے خدا کے حضور جمع ہیں جنہیں بتانے کا حکم یہوواہ* نے آپ کو دیا ہے۔“
34 اِس پر پطرس نے کہا: ”اب مَیں واقعی سمجھ گیا ہوں کہ خدا تعصب نہیں کرتا 35 بلکہ وہ ہر قوم سے اُن لوگوں کو قبول کرتا ہے جو اُس کا خوف رکھتے اور اچھے کام کرتے ہیں۔ 36 اُس نے یسوع مسیح کے ذریعے بنیاِسرائیل کو صلح کی خوشخبری دی، ہاں، اُسی یسوع کے ذریعے جو سب کا مالک ہے۔ 37 آپ جانتے ہیں کہ یوحنا نے بپتسمے کی مُنادی کی جس کے بعد گلیل سے شروع کر کے سارے یہودیہ میں اِس موضوع پر بات کی جانے لگی کہ 38 خدا نے یسوع ناصری کو پاک روح سے مسح* کِیا اور اُنہیں طاقت بخشی۔ اور وہ سارے ملک میں گھومے اور اُنہوں نے لوگوں کے ساتھ بھلائی کی اور ایسے لوگوں کو شفا دی جو اِبلیس کے ظلم کا شکار تھے کیونکہ خدا اُن کے ساتھ تھا۔ 39 ہم اُن سب کاموں کے گواہ ہیں جو اُنہوں نے یروشلیم بلکہ یہودیوں کے سارے ملک میں کیے۔ مگر اُن لوگوں نے اُنہیں سُولی* پر لٹکا کر مار ڈالا۔ 40 خدا نے اُنہیں تیسرے دن زندہ کِیا اور اُنہیں لوگوں پر ظاہر کِیا 41 لیکن سب پر نہیں بلکہ صرف اُن گواہوں پر جنہیں اُس نے پہلے سے مقرر کِیا تھا یعنی ہم پر جنہوں نے اُن کے جی اُٹھنے کے بعد اُن کے ساتھ کھایا پیا۔ 42 اِس کے علاوہ اُس نے ہمیں اچھی طرح سے گواہی دینے اور یہ مُنادی کرنے کا حکم بھی دیا کہ یہی وہ شخص ہے جسے خدا نے زندوں اور مُردوں کا منصف مقرر کِیا ہے۔ 43 یسوع ہی وہ شخص ہیں جن کے بارے میں سب نبیوں نے یہ گواہی دی کہ جو بھی اُن پر ایمان لائے گا، اُس کے گُناہ اُن کے نام کی بِنا پر بخش دیے جائیں گے۔“
44 پطرس ابھی یہ باتیں کہہ ہی رہے تھے کہ پاک روح اُن سب پر نازل ہوئی جو خدا کا کلام سُن رہے تھے۔ 45 اور وہ بھائی جن کا ختنہ ہوا تھا اور جو پطرس کے ساتھ آئے تھے، یہ دیکھ کر حیران تھے کہ پاک روح کی نعمت غیریہودیوں پر بھی نازل ہو رہی ہے 46 اور اِس کے نتیجے میں وہ فرق فرق زبانیں بول رہے ہیں اور خدا کی بڑائی کر رہے ہیں۔ تب پطرس نے کہا: 47 ”کیا کوئی اِن لوگوں کو پانی سے بپتسمہ لینے سے روک سکتا ہے جبکہ اِن کو بھی ہماری طرح پاک روح ملی ہے؟“ 48 اِس کے بعد اُنہوں نے حکم دیا کہ اُن کو بپتسمہ دیا جائے۔ اور اُن لوگوں نے پطرس سے درخواست کی کہ وہ کچھ دن اُن کے ساتھ رہیں۔
11 اب اُن رسولوں اور بھائیوں کو جو یہودیہ میں تھے، یہ خبر ملی کہ غیریہودیوں نے بھی خدا کا کلام قبول کر لیا ہے۔ 2 اِس لیے جب پطرس یروشلیم آئے تو اُن بھائیوں نے جو ختنے کے رواج پر قائم تھے، اُن پر نکتہچینی کی 3 اور کہا: ”آپ ایسے لوگوں کے گھر گئے جن کا ختنہ نہیں ہوا اور اُن کے ساتھ کھانا بھی کھایا۔“ 4 اِس پر پطرس نے اُنہیں سارا واقعہ تفصیل سے سناتے ہوئے کہا:
5 ”مَیں شہر یافا میں دُعا کر رہا تھا کہ مجھ پر سکتہ طاری ہو گیا اور مَیں نے رُویا میں دیکھا کہ ایک ایسی چیز* جو لینن کی بڑی سی چادر جیسی ہے، چاروں کونوں سے آسمان سے نیچے اُتاری جا رہی ہے اور یہ بالکل میرے سامنے آ گئی۔ 6 جب مَیں نے غور سے دیکھا تو اِس میں زمین کے چوپائے، جنگلی جانور، رینگنے والے جانور اور آسمان کے پرندے تھے۔ 7 پھر ایک آواز نے مجھ سے کہا: ”پطرس، اُٹھیں! اِن کو ذبح کریں اور کھائیں!“ 8 لیکن مَیں نے کہا: ”مالک، مَیں یہ ہرگز نہیں کر سکتا کیونکہ مَیں نے کبھی کوئی ناپاک اور حرام چیز نہیں کھائی۔“ 9 دوسری بار آواز نے مجھ سے کہا: ”اُن چیزوں کو ناپاک نہ کہیں جن کو خدا نے پاک کر دیا ہے۔“ 10 تیسری بار بھی ایسا ہی ہوا اور پھر سب کچھ آسمان پر اُٹھا لیا گیا۔ 11 عین اُسی وقت تین آدمی اُس گھر کے باہر آ کر کھڑے ہو گئے جہاں ہم ٹھہرے ہوئے تھے۔ اُن آدمیوں کو قیصریہ سے میرے پاس بھیجا گیا تھا۔ 12 پھر پاک روح نے مجھے حکم دیا کہ مَیں بِلاجھجک اُن کے ساتھ جاؤں۔ یہ چھ بھائی بھی میرے ساتھ گئے اور ہم اُس آدمی کے گھر میں داخل ہوئے۔
13 اُس نے ہمیں بتایا کہ اُسے اپنے گھر میں ایک فرشتہ دِکھائی دیا جس نے اُس سے کہا کہ ”کچھ آدمیوں کو یافا بھیجیں اور شمعون نامی ایک آدمی کو بلوائیں جو پطرس بھی کہلاتا ہے 14 اور وہ آپ کو ایسی باتیں بتائے گا جن کے ذریعے آپ اور آپ کے گھر والے نجات پا سکتے ہیں۔“ 15 لیکن جب مَیں اُن سے بات کر رہا تھا تو پاک روح بالکل ویسے ہی اُن پر نازل ہوئی جیسے شروع میں ہم پر ہوئی تھی۔ 16 اِس پر مجھے یاد آیا کہ ہمارے مالک کہا کرتے تھے کہ ”یوحنا نے پانی سے بپتسمہ دیا لیکن آپ کو پاک روح سے بپتسمہ دیا جائے گا۔“ 17 اب اگر خدا نے اُن لوگوں کو بھی وہ نعمت دی جو اُس نے ہمیں دی جنہوں نے مالک یسوع مسیح پر ایمان رکھا تو پھر مَیں کون ہوتا ہوں کہ خدا کی راہ میں رُکاوٹ بنوں؟“
18 جب اُن بھائیوں نے یہ باتیں سنیں تو اُنہوں نے کوئی اَور اِعتراض نہیں کِیا* بلکہ خدا کی بڑائی کی اور کہا: ”اِس کا مطلب ہے کہ اب خدا نے غیریہودیوں کو بھی توبہ کرنے کا موقع دیا ہے تاکہ وہ بھی زندگی حاصل کر سکیں۔“
19 جو بھائی ستفنُس کی موت کے بعد شروع ہونے والی اذیت کی وجہ سے فینیکے، قبرص اور انطاکیہ تک پھیل گئے تھے، وہ صرف یہودیوں کو خدا کا کلام سنا رہے تھے۔ 20 لیکن کچھ بھائی جو قبرص اور کُرینے سے تھے، انطاکیہ آئے اور یونانی بولنے والے لوگوں کو مالک یسوع کے بارے میں خوشخبری سنانے لگے۔ 21 اور یہوواہ* کا ہاتھ اُن پر تھا اور بہت سے لوگ ایمان لے آئے اور ہمارے مالک کے پیروکار بن گئے۔
22 یہ خبر یروشلیم کی کلیسیا* تک پہنچی اور وہاں کے بھائیوں نے برنباس کو انطاکیہ بھیجا۔ 23 جب وہ وہاں پہنچے تو اُنہوں نے دیکھا کہ اُن لوگوں کو خدا کی عظیم رحمت حاصل ہے۔ اِس پر وہ بہت خوش ہوئے اور بھائیوں کی حوصلہافزائی کرنے لگے کہ پورے دل سے مالک کی پیروی کرتے رہیں 24 کیونکہ برنباس ایک اچھے آدمی تھے، مضبوط ایمان کے مالک تھے اور پاک روح سے معمور تھے۔ اور بہت سے لوگ ہمارے مالک پر ایمان لے آئے۔ 25 لہٰذا برنباس، ساؤل کو ڈھونڈنے کے لیے ترسُس گئے۔ 26 اور جب ساؤل اُنہیں مل گئے تو وہ اُنہیں انطاکیہ لائے۔ وہاں وہ دونوں ایک سال تک کلیسیا کے ساتھ جمع ہوتے رہے اور بہت سے لوگوں کو تعلیم دیتے رہے۔ اور انطاکیہ ہی وہ جگہ تھی جہاں خدا کی مرضی سے پہلی بار شاگردوں کو مسیحی کہا گیا۔
27 اُن دنوں میں کچھ نبی یروشلیم سے انطاکیہ آئے۔ 28 اُن میں سے ایک کا نام اگبُس تھا جس نے کھڑے ہو کر پاک روح کے ذریعے یہ پیشگوئی کی کہ پورے ملک میں ایک بہت بڑا قحط پڑنے والا ہے۔ اور کلودِیُس کے دَورِحکومت میں بالکل ایسا ہی ہوا۔ 29 لہٰذا وہاں کے شاگردوں نے یہ فیصلہ کِیا کہ ہر ایک اپنی اپنی مالی حیثیت کے مطابق کچھ دے تاکہ یہودیہ میں رہنے والے بھائیوں کے لیے اِمداد بھیجی جا سکے۔ 30 اُنہوں نے ایسا ہی کِیا اور یہ اِمداد برنباس اور ساؤل کے ہاتھ بزرگوں کو بھیجی۔
12 اُس وقت بادشاہ ہیرودیس کلیسیا* کے کچھ لوگوں کو اذیت دینے لگا۔ 2 اُس نے یوحنا کے بھائی یعقوب کو تلوار سے مروا دیا۔ 3 جب اُس نے دیکھا کہ یہ بات یہودیوں کو پسند آئی ہے تو اُس نے پطرس کو بھی گِرفتار کرنے کا حکم دیا۔ (یہ بےخمیری روٹی کی عید کے دوران ہوا۔) 4 اُس نے اُنہیں پکڑ کر قیدخانے میں ڈلوا دیا اور اُنہیں چار چار سپاہیوں کی چار ٹولیوں کے حوالے کر دیا جو باری باری اُن پر پہرہ دیتی تھیں۔ دراصل وہ عیدِفسح کے بعد پطرس کو لوگوں کے سامنے پیش کرنے* کا اِرادہ رکھتا تھا۔ 5 لہٰذا پطرس کو قیدخانے میں رکھا گیا۔ لیکن کلیسیا اُن کے لیے دل کی گہرائیوں سے دُعا کر رہی تھی۔
6 ایک رات پطرس دو زنجیروں سے بندھے ہوئے دو سپاہیوں کے بیچ میں سو رہے تھے اور دو سپاہی دروازے کے سامنے پہرا دے رہے تھے۔ اگلے ہی دن ہیرودیس اُن کو لوگوں کے سامنے پیش کرنے والا تھا۔ 7 مگر اچانک یہوواہ* کا ایک فرشتہ ظاہر ہوا اور قیدخانے میں روشنی چمکی۔ اُس نے پطرس کو تھپتھپا کر جگایا اور کہا: ”جلدی سے اُٹھیں!“ اور زنجیریں کُھل کر اُن کے ہاتھوں سے گِر گئیں۔ 8 پھر فرشتے نے اُن سے کہا: ”اپنے کپڑے اور جُوتے پہن لیں۔“ اُنہوں نے ایسا ہی کِیا۔ اِس کے بعد فرشتے نے کہا: ”اپنی چادر لے لیں اور میرے پیچھے پیچھے آئیں۔“ 9 اور پطرس باہر گئے اور فرشتے کے پیچھے پیچھے چلنے لگے۔ لیکن وہ یہ نہیں جانتے تھے کہ جو کچھ فرشتے کے ذریعے ہو رہا ہے، وہ حقیقت ہے۔ اُنہیں لگ رہا تھا کہ وہ رُویا دیکھ رہے ہیں۔ 10 وہ پہرےداروں کی پہلی چوکی اور پھر دوسری چوکی کے پاس سے گزرے اور آخر اُس لوہے کے دروازے کے پاس پہنچ گئے جو شہر کی طرف کھلتا ہے۔ یہ دروازہ خودبخود کُھل گیا اور وہ اِس سے گزر کر گلی میں کچھ دُور تک گئے۔ پھر اچانک سے فرشتہ غائب ہو گیا۔ 11 تب پطرس کو احساس ہوا کہ یہ سب کچھ حقیقت ہے اور اُنہوں نے کہا: ”اب مجھے یقین ہو گیا ہے کہ یہوواہ* نے اپنا فرشتہ بھیجا اور مجھے ہیرودیس کے ہاتھوں سے بچا لیا اور یہودیوں کی اُمیدوں پر پانی پھیر دیا۔“
12 اِس کے بعد وہ مریم کے گھر گئے جو اُس یوحنا کی ماں ہیں جو مرقس کہلاتا ہے۔ وہاں کافی شاگرد جمع تھے اور دُعا کر رہے تھے۔ 13 جب پطرس نے دروازہ کھٹکھٹایا تو رُدی نامی ایک نوکرانی دیکھنے آئی کہ دروازے پر کون ہے۔ 14 اُس نے پطرس کی آواز پہچان لی اور اِتنی خوش ہوئی کہ دروازہ کھولے بغیر ہی اندر بھاگ گئی اور سب کو بتایا کہ پطرس دروازے پر کھڑے ہیں۔ 15 اُن لوگوں نے اُس سے کہا: ”تُم پاگل ہو گئی ہو!“ لیکن وہ اپنی بات پر اِصرار کرتی رہی۔ اِس پر اُنہوں نے کہا: ”کہیں یہ اُن کا فرشتہ تو نہیں؟“ 16 اِس دوران پطرس دروازہ کھٹکھٹاتے رہے۔ جب اُن لوگوں نے دروازہ کھولا تو وہ پطرس کو دیکھ کر دنگ رہ گئے۔ 17 مگر پطرس نے اُنہیں خاموش رہنے کا اِشارہ کِیا اور تفصیل سے بتایا کہ یہوواہ* نے کیسے اُنہیں قیدخانے سے باہر نکالا۔ پھر اُنہوں نے کہا: ”اِس بات کی خبر یعقوب اور دوسرے بھائیوں کو بھی دے دیں۔“ اِس کے بعد وہ وہاں سے نکلے اور کسی اَور جگہ چلے گئے۔
18 جب دن ہوا تو سپاہیوں میں افراتفری پھیل گئی۔ وہ حیران تھے کہ پطرس کہاں غائب ہو گئے ہیں۔ 19 ہیرودیس نے پطرس کو ہر جگہ تلاش کرایا لیکن وہ کہیں نہیں ملے۔ اُس نے پہرےداروں سے پوچھگچھ کی اور پھر حکم دیا کہ اُن کو سزا دی جائے۔ اِس کے بعد وہ یہودیہ سے قیصریہ گیا اور کچھ عرصہ وہیں رہا۔
20 ہیرودیس کو صور اور صیدا کے لوگوں پر غصہ تھا۔ اِس لیے وہ لوگ مل کر اُس کے پاس آئے۔ اُنہوں نے بلاستُس کو جو بادشاہ کی خوابگاہ کا مختار تھا، اپنی مدد کرنے پر راضی کر لیا اور بادشاہ سے صلح کرنے کی کوشش کی کیونکہ اُن کے ملک میں اناج اُس کے ملک سے آتا تھا۔ 21 پھر ایک خاص دن پر ہیرودیس نے شاہی لباس پہنا اور تختِعدالت پر بیٹھ گیا اور لوگوں سے خطاب کرنے لگا۔ 22 وہاں موجود لوگ چلّانے لگے کہ ”یہ اِنسان کی نہیں، خدا کی آواز ہے!“ 23 اُسی لمحے یہوواہ* کے فرشتے نے اُسے بیمار کر دیا کیونکہ اُس نے خدا کی بڑائی نہیں کی۔ اُس کے جسم میں کیڑے پڑ گئے اور وہ مر گیا۔
24 لیکن یہوواہ* کا کلام پھیلتا رہا اور ایمان لانے والوں کی تعداد بڑھتی گئی۔
25 جہاں تک برنباس اور ساؤل کا تعلق ہے تو وہ یروشلیم میں اِمدادی کارروائیاں مکمل کرنے کے بعد واپس آئے اور یوحنا کو اپنے ساتھ لائے جو مرقس بھی کہلاتے ہیں۔
13 انطاکیہ کی کلیسیا* میں جو نبی اور اُستاد تھے، اُن کے نام یہ تھے: برنباس، شمعون جنہیں نیگر بھی کہا جاتا ہے، لُوکیُس جو کُرینے سے ہیں، مناہیم جنہوں نے بادشاہ ہیرودیس کے ساتھ تعلیم پائی اور ساؤل۔ 2 ایک دن جب اُنہوں نے روزہ رکھا ہوا تھا اور یہوواہ* کی عبادت کر رہے تھے تو پاک روح نے اُن سے کہا: ”برنباس اور ساؤل کو میرے لیے مخصوص کر دیں تاکہ وہ اُس کام کو انجام دیں جس کے لیے مَیں نے اُنہیں چُنا ہے۔“ 3 لہٰذا روزہ کھولنے اور دُعا کرنے کے بعد اُنہوں نے اُن دونوں پر ہاتھ رکھے اور اُنہیں روانہ کِیا۔
4 وہ دونوں پاک روح کی ہدایت پر سلوکیہ گئے اور پھر وہاں سے جہاز پر سوار ہو کر جزیرہ قبرص کی طرف روانہ ہوئے۔ 5 یوحنا بھی اُن کی خدمت کے لیے اُن کے ساتھ گئے۔ جب وہ سلمیس پہنچے تو وہ یہودیوں کی عبادتگاہوں میں خدا کا کلام سنانے لگے۔
6 جب وہ اُس جزیرے کا سفر کرتے کرتے پافوس تک پہنچے تو وہ ایک یہودی آدمی سے ملے جس کا نام بریسوع تھا۔ وہ ایک عامل اور جھوٹا نبی تھا۔ 7 وہ صوبے کے حاکم سرگِیُس پولُس کے ساتھ تھا جو بہت سمجھدار شخص تھے۔ اُنہوں نے برنباس اور ساؤل کو اپنے پاس بلایا کیونکہ اُنہیں خدا کا کلام سننے کا بڑا شوق تھا۔ 8 لیکن اِلیماس یعنی عامل (جو اِلیماس کا ترجمہ ہے) اُن دونوں کی مخالفت کرنے لگا تاکہ سرگِیُس پولُس ہمارے مالک پر ایمان نہ لائیں۔ 9 پھر ساؤل جو پولُس بھی کہلاتے ہیں، پاک روح سے معمور ہو گئے۔ اُنہوں نے اُس عامل کو گھور کر دیکھا 10 اور کہا: ”اِبلیس کے بچے اور نیکی کے دُشمن، تجھ میں ہر طرح کی بُرائی اور دھوکےبازی کوٹ کوٹ کر بھری ہے۔ کیا تُو یہوواہ* کی سیدھی راہ میں رُکاوٹ کھڑی کرنے سے باز نہیں آئے گا؟ 11 دیکھ! یہوواہ* کا ہاتھ تیرے خلاف اُٹھا ہے اور تُو اندھا ہو جائے گا اور کچھ عرصے کے لیے سورج کی روشنی نہیں دیکھے گا۔“ اُسی وقت اُس کی آنکھوں کے سامنے گہری دُھند اور تاریکی چھا گئی اور وہ اِدھر اُدھر ٹٹول کر کسی کو ڈھونڈنے لگا جو اُس کا ہاتھ پکڑ کر اُسے لے جائے۔ 12 جب صوبے کے حاکم نے یہ سب کچھ دیکھا تو وہ ایمان لے آئے کیونکہ وہ یہوواہ* کی تعلیم کو سُن کر حیران تھے۔
13 پھر پولُس اپنے ساتھیوں کے ساتھ جہاز میں سوار ہو کر پافوس سے روانہ ہوئے اور پمفیلیہ کے شہر پرگہ پہنچے۔ لیکن یوحنا اُن کا ساتھ چھوڑ کر واپس یروشلیم چلے گئے۔ 14 مگر پولُس اور برنباس پرگہ سے پِسدیہ کے شہر انطاکیہ آئے اور سبت کے دن یہودیوں کی عبادتگاہ میں جا کر بیٹھ گئے۔ 15 جب شریعت اور نبیوں کے صحیفوں کی تلاوت ختم ہو گئی تو عبادتگاہ کے پیشواؤں نے اُن کو یہ پیغام بھیجا کہ ”بھائیو، اگر آپ کوئی ایسی بات بتانا چاہتے ہیں جس سے لوگوں کی حوصلہافزائی ہو تو ضرور بتائیں۔“ 16 پولُس کھڑے ہوئے اور لوگوں کو خاموش ہونے کا اِشارہ کر کے کہا:
”اِسرائیلیو اور خدا سے ڈرنے والے دوسرے لوگو، میری بات سنیں۔ 17 بنیاِسرائیل کے خدا نے ہمارے باپدادا کو چُنا اور اُنہیں اُس وقت عزت بخشی جب وہ ملک مصر میں پردیسی تھے اور اُنہیں اپنے بازو کے زور پر وہاں سے نکال لایا۔ 18 اور اُس نے تقریباً 40 (چالیس) سال تک ویرانے میں اُنہیں برداشت کِیا۔ 19 پھر اُس نے ملک کنعان میں سات قوموں کو مٹا دیا اور اُن کا ملک بنیاِسرائیل کو ورثے میں دیا۔ 20 یہ سب کچھ کوئی 450 (چار سو پچاس) سال کے عرصے میں ہوا۔
اِس کے بعد خدا نے سموئیل نبی کے زمانے تک منصف* مقرر کیے۔ 21 لیکن پھر جب اِسرائیلیوں نے ایک بادشاہ مانگا تو خدا نے ساؤل کو اُن کا بادشاہ بنایا جو قیس کے بیٹے تھے اور بنیمین کے قبیلے سے تھے اور اُنہوں نے 40 (چالیس) سال تک حکومت کی۔ 22 اُنہیں ہٹانے کے بعد خدا نے داؤد کو بادشاہ مقرر کِیا جن کے بارے میں اُس نے یہ گواہی دی کہ ”مجھے یسی کا بیٹا داؤد مل گیا ہے جس سے میرا دل خوش ہے؛ وہ میری مرضی کے مطابق چلے گا۔“ 23 اور اُس نے اپنے وعدے کے مطابق اُنہی کی نسل سے بنیاِسرائیل کے لیے ایک نجاتدہندہ بھیجا یعنی یسوع۔ 24 اور یسوع کے آنے سے پہلے یوحنا نے یہ مُنادی کی کہ سب اِسرائیلیوں کو بپتسمہ لینا چاہیے تاکہ ظاہر ہو کہ اُنہوں نے توبہ کر لی ہے۔ 25 مگر جب یوحنا یہ کام مکمل کرنے والے تھے تو اُنہوں نے کہا: ”آپ کے خیال میں مَیں کون ہوں؟ مَیں وہ نہیں جو آپ سوچ رہے ہیں۔ لیکن میرے بعد ایک شخص آ رہا ہے اور مَیں اِس لائق بھی نہیں کہ اُس کے جُوتوں کے تسمے کھولوں۔“
26 بھائیو، آپ جو ابراہام کی اولاد ہیں اور آپ لوگ بھی جو خدا سے ڈرتے ہیں، نجات کا پیغام ہمیں بھیجا گیا ہے۔ 27 کیونکہ یروشلیم کے باشندوں اور اُن کے حاکموں نے اُس شخص کو نہیں پہچانا بلکہ جب وہ اُس کے بارے میں فیصلہ سنا رہے تھے تو اُنہوں نے وہ باتیں پوری کیں جو نبیوں کے صحیفوں میں لکھی ہیں یعنی اُن صحیفوں میں جو سبت کے دن پڑھے جاتے ہیں۔ 28 اگرچہ وہ اُسے سزائےموت دینے کی کوئی وجہ نہیں ڈھونڈ پائے پھر بھی اُنہوں نے پیلاطُس سے مطالبہ کِیا کہ اُسے مار ڈالا جائے۔ 29 اور جب اُنہوں نے وہ سب باتیں پوری کر لیں جو اُس کے بارے میں لکھی تھیں تو اُنہوں نے اُسے سُولی* سے اُتارا اور قبر میں رکھ دیا۔ 30 لیکن خدا نے اُسے مُردوں میں سے زندہ کِیا۔ 31 اِس کے بعد وہ بہت دنوں تک اُن لوگوں کو دِکھائی دیا جو اُس کے ساتھ گلیل سے یروشلیم آئے تھے۔ اور اب یہی لوگ اُس کے بارے میں گواہی دے رہے ہیں۔
32 اِس لیے ہم آپ کو اُس وعدے کے بارے میں خوشخبری سنا رہے ہیں جو ہمارے باپدادا سے کِیا گیا تھا۔ 33 خدا نے اُن کی اولاد یعنی ہماری خاطر یسوع کو زندہ کر کے اِس وعدے کو پورا کِیا، جیسا کہ دوسرے زبور میں لکھا ہے: ”تُم میرے بیٹے ہو۔ آج سے مَیں تمہارا باپ ہوں۔“ 34 اور اُس نے اُسے ایک ایسے جسم کے ساتھ زندہ کِیا جو کبھی نہیں سڑے گا اور یہ کہہ کر اِس بات کی تصدیق کی: ”مَیں تُم پر مہربانی کروں گا اور تمہیں وہ نعمتیں دوں گا جن کا مَیں نے داؤد سے وعدہ کِیا اور یہ وعدے قابلِبھروسا ہیں۔“ 35 اِس لیے اُس نے ایک اَور زبور میں کہا: ”تُو اپنے وفادار خادم کی لاش کو سڑنے نہیں دے گا۔“ 36 مگر داؤد تو اپنے زمانے میں خدا کی خدمت کرتے کرتے فوت ہو گئے اور اپنے باپدادا کے ساتھ دفنائے گئے اور اُن کی لاش گل سڑ گئی۔ 37 اِس کے برعکس جس شخص کو خدا نے زندہ کِیا، اُس کی لاش نہیں سڑی۔
38 بھائیو، مَیں آپ کو اِن باتوں سے باخبر کر رہا ہوں تاکہ آپ جان جائیں کہ اُسی شخص کے ذریعے آپ کو گُناہوں کی معافی مل سکتی ہے۔ 39 موسیٰ کی شریعت کے ذریعے آپ بےقصور نہیں ٹھہر سکتے لیکن یسوع کے ذریعے ہر وہ شخص بےقصور ٹھہر سکتا ہے جو ایمان لاتا ہے۔ 40 لہٰذا خبردار رہیں کہ نبیوں کی یہ باتیں آپ کے سلسلے میں پوری نہ ہوں: 41 ”میرے کاموں کی حقارت کرنے والو! دیکھو اور حیران ہو اور ہلاک ہو جاؤ کیونکہ مَیں تمہارے زمانے میں ایک ایسا کام کر رہا ہوں جس کا تُم کبھی یقین نہیں کرو گے، چاہے تمہیں کتنی بھی تفصیل سے بتایا جائے۔“ “
42 جب وہ باہر جا رہے تھے تو لوگوں نے اُن سے اِلتجا کی کہ اگلے سبت پر بھی اِن باتوں کے بارے میں بات کریں۔ 43 لہٰذا جب عبادتگاہ میں اِجلاس ختم ہوا تو بہت سے یہودی اور یہودی مذہب اپنانے والے لوگ پولُس اور برنباس کے پیچھے آئے۔ اور اُن دونوں نے اُن کو نصیحت کی کہ خدا کی عظیم رحمت کے سائے میں رہیں۔
44 اگلے سبت پر تقریباً پورا شہر یہوواہ* کا کلام سننے کے لیے جمع ہوا۔ 45 جب یہودیوں نے اِس بِھیڑ کو دیکھا تو وہ حسد کے مارے پولُس کے خلاف بولنے لگے اور اُن کی باتوں کے متعلق کفر بکنے لگے۔ 46 پولُس اور برنباس نے بڑی دلیری سے اُن سے کہا: ”یہ ضروری تھا کہ خدا کا کلام پہلے آپ کو سنایا جائے۔ مگر آپ اِسے رد کر رہے ہیں اور خود کو ہمیشہ کی زندگی کے لائق ثابت نہیں کر رہے۔ اِس لیے دیکھیں، اب ہم غیریہودیوں کو مُنادی کریں گے۔ 47 کیونکہ یہوواہ* نے ہمیں یہ حکم دیا ہے: ”مَیں نے تمہیں قوموں کی روشنی کے طور پر مقرر کِیا ہے تاکہ تُم زمین کی اِنتہا تک نجات کا باعث ہو۔“ “
48 جب غیریہودیوں نے یہ سنا تو وہ بہت خوش ہوئے اور یہوواہ* کے کلام کی بڑائی کرنے لگے اور وہ سب لوگ جو ہمیشہ کی زندگی کی راہ پر چلنے کی طرف مائل تھے، ایمان لے آئے۔ 49 اور یہوواہ* کا کلام سارے علاقے میں پھیلتا گیا۔ 50 لیکن یہودیوں نے اُن مُعزز عورتوں کو جو خدا سے ڈرتی تھیں اور شہر کے اثرورسوخ والے آدمیوں کو اُکسایا۔ اِن لوگوں نے پولُس اور برنباس کو اذیت کا نشانہ بنایا اور شہر سے باہر پھینک دیا۔ 51 لیکن اُنہوں نے اُس شہر کی مٹی اپنے پاؤں سے جھاڑی اور اِکُنیُم گئے۔ 52 اور شاگرد پاک روح سے معمور ہوتے گئے اور اُن کے دل خوشی سے بھر گئے۔
14 اِکُنیُم میں پولُس اور برنباس یہودیوں کی عبادتگاہ میں گئے اور اِس طرح سے تعلیم دی کہ بہت سے یہودی اور یونانی ایمان لے آئے۔ 2 لیکن جو یہودی ایمان نہیں لائے، اُنہوں نے غیریہودیوں کو بھڑکایا اور بھائیوں کے خلاف کر دیا۔ 3 اِس لیے اُن دونوں نے کافی عرصے تک وہاں رہ کر یہوواہ* کی طاقت سے دلیری سے تعلیم دی۔ اور خدا نے اُن کے ذریعے معجزے اور نشانیاں دِکھائیں اور یوں اُس پیغام کی تصدیق کی جو وہ اُس کی عظیم رحمت کے بارے میں سنا رہے تھے۔ 4 مگر شہر کے لوگ دو حصوں میں بٹ گئے، کچھ لوگ یہودیوں کی طرف تھے اور کچھ رسولوں کی طرف۔ 5 پھر غیریہودیوں اور یہودیوں اور اُن کے حاکموں نے رسولوں کو بےعزت کرنے اور سنگسار کرنے کا اِرادہ کِیا۔ 6 لیکن جب اُن دونوں کو اِس بات کی خبر ہوئی تو وہ لکاؤنیہ کے شہروں لِسترہ اور دربے اور اِن کے اِردگِرد کے علاقوں میں بھاگ گئے 7 اور وہاں خوشخبری سنائی۔
8 اب لِسترہ میں ایک آدمی تھا جس کے پیروں میں کوئی نقص تھا۔ وہ پیدائش سے لنگڑا تھا اور کبھی چل نہیں پایا تھا۔ 9 وہ بیٹھا پولُس کی باتیں سُن رہا تھا۔ جب پولُس نے اُس کی طرف دیکھا تو اُنہیں پتہ چلا کہ وہ آدمی ایمان رکھتا ہے اور اُسے یقین ہے کہ وہ ٹھیک ہو سکتا ہے۔ 10 اِس لیے اُنہوں نے اُونچی آواز میں اُس سے کہا: ”اپنے پیروں پر کھڑے ہو جائیں۔“ اِس پر وہ اُچھل کر کھڑا ہو گیا اور چلنے پھرنے لگا۔ 11 جب لوگوں نے یہ دیکھا تو وہ لکاؤنی زبان میں چلّانے لگے: ”دیکھو! دیوتا اِنسانوں کے رُوپ میں ہمارے پاس آئے ہیں!“ 12 وہ برنباس کو زیوس دیوتا جبکہ پولُس کو ہرمیس دیوتا کہہ رہے تھے کیونکہ زیادہتر پولُس بات کر رہے تھے۔ 13 زیوس کا مندر شہر کے دروازے کے پاس ہی تھا۔ اُس مندر کا پجاری کچھ بیل اور پھولوں کے ہار* لے کر شہر کے دروازوں پر آیا کیونکہ وہ لوگوں کے ساتھ اُن دونوں کے حضور قربانیاں چڑھانا چاہتا تھا۔
14 لیکن جب برنباس رسول اور پولُس رسول نے یہ سنا تو اُنہوں نے اپنے کپڑے پھاڑے اور جلدی سے ہجوم کے بیچ میں جا کر اُونچی آواز میں کہا: 15 ”بھائیو، آپ یہ سب کچھ کیوں کر رہے ہیں؟ ہم بھی آپ کی طرح عام سے اِنسان ہیں۔ ہم آپ کو خوشخبری سنا رہے ہیں تاکہ آپ اِن فضول چیزوں کو چھوڑ کر زندہ خدا کی طرف آئیں جس نے آسمان اور زمین اور سمندر اور اِن میں موجود سب چیزیں بنائی ہیں۔ 16 ماضی میں خدا نے تمام قوموں کو منمانی کرنے دی 17 لیکن اُس نے اپنے اچھے کاموں سے یہ بھی ثابت کِیا کہ وہ کس طرح کا خدا ہے۔ اُس نے آپ پر آسمان سے بارش برسائی اور آپ کو ہر موسم میں کثرت سے فصلیں عطا کیں۔ اُس نے آپ کو خوراک سے سیر کِیا اور آپ کے دلوں کو خوشی سے بھر دیا۔“ 18 یہ باتیں کہنے کے باوجود وہ بڑی مشکل سے لوگوں کو اپنے حضور قربانیاں چڑھانے سے روک پائے۔
19 لیکن انطاکیہ اور اِکُنیُم سے کچھ یہودی وہاں آئے اور لوگوں کو اُکسانے لگے۔ اِس پر اُنہوں نے پولُس کو سنگسار کِیا اور اُنہیں گھسیٹ کر شہر سے باہر لے گئے کیونکہ اُن کا خیال تھا کہ وہ مر گئے ہیں۔ 20 لیکن جب شاگرد، پولُس کے گِرد اِکٹھے ہوئے تو وہ اُٹھے اور شہر میں داخل ہوئے اور اگلے دن برنباس کے ساتھ دربے چلے گئے۔ 21 جب اُنہوں نے اُس شہر میں خوشخبری سنائی تو بہت سے لوگ شاگرد بن گئے۔ اِس کے بعد وہ لِسترہ، اِکُنیُم اور انطاکیہ واپس گئے۔ 22 وہاں اُنہوں نے شاگردوں* کی ہمت بڑھائی اور اُن کی حوصلہافزائی کی کہ ایمان پر قائم رہیں۔ اُنہوں نے کہا: ”خدا کی بادشاہت میں داخل ہونے کے لیے ہمیں بہت سی مصیبتیں سہنی ہوں گی۔“ 23 اِس کے علاوہ اُنہوں نے روزہ رکھ کر اور دُعا کر کے ہر کلیسیا* میں بزرگ مقرر کیے اور اُن کو یہوواہ* کے حوالے کِیا جس پر وہ ایمان لائے تھے۔
24 پھر وہ پِسدیہ سے ہو کر پمفیلیہ پہنچے 25 اور پرگہ میں خدا کا کلام سنانے کے بعد اتلیہ گئے۔ 26 وہاں سے وہ جہاز میں سوار ہو کر اُس انطاکیہ کو گئے جہاں اُنہیں خدا کی عظیم رحمت کے سپرد کِیا گیا تھا اور وہ کام سونپا گیا تھا جسے اُنہوں نے اب مکمل کر لیا تھا۔
27 وہاں پہنچ کر اُنہوں نے کلیسیا کو جمع کِیا اور وہ سب باتیں بتائیں جو خدا نے اُن کے ذریعے کی تھیں اور یہ بھی بتایا کہ خدا نے غیریہودیوں پر بھی ایمان کا دروازہ کھول دیا ہے۔ 28 اور اُنہوں نے شاگردوں کے ساتھ کافی وقت گزارا۔
15 پھر یہودیہ سے کچھ آدمی آئے اور بھائیوں کو یہ تعلیم دینے لگے کہ ”آپ تب تک نجات نہیں پا سکتے جب تک آپ موسیٰ کی شریعت کے مطابق اپنا ختنہ نہیں کراتے۔“ 2 پولُس اور برنباس نے اُن سے کافی بحثوتکرار کی اور اِس کے بعد یہ فیصلہ ہوا کہ پولُس اور برنباس کو کچھ اَور بھائیوں کے ساتھ یروشلیم میں رسولوں اور بزرگوں کے پاس بھیجا جائے تاکہ اِس معاملے پر بات کی جا سکے۔
3 لہٰذا کلیسیا* تھوڑی دُور تک اُن کے ساتھ گئی۔ اِس کے بعد اُنہوں نے فینیکے اور سامریہ کے راستے اپنا سفر جاری رکھا اور وہاں کے بھائیوں کو تفصیل سے بتایا کہ غیریہودی کیسے ایمان لے آئے۔ یہ سُن کر بھائیوں کو بڑی خوشی ہوئی۔ 4 جب وہ یروشلیم پہنچے تو کلیسیا اور رسولوں اور بزرگوں نے اُن کا خیرمقدم کِیا۔ پھر اُنہوں نے اُن سب کو بتایا کہ خدا نے اُن کے ذریعے کون کون سے کام کیے ہیں۔ 5 لیکن کچھ بھائی جو پہلے فریسی فرقے سے تعلق رکھتے تھے اور اب ایمان لے آئے تھے، کھڑے ہو کر کہنے لگے: ”لازمی ہے کہ اُن کا ختنہ کِیا جائے اور اُنہیں موسیٰ کی شریعت پر عمل کرنے کا حکم دیا جائے۔“
6 لہٰذا رسول اور بزرگ اِس معاملے پر غور کرنے کے لیے جمع ہوئے۔ 7 جب اِس معاملے پر کافی بات ہو چکی تو پطرس اُٹھے اور کہا: ”بھائیو، آپ اچھی طرح جانتے ہیں کہ شروع ہی سے خدا نے ہم سب میں سے مجھے چُنا تاکہ میرے ذریعے غیریہودیوں کو خوشخبری سنائی جائے اور وہ ایمان لے آئیں۔ 8 اور خدا نے جو دلوں کو جانتا ہے، اُنہیں بھی پاک روح دی جیسے ہمیں دی تھی۔ یوں اُس نے اِس بات کی تصدیق کی کہ وہ غیریہودیوں کو بھی قبول کرتا ہے۔ 9 اور اُس نے ہم میں اور اُن میں کوئی فرق نہیں کِیا بلکہ اُن کے ایمان کی بِنا پر اُن کے دلوں کو پاک کِیا۔ 10 تو پھر آپ لوگ خدا کا اِمتحان کیوں لے رہے ہیں؟ آپ شاگردوں کے کندھوں پر ایسا بوجھ کیوں ڈالنا چاہتے ہیں جو نہ تو ہمارے باپدادا اور نہ ہی ہم اُٹھا سکتے تھے؟ 11 دیکھیں، ہم جانتے ہیں کہ ہم مالک یسوع کی عظیم رحمت کے ذریعے نجات پاتے ہیں لیکن وہ بھی تو اِسی رحمت کے ذریعے نجات پاتے ہیں۔“
12 اِس پر وہ سب خاموش ہو گئے اور برنباس اور پولُس کے مُنہ سے سننے لگے کہ خدا نے اُن کے ذریعے غیریہودیوں کے سامنے کیسے کیسے معجزے اور نشانیاں دِکھائیں۔ 13 جب اُن دونوں نے اپنی بات ختم کر لی تو یعقوب نے کہا: ”بھائیو، میری بات سنیں! 14 شمعون نے آپ کو تفصیل سے بتایا ہے کہ اب خدا نے غیریہودیوں پر توجہ دی ہے تاکہ اُن میں سے ایک ایسی قوم چُن لے جو اُس کے نام سے کہلائے۔ 15 یہی بات نبیوں نے بھی کہی تھی جیسا کہ لکھا ہے: 16 ”اِن باتوں کے بعد مَیں لوٹوں گا اور داؤد کے گھر* کو جو گِر گیا ہے، دوبارہ کھڑا کروں گا۔ مَیں اُس کے کھنڈروں کی مرمت کروں گا اور اُسے دوبارہ بناؤں گا 17 تاکہ جو لوگ باقی رہ گئے ہیں، وہ دوسری قوموں کے ساتھ مل کر پورے دل سے یہوواہ* کی تلاش کریں یعنی اُن لوگوں کے ساتھ جو میرے نام سے کہلاتے ہیں۔ یہ بات یہوواہ* نے کہی ہے اور وہی وہ سب کچھ کر رہا ہے 18 جس کا اُس نے صدیوں پہلے اِرادہ کِیا تھا۔“ 19 لہٰذا میرا فیصلہ* یہ ہے کہ اُن غیریہودیوں کو پریشان نہ کِیا جائے جو خدا پر ایمان لے آئے ہیں 20 بلکہ اُنہیں یہ لکھا جائے کہ بُتپرستی سے تعلق رکھنے والی چیزوں، حرامکاری،* گلا گھونٹے ہوئے جانوروں کے گوشت* اور خون سے گریز کریں۔ 21 کیونکہ قدیم زمانے سے شہر شہر میں موسیٰ کی مُنادی کی گئی ہے یعنی ہر سبت پر عبادتگاہوں میں اُن کی کتابیں پڑھی جاتی ہیں۔“
22 پھر رسولوں اور بزرگوں نے ساری کلیسیا کے ساتھ مل کر یہ فیصلہ کِیا کہ وہ کچھ آدمیوں کو پولُس اور برنباس کے ساتھ انطاکیہ بھیجیں گے۔ اِس کام کے لیے اُنہوں نے دو آدمیوں کو چُنا جو بھائیوں کے پیشوا تھے یعنی یہوداہ جو برسبّا کہلاتے ہیں اور سیلاس۔ 23 اُن آدمیوں کے ہاتھ اُنہوں نے ایک خط بھیجا جس میں لکھا تھا:
”رسولوں اور بزرگوں یعنی آپ کے بھائیوں کی طرف سے انطاکیہ، سُوریہ اور کِلکیہ کے بھائیوں کے نام جو یہودی قوم سے تعلق نہیں رکھتے: سلام! 24 ہم نے سنا ہے کہ ہمارے ہاں سے کچھ آدمی آپ کے پاس آئے جنہوں نے اپنی باتوں سے آپ* کو پریشان کِیا اور گمراہ کرنے کی کوشش کی حالانکہ ہم نے اُن کو ایسی کوئی ہدایت نہیں دی تھی۔ 25 لہٰذا ہم نے مل کر یہ فیصلہ کِیا ہے کہ کچھ آدمیوں کو ہمارے پیارے بھائیوں، پولُس اور برنباس کے ساتھ بھیجیں 26 جنہوں نے اپنی زندگیاں ہمارے مالک یسوع مسیح کے لیے وقف کر دی ہیں۔* 27 اِس لیے ہم یہوداہ اور سیلاس کو بھیج رہے ہیں تاکہ وہ خود بھی آپ کو اُن باتوں کے بارے میں بتائیں جو اِس خط میں لکھی ہیں۔ 28 پاک روح اور ہم نے یہ فیصلہ کِیا ہے کہ ہم آپ پر کوئی اَور بوجھ نہیں ڈالیں گے سوائے اِن ضروری باتوں کے: 29 بُتپرستی سے تعلق رکھنے والی چیزوں اور خون اور گلا گھونٹے ہوئے جانوروں کے گوشت* اور حرامکاری* سے گریز کریں۔ اگر آپ اِن چیزوں سے باز رہیں گے تو آپ سلامت رہیں گے۔ خوش رہیں۔“
30 پھر اُن چاروں کو انطاکیہ کے لیے روانہ کِیا گیا۔ وہاں پہنچ کر اُنہوں نے سب شاگردوں کو جمع کِیا اور اُنہیں وہ خط دیا۔ 31 خط پڑھنے کے بعد شاگرد اُس میں لکھی حوصلہافزا باتوں سے بہت خوش ہوئے۔ 32 چونکہ یہوداہ اور سیلاس نبی بھی تھے اِس لیے اُنہوں نے بہت سی تقریروں کے ذریعے بھائیوں کی حوصلہافزائی کی اور اُن کی ہمت بڑھائی۔ 33 وہ کچھ دنوں تک وہاں رہے اور پھر بھائیوں نے اُن کو سلام دُعا کے ساتھ رُخصت کِیا اور واپس یروشلیم بھیجا۔ 34 —* 35 لیکن پولُس اور برنباس انطاکیہ میں رہے اور بہت سے بہن بھائیوں کے ساتھ یہوواہ* کے کلام کی خوشخبری سناتے اور تعلیم دیتے رہے۔
36 کچھ دنوں بعد پولُس نے برنباس سے کہا: ”آئیں، اُن شہروں میں واپس چلیں جہاں ہم نے یہوواہ* کا کلام سنایا تھا اور بہن بھائیوں سے ملیں اور دیکھیں کہ اُن کا کیا حال ہے۔“ 37 برنباس نے یوحنا کو جو مرقس کہلاتے ہیں، ساتھ لے جانے پر اِصرار کِیا۔ 38 لیکن پولُس اُنہیں ساتھ نہیں لے جانا چاہتے تھے کیونکہ مرقس نے پمفیلیہ میں اُن کا ساتھ چھوڑ دیا تھا اور اُن کے ساتھ مُنادی کا کام جاری نہیں رکھا تھا۔ 39 اِس پر پولُس اور برنباس ایک دوسرے پر بھڑک اُٹھے اور ایک دوسرے سے الگ ہو گئے۔ برنباس نے مرقس کو ساتھ لیا اور قبرص روانہ ہو گئے۔ 40 لیکن پولُس نے سیلاس کو چُنا اور جب بھائیوں نے اُن کو یہوواہ* کی عظیم رحمت کے سپرد کِیا تو وہ وہاں سے روانہ ہوئے۔ 41 وہ سُوریہ اور کِلکیہ گئے اور اُنہوں نے وہاں کی کلیسیاؤں کو مضبوط کِیا۔
16 پھر وہ دربے پہنچے اور وہاں سے لِسترہ گئے جہاں وہ ایک شاگرد سے ملے جس کا نام تیمُتھیُس تھا۔ تیمُتھیُس کی ماں یہودی تھی اور ایمان لا چکی تھی لیکن اُن کا باپ یونانی تھا۔ 2 لِسترہ اور اِکُنیُم کے بھائی تیمُتھیُس کی بہت تعریف کرتے تھے۔ 3 پولُس، تیمُتھیُس کو اپنے ساتھ لے جانا چاہتے تھے۔ لیکن چونکہ اُن علاقوں کے تمام یہودی جانتے تھے کہ تیمُتھیُس کے باپ یونانی ہیں اِس لیے پولُس نے اُن کا ختنہ کرایا۔ 4 وہ جس جس شہر سے گزرتے، وہاں کے لوگوں کو اُن حکموں کے بارے میں بتاتے جو یروشلیم کے رسولوں اور بزرگوں نے جاری کیے تھے تاکہ وہ اِن پر عمل کر سکیں۔ 5 لہٰذا کلیسیائیں* ایمان میں مضبوط ہوتی گئیں اور شاگردوں کی تعداد دن بہ دن بڑھتی گئی۔
6 پھر وہ فروگیہ اور گلتیہ کے علاقے سے گزرے کیونکہ پاک روح نے اُنہیں صوبہ آسیہ میں کلام سنانے سے منع کِیا تھا۔ 7 جب وہ موسیہ پہنچے تو اُنہوں نے بِتونیہ جانے کی کوشش کی لیکن یسوع نے پاک روح کے ذریعے اُنہیں وہاں جانے سے منع کر دیا۔ 8 اِس لیے وہ موسیہ سے گزرے اور تروآس پہنچے۔ 9 وہاں پولُس نے رات کو رُویا میں دیکھا کہ ایک مقدونی آدمی اُن کے سامنے کھڑا ہے اور اُن سے اِلتجا کر رہا ہے کہ ”مقدونیہ آئیں اور ہماری مدد کریں۔“ 10 جیسے ہی پولُس نے یہ رُویا دیکھی، ہم مقدونیہ کے لیے روانہ ہوئے کیونکہ ہم اِس نتیجے پر پہنچے کہ خدا نے ہمیں مقدونیہ کے لوگوں کو خوشخبری سنانے کے لیے کہا ہے۔
11 لہٰذا ہم جہاز پر سوار ہوئے اور تروآس سے سیدھا سمُتراکے گئے اور اگلے دن وہاں سے نیاپُلِس گئے۔ 12 وہاں سے ہم فِلپّی گئے جو ضلع مقدونیہ کا مرکزی شہر ہے اور رومی حکومت کے تحت ہے۔ ہم کچھ دن وہیں ٹھہرے۔ 13 سبت کے دن ہم شہر کے دروازے سے باہر ایک دریا پر گئے جہاں ہم نے سنا تھا کہ دُعا کی جگہ ہے۔ ہم اُدھر بیٹھ گئے اور اُن عورتوں سے بات کرنے لگے جو وہاں جمع تھیں۔ 14 وہاں شہر تھواتیرہ کی ایک عورت تھی جس کا نام لِدیہ تھا اور جو جامنی کپڑوں* کا کاروبار کِیا کرتی تھی۔ لِدیہ بڑی خداپرست تھیں اور ہماری باتیں بڑے دھیان سے سُن رہی تھیں۔ یہوواہ* نے اُن کا دل کھولا اور اُنہوں نے اُن باتوں کو قبول کِیا جو پولُس کہہ رہے تھے۔ 15 جب اُنہوں نے اور اُن کے گھر والوں نے بپتسمہ لے لیا تو اُنہوں نے بڑا اِصرار کِیا کہ ”اگر آپ مجھے یہوواہ* کی وفادار بندی سمجھتے ہیں تو میرے گھر میں آ کر ٹھہریں۔“ آخر اُنہوں نے ہمیں اپنے گھر آنے پر مجبور کر دیا۔
16 جب ہم دُعا کی جگہ جا رہے تھے تو ہمیں ایک نوکرانی ملی جس میں ایک بُرا فرشتہ* تھا جو اُسے غیب کا علم دیتا تھا۔ وہ لڑکی مستقبل کا حال بتا بتا کر اپنے مالکوں کے لیے بڑا پیسہ کماتی تھی۔ 17 وہ پولُس اور ہمارے پیچھے پیچھے آتی اور چلّاتی: ”یہ آدمی خدا تعالیٰ کے غلام ہیں اور تمہیں نجات کی راہ بتا رہے ہیں۔“ 18 وہ بہت دنوں تک ایسا کرتی رہی۔ آخر پولُس تنگ آ گئے۔ اُنہوں نے مُڑ کر اُس بُرے فرشتے سے کہا: ”مَیں یسوع مسیح کے نام سے تمہیں حکم دیتا ہوں کہ اِس لڑکی میں سے نکل آؤ۔“ اور فوراً ہی فرشتہ اُس سے نکل آیا۔
19 جب اُس لڑکی کے مالکوں نے دیکھا کہ اُن کی آمدنی کا ذریعہ ختم ہو گیا ہے تو وہ پولُس اور سیلاس کو پکڑ کر گھسیٹتے ہوئے حاکموں کے پاس بازار میں لے گئے۔ 20 وہاں پہنچ کر اُنہوں نے شہر کے ناظموں سے کہا: ”یہ آدمی شہر میں فساد پھیلا رہے ہیں۔ یہ یہودی ہیں 21 اور ہمیں ایسے طورطریقے سکھا رہے ہیں جن پر عمل کرنے کی ہمیں اِجازت نہیں ہے کیونکہ ہم رومی شہری ہیں۔“ 22 جب شہر کے ناظموں نے دیکھا کہ بہت سے لوگ پولُس اور سیلاس کے خلاف ہو گئے ہیں تو اُنہوں نے زبردستی اُن دونوں کے کپڑے اُتارے اور حکم دیا کہ اُن کو لاٹھیوں سے مارا پیٹا جائے۔ 23 اُن پر بہت سی لاٹھیاں برسانے کے بعد اُنہوں نے اُن کو قیدخانے میں ڈال دیا اور حوالدار کو حکم دیا کہ اُنہیں سخت پہرے میں رکھا جائے۔ 24 اِس حکم کی وجہ سے حوالدار نے اُنہیں قیدخانے کے سب سے محفوظ حصے میں رکھا اور اُن کے پیروں کو کاٹھ میں جکڑ دیا۔
25 تقریباً آدھی رات کو پولُس اور سیلاس دُعا کر رہے تھے اور خدا کی حمد کے گیت گا رہے تھے اور دوسرے قیدی سُن رہے تھے۔ 26 اچانک اِتنا بڑا زلزلہ آیا کہ قیدخانے کی بنیادیں ہل گئیں، سارے دروازے ایک دم سے کُھل گئے اور قیدیوں کی زنجیریں بھی کُھل گئیں۔ 27 جب حوالدار جاگا تو اُس نے دیکھا کہ قیدخانے کے دروازے کُھلے ہوئے ہیں۔ اُس نے سوچا کہ قیدی بھاگ گئے ہیں اِس لیے اُس نے اپنی تلوار نکالی اور خودکُشی کرنے لگا۔ 28 لیکن پولُس نے اُونچی آواز میں کہا: ”رُکیں! دیکھیں، ہم سب یہیں ہیں!“ 29 اِس پر اُس نے روشنی کرنے کا حکم دیا اور بھاگ کر اندر گیا اور بُری طرح کانپتے ہوئے پولُس اور سیلاس کے سامنے گِر پڑا۔ 30 پھر وہ اُنہیں باہر لایا اور کہا: ”جناب، مجھے نجات پانے کے لیے کیا کرنا ہوگا؟“ 31 اُنہوں نے جواب دیا: ”مالک یسوع مسیح پر ایمان لائیں تو آپ اور آپ کے گھر والے نجات پائیں گے۔“ 32 پھر اُنہوں نے اُسے اور اُس کے گھر والوں کو یہوواہ* کا کلام سنایا۔ 33 اِس کے بعد حوالدار رات کے اُس وقت اُن کو لے کر گیا اور اُن کے زخم صاف کیے۔ پھر اُس نے اور اُس کے سارے گھر والوں نے فوراً بپتسمہ لے لیا۔ 34 آخر وہ اُنہیں اپنے گھر میں لایا اور اُن کے سامنے دسترخوان بچھایا۔ وہ اِس بات پر بہت خوش تھا کہ وہ خدا پر ایمان لے آیا ہے اور اُس کے گھر والے بھی بہت خوش تھے۔
35 جب دن ہوا تو شہر کے ناظموں نے سپاہیوں کے ہاتھ یہ پیغام بھیجا: ”اُن آدمیوں کو رِہا کر دو۔“ 36 حوالدار نے پولُس سے کہا: ”شہر کے ناظموں نے سپاہیوں کو بھیجا ہے تاکہ مَیں آپ کو رِہا کر دوں۔ اِس لیے باہر آئیں اور اپنی راہ لیں۔ سلامت رہیں۔“ 37 لیکن پولُس نے کہا: ”اُنہوں نے ہمیں مُجرم ثابت کیے بغیر* سب کے سامنے مارا پیٹا اور قیدخانے میں ڈالا حالانکہ ہم رومی شہری ہیں۔ اب وہ چپکے سے ہمیں جانے کو کہہ رہے ہیں۔ ایسا تو ہرگز نہیں ہو سکتا۔ وہ خود یہاں آئیں اور ہمیں باہر نکالیں۔“ 38 سپاہیوں نے جا کر یہ بات شہر کے ناظموں کو بتائی۔ وہ یہ سُن کر گھبرا گئے کہ وہ آدمی رومی شہری ہیں۔ 39 لہٰذا اُنہوں نے آ کر پولُس اور سیلاس سے معافی مانگی اور اُنہیں قیدخانے سے باہر نکالا اور اُن سے اِلتجا کی کہ اُس شہر سے چلے جائیں۔ 40 لیکن وہ قیدخانے سے نکل کر لِدیہ کے گھر گئے۔ جب اُنہوں نے بہن بھائیوں کو دیکھا تو اُن کی حوصلہافزائی کی اور پھر وہاں سے روانہ ہوئے۔
17 وہ امفِپُلِس اور اپلونیہ سے گزر کر تھسلُنیکے گئے۔ وہاں یہودیوں کی ایک عبادتگاہ تھی۔ 2 پولُس اپنے معمول کے مطابق عبادتگاہ میں گئے اور صحیفوں میں سے دلیلیں دے کر یہودیوں کو قائل کرنے کی کوشش کی۔ اُنہوں نے تین ہفتے تک ہر سبت کے دن ایسا کِیا۔ 3 اُنہوں نے یہ واضح کِیا کہ مسیح کے لیے ضروری تھا کہ اذیت اُٹھائے اور مُردوں میں سے جی اُٹھے اور یہ بات حوالے دے کر ثابت بھی کی۔ اُنہوں نے کہا: ”جس یسوع کے بارے میں مَیں آپ کو بتا رہا ہوں، وہی مسیح ہیں۔“ 4 اِس کے نتیجے میں کچھ یہودی ایمان لے آئے اور پولُس اور سیلاس کے ساتھ مل گئے اور بہت سے یونانی جو خدا کی عبادت کرتے تھے اور بہت سی بااثر عورتیں بھی اُن کے ساتھ مل گئیں۔
5 لیکن یہودی اُن دونوں سے حسد کرنے لگے۔ اور اُنہوں نے کچھ بُرے آدمیوں کو جو بازار میں آوارہ گھوم رہے تھے، اِکٹھا کِیا اور ہجوم بنا کر شہر میں ہنگامے کرنے لگے۔ وہ پولُس اور سیلاس کو ہجوم کے سامنے لانا چاہتے تھے اِس لیے اُنہوں نے یاسون کے گھر پر دھاوا بول دیا۔ 6 جب وہ دونوں اُنہیں وہاں نہیں ملے تو وہ یاسون اور کچھ اَور بھائیوں کو گھسیٹ کر شہر کے حاکموں کے پاس لے گئے اور اُونچی آواز میں کہنے لگے: ”جن آدمیوں نے ساری دُنیا میں مصیبت کھڑی کی ہوئی ہے، وہ یہاں بھی آ گئے ہیں 7 اور اِس یاسون نے اُنہیں اپنے ہاں مہمان ٹھہرایا ہے۔ یہ سب کے سب قیصر کے حکموں کی خلافورزی کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ایک اَور بادشاہ ہے یعنی یسوع۔“ 8 یہ سُن کر سارا ہجوم اور شہر کے حاکم پریشان ہو گئے۔ 9 اِس کے بعد اُنہوں نے یاسون اور دوسرے بھائیوں سے پیسے لے کر اُنہیں ضمانت پر رِہا کر دیا۔
10 پھر جیسے ہی رات ہوئی بھائیوں نے پولُس اور سیلاس کو بیریہ بھیج دیا۔ وہاں پہنچ کر وہ دونوں یہودیوں کی عبادتگاہ میں گئے۔ 11 بیریہ کے لوگ تھسلُنیکے کے لوگوں سے زیادہ کُھلے ذہن کے تھے کیونکہ اُنہوں نے بڑے شوق سے خدا کے کلام کو قبول کِیا اور وہ ہر روز صحیفوں کو کھول کھول کر دیکھتے تھے کہ جو باتیں اُنہوں نے سنی ہیں، وہ سچ ہیں یا نہیں۔ 12 لہٰذا اُن میں سے بہت سے لوگ ایمان لے آئے اور کئی مُعزز یونانی عورتیں اور کچھ آدمی بھی ایمان لے آئے۔ 13 لیکن جب تھسلُنیکے کے یہودیوں کو پتہ چلا کہ پولُس بیریہ میں بھی خدا کا کلام سنا رہے ہیں تو وہ لوگوں کو بھڑکانے اور ہنگامہ کرنے کے لیے وہاں آ پہنچے۔ 14 اِس لیے بھائیوں نے فوراً ہی پولُس کو سمندر کی طرف بھیج دیا لیکن سیلاس اور تیمُتھیُس وہیں رہے۔ 15 جو لوگ پولُس کے ساتھ تھے، وہ اُنہیں ایتھنز تک لائے اور پھر واپسی کا سفر باندھا۔ لیکن اُن کے جانے سے پہلے پولُس نے اُن سے کہا کہ وہ سیلاس اور تیمُتھیُس کو جلد از جلد اُن کے پاس بھیجیں۔
16 پولُس ایتھنز میں اُن دونوں کا اِنتظار کر رہے تھے۔ اِس دوران اُنہوں نے دیکھا کہ پورا شہر بُتوں سے بھرا ہے جس پر اُنہیں بہت غصہ آیا۔ 17 لہٰذا وہ لوگوں کو تعلیم دینے لگے۔ وہ عبادتگاہ میں یہودیوں اور خدا کی عبادت کرنے والے دوسرے لوگوں کو قائل کرنے کی کوشش کرتے اور بازار میں ہر روز اُن لوگوں کو تعلیم دیتے جو وہاں موجود ہوتے۔ 18 لیکن اِپِکوری اور ستوئیکی فلسفی اُن کے ساتھ بحث کرنے لگے۔ کچھ لوگ کہہ رہے تھے: ”یہ بکواسی ہمیں کیا بتانا چاہتا ہے؟“ جبکہ کچھ کہہ رہے تھے: ”لگتا ہے کہ یہ دوسرے دیوتاؤں کا پرچار کر رہا ہے۔“ وہ ایسا اِس لیے کہہ رہے تھے کیونکہ پولُس، یسوع کے بارے میں اور مُردوں کے جی اُٹھنے کے بارے میں خوشخبری سنا رہے تھے۔ 19 لہٰذا وہ پولُس کو اریوپگس لے گئے اور اُن سے کہا: ”کیا تُم ہمیں اپنی اِس نئی تعلیم کے بارے میں بتا سکتے ہو؟ 20 کیونکہ تُم کچھ ایسی باتیں کہہ رہے ہو جو ہمیں عجیب لگتی ہیں اور ہم جاننا چاہتے ہیں کہ اِن باتوں کا کیا مطلب ہے۔“ 21 دراصل ایتھنز کے تمام لوگ اور پردیسی اپنا فارغ وقت بس نئی باتیں سننے اور سنانے میں گزارتے ہیں۔ 22 پولُس اریوپگس کے بیچ میں کھڑے ہو گئے اور کہا:
”ایتھنز کے لوگو، مَیں دیکھ رہا ہوں کہ دوسرے لوگوں کی نسبت آپ دیوتاؤں کو زیادہ مانتے ہیں۔* 23 کیونکہ جب مَیں شہر میں گھوم رہا تھا اور اُن چیزوں کو دیکھ رہا تھا جن کی آپ عبادت کرتے ہیں تو مَیں نے ایک ایسی قربانگاہ بھی دیکھی جس پر لکھا تھا: ”ایک نامعلوم خدا کے لیے۔“ آپ انجانے میں جس ہستی کی عبادت کر رہے ہیں، مَیں اُسی کے بارے میں بتا رہا ہوں۔ 24 جس خدا نے یہ دُنیا اور اِس کی سب چیزیں بنائی ہیں، وہ آسمان اور زمین کا مالک ہے۔ وہ نہ تو ہاتھوں سے بنے ہوئے مندروں میں رہتا ہے 25 اور نہ ہی اِنسانوں کا محتاج ہے کیونکہ وہ خود اِنسانوں کو زندگی اور سانس اور سب چیزیں عطا کرتا ہے۔ 26 اُس نے ایک آدمی کے ذریعے تمام قوموں کو پیدا کِیا تاکہ وہ زمین پر رہیں اور زمانوں کو مقرر کِیا اور یہ بھی طے کِیا کہ اِنسان کہاں رہیں گے 27 تاکہ وہ خدا کو ڈھونڈیں اور ٹٹول ٹٹول کر اُس کی تلاش کریں اور اُسے پا لیں۔ بےشک وہ ہم میں سے کسی سے دُور نہیں۔ 28 کیونکہ اُسی کے ذریعے ہم زندہ ہیں اور چلتے پھرتے اور موجود ہیں۔ اور آپ کے کچھ شاعروں نے بھی تو کہا ہے کہ ”ہم بھی اُس کے بچے ہیں۔“
29 چونکہ ہم خدا کے بچے ہیں اِس لیے ہمیں یہ نہیں سوچنا چاہیے کہ خدا سونے یا چاندی یا پتھر کا کوئی فنپارہ ہے جسے اِنسان نے بنایا ہے۔ 30 یہ صحیح ہے کہ خدا نے ماضی میں ایسی جہالت کو نظرانداز کِیا لیکن اب وہ سب لوگوں کو بتا رہا ہے کہ اُنہیں توبہ کرنی چاہیے۔ 31 کیونکہ اُس نے ایک دن طے کِیا ہے جس پر وہ راستی سے پوری دُنیا کی عدالت کرے گا اور وہ یہ کام ایک ایسے شخص کے ذریعے کرے گا جسے اُس نے مقرر کِیا ہے اور اُس نے اِس بات کی ضمانت اِس شخص کو زندہ کر کے دی ہے۔“
32 جب لوگوں نے مُردوں کے زندہ ہونے کے بارے میں سنا تو اُن میں سے کچھ پولُس کا مذاق اُڑانے لگے جبکہ کچھ نے کہا: ”ہم کسی اَور موقعے پر اِس معاملے کے بارے میں مزید سننا چاہیں گے۔“ 33 لہٰذا پولُس وہاں سے نکل آئے 34 لیکن کچھ لوگ اُن کے ساتھ مل گئے اور ایمان لے آئے۔ اُن لوگوں میں سے ایک دیونیسیُس تھے جو اریوپگس کی عدالت کے ایک منصف تھے اور دوسری ایک عورت تھی جس کا نام دمرِس تھا اور اُن دونوں کے علاوہ اَور لوگ بھی تھے۔
18 پھر پولُس ایتھنز سے روانہ ہوئے اور کُرنتھس گئے۔ 2 وہاں اُن کی ملاقات ایک یہودی سے ہوئی جس کا نام اکوِلہ تھا اور جس کی پیدائش پُنطُس کی تھی۔ اکوِلہ حال ہی میں اپنی بیوی پرِسکِلّہ کے ساتھ اِطالیہ سے آئے تھے کیونکہ شہنشاہ کلودِیُس نے تمام یہودیوں کو روم سے جانے کا حکم دیا تھا۔ پولُس اُن سے ملنے گئے 3 اور چونکہ وہ دونوں اُن کے ہمپیشہ تھے یعنی اُن کی طرح خیمے بناتے تھے اِس لیے پولُس اُن کے گھر ٹھہرے اور اُن کے ساتھ کام کِیا۔ 4 پولُس ہر سبت کے دن یہودیوں کی عبادتگاہ میں تقریر دیتے تھے اور یہودیوں اور یونانیوں کو قائل کرتے تھے۔
5 جب سیلاس اور تیمُتھیُس مقدونیہ سے آئے تو پولُس خدا کا کلام سنانے پر پورا دھیان دینے لگے اور گواہی دے کر یہودیوں پر ثابت کرنے لگے کہ یسوع ہی مسیح ہیں۔ 6 لیکن یہودی، پولُس کی مخالفت کرنے لگے اور اُن کا مذاق اُڑانے لگے۔ اِس لیے پولُس نے اپنے کپڑے جھاڑے اور اُن سے کہا: ”آپ کا خون آپ کے سر پر ہو۔ مَیں اِس سے بَری ہوں۔ اب سے مَیں غیریہودیوں کے پاس جاؤں گا۔“ 7 وہاں* سے پولُس ایک آدمی کے گھر چلے گئے جس کا نام طِطُس یُوستُس تھا۔ وہ آدمی خدا کی عبادت کرتا تھا اور اُس کا گھر عبادتگاہ سے ملا ہوا تھا۔ 8 عبادتگاہ کا پیشوا، کرِسپُس اور اُس کے سارے گھر والے ہمارے مالک پر ایمان لے آئے۔ اِس کے علاوہ بہت سے ایسے کُرنتھی بھی جنہوں نے خدا کا کلام سنا، ایمان لانے اور بپتسمہ لینے لگے۔ 9 اور ہمارے مالک نے رات کو ایک رُویا میں پولُس سے کہا: ”ڈریں مت اور چپ نہ رہیں بلکہ خدا کا کلام سناتے رہیں 10 کیونکہ مَیں آپ کے ساتھ ہوں اور کوئی بھی شخص آپ پر حملہ نہیں کرے گا کیونکہ اِس شہر میں میرے بہت سے لوگ ہیں۔“ 11 لہٰذا پولُس ڈیڑھ سال تک وہیں رہے اور لوگوں کو خدا کا کلام سکھاتے رہے۔
12 جس وقت گلیو صوبہ اخیہ کا حاکم تھا، یہودیوں نے مل کر پولُس کے خلاف کارروائی کی اور یہ کہتے ہوئے اُنہیں تختِعدالت کے سامنے لے گئے: 13 ”یہ آدمی لوگوں کو ایک ایسے طریقے سے خدا کی عبادت کرنے پر اُکسا رہا ہے جو قانون کے خلاف ہے۔“ 14 لیکن اِس سے پہلے کہ پولُس کچھ کہتے، گلیو نے یہودیوں سے کہا: ”اَے یہودیو! اگر اِس آدمی نے کوئی غلط کام یا سنگین جُرم کِیا ہوتا تو مَیں صبر سے تمہاری بات سنتا۔ 15 لیکن اگر جھگڑا صرف لفظوں، ناموں اور تمہاری شریعت کا ہے تو تُم جانو اور تمہارا کام۔ مَیں ایسے معاملوں میں نہیں پڑنا چاہتا۔“ 16 یہ کہہ کر اُس نے اُنہیں تختِعدالت کے سامنے سے بھگا دیا۔ 17 اِس لیے اُنہوں نے عبادتگاہ کے ایک پیشوا، سوستھینس کو پکڑ لیا اور تختِعدالت کے سامنے اُسے مارنے پیٹنے لگے۔ لیکن گلیو کسی بھی صورت میں اِس معاملے میں نہیں پڑنا چاہتا تھا۔
18 پولُس وہاں کچھ دن اَور ٹھہرے اور پھر اُنہوں نے بھائیوں کو خدا حافظ کہا اور سُوریہ کے لیے روانہ ہوئے اور پرِسکِلّہ اور اکوِلہ بھی اُن کے ساتھ گئے۔ لیکن پولُس نے جانے سے پہلے کنخریہ میں اپنے بال چھوٹے کرائے کیونکہ اُنہوں نے ایک منت مانی تھی۔ 19 جب وہ اِفسس پہنچے تو پولُس نے باقیوں کو شہر میں چھوڑا اور خود یہودیوں کی عبادتگاہ میں گئے اور اُنہیں قائل کرنے کی کوشش کرنے لگے۔ 20 اُن لوگوں نے بار بار پولُس سے درخواست کی کہ وہ اِفسس میں کچھ عرصہ اَور رُکیں لیکن وہ اِس پر راضی نہیں ہوئے 21 بلکہ یہ کہہ کر اُنہیں خدا حافظ کہا کہ ”اگر یہوواہ* نے چاہا تو مَیں پھر آپ کے پاس آؤں گا۔“ اِس کے بعد وہ جہاز میں سوار ہو کر اِفسس سے روانہ ہوئے 22 اور قیصریہ آئے۔ وہاں سے وہ یروشلیم گئے اور کلیسیا* سے ملے۔ پھر وہ انطاکیہ گئے۔
23 کچھ عرصہ وہاں رہنے کے بعد وہ روانہ ہوئے اور گلتیہ اور فروگیہ کے علاقوں میں جگہ جگہ گئے اور سب شاگردوں کا حوصلہ بڑھایا۔
24 اِس دوران ایک یہودی جو اِسکندریہ میں پیدا ہوا تھا اور جس کا نام اپلّوس تھا، اِفسس آیا۔ اپلّوس بڑے مؤثر طریقے سے بات کرتے تھے اور صحیفوں کا بڑا علم رکھتے تھے۔ 25 اُنہوں نے یہوواہ* کی راہ کے بارے میں تعلیم پائی تھی۔ وہ بڑے جوش سے بات کر رہے تھے اور یسوع کے بارے میں صحیح تعلیم دے رہے تھے لیکن صرف اُس بپتسمے سے واقف تھے جو یوحنا دیا کرتے تھے۔ 26 اپلّوس بڑی دلیری سے عبادتگاہ میں تعلیم دینے لگے۔ جب پرِسکِلّہ اور اکوِلہ نے اُن کی باتیں سنیں تو وہ اُنہیں اپنے ساتھ لے گئے اور خدا کی راہ کے بارے میں اَور تفصیل سے بتایا۔ 27 اپلّوس اخیہ جانا چاہتے تھے اِس لیے بھائیوں نے وہاں کے شاگردوں کو خط لکھا اور اُن سے درخواست کی کہ وہ اُن کا خیرمقدم کریں۔ جب اپلّوس وہاں پہنچے تو اُنہوں نے اُن لوگوں کی بہت مدد کی جو خدا کی عظیم رحمت کی بدولت ایمان لے آئے تھے 28 کیونکہ اُنہوں نے صحیفوں میں سے دِکھایا کہ یسوع ہی مسیح ہیں اور یوں بڑے زوروشور سے یہودیوں کو سرِعام غلط ثابت کِیا۔
19 جس دوران اپلّوس کُرنتھس میں تھے، پولُس آسیہ کے اندرونی علاقوں سے گزر کر اِفسس گئے۔ وہاں اُنہیں کچھ شاگرد ملے۔ 2 پولُس نے اُن سے پوچھا: ”جب آپ شاگرد بنے تھے تو کیا آپ کو پاک روح ملی تھی؟“ اُنہوں نے جواب دیا: ”ہم نے تو کبھی پاک روح کے بارے میں سنا ہی نہیں۔“ 3 اِس پر پولُس نے کہا: ”تو پھر آپ نے کون سا بپتسمہ لیا تھا؟“ اُنہوں نے جواب دیا: ”جو یوحنا دیتے تھے۔“ 4 پولُس نے کہا: ”یوحنا اِس لیے بپتسمہ دیتے تھے تاکہ ظاہر ہو کہ لوگوں نے توبہ کر لی ہے۔ اور وہ لوگوں کو یہ بھی بتاتے تھے کہ اُس شخص پر ایمان لائیں جو اُن کے پیچھے آ رہا ہے یعنی یسوع پر۔“ 5 یہ سُن کر اُن شاگردوں نے مالک یسوع کے نام سے بپتسمہ لیا۔ 6 اور جب پولُس نے اُن پر ہاتھ رکھے تو پاک روح اُن پر نازل ہوئی اور وہ فرق فرق زبانیں بولنے اور خدا کا کلام سنانے لگے۔ 7 وہ کُل ملا کر 12 آدمی تھے۔
8 پولُس تین مہینے تک عبادتگاہ میں جاتے رہے۔ وہ خدا کی بادشاہت کے بارے میں دلیری سے بات کرتے، تقریریں دیتے اور دلیلیں دے کر لوگوں کو قائل کرنے کی کوشش کرتے۔ 9 لیکن جب کچھ ہٹدھرم لوگوں نے ایمان لانے سے اِنکار کر دیا اور دوسروں کے سامنے مالک کی راہ کو بُرا بھلا کہنے لگے تو پولُس نے اُنہیں چھوڑ دیا اور شاگردوں کو ساتھ لے گئے اور پھر ہر روز تِرنّس کے مدرسے میں تقریریں دینے لگے۔ 10 یہ سلسلہ دو سال تک جاری رہا۔ لہٰذا صوبہ آسیہ کے تمام لوگوں نے یعنی یہودیوں اور یونانیوں دونوں نے ہمارے مالک کا کلام سنا۔
11 اور خدا پولُس کے ذریعے بڑے بڑے معجزے دِکھاتا رہا۔ 12 یہاں تک کہ جب لوگ پولُس کے کپڑے اور رومال بیماروں کے پاس لے جاتے تو اُن کی بیماری دُور ہو جاتی اور بُرے فرشتے* نکل آتے۔ 13 تب کچھ یہودی بھی جو لوگوں میں سے بُرے فرشتے نکالنے کے لیے جگہ جگہ جاتے تھے، مالک یسوع کا نام اِستعمال کر کے بُرے فرشتے نکالنے کی کوشش کرنے لگے۔ وہ کہتے: ”مَیں اُس یسوع کے نام سے جس کے بارے میں پولُس بتاتا ہے، تمہیں حکم دیتا ہوں کہ اِس شخص میں سے نکل آؤ۔“ 14 یہودیوں کا ایک اعلیٰ کاہن تھا جس کا نام سکیوا تھا۔ اُس کے سات بیٹوں نے بھی یسوع کا نام لے کر ایک بُرے فرشتے کو نکالنے کی کوشش کی۔ 15 لیکن بُرے فرشتے نے اُن سے کہا: ”مَیں یسوع کو جانتا ہوں اور پولُس سے بھی واقف ہوں لیکن تُم کون ہو؟“ 16 پھر وہ آدمی جس میں بُرا فرشتہ تھا، اُن پر جھپٹا اور باری باری اُنہیں قابو کر لیا۔ یہاں تک کہ اُن سب کو اُس گھر سے زخمی حالت میں ننگا بھاگنا پڑا۔ 17 اِس واقعے کی خبر اِفسس کے سب لوگوں یعنی یہودیوں اور یونانیوں دونوں کو ہو گئی اور اُن پر خوف طاری ہو گیا اور ہمارے مالک یسوع کے نام کی بڑائی ہوتی گئی۔ 18 ایمان لانے والے بہت سے لوگ آ کر اپنے گُناہوں کو تسلیم کرتے اور سب کے سامنے اِن کا اِقرار کرتے۔ 19 اور بہت سے لوگوں نے جو جادوٹونا کرتے تھے، اپنی کتابیں لا کر سب کے سامنے جلا دیں۔ اور جب اُن کی قیمت کا حساب لگایا گیا تو پتہ چلا کہ وہ چاندی کے 50 (پچاس) ہزار سِکوں کی تھیں۔ 20 لہٰذا یہوواہ* کا کلام بڑے زبردست طریقے سے پھیلتا اور زور پکڑتا گیا۔
21 اِس کے بعد پولُس نے مقدونیہ اور اخیہ سے گزر کر یروشلیم جانے کا اِرادہ کِیا۔ اُنہوں نے کہا کہ ”یروشلیم جانے کے بعد مَیں روم بھی جاؤں گا۔“ 22 لہٰذا اُنہوں نے تیمُتھیُس اور اِراستُس کو جو اُن کی خدمت کرتے تھے، مقدونیہ بھیجا لیکن خود کچھ عرصے کے لیے صوبہ آسیہ میں رہے۔
23 اُس وقت مالک کی راہ کے حوالے سے کافی فساد ہوا۔ 24 ایک آدمی تھا جس کا نام دیمیترِیُس تھا۔ وہ چاندی کا کاریگر تھا اور چاندی سے ارتمس دیوی کے چھوٹے چھوٹے مندر بناتا تھا اور اُس کی وجہ سے کاریگروں کو بڑا منافع ملتا تھا۔ 25 اُس نے اپنے ساتھیوں اور دوسرے کاریگروں کو جمع کِیا اور اُن سے کہا: ”بھائیو، آپ تو جانتے ہی ہیں کہ اِس کاروبار کی وجہ سے ہماری بڑی کمائی ہوتی ہے۔ 26 لیکن آپ نے دیکھا اور سنا ہے کہ یہ پولُس نہ صرف سارے اِفسس بلکہ پورے صوبہ آسیہ میں لوگوں کو گمراہ کر رہا ہے۔ وہ لوگوں سے کہتا پھر رہا ہے کہ ہاتھوں سے بنے خدا اصل میں خدا نہیں ہیں اور اِس طرح اُس نے بہت سے لوگوں کو قائل کر لیا ہے۔ 27 اُس کی وجہ سے ہمارے کاروبار کی بدنامی ہوگی اور صرف یہی نہیں بلکہ ہماری عظیم دیوی ارتمس کے مندر کی کوئی اہمیت نہیں رہے گی۔ اب تو ہماری عظیم دیوی کی نہ صرف صوبہ آسیہ میں بلکہ پوری دُنیا میں عبادت کی جاتی ہے لیکن اِس آدمی کی وجہ سے اُس کی شان مٹ جائے گی۔“ 28 یہ سُن کر وہ سب غصے سے بھر گئے اور چلّانے لگے: ”اِفسیوں کی ارتمس عظیم ہے!“
29 لہٰذا شہر میں ہنگامہ شروع ہو گیا اور وہ سب گِیُس اور ارِسترخس کو گھسیٹتے ہوئے تماشاگاہ کی طرف لے گئے۔ وہ دونوں مقدونی تھے اور پولُس کے ساتھی تھے۔ 30 پولُس بِھیڑ کے بیچ میں جانا چاہتے تھے لیکن شاگردوں نے اُنہیں جانے نہیں دیا۔ 31 یہاں تک کہ کھیلوں اور میلوں کے کچھ منتظمین نے بھی پولُس کو پیغام بھیجا اور اِلتجا کی کہ وہ تماشاگاہ میں جانے کا خطرہ مول نہ لیں کیونکہ وہ پولُس کے خیرخواہ تھے۔ 32 ساری بِھیڑ چلّا رہی تھی؛ کوئی کچھ کہہ رہا تھا اور کوئی کچھ۔ دراصل سب لوگ اُلجھن میں تھے اور زیادہتر لوگ یہ نہیں جانتے تھے کہ وہ وہاں اِکٹھے کیوں ہوئے ہیں۔ 33 پھر یہودیوں نے سکندر کو آگے کِیا اور بِھیڑ میں سے بعض لوگ اُسے بولنے کے لیے کہنے لگے۔ سکندر نے لوگوں کو چپ ہونے کا اِشارہ کِیا اور اُن سے بات کرنے کی کوشش کی۔ 34 لیکن جب لوگوں کو پتہ چلا کہ وہ یہودی ہے تو وہ سب مل کر تقریباً دو گھنٹے تک چلّاتے رہے کہ ”اِفسیوں کی ارتمس عظیم ہے!“
35 آخر شہر کے ناظم نے لوگوں کو چپ کرایا۔ پھر اُس نے کہا: ”اِفسس کے لوگو! ایسا کون سا شخص ہے جو یہ نہیں جانتا کہ اِفسیوں کا شہر عظیم دیوی ارتمس کے مندر اور اُس مورت کا محافظ ہے جو آسمان سے نازل ہوئی؟ 36 چونکہ اِس بات سے اِنکار نہیں کِیا جا سکتا اِس لیے آپ لوگ پُرسکون رہیں اور جذباتی نہ ہوں۔ 37 آپ لوگ اِن آدمیوں کو یہاں لائے ہیں جنہوں نے نہ تو مندر لُوٹے ہیں اور نہ ہی ہماری دیوی کے خلاف کفر بکا ہے۔ 38 اِس لیے اگر دیمیترِیُس اور دوسرے کاریگر اِن آدمیوں پر مُقدمہ چلانا چاہتے ہیں تو اُنہیں پتہ ہے کہ عدالتیں کب لگتی ہیں اور صوبے کے حاکم کہاں ہوتے ہیں۔ 39 لیکن اگر آپ کچھ اَور چاہتے ہیں تو اِس پر عوامی اِجلاس میں بات ہونی چاہیے۔ 40 یاد رکھیں کہ ہمیں بغاوت کا مُجرم ٹھہرایا جا سکتا ہے کیونکہ ہم آج کے اِس ہنگامے کے لیے کوئی ٹھوس وجہ پیش نہیں کر سکتے۔“ 41 اِس کے بعد اُس نے بِھیڑ کو برخاست کر دیا۔
20 جب ہنگامہ ختم ہو گیا تو پولُس نے شاگردوں کو بلوایا اور اُن کی حوصلہافزائی کی۔ پھر اُنہوں نے اُن کو خدا حافظ کہا اور مقدونیہ کے لیے روانہ ہوئے۔ 2 وہاں سے گزرنے اور شاگردوں کی حوصلہافزائی کرنے کے بعد وہ یونان گئے۔ 3 وہ تین مہینے تک وہاں رہے۔ پھر جب وہ سُوریہ جانے والے تھے تو اُنہیں پتہ چلا کہ یہودیوں نے اُن کے خلاف سازش گھڑی ہے۔ اِس لیے اُنہوں نے فیصلہ کِیا کہ وہ مقدونیہ کے راستے واپس جائیں گے۔ 4 جو لوگ اُن کے ساتھ گئے، وہ یہ تھے: تیمُتھیُس، پُرس کے بیٹے سوپترس جو بیریہ سے تھے، ارِسترخس اور سکندس جو تھسلُنیکے سے تھے، گِیُس جو دربے سے تھے اور تخِکُس اور تروفیمس جو صوبہ آسیہ سے تھے۔ 5 وہ لوگ ہم سے پہلے تروآس گئے اور وہاں ہمارا اِنتظار کِیا۔ 6 ہم بےخمیری روٹی کی عید کے بعد فِلپّی سے جہاز پر سوار ہوئے اور پانچ دن میں اُن کے پاس تروآس پہنچ گئے اور سات دن تک وہیں رہے۔
7 ہفتے کے پہلے دن ہم سب کھانا کھانے کے لیے جمع ہوئے۔ چونکہ پولُس اگلے دن وہاں سے روانہ ہونے والے تھے اِس لیے وہ تقریر کرنے لگے اور آدھی رات تک بولتے رہے۔ 8 ہم سب گھر کے اُوپر والے کمرے میں جمع تھے اور وہاں کافی چراغ جل رہے تھے۔ 9 ایک جوان جس کا نام یُوتِخُس تھا، کھڑکی میں بیٹھا تھا۔ جب پولُس بول رہے تھے تو اُسے سخت نیند آنے لگی یہاں تک کہ وہ گہری نیند سو گیا اور تیسری منزل سے گِر کر مر گیا۔ 10 لیکن پولُس نیچے گئے، اُس جوان پر جھکے اور اُسے اپنے بازوؤں میں لے لیا۔ پھر اُنہوں نے لوگوں سے کہا: ”روئیں مت۔ یہ زندہ ہے۔“* 11 اِس کے بعد پولُس اُوپر گئے، کھانے کے لیے بیٹھے* اور کھانا کھانے لگے۔ وہ کافی دیر تک باتیں کرتے رہے یہاں تک کہ صبح ہو گئی۔ پھر وہ وہاں سے روانہ ہوئے۔ 12 اور شاگرد اُس جوان کو وہاں سے لے گئے اور اُنہیں اِس بات سے بڑی تسلی ملی کہ وہ زندہ ہے۔
13 پولُس کا اِرادہ تھا کہ وہ پیدل اسُس جائیں گے۔ اُنہوں نے ہم سے کہا کہ ہم وہاں اُن سے ملیں۔ اِس لیے ہم جہاز پر سوار ہوئے اور اسُس کے لیے روانہ ہوئے۔ 14 جب ہم وہاں اُن سے ملے تو وہ بھی ہمارے ساتھ جہاز پر سوار ہو گئے اور پھر ہم متلینے گئے۔ 15 اگلے دن ہم وہاں سے روانہ ہوئے اور خیوس کے سامنے لنگر ڈالا۔ اُس سے اگلے دن ہم ساموس پہنچے اور اُس سے اگلے دن میلیتُس 16 لیکن ہم اِفسس میں نہیں رُکے۔ دراصل پولُس نے فیصلہ کِیا تھا کہ ہم صوبہ آسیہ نہیں جائیں گے کیونکہ اُنہیں یروشلیم پہنچنے کی جلدی تھی اور وہ چاہتے تھے کہ عیدِپنتِکُست تک وہاں پہنچ جائیں۔
17 مگر اُنہوں نے میلیتُس سے اِفسس کی کلیسیا* کے بزرگوں کو پیغام بھیجا کہ وہ اُن کے پاس آئیں۔ 18 جب وہ وہاں پہنچے تو پولُس نے اُن سے کہا: ”آپ جانتے ہیں کہ جس دن سے مَیں نے صوبہ آسیہ میں قدم رکھا، مَیں نے آپ کے درمیان کیا کچھ کِیا۔ 19 مَیں نے خاکساری سے مالک کی غلامی کی اور یہودیوں کی سازشوں کی وجہ سے بڑے آنسو بہائے اور بڑی تکلیف اُٹھائی۔ 20 مَیں آپ کو فائدہمند باتیں بتانے اور عوامی جگہوں پر تعلیم دینے اور گھر گھر جا کر سکھانے سے نہیں ہچکچایا 21 بلکہ مَیں نے یہودیوں اور یونانیوں دونوں کو اچھی طرح سے گواہی دی کہ توبہ کر کے خدا کی طرف آئیں اور ہمارے مالک یسوع پر ایمان لے آئیں۔ 22 لیکن اب پاک روح نے مجھے پابند کِیا* ہے کہ مَیں یروشلیم جاؤں حالانکہ مجھے یہ نہیں پتہ کہ وہاں میرے ساتھ کیا ہوگا۔ 23 مَیں بس اِتنا جانتا ہوں کہ پاک روح ہر شہر میں مجھے بار بار بتاتی ہے کہ مجھے قید میں ڈالا جائے گا اور اذیتیں دی جائیں گی۔ 24 مگر مَیں اپنی جان کو اہم نہیں سمجھتا بلکہ میرے لیے سب سے اہم بات یہ ہے کہ اپنا کام پورا کروں اور وہ خدمت انجام دوں جو مالک یسوع نے مجھے دی ہے یعنی خدا کی عظیم رحمت کی خوشخبری کی اچھی طرح سے مُنادی کروں۔
25 مَیں جانتا ہوں کہ آپ سب جنہیں مَیں نے بادشاہت کے بارے میں بتایا ہے، مجھے دوبارہ نہیں دیکھیں گے۔ 26 آپ اِس بات کے گواہ ہیں کہ مَیں تمام اِنسانوں کے خون سے بَری ہوں 27 کیونکہ مَیں آپ کو خدا کی مرضی بتانے سے نہیں ہچکچایا۔ 28 خود پر اور اُس سارے گلّے پر نظر رکھیں جس میں پاک روح نے آپ کو اِس لیے نگہبان مقرر کِیا ہے تاکہ آپ خدا کی کلیسیا کی گلّہبانی کریں جسے اُس نے اپنے بیٹے کے خون سے خریدا ہے۔ 29 مَیں جانتا ہوں کہ میرے جانے کے بعد آپ کے بیچ میں ظالم بھیڑیے آ جائیں گے جو گلّے کے ساتھ کوئی نرمی نہیں برتیں گے۔ 30 اور آپ کے بیچ میں سے ایسے آدمی اُٹھیں گے جو سچائی کو توڑ مروڑ کر پیش کریں گے تاکہ شاگردوں کو اپنے پیچھے لگا لیں۔
31 لہٰذا چوکس رہیں اور یاد رکھیں کہ مَیں نے تین سال تک دن رات آنسو بہا بہا کر آپ کو لگاتار نصیحت کی۔ 32 اور اب مَیں آپ کو خدا اور اُس کی عظیم رحمت* کے سپرد کرتا ہوں جو آپ کو حوصلہ دے سکتی ہے اور مُقدس لوگوں کے ساتھ وراثت عطا کر سکتی ہے۔ 33 مَیں نے کبھی کسی کے سونے یا چاندی یا کپڑوں کا لالچ نہیں کِیا۔ 34 آپ خود جانتے ہیں کہ مَیں نے اِن ہاتھوں سے اپنی اور اپنے ساتھیوں کی ضرورتیں پوری کیں۔ 35 مَیں نے ہر معاملے میں آپ کو اپنی مثال سے سکھایا کہ محنت کر کے کمزوروں کی مدد کریں اور مالک یسوع کی اِس بات کو ہمیشہ یاد رکھیں کہ ”لینے کی نسبت دینے میں زیادہ خوشی ہے۔“ “
36 اِس کے بعد اُن سب نے گھٹنے ٹیکے اور پولُس نے دُعا کی۔ 37 پھر وہ لوگ زار زار رونے لگے اور پولُس کو گلے لگایا اور چُوما 38 کیونکہ وہ اُن کی اِس بات پر بہت دُکھی تھے کہ ”آپ مجھے دوبارہ نہیں دیکھیں گے۔“ اِس کے بعد وہ اُنہیں جہاز تک چھوڑنے گئے۔
21 ہم مشکل سے اُن سے جُدا ہوئے اور پھر جہاز پر سوار ہو کر وہاں سے روانہ ہوئے۔ ہم سیدھا کوس پہنچے اور اگلے دن رودس اور پھر پترہ گئے۔ 2 وہاں ہمیں ایک جہاز مل گیا جو فینیکے جا رہا تھا اور ہم اُس پر سوار ہو کر روانہ ہوئے۔ 3 جب ہمیں جزیرہ قبرص نظر آیا تو ہم اِس کی دائیں طرف سے گزرے اور سُوریہ کا رُخ کِیا۔ ہم صور میں رُکے کیونکہ جہاز کو مال اُتارنا تھا۔ 4 وہاں ہم نے شاگردوں کو ڈھونڈا اور سات دن تک اُن کے ساتھ رہے۔ لیکن پاک روح کی آگاہی کی وجہ سے اُنہوں نے پولُس سے بار بار کہا کہ وہ یروشلیم نہ جائیں۔ 5 جب ہمارے جانے کا وقت آیا تو ہم وہاں سے روانہ ہوئے۔ لیکن وہ سب، عورتوں اور بچوں سمیت شہر سے باہر تک ہمارے ساتھ آئے۔ ساحل کے پاس آ کر ہم سب نے گھٹنے ٹیکے اور دُعا کی۔ 6 پھر ہم نے ایک دوسرے کو خدا حافظ کہا۔ اِس کے بعد ہم جہاز پر سوار ہوئے اور وہ اپنے اپنے گھر لوٹ گئے۔
7 ہم صور سے سمندر کے راستے پتُلمیس گئے۔ وہاں ہم بہن بھائیوں سے ملے اور ایک دن اُن کے ساتھ رہے۔ 8 اگلے دن ہم روانہ ہوئے اور قیصریہ پہنچے۔ وہاں ہم فِلپّس کے گھر ٹھہرے جو خوشخبری سنانے کے لیے مشہور تھے اور اُن سات آدمیوں میں سے ایک تھے جنہیں رسولوں نے کھانا تقسیم کرنے کے لیے چُنا تھا۔ 9 اُن کی چار کنواری بیٹیاں تھیں جو خدا کا کلام سناتی تھیں۔ 10 جب ہمیں وہاں کافی دن ہو گئے تو اگبُس نبی یہودیہ سے آئے۔ 11 وہ ہم سے ملنے آئے اور اُنہوں نے پولُس سے اُن کا کمربند لے کر اپنے ہاتھ پیر باندھے اور کہا: ”پاک روح نے فرمایا ہے کہ ”یہ کمربند جس آدمی کا ہے، اُسے یروشلیم میں یہودی اِسی طرح سے باندھیں گے اور غیریہودیوں کے حوالے کریں گے۔“ “ 12 جب ہم نے اور وہاں موجود باقی شاگردوں نے یہ سنا تو ہم سب پولُس کی مِنتیں کرنے لگے کہ وہ یروشلیم نہ جائیں۔ 13 اِس پر پولُس نے کہا: ”آپ لوگ رو کیوں رہے ہیں اور میرا عزم کمزور کرنے کی کوشش کیوں کر رہے ہیں؟ یقین کریں کہ مَیں یروشلیم جا کر مالک یسوع کے نام کی خاطر نہ صرف باندھے جانے بلکہ مرنے کے لیے بھی تیار ہوں۔“ 14 جب اُنہوں نے ہماری بات نہیں مانی تو ہم نے مزید اِصرار نہیں کِیا* بلکہ کہا: ”یہوواہ* کی مرضی پوری ہو۔“
15 کچھ دن بعد ہم نے سفر کی تیاری کی اور پھر یروشلیم کے لیے روانہ ہوئے۔ 16 قیصریہ سے کچھ شاگرد بھی ہمارے ساتھ گئے اور ہمیں قبرص کے مناسون کے گھر لے گئے جو اِبتدائی شاگردوں میں سے ایک تھے اور جن کے گھر ہمیں ٹھہرنا تھا۔ 17 جب ہم یروشلیم پہنچے تو بھائیوں نے بڑی خوشی سے ہمارا خیرمقدم کِیا۔ 18 اگلے دن پولُس ہمارے ساتھ یعقوب سے ملنے گئے اور سب بزرگ بھی وہاں موجود تھے۔ 19 پولُس نے اُن سے سلام دُعا کی اور پھر تفصیل سے بتایا کہ خدا نے اُن کے ذریعے غیریہودیوں میں کیا کچھ کِیا ہے۔
20 یہ سُن کر وہ سب خدا کی بڑائی کرنے لگے۔ پھر اُنہوں نے پولُس سے کہا: ”بھائی، آپ تو جانتے ہی ہیں کہ ہزاروں یہودی ایمان لے آئے ہیں اور اب بھی بڑے جوش سے شریعت کی پابندی کرتے ہیں۔ 21 مگر اُنہوں نے آپ کے بارے میں یہ افواہیں سنی ہیں کہ آپ دوسرے ملکوں میں رہنے والے یہودیوں کو موسیٰ کی شریعت سے برگشتہ کر رہے ہیں اور اُنہیں سکھا رہے ہیں کہ اپنے بچوں کا ختنہ کرانے یا روایتوں کی پابندی کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ 22 اب کیا کِیا جائے؟ کیونکہ وہ یہ تو ضرور جان جائیں گے کہ آپ یروشلیم میں ہیں۔ 23 لہٰذا وہی کریں جو ہم آپ کو بتا رہے ہیں: یہاں چار آدمی ہیں جنہوں نے ایک منت مانی ہے۔ 24 اِن آدمیوں کو اپنے ساتھ لے جائیں اور طہارت کی رسموں کے مطابق خود کو اُن کے ساتھ پاک کریں اور اُن کے اخراجات پورے کریں تاکہ وہ اپنے سر منڈوا سکیں۔ اِس طرح سب لوگوں کو پتہ چل جائے گا کہ جو افواہیں آپ کے بارے میں پھیلائی گئی ہیں، وہ جھوٹی ہیں اور آپ واقعی شریعت کے مطابق زندگی گزار رہے ہیں۔ 25 جہاں تک اُن غیریہودیوں کا تعلق ہے جو ایمان لے آئے ہیں، ہم نے اُن کو خط لکھ کر اپنا فیصلہ بتا دیا ہے کہ وہ بُتپرستی سے تعلق رکھنے والی چیزوں اور خون اور گلا گھونٹے ہوئے جانوروں کے گوشت* اور حرامکاری* سے گریز کریں۔“
26 اگلے دن پولُس نے اُن آدمیوں کو ساتھ لیا اور رسموں کے مطابق خود کو اُن کے ساتھ پاک کِیا۔ وہ یہ بتانے کے لیے ہیکل* میں گئے کہ طہارت کی مُدت کب ختم ہوگی تاکہ اُن میں سے ہر ایک کے لیے قربانی چڑھائی جا سکے۔
27 جب سات دن ختم ہونے والے تھے تو آسیہ کے کچھ یہودیوں نے اُن کو ہیکل میں دیکھ لیا اور لوگوں کو بھڑکانے لگے۔ وہ پولُس کو پکڑ کر 28 چلّانے لگے: ”اِسرائیلیو، ہماری مدد کرو! یہی وہ آدمی ہے جو ہر جگہ ہماری قوم اور ہماری شریعت اور اِس جگہ کے خلاف بولتا پھر رہا ہے۔ اَور تو اَور یہ آدمی یونانیوں کو اُٹھا کر ہیکل میں لے آیا ہے اور اِس مُقدس جگہ کو ناپاک کر دیا ہے۔“ 29 اُن لوگوں نے یہ اِس لیے کہا کیونکہ اُنہوں نے تروفیمس کو جو اِفسس سے تھے، پولُس کے ساتھ شہر میں دیکھا تھا اور وہ سوچ رہے تھے کہ پولُس اُنہیں ہیکل میں لے آئے ہیں۔ 30 سارے شہر میں ہنگامہ مچ گیا۔ لوگ بھاگتے ہوئے آئے اور پولُس کو پکڑ کر گھسیٹتے ہوئے ہیکل سے باہر لے گئے اور فوراً ہی ہیکل کے دروازے بند کر دیے گئے۔ 31 وہ پولُس کو قتل کرنے کی کوشش میں تھے۔ اِسی دوران فوجی دستے کے کمانڈر کو یہ خبر ملی کہ پورے یروشلیم میں ہنگامہ ہو رہا ہے۔ 32 اُس نے فوراً ہی فوجی افسروں اور فوجیوں کو ساتھ لیا اور بھاگا بھاگا وہاں پہنچا۔ جب لوگوں نے کمانڈر اور فوجیوں کو دیکھا تو اُنہوں نے پولُس کو پیٹنا بند کر دیا۔
33 جب کمانڈر قریب آیا تو اُس نے پولُس کو گِرفتار کر لیا اور اُنہیں دو زنجیروں سے باندھنے کا حکم دیا۔ پھر اُس نے لوگوں سے پوچھا کہ ”یہ آدمی کون ہے اور اِس نے کیا کِیا ہے؟“ 34 لیکن لوگ چلّانے لگے، کوئی کچھ کہہ رہا تھا اور کوئی کچھ۔ جب اِس ہنگامے کی وجہ سے کمانڈر کو صحیح صورتحال پتہ نہ چل سکی تو اُس نے پولُس کو چھاؤنی میں لے جانے کا حکم دیا۔ 35 لیکن جب پولُس سیڑھیوں پر پہنچے تو فوجیوں کو اُنہیں اُٹھا کر اُوپر لے جانا پڑا کیونکہ ہجوم بڑا بےقابو ہو رہا تھا 36 اور بہت سے لوگ اُن کے پیچھے پیچھے آ رہے تھے اور چلّا رہے تھے: ”اِسے مار ڈالو!“
37 جب فوجی اُنہیں چھاؤنی کے اندر لے جانے والے تھے تو پولُس نے کمانڈر سے پوچھا: ”کیا مَیں کچھ کہہ سکتا ہوں؟“ اِس پر اُس نے کہا: ”تُم یونانی بول سکتے ہو؟ 38 تو پھر کیا تُم وہ مصری نہیں ہو جس نے کچھ عرصہ پہلے بغاوت کو ہوا دی تھی اور 4000 مسلح باغیوں کو لے کر ویرانے میں چلا گیا تھا؟“ 39 پولُس نے کہا: ”مَیں یہودی ہوں اور کِلکیہ کے مشہور شہر ترسُس کا شہری ہوں۔ مَیں آپ سے درخواست کرتا ہوں کہ مجھے لوگوں سے بات کرنے کی اِجازت دیں۔“ 40 کمانڈر نے اُن کو اِجازت دے دی۔ تب پولُس نے سیڑھیوں پر کھڑے ہو کر لوگوں کو خاموش ہونے کا اِشارہ کِیا۔ جب لوگ خاموش ہو گئے تو پولُس نے عبرانی زبان میں اُن کو مخاطب کِیا اور کہا:
22 ”بھائیو اور بزرگو! مجھے اپنی صفائی پیش کرنے دیں۔“ 2 جب لوگوں نے دیکھا کہ پولُس عبرانی زبان میں اُن سے مخاطب ہیں تو وہ بالکل خاموش ہو گئے۔ پھر پولُس نے کہا: 3 ”مَیں یہودی ہوں اور میری پیدائش کِلکیہ کے شہر ترسُس کی ہے۔ لیکن مَیں نے اِس شہر میں گملیایل کے قدموں میں تعلیم پائی جنہوں نے مجھے سکھایا کہ اپنے باپدادا کی شریعت کی سختی سے پابندی کروں۔ اور مَیں آپ لوگوں کی طرح جوش سے خدا کی خدمت کرتا ہوں۔ 4 مَیں نے اِس راہ سے تعلق رکھنے والے آدمیوں اور عورتوں کو گِرفتار کِیا اور قید میں ڈلوایا اور اُن کو اِس حد تک اذیت دی کہ مروا بھی ڈالا۔ 5 کاہنِاعظم اور بزرگوں کی جماعت اِس بات کی گواہ ہے۔ مَیں نے اُن سے دمشق کے بھائیوں کے لیے حکمنامے بھی لیے تاکہ وہاں بھی اِس راہ سے تعلق رکھنے والے لوگوں کو گِرفتار کر کے یروشلیم لاؤں اور اُنہیں سزا دِلواؤں۔
6 لیکن جب مَیں سفر کرتے کرتے دمشق کے قریب پہنچا تو دوپہر کے وقت اچانک آسمان سے میرے اِردگِرد تیز روشنی چمکی۔ 7 مَیں زمین پر گِر گیا اور مجھے یہ آواز سنائی دی: ”ساؤل، ساؤل، آپ مجھے اذیت کیوں پہنچا رہے ہیں؟“ 8 مَیں نے اُس سے پوچھا: ”جناب، آپ کون ہیں؟“ اُس نے جواب دیا: ”مَیں یسوع ناصری ہوں جسے آپ اذیت پہنچا رہے ہیں۔“ 9 جو آدمی میرے ساتھ تھے، اُنہیں روشنی تو دِکھائی دی لیکن بولنے والے کی بات سنائی نہیں دی۔ 10 مَیں نے پوچھا: ”مالک، مجھے کیا کرنا چاہیے؟“ مالک نے جواب دیا: ”اُٹھیں، دمشق جائیں۔ وہاں آپ کو وہ سب کچھ بتایا جائے گا جو آپ کو کرنا ہے۔“ 11 مگر تیز روشنی کی وجہ سے مجھے کچھ دِکھائی نہیں دے رہا تھا۔ اِس لیے میرے ساتھی میرا ہاتھ پکڑ کر مجھے دمشق لے گئے۔
12 پھر حننیاہ نامی ایک آدمی میرے پاس آئے جو بڑے خداپرست تھے اور شریعت کے معیاروں پر پورا اُترتے تھے اور وہاں کے یہودیوں میں بڑے نیک نام تھے۔ 13 وہ آ کر میرے پاس کھڑے ہو گئے اور کہنے لگے: ”ساؤل، میرے بھائی، آپ کی آنکھوں کی روشنی لوٹ آئے!“ اُسی وقت مَیں نے نظریں اُٹھائیں اور وہ مجھے دِکھائی دینے لگے۔ 14 اُنہوں نے مجھ سے کہا: ”ہمارے باپدادا کے خدا نے آپ کو چُنا ہے تاکہ آپ اُس کی مرضی جان جائیں اور اُس نیک شخص، یسوع کو دیکھیں اور اُس کی آواز سنیں 15 اور اُس کے گواہ ہوں اور سب لوگوں کو وہ باتیں بتائیں جو آپ نے دیکھی اور سنی ہیں۔ 16 اب آپ دیر کیوں کر رہے ہیں؟ اُٹھیں! بپتسمہ لیں اور یسوع کا نام لیں تاکہ آپ کے گُناہ معاف ہو جائیں۔“
17 جب مَیں یروشلیم واپس آ کر ہیکل* میں دُعا کر رہا تھا تو مجھ پر سکتہ طاری ہو گیا 18 اور مَیں نے رُویا میں دیکھا کہ مالک مجھ سے کہہ رہے ہیں: ”جلدی سے یروشلیم سے نکل جائیں کیونکہ لوگ اُس گواہی کو قبول نہیں کریں گے جو آپ میرے بارے میں دے رہے ہیں۔“ 19 مگر مَیں نے کہا: ”مالک، وہ اچھی طرح جانتے ہیں کہ مَیں ایک کے بعد ایک عبادتگاہ میں جاتا تھا اور اُن لوگوں کو پکڑواتا اور پٹواتا تھا جو آپ پر ایمان رکھتے تھے۔ 20 اور جب آپ کے گواہ ستفنُس کا خون بہایا جا رہا تھا تو مَیں پاس ہی کھڑا تھا اور اُن لوگوں کو شہ دے رہا تھا جو اُن کو سنگسار کر رہے تھے اور اُن لوگوں کی چادروں کی نگرانی بھی کر رہا تھا۔“ 21 لیکن اُنہوں نے پھر بھی مجھ سے کہا: ”جائیں، کیونکہ مَیں آپ کو دُوردراز علاقوں میں دوسری قوموں کے پاس بھیجوں گا۔“ “
22 اُن لوگوں نے یہاں تک تو پولُس کی باتیں سنیں۔ لیکن پھر وہ اُونچی آواز میں کہنے لگے: ”اِس کا نامونشان مٹا دو! یہ جینے کے لائق نہیں!“ 23 وہ چلّا رہے تھے، اپنی چادریں پھینک رہے تھے اور گرد اُڑا رہے تھے۔ 24 اِس لیے فوجی کمانڈر نے حکم دیا کہ پولُس کو چھاؤنی کے اندر لایا جائے اور اُن پر تشدد کر کے اُن سے پوچھگچھ کی جائے کیونکہ وہ جاننا چاہتا تھا کہ لوگ پولُس کے خلاف نعرےبازی کیوں کر رہے ہیں۔ 25 لیکن جب پولُس کو کوڑے لگانے کے لیے باندھا گیا تو اُنہوں نے وہاں کھڑے فوجی افسر سے کہا: ”کیا کسی رومی شہری کو کوڑے مارنا جائز ہے جبکہ اُس پر مُقدمہ بھی نہ چلایا گیا ہو؟“ 26 جب فوجی افسر نے یہ سنا تو وہ کمانڈر کے پاس گیا اور اُس سے کہا: ”وہ آدمی تو رومی شہری ہے۔ اب کیا کِیا جائے؟“ 27 کمانڈر پولُس کے پاس گیا اور اُن سے پوچھا: ”مجھے بتاؤ، کیا تُم رومی ہو؟“ اُنہوں نے جواب دیا: ”جی ہاں۔“ 28 اِس پر اُس نے کہا: ”مَیں نے تو بڑی رقم دے کر رومی شہریت حاصل کی ہے۔“ پولُس نے کہا: ”مَیں تو پیدائش سے ہی رومی شہری ہوں۔“
29 یہ سُن کر کہ پولُس رومی شہری ہیں، کمانڈر خوفزدہ ہو گیا کیونکہ اُس نے اُنہیں زنجیروں میں بندھوایا تھا اور جو آدمی پولُس پر تشدد کر کے اُن سے پوچھگچھ کرنے والے تھے، وہ ایک دم سے پیچھے ہٹ گئے۔
30 کمانڈر یہ جاننا چاہتا تھا کہ یہودی، پولُس پر کیوں اِلزام لگا رہے ہیں۔ اِس لیے اگلے دن اُس نے اعلیٰ کاہنوں اور عدالتِعظمیٰ کو جمع ہونے کا حکم دیا اور پولُس کی زنجیریں کھولیں اور اُنہیں لا کر اُن کے بیچ میں کھڑا کر دیا۔
23 پھر پولُس نے عدالتِعظمیٰ کی طرف دیکھا اور کہا: ”بھائیو، مَیں نے آج تک خدا کے حضور اِس طرح سے زندگی گزاری ہے کہ میرا ضمیر بالکل صاف ہے۔“ 2 یہ سُن کر کاہنِاعظم حننیاہ نے پولُس کے پاس کھڑے لوگوں کو حکم دیا کہ اُن کے مُنہ پر تھپڑ ماریں۔ 3 اِس پر پولُس نے اُس سے کہا: ”منافق!* خدا تمہیں مارے گا! ایک طرف تو تُم شریعت کے مطابق مجھ پر مُقدمہ چلانے بیٹھے ہو اور دوسری طرف مجھے مارنے کا حکم دے کر شریعت کی خلافورزی کر رہے ہو۔“ 4 وہاں کھڑے لوگوں نے اُن سے کہا: ”ابے، تُو خدا کے کاہنِاعظم کی توہین کر رہا ہے؟“ 5 پولُس نے جواب دیا: ”بھائیو، مجھے نہیں پتہ تھا کہ یہ کاہنِاعظم ہیں۔ مجھے معلوم ہے کہ لکھا ہے کہ ”اپنی قوم کے حاکموں کی توہین نہ کرو۔“ “
6 پولُس جانتے تھے کہ وہاں صدوقی بھی موجود ہیں اور فریسی بھی۔ اِس لیے اُنہوں نے اُونچی آواز میں عدالتِعظمیٰ سے کہا: ”بھائیو، مَیں فریسی ہوں اور فریسیوں کی اولاد ہوں۔ مجھ پر اِس لیے مُقدمہ چلایا جا رہا ہے کیونکہ مَیں مُردوں کے جی اُٹھنے پر ایمان رکھتا ہوں۔“ 7 اِس پر فریسیوں اور صدوقیوں میں بحث چھڑ گئی اور جماعت دو حصوں میں بٹ گئی 8 کیونکہ صدوقی نہ تو یہ مانتے ہیں کہ مُردے زندہ ہوں گے اور نہ ہی فرشتوں اور روحانی مخلوقات پر ایمان رکھتے ہیں جبکہ فریسی اِن سب باتوں کو مانتے ہیں۔ 9 لہٰذا وہاں بڑا ہنگامہ شروع ہو گیا۔ شریعت کے کچھ عالم جو فریسی فرقے سے تھے، کھڑے ہو گئے اور بڑے جوش سے بحث کرنے لگے اور کہنے لگے: ”ہمیں تو یہ آدمی بےقصور لگتا ہے۔ ہو سکتا ہے کہ کسی روحانی مخلوق یا فرشتے نے اِس سے بات کی ہو۔“ 10 جب بہت لڑائی جھگڑا شروع ہو گیا تو فوجی کمانڈر ڈر گیا کہ کہیں لوگ پولُس کو چیر پھاڑ نہ دیں۔ اِس لیے اُس نے فوجیوں کو حکم دیا کہ وہ جائیں اور پولُس کو اُن کے بیچ سے نکال کر چھاؤنی میں پہنچا دیں۔
11 اگلی رات ہمارے مالک پولُس کے پاس آئے اور کہا: ”ہمت نہ ہاریں! جیسے آپ نے یروشلیم میں میرے بارے میں اچھی طرح سے گواہی دی ویسے ہی آپ کو روم میں بھی دینی ہوگی۔“
12 جب صبح ہوئی تو کچھ یہودیوں نے پولُس کے خلاف سازش گھڑی۔ اُنہوں نے قسم کھائی کہ اگر وہ پولُس کو قتل کرنے سے پہلے کچھ کھائیں یا پئیں تو اُن پر خدا کی لعنت ہو۔ 13 چالیس سے زیادہ آدمیوں نے یہ قسم کھائی۔ 14 وہ اعلیٰ کاہنوں اور بزرگوں کے پاس گئے اور اُن سے کہا: ”ہم نے قسم کھائی ہے کہ جب تک ہم پولُس کو قتل نہ کر لیں، ہم کچھ نہیں کھائیں گے۔ 15 اِس لیے آپ عدالتِعظمیٰ کے ساتھ مل کر فوجی کمانڈر کو پیغام بھیجیں کہ وہ پولُس کو آپ کے پاس لائے اور یہ بہانہ بنائیں کہ آپ اُس سے مزید پوچھگچھ کرنا چاہتے ہیں۔ لیکن اِس سے پہلے کہ وہ آپ کے پاس پہنچے، ہم اُس کا کام تمام کر دیں گے۔“
16 مگر پولُس کے بھانجے کو اِس سازش کا پتہ چل گیا اور اُس نے چھاؤنی میں جا کر اُن کو خبر دی۔ 17 پولُس نے ایک فوجی افسر کو بلایا اور اُس سے کہا: ”اِس جوان کو کمانڈر کے پاس لے جائیں کیونکہ یہ اُنہیں کچھ بتانا چاہتا ہے۔“ 18 افسر اُسے کمانڈر کے پاس لے گیا اور کہا: ”مَیں پولُس نامی قیدی کی درخواست پر اِس جوان کو آپ کے پاس لایا ہوں کیونکہ یہ آپ کو کچھ بتانا چاہتا ہے۔“ 19 کمانڈر اُس کا ہاتھ پکڑ کر اُسے ایک طرف لے گیا اور کہا: ”بتاؤ، کیا بات ہے؟“ 20 اُس نے کہا: ”یہودیوں نے منصوبہ بنایا ہے کہ وہ آپ سے درخواست کریں گے کہ کل پولُس کو عدالتِعظمیٰ کے سامنے پیش کریں تاکہ اُن سے مزید پوچھگچھ کی جائے۔ 21 لیکن آپ اُن کی باتوں میں نہ آئیں کیونکہ اُن کے 40 (چالیس) سے زیادہ آدمی گھات لگا کر بیٹھیں گے۔ دراصل اُنہوں نے قسم کھائی ہے کہ جب تک وہ پولُس کو قتل نہ کر لیں، وہ کچھ نہیں کھائیں پئیں گے۔ وہ بس اِس اِنتظار میں ہیں کہ آپ اُن کی درخواست قبول کریں۔“ 22 کمانڈر نے اُس جوان کو حکم دیا کہ ”کسی کو نہ بتانا کہ تُم نے مجھے اِس سازش سے آگاہ کر دیا ہے“ اور پھر اُسے جانے کے لیے کہا۔
23 اِس کے بعد اُس نے دو فوجی افسروں کو بلایا اور کہا: ”200 فوجیوں، 70 (ستر) گُھڑسواروں اور 200 نیزےبازوں کو رات کے تیسرے گھنٹے* قیصریہ جانے کے لیے تیار کرو۔ 24 اور پولُس کے لیے بھی گھوڑوں کا اِنتظام کرو تاکہ اُسے بحفاظت حاکم فیلکس کے پاس لے جایا جائے۔“ 25 اِس کے ساتھ ساتھ اُس نے یہ خط بھی لکھا:
26 ”کلودِیُس لُوسیاس کی طرف سے مُعزز حاکم فیلکس کے نام۔ آداب! 27 اِس آدمی کو یہودیوں نے پکڑ لیا تھا اور وہ اِسے قتل کرنے والے تھے۔ لیکن جیسے ہی مجھے پتہ چلا کہ یہ آدمی رومی شہری ہے، مَیں اپنے جوانوں کے ہمراہ وہاں پہنچا اور اِس کی جان بچائی۔ 28 مَیں جاننا چاہتا تھا کہ وہ اِس آدمی پر کیوں اِلزام لگا رہے ہیں۔ اِس لیے مَیں نے اِسے اُن کی عدالتِعظمیٰ کے سامنے پیش کِیا۔ 29 مَیں نے دیکھا کہ اُنہوں نے اِس پر جو اِلزام لگایا ہے، اُس کا تعلق اُن کی شریعت سے ہے۔ لیکن اِس نے کوئی ایسا جُرم نہیں کِیا جس کی وجہ سے اِسے قید میں ڈالا جائے یا سزائےموت دی جائے۔ 30 مگر چونکہ مجھے پتہ چلا ہے کہ اِس آدمی کے خلاف سازش ہو رہی ہے اِس لیے مَیں اِسے فوراً آپ کے پاس بھیج رہا ہوں اور اِس کے مخالفوں کو حکم دے رہا ہوں کہ وہ آپ کے سامنے اپنا دعویٰ پیش کریں۔“
31 کمانڈر کے حکم کے مطابق فوجی، پولُس کو لے کر روانہ ہوئے اور اُسی رات انتیپترس پہنچے۔ 32 اگلے دن گُھڑسوار پولُس کے ساتھ آگے گئے جبکہ باقی فوجی چھاؤنی میں لوٹ آئے۔ 33 جب گُھڑسوار قیصریہ میں داخل ہوئے تو اُنہوں نے حاکم کو کمانڈر کا خط دیا اور ساتھ ہی پولُس کو بھی اُس کے حوالے کِیا۔ 34 حاکم نے خط پڑھنے کے بعد پولُس سے پوچھا کہ وہ کس صوبے سے ہیں اور اُسے پتہ چلا کہ وہ کِلکیہ سے ہیں۔ 35 پھر اُس نے کہا: ”جب تمہارے مخالف آئیں گے تو مَیں اِس مُقدمے کی پوری پوری تفتیش کروں گا۔“ اور اُس نے حکم دیا کہ پولُس کو ہیرودیس کے سرکاری محل میں پہرے میں رکھا جائے۔
24 پانچ دن بعد کاہنِاعظم حننیاہ کچھ بزرگوں اور ترطِلُس نامی ایک وکیل کے ساتھ وہاں آیا اور حاکم کے سامنے پولُس کے خلاف اپنا مُقدمہ پیش کِیا۔ 2 جب ترطِلُس کو بلایا گیا تو وہ یہ کہتے ہوئے پولُس پر اِلزام لگانے لگا:
”مُعزز فیلکس، آپ کی وجہ سے ہم بڑے امنوامان سے رہ رہے ہیں اور آپ کی دُوراندیشی کے باعث اِس قوم نے بڑی ترقی کی ہے۔ 3 ہم آپ کے بڑے احسانمند ہیں اور ہر وقت اور ہر جگہ آپ کی فیاضی کے گُن گاتے ہیں۔ 4 اب مَیں آپ کا اَور وقت ضائع نہیں کروں گا۔ بس آپ سے یہ اِلتجا ہے کہ مہربانی کر کے ہماری مختصر سی بات پر توجہ فرمائیے۔ 5 ہم نے دیکھا ہے کہ یہ آدمی فسادی* ہے کیونکہ یہ ساری دُنیا میں تمام یہودیوں کو بغاوت پر اُکسا رہا ہے۔ یہ ناصریوں کے فرقے کا ایک پیشوا ہے۔ 6 اَور تو اَور اِس نے ہیکل* کو ناپاک کرنے کی کوشش بھی کی۔ اِسی لیے ہم نے اِسے پکڑ لیا۔ 7 —* 8 اگر آپ اِس سے پوچھگچھ کریں تو آپ جان جائیں گے کہ ہم جو کچھ کہہ رہے ہیں، وہ بالکل سچ ہے۔“
9 پھر سب یہودی بھی پولُس کے خلاف بولنے لگے اور ترطِلُس کی ہاں میں ہاں ملانے لگے۔ 10 جب حاکم نے پولُس کو بولنے کا اِشارہ کِیا تو اُنہوں نے کہا:
”مَیں جانتا ہوں کہ آپ بہت سالوں سے اِس قوم کے منصف ہیں۔ لہٰذا مَیں خود اپنی صفائی پیش کرنے کے لیے تیار ہوں۔ 11 آپ تصدیق کر سکتے ہیں کہ ابھی 12 دن بھی نہیں ہوئے کہ مَیں عبادت کرنے کے لیے یروشلیم پہنچا 12 اور اِس دوران نہ تو مَیں نے ہیکل میں کسی سے بحث کی اور نہ ہی مَیں نے عبادتگاہوں یا شہر میں کسی کو بھڑکایا۔ 13 یہ لوگ مجھ پر جو اِلزامات لگا رہے ہیں، اُن کے لیے کوئی ثبوت پیش نہیں کر سکتے۔ 14 لیکن مَیں یہ ضرور تسلیم کرتا ہوں کہ مَیں اُس دین کے مطابق جسے یہ لوگ فرقہ کہتے ہیں، اپنے باپدادا کے خدا کی خدمت کرتا ہوں کیونکہ مَیں اُن سب باتوں پر ایمان رکھتا ہوں جو شریعت اور نبیوں کے صحیفوں میں لکھی ہیں۔ 15 اور اِن آدمیوں کی طرح میرا بھی ایمان* ہے کہ خدا نیکوں اور بدوں دونوں کو زندہ کرے گا۔ 16 اِس لیے مَیں ہمیشہ کوشش کرتا ہوں کہ خدا اور اِنسانوں کے سامنے میرا ضمیر صاف ہو۔ 17 مَیں کافی سالوں کے بعد یروشلیم آیا تاکہ اپنی قوم کو خیرات دوں اور خدا کے حضور قربانیاں چڑھاؤں۔ 18 جب مَیں یہ کام کر رہا تھا تو اِن لوگوں نے مجھے ہیکل میں دیکھا۔ مگر اُس وقت مَیں طہارت کی رسموں کے مطابق پاک ہو چُکا تھا اور نہ تو میرے ساتھ کوئی ہجوم تھا اور نہ ہی مَیں کوئی فساد برپا کر رہا تھا۔ لیکن صوبہ آسیہ کے کچھ یہودی وہاں تھے 19 جنہوں نے مجھ پر اِلزام لگایا۔ اگر اُن کو میرے خلاف کوئی شکایت ہے تو اُنہیں بھی یہاں موجود ہونا چاہیے تاکہ آپ کے سامنے مجھ پر اِلزام لگائیں۔ 20 یا پھر یہ آدمی جو یہاں موجود ہیں، بتائیں کہ جب مَیں عدالتِعظمیٰ کے سامنے پیش ہوا تھا تو میرا کیا جُرم نکلا تھا۔ 21 یہ مجھ پر صرف یہ اِلزام لگا سکتے ہیں کہ مَیں نے اِن کے سامنے کہا تھا کہ ”مجھ پر اِس لیے مُقدمہ چلایا جا رہا ہے کیونکہ مَیں مُردوں کے جی اُٹھنے پر ایمان رکھتا ہوں۔“ “
22 فیلکس، مالک کی راہ کے بارے میں بہت کچھ جانتا تھا اِس لیے اُس نے مُقدمہ ملتوی کرتے ہوئے کہا: ”جب کمانڈر لُوسیاس یہاں آئے گا تو مَیں اِس مُقدمے کا فیصلہ کروں گا۔“ 23 اُس نے فوجی افسر کو حکم دیا کہ پولُس کو حراست میں رکھا جائے لیکن تھوڑی بہت آزادی دی جائے اور اُن کے ساتھیوں کو اُن کی ضروریات پوری کرنے سے نہ روکا جائے۔
24 کچھ دن بعد فیلکس اپنی بیوی درُوسِلہ کے ساتھ آیا جو یہودی تھی۔ فیلکس نے پولُس کو بلوایا اور اُن سے مسیح یسوع کی تعلیمات کے بارے میں سنا۔ 25 لیکن جب پولُس نے اُسے نیکی، ضبطِنفس اور آنے والی عدالت کے بارے میں بتایا تو وہ خوفزدہ ہو گیا اور اُن سے کہنے لگا: ”فیالحال تُم جاؤ۔ لیکن جب مجھے موقع ملے گا تو مَیں دوبارہ تمہیں بلاؤں گا۔“ 26 وہ چاہتا تھا کہ پولُس اُسے رشوت دیں اِس لیے وہ بار بار اُنہیں بلاتا اور اُن سے بات کرتا۔ 27 لیکن جب دو سال گزر گئے تو فیلکس کی جگہ پُرکیُس فیستُس حاکم بن گیا اور چونکہ فیلکس یہودیوں کی خوشنودی حاصل کرنا چاہتا تھا اِس لیے اُس نے پولُس کو حراست میں رہنے دیا۔
25 جب فیستُس صوبے میں آیا تو عہدہ سنبھالنے کے تین دن بعد وہ قیصریہ سے یروشلیم گیا۔ 2 وہاں یہودیوں کے اعلیٰ کاہن اور بااثر لوگ اُس کے پاس آئے اور پولُس کے خلاف اِلزام عائد کرنے لگے۔ اُنہوں نے فیستُس سے اِلتجا کی کہ 3 وہ مہربانی کر کے پولُس کو یروشلیم بلوائے۔ دراصل اُن کا منصوبہ تھا کہ وہ راستے میں پولُس پر حملہ کر کے اُنہیں قتل کر دیں گے۔ 4 لیکن فیستُس نے جواب دیا: ”وہ قیصریہ میں ہی رہے گا۔ مَیں کچھ دنوں میں وہاں واپس جانے والا ہوں۔ 5 اگر اُس نے واقعی کوئی جُرم کِیا ہے تو آپ اپنے رہنماؤں کو میرے ساتھ بھیجیں تاکہ وہ اُس پر اِلزام عائد کر سکیں۔“
6 آٹھ دس دن وہاں رہنے کے بعد فیستُس قیصریہ گیا اور اگلے دن تختِعدالت پر بیٹھا۔ پھر اُس نے پولُس کو پیش کرنے کا حکم دیا۔ 7 جب پولُس کو لایا گیا تو یروشلیم سے آئے ہوئے یہودی اُن کے اِردگِرد کھڑے ہو گئے۔ اُنہوں نے پولُس پر بہت سے سنگین اِلزام لگائے مگر اِنہیں ثابت نہیں کر سکے۔
8 لیکن پولُس نے اپنی صفائی میں کہا: ”مَیں نے نہ یہودیوں کی شریعت کے خلاف، نہ ہیکل* کے خلاف اور نہ ہی قیصر کے خلاف کوئی گُناہ کِیا ہے۔“ 9 فیستُس یہودیوں کی خوشنودی حاصل کرنا چاہتا تھا۔ اِس لیے اُس نے پولُس سے کہا: ”کیا تُم یروشلیم جانا چاہتے ہو تاکہ وہاں میرے سامنے تُم پر مُقدمہ چلایا جائے؟“ 10 پولُس نے جواب دیا: ”مَیں قیصر کے تختِعدالت کے سامنے کھڑا ہوں۔ میرا مُقدمہ یہیں ہونا چاہیے۔ مَیں نے یہودیوں کے خلاف کچھ نہیں کِیا اور آپ کو بھی اِس بات کا بخوبی اندازہ ہے۔ 11 اگر مَیں نے واقعی کوئی غلط کام کِیا ہے یا کوئی ایسا جُرم کِیا ہے جس کی سزا موت ہے تو مَیں مرنے کے لیے تیار ہوں۔ لیکن اگر اِن آدمیوں کے اِلزامات میں کوئی سچائی نہیں تو کسی کو یہ حق نہیں کہ مجھے اِن کی خوشی کے لیے اِن کے حوالے کرے۔ مَیں قیصر سے اپیل کرتا ہوں!“ 12 فیستُس نے اپنے مشیروں سے مشورہ کِیا اور پھر پولُس سے کہا: ”تُم نے قیصر سے اپیل کی ہے؛ تُم قیصر کے پاس جاؤ گے۔“
13 کچھ دن بعد بادشاہ اگرِپا، برنیکے کے ساتھ فیستُس سے ملنے قیصریہ آیا۔ 14 وہ دونوں کچھ دن تک وہاں رہے۔ اِس لیے فیستُس نے پولُس کا مُقدمہ بادشاہ کے سامنے پیش کِیا۔ اُس نے کہا:
”یہاں ایک آدمی ہے جسے فیلکس حراست میں چھوڑ گیا ہے۔ 15 جب مَیں یروشلیم میں تھا تو یہودیوں کے اعلیٰ کاہن اور بزرگ میرے پاس آئے اور اُس پر اِلزام عائد کرنے لگے۔ وہ چاہتے تھے کہ مَیں اُسے سزاوار ٹھہراؤں۔ 16 لیکن مَیں نے اُنہیں جواب دیا کہ رومی قانون کے مطابق ملزم کو محض اُس کے مخالفوں کی خوشی کے لیے اُن کے حوالے نہیں کِیا جاتا بلکہ پہلے ملزم اور اُس کے مخالفوں کو بلایا جاتا ہے اور اُسے اپنی صفائی پیش کرنے کا موقع دیا جاتا ہے۔ 17 اِس لیے جب وہ یہاں پہنچے تو مَیں نے دیر نہیں کی بلکہ اگلے ہی دن تختِعدالت پر بیٹھا اور اُس آدمی کو لانے کا حکم دیا۔ 18 میرا خیال تھا کہ اُس نے کوئی بہت سنگین جُرم کِیا ہوگا۔ لیکن جب اُس کے مخالف اُس پر اِلزام لگانے کے لیے کھڑے ہوئے تو اُنہوں نے کسی ایسے جُرم کا ذکر نہیں کِیا۔ 19 اُن کا جھگڑا اُن کے مذہب اور یسوع نامی ایک آدمی کی وجہ سے تھا جو مر چُکا ہے لیکن پولُس دعویٰ کرتا ہے کہ وہ زندہ ہے۔ 20 مجھے سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ اِس جھگڑے کو کیسے ختم کروں اِس لیے مَیں نے پولُس سے پوچھا: ”کیا تُم یروشلیم جانا چاہتے ہو تاکہ تُم پر وہاں مُقدمہ چلایا جائے؟“ 21 لیکن پولُس نے اپیل کی کہ جب تک شہنشاہِاعظم اُس کا فیصلہ نہ سنائیں، اُسے حراست میں رہنے دیا جائے۔ اِس لیے مَیں نے حکم دیا کہ جب تک مَیں اُسے قیصر کے پاس نہ بھیجوں تب تک اُسے یہیں رکھا جائے۔“
22 پھر اگرِپا نے فیستُس سے کہا: ”مَیں بھی اُس آدمی کی بات سننا چاہتا ہوں۔“ فیستُس نے جواب دیا: ”کیوں نہیں؟ کل اُسے آپ کے سامنے پیش کِیا جائے گا۔“ 23 لہٰذا اگلے دن اگرِپا اور برنیکے بڑی دھوم دھام سے آئے اور فوجی کمانڈروں اور شہر کے بااثر آدمیوں کے ساتھ دربار میں داخل ہوئے۔ پھر فیستُس کے حکم پر پولُس کو پیش کِیا گیا۔ 24 فیستُس نے کہا: ”بادشاہ اگرِپا اور آپ سب جو یہاں موجود ہیں، آپ اُس آدمی کو دیکھ رہے ہیں جس کے خلاف یروشلیم میں اور یہاں بھی تمام یہودیوں نے چلّا چلّا کر مطالبہ کِیا ہے کہ اِسے سزائےموت دی جائے۔ 25 لیکن مجھے اندازہ ہو گیا کہ اِس آدمی نے کوئی ایسا کام نہیں کِیا کہ اِسے سزائےموت دی جائے۔ لہٰذا جب اِس آدمی نے شہنشاہِاعظم سے اپیل کی تو مَیں نے اِسے اُن کے پاس بھیجنے کا فیصلہ کِیا۔ 26 مگر مجھے سمجھ نہیں آ رہا کہ مَیں اپنے مالک کو اِس مُقدمے کے سلسلے میں کیا لکھوں۔ اِس لیے مَیں نے اِس آدمی کو آپ سب کے سامنے پیش کِیا ہے اور خاص طور پر آپ کے سامنے بادشاہ اگرِپا، تاکہ اِس سے تفتیش کرنے کے بعد مَیں اپنے مالک کو کچھ لکھ سکوں۔ 27 کیونکہ یہ مناسب نہیں کہ مَیں قیدی کو تو اُن کے پاس بھیجوں لیکن اُن کو اِس پر لگے اِلزامات سے آگاہ نہ کروں۔“
26 اگرِپا نے پولُس سے کہا: ”تمہیں اپنی صفائی پیش کرنے کی اِجازت ہے۔“ پولُس نے ہاتھ سے اِشارہ کِیا اور کہا:
2 ”بادشاہ اگرِپا، مَیں بہت خوش ہوں کہ مجھے آپ کے سامنے اُن اِلزامات کی صفائی پیش کرنے کا موقع ملا ہے جو یہودیوں نے مجھ پر لگائے ہیں 3 کیونکہ آپ یہودیوں کی روایتوں اور اِختلافات سے اچھی طرح واقف ہیں۔ لہٰذا مَیں آپ سے اِلتجا کرتا ہوں کہ میری بات سنیں۔
4 جو یہودی پہلے سے مجھ سے واقف ہیں، وہ اچھی طرح سے جانتے ہیں کہ مَیں نے بچپن سے اپنی قوم کے درمیان اور یروشلیم میں کس طرح کی زندگی گزاری ہے۔ 5 اُنہیں علم ہے کہ مَیں ایک فریسی تھا یعنی اُس فرقے سے تعلق رکھتا تھا جو ہمارے مذہب کی سختی سے پابندی کرتا ہے۔ اور اگر وہ چاہیں تو وہ اِس بات کی تصدیق کر سکتے ہیں۔ 6 مجھ پر اِس لیے مُقدمہ چلایا جا رہا ہے کیونکہ مجھے اُمید ہے کہ وہ وعدہ پورا ہوگا جو خدا نے ہمارے باپدادا سے کِیا تھا۔ 7 اور یہی اُمید ہمارے 12 قبیلوں کو بھی ہے اِسی لیے تو وہ دن رات لگن سے خدا کی خدمت کرتے ہیں۔ بادشاہ سلامت، اِسی اُمید کی بِنا پر یہودیوں نے مجھ پر اِلزامات عائد کیے ہیں۔
8 یہ بات آپ لوگوں کے لیے اِس قدر ناقابلِیقین کیوں ہے کہ خدا مُردوں کو زندہ کرے گا؟ 9 ایک زمانے میں میرا خیال تھا کہ مجھے ہر طرح سے یسوع ناصری کے نام کی مخالفت کرنی چاہیے۔ 10 اور مَیں نے یروشلیم میں بالکل یہی کِیا۔ مَیں نے بہت سے مُقدسوں کو قید کرایا کیونکہ مجھے اعلیٰ کاہنوں کی طرف سے ایسا کرنے کا اِختیار ملا تھا۔ اور جب اُن کو سزائےموت سنائی گئی تو مَیں نے اِس کے حق میں ووٹ دیا۔ 11 میری کوشش تھی کہ وہ اپنے ایمان سے پھر جائیں اِس لیے مَیں نے تمام عبادتگاہوں میں اُنہیں سزا دی۔ مجھے اُن پر اِتنا غصہ تھا کہ مَیں اُن کو اذیت پہنچانے کے لیے دوسرے شہروں میں بھی گیا۔
12 اِسی کام کے لیے مَیں دمشق جا رہا تھا کیونکہ اعلیٰ کاہنوں نے مجھے حکم اور اِختیار دیا تھا۔ 13 لیکن بادشاہ سلامت، پھر راستے میں دوپہر کے وقت میرے اور میرے ساتھیوں کے اِردگِرد آسمان سے ایسی روشنی چمکی جو سورج کی روشنی سے بھی زیادہ تیز تھی۔ 14 ہم سب زمین پر گِر گئے اور مجھے ایک آواز سنائی دی جس نے عبرانی زبان میں مجھ سے کہا: ”ساؤل، ساؤل، آپ مجھے اذیت کیوں پہنچا رہے ہیں؟ اگر آپ اُس لاٹھی* کو ٹھوکر مارتے رہیں گے جس سے آپ کو ہانکا جا رہا ہے تو آپ کو نقصان ہوگا۔“ 15 لیکن مَیں نے پوچھا: ”جناب، آپ کون ہیں؟“ اُس نے جواب دیا: ”مَیں یسوع ہوں جسے آپ اذیت پہنچا رہے ہیں۔ 16 اُٹھ کر اپنے پیروں پر کھڑے ہوں۔ مَیں آپ پر اِس لیے ظاہر ہوا ہوں کہ آپ کو خادم اور گواہ کے طور پر چُنوں اور یوں آپ کے ذریعے لوگوں کو وہ باتیں بتاؤں جو آپ نے میرے بارے میں دیکھی ہیں اور آئندہ بھی دیکھیں گے۔ 17 مَیں آپ کو اِس قوم اور اُن قوموں سے بچاؤں گا جن کے پاس مَیں آپ کو بھیج رہا ہوں 18 تاکہ آپ اُن کی آنکھیں کھولیں اور اُنہیں تاریکی سے روشنی میں لائیں اور شیطان کے اِختیار سے نکال کر خدا کی طرف لائیں۔ اِس طرح وہ گُناہوں کی معافی حاصل کر سکیں گے اور اُن لوگوں کے ساتھ وراثت پا سکیں گے جنہیں مجھ پر ایمان رکھنے کی وجہ سے مُقدس ٹھہرایا گیا ہے۔“
19 بادشاہ اگرِپا، مَیں نے اِس رُویا کو نظرانداز نہیں کِیا 20 بلکہ مَیں نے پہلے تو دمشق میں اور پھر یروشلیم اور سارے یہودیہ میں اور دوسری قوموں میں بھی یہ پیغام سنایا کہ لوگوں کو توبہ کرنی چاہیے اور خدا کی طرف آنے کے لیے ایسے کام کرنے چاہئیں جن سے ثابت ہو کہ اُنہوں نے توبہ کر لی ہے۔ 21 اِسی وجہ سے یہودیوں نے ہیکل* میں مجھے پکڑ لیا اور قتل کرنے کی کوشش کی۔ 22 لیکن مجھے خدا کی مدد حاصل ہے۔ اِس لیے مَیں آج تک چھوٹوں اور بڑوں سب کو اُن پیشگوئیوں کے بارے میں بتا رہا ہوں جو موسیٰ اور دوسرے نبیوں نے کی تھیں 23 کہ مسیح اذیت اُٹھائے گا اور مُردوں میں سے سب سے پہلے زندہ ہو کر اِس قوم اور دوسری قوموں کو روشنی کا پیغام دے گا۔“
24 پولُس اپنی صفائی میں یہ باتیں کہہ ہی رہے تھے کہ فیستُس نے اُونچی آواز میں کہا: ”پولُس، تمہارا دماغ خراب ہو گیا ہے! اِتنا زیادہ علم حاصل کر کے تُم پاگل ہو گئے ہو!“ 25 لیکن پولُس نے کہا: ”مُعزز فیستُس، میرا دماغ خراب نہیں ہے بلکہ مَیں سچائی اور سمجھداری کی باتیں کر رہا ہوں۔ 26 حقیقت تو یہ ہے کہ جس بادشاہ سے مَیں مخاطب ہوں، وہ اِن باتوں سے اچھی طرح واقف ہے بلکہ مجھے پورا یقین ہے کہ وہ اِن باتوں سے باخبر ہے کیونکہ یہ کسی کونے میں نہیں ہوئیں۔ 27 بادشاہ اگرِپا، کیا آپ نبیوں پر ایمان رکھتے ہیں؟ مَیں جانتا ہوں کہ آپ ایمان رکھتے ہیں۔“ 28 تب اگرِپا نے کہا: ”تُم تو تھوڑی سی دیر میں مجھے مسیحی بننے پر قائل کر لو گے۔“ 29 اِس پر پولُس نے کہا: ”چاہے تھوڑی دیر لگے یا زیادہ، میری دُعا ہے کہ نہ صرف آپ بلکہ وہ سب لوگ بھی جو میری باتیں سُن رہے ہیں، میری طرح بن جائیں لیکن اِن زنجیروں کے بغیر۔“
30 پھر بادشاہ کھڑا ہو گیا اور حاکم اور برنیکے اور اُن کے ساتھ بیٹھے دوسرے آدمی بھی کھڑے ہو گئے۔ 31 لیکن جب وہ دربار سے باہر جا رہے تھے تو وہ ایک دوسرے سے کہہ رہے تھے: ”اِس آدمی نے کوئی ایسا کام نہیں کِیا کہ اِسے قید میں ڈالا جائے یا سزائےموت دی جائے۔“ 32 اور اگرِپا نے فیستُس سے کہا: ”اگر اِس آدمی نے قیصر سے اپیل نہ کی ہوتی تو اِسے رِہا کِیا جا سکتا تھا۔“
27 جب یہ فیصلہ ہو گیا کہ ہمیں اِطالیہ بھیجا جائے گا تو اُنہوں نے پولُس اور کچھ اَور قیدیوں کو اوگوستُس کے دستے کے ایک فوجی افسر کے حوالے کِیا جس کا نام یُولیُس تھا۔ 2 ہم ایک جہاز پر سوار ہوئے جو ادرمتیُم سے آیا تھا اور صوبہ آسیہ کے ساحل کی بندرگاہوں کی طرف جا رہا تھا۔ ہمارے ساتھ ارِسترخس بھی تھے جو مقدونیہ کے شہر تھسلُنیکے سے تھے۔ 3 اگلے دن ہم صیدا پہنچے۔ یُولیُس نے پولُس پر مہربانی کر کے اُنہیں اُن کے دوستوں سے ملنے کی اِجازت دی جنہوں نے اُن کی خاطرتواضع کی۔
4 پھر جہاز وہاں سے روانہ ہوا اور ہم قبرص کی آڑ لیتے ہوئے آگے بڑھے کیونکہ ہوا ہمارے مخالف تھی۔ 5 ہم کِلکیہ اور پمفیلیہ سے گزر کر لوکیہ میں مورہ کی بندرگاہ پر اُترے۔ 6 وہاں فوجی افسر یُولیُس کو ایک جہاز ملا جو اِسکندریہ سے آ رہا تھا اور اِطالیہ جا رہا تھا اور اُس نے ہمیں اُس جہاز پر سوار ہونے کا حکم دیا۔ 7 پھر ہم کافی دنوں تک آہستہ آہستہ سفر کرتے ہوئے بڑی مشکل سے کنیدُس پہنچے۔ لیکن چونکہ ہوا کا رُخ ہمارے خلاف تھا اِس لیے ہم سلمونے سے گزر کر کرِیٹ کی آڑ لیتے ہوئے آگے بڑھے۔ 8 ہمارا جہاز بڑی مشکل سے ساحل کے ساتھ ساتھ چلتے ہوئے شہر لسیہ کے قریب ایک بندرگاہ پر پہنچا جس کا نام حسین بندرگاہ ہے۔
9 اِس دوران کافی وقت گزر چُکا تھا یہاں تک کہ یومِکفارہ کا روزہ* بھی گزر چُکا تھا اور اب سمندری سفر جاری رکھنا خطرناک تھا۔ لہٰذا پولُس نے مشورہ دیا کہ 10 ”بھائیو، اگر ہم سفر جاری رکھیں گے تو ہمیں بڑا نقصان اُٹھانا پڑے گا؛ نہ صرف مال اور جہاز کا بلکہ ہماری جانوں کا بھی۔“ 11 لیکن فوجی افسر نے پولُس کی بات سننے کی بجائے جہاز کے مالک اور کپتان کی بات مانی۔ 12 یہ بندرگاہ سردیاں گزارنے کے لیے مناسب نہیں تھی اِس لیے زیادہتر لوگوں نے مشورہ دیا کہ وہاں سے روانہ ہو کر فینِکس پہنچنے کی کوشش کی جائے تاکہ وہاں سردی کا موسم گزارا جا سکے۔ فینِکس کرِیٹ کی ایک بندرگاہ ہے جو شمال مشرق اور جنوب مشرق سے کُھلی ہے۔
13 جب جنوب کی طرف سے ہلکی ہلکی ہوا چلنے لگی تو ملاحوں نے سوچا کہ اب وہ فینِکس پہنچ جائیں گے۔ اِس لیے اُنہوں نے لنگر اُٹھا دیا اور کرِیٹ کے ساحل کے ساتھ ساتھ آگے بڑھنے لگے۔ 14 لیکن تھوڑی دیر بعد ایک دم سے شمال مشرق سے طوفانی ہوا چلنے لگی جسے یورکلون کہا جاتا ہے۔ 15 جہاز طوفان میں گِھر گیا اور ہمارے لیے ہوا کو چیر کر آگے بڑھنا مشکل ہو گیا۔ اِس لیے ہم نے ہار مان لی اور اِسے ہوا کے رُخ پر بہنے دیا۔ 16 پھر ہم نے ایک چھوٹے سے جزیرے کی آڑ لی جس کا نام کودہ ہے۔ لیکن پھر بھی ملاح مشکل سے ہی جہاز کے پچھلے حصے سے بندھی ڈونگی کو بچا پائے۔ 17 اُنہوں نے اِسے جہاز پر چڑھایا اور پھر جہاز کو زیادہ مضبوط بنانے کے لیے اِس کے اِردگِرد رسے باندھے۔ اُنہیں ڈر تھا کہ جہاز خلیجِسُورتِس* کی ریت میں دھنس جائے گا۔ اِس لیے اُنہوں نے بادبان کی رسیاں ڈھیلی کر دیں اور جہاز کو ہوا کے رُخ پر بہنے دیا۔ 18 طوفانی لہریں جہاز کو اِدھر اُدھر اُچھال رہی تھیں اِس لیے دوسرے دن اُنہوں نے جہاز کو ہلکا کرنے کے لیے مال سمندر میں پھینکنا شروع کِیا 19 اور تیسرے دن تو اُنہوں نے اپنے ہاتھوں سے بادبان کی رسیاں اور چرخیاں سمندر میں پھینک دیں۔
20 کافی دنوں تک سورج اور ستارے دِکھائی نہیں دیے اور طوفان کی شدت برقرار رہی۔ آخر ہم اُمید کا دامن ہاتھ سے چھوڑنے لگے۔ 21 جب لوگوں نے بہت دنوں تک کچھ نہیں کھایا تو پولُس کھڑے ہو گئے اور اُن سے کہا: ”بھائیو، اگر آپ میرا مشورہ مان لیتے اور کرِیٹ سے روانہ نہ ہوتے تو ہمیں اِتنا نقصان نہ اُٹھانا پڑتا۔ 22 بہرحال اب میرا مشورہ ہے کہ ہمت باندھیں کیونکہ آپ میں سے کسی کی جان نہیں جائے گی، صرف جہاز غرق ہوگا۔ 23 رات کو اُس خدا کا ایک فرشتہ میرے پاس آیا جس کی مَیں عبادت اور خدمت کرتا ہوں۔ 24 اُس نے مجھ سے کہا: ”پولُس، خوفزدہ نہ ہوں۔ آپ قیصر کے سامنے ضرور جائیں گے۔ اور دیکھیں، خدا آپ کی خاطر اُن لوگوں کو بچائے گا جو آپ کے ساتھ سفر کر رہے ہیں۔“ 25 لہٰذا بھائیو، ہمت باندھیں! کیونکہ مجھے پورا یقین ہے کہ خدا کی بات ضرور پوری ہوگی۔ 26 لیکن یہ طے ہے کہ ہمارا جہاز کسی جزیرے کے قریب غرق ہوگا۔“
27 چودہویں رات جب ہمارا جہاز بحیرۂادریہ میں ہچکولے کھا رہا تھا تو آدھی رات کو ملاحوں کو لگا کہ ہم خشکی کے قریب ہیں۔ 28 اِس لیے اُنہوں نے گہرائی ناپی اور یہ 120 فٹ* تھی۔ جب ہم تھوڑا اَور آگے بڑھے تو اُنہوں نے دوبارہ گہرائی ناپی اور یہ 90 (نوے) فٹ* تھی۔ 29 اُنہیں ڈر تھا کہ کہیں جہاز پانی کے نیچے چھپی چٹانوں سے نہ ٹکرا جائے اِس لیے اُنہوں نے جہاز کی پچھلی طرف سے چار لنگر ڈال دیے اور بےتابی سے صبح ہونے کا اِنتظار کرنے لگے۔ 30 لیکن پھر ملاح جہاز سے فرار ہونے کی کوشش کرنے لگے اور اِس بہانے ڈونگی کو سمندر میں اُتارنے لگے کہ وہ جہاز کے اگلی طرف لنگر ڈالنے جا رہے ہیں۔ 31 پولُس نے فوجی افسر اور باقی فوجیوں سے کہا: ”اگر یہ آدمی جہاز پر نہ رہے تو آپ میں سے کوئی بھی نہیں بچے گا۔“ 32 لہٰذا فوجیوں نے ڈونگی کے رسے کاٹ دیے اور اِسے سمندر میں گِرا دیا۔
33 جب صبح ہونے والی تھی تو پولُس نے سب کو سمجھایا کہ کچھ کھا لیں۔ اُنہوں نے کہا: ”دیکھیں، آج چودہواں دن ہے کہ آپ پریشانی کی حالت میں ہیں اور آپ نے کچھ نہیں کھایا۔ 34 لہٰذا کچھ کھا لیں کیونکہ اِس میں آپ کا فائدہ ہے۔ یقین مانیں، آپ کے ایک بال کو بھی نقصان نہیں پہنچے گا۔“ 35 اِس کے بعد اُنہوں نے روٹی لی، اُن سب کے سامنے خدا کا شکریہ ادا کِیا اور پھر اِسے توڑ کر کھانے لگے۔ 36 لہٰذا اُن سب کا حوصلہ بڑھا اور وہ بھی کھانا کھانے لگے۔ 37 جہاز پر کُل ملا کر 276 (دو سو چھہتر) لوگ* تھے۔ 38 جب اُنہوں نے پیٹ بھر کر کھانا کھا لیا تو اُنہوں نے جہاز کو ہلکا کرنے کے لیے گندم سمندر میں پھینک دی۔
39 صبح ہونے پر اُنہیں خشکی دِکھائی دی لیکن وہ اُس جگہ کو پہچان نہیں پائے۔ پھر اُنہیں ساحل پر ایک خلیج دِکھائی دی اور اُنہوں نے طے کِیا کہ وہ جہاز کو وہاں لے جانے کی کوشش کریں گے۔ 40 لہٰذا اُنہوں نے لنگر کاٹ کر سمندر میں گِرا دیے اور ساتھ ہی پتواروں کی رسیاں بھی ڈھیلی کر دیں۔ پھر اُنہوں نے سامنے والا بادبان چڑھایا اور ہوا کے زور پر ساحل کی طرف بڑھنے لگے۔ 41 آخر جہاز ایک ایسی جگہ پہنچا جہاں پانی کے نیچے ریت کا تودہ تھا اور اِس کا اگلا حصہ اُس ریت میں دھنس گیا جبکہ پچھلا حصہ طوفانی لہروں کے تھپیڑوں سے ٹکڑے ٹکڑے ہونے لگا۔ 42 یہ دیکھ کر فوجیوں نے فیصلہ کِیا کہ وہ قیدیوں کو مار ڈالیں گے تاکہ کوئی قیدی تیر کر فرار نہ ہو جائے۔ 43 لیکن فوجی افسر نے اُنہیں ایسا کرنے سے روکا کیونکہ وہ پولُس کو بچانا چاہتا تھا۔ اُس نے حکم دیا کہ پہلے وہ لوگ سمندر میں چھلانگ لگائیں جو تیر سکتے ہیں اور ساحل پر پہنچ جائیں 44 پھر باقی لوگ چھلانگ لگائیں اور جہاز کے تختوں اور دوسرے حصوں کو پکڑ کر ساحل تک پہنچ جائیں۔ آخر سب لوگ صحیح سلامت خشکی پر پہنچ گئے۔
28 جب ہم خشکی پر پہنچے تو ہمیں پتہ چلا کہ اِس جزیرے کا نام مالٹا ہے۔ 2 وہاں کے باشندے ہمارے ساتھ بڑی مہربانی سے پیش آئے۔ اُنہوں نے آگ جلائی اور ہم سب کی خاطرتواضع کی کیونکہ بارش ہو رہی تھی اور بہت سردی تھی۔ 3 پولُس نے بھی لکڑیوں کا ایک گٹھا جمع کِیا۔ اور جب وہ اِسے آگ پر رکھ رہے تھے تو تپش کی وجہ سے ایک زہریلا سانپ باہر نکلا اور اُن کے ہاتھ پر ڈس لیا۔ 4 جب مقامی لوگوں نے سانپ کو اُن کے ہاتھ سے لٹکے دیکھا تو وہ ایک دوسرے سے کہنے لگے: ”اِس آدمی نے ضرور کوئی قتل کِیا ہوگا۔ یہ سمندر سے تو بچ گیا لیکن اِنصاف* نے اِس کی جان نہیں بخشی۔“ 5 مگر پولُس نے اُس سانپ کو جھٹک کر آگ میں پھینک دیا اور اُنہیں کوئی نقصان نہیں ہوا۔ 6 وہ لوگ توقع کر رہے تھے کہ پولُس کا جسم پھول جائے گا یا وہ فوراً مر جائیں گے لیکن جب کافی دیر تک ایسا نہیں ہوا تو اُنہوں نے اپنی رائے بدل لی اور پولُس کے بارے میں کہنے لگے کہ وہ دیوتا ہیں۔
7 اُس جگہ کے آسپاس جزیرے کے حاکم پُبلیُس کی زمینیں تھیں۔ اُس نے ہمارا خیرمقدم کِیا اور تین دن تک ہماری خاطرتواضع کی۔ 8 اِتفاق سے پُبلیُس کا باپ بیمار تھا۔ اُسے بخار تھا اور پیچش لگے ہوئے تھے۔ پولُس نے اُس کے پاس جا کر دُعا کی اور اُس پر ہاتھ رکھے اور وہ ٹھیک ہو گیا۔ 9 اِس کے بعد جزیرے کے دوسرے بیمار لوگ بھی پولُس کے پاس آ کر شفا پانے لگے۔ 10 اُن لوگوں نے ہمیں بڑی عزت دی اور بہت سے تحفے بھی دیے۔ اور جب ہم وہاں سے روانہ ہو رہے تھے تو اُنہوں نے ہمیں بہت سی ایسی چیزوں سے لاد دیا جو سفر کے لیے ضروری تھیں۔
11 تین مہینے وہاں رہنے کے بعد ہم ایک جہاز پر سوار ہوئے جس پر زیوس کے بیٹوں کا نشان لگا تھا۔ یہ جہاز اِسکندریہ سے آیا تھا اور سردیاں کاٹنے کے لیے اِس جزیرے پر رُکا تھا۔ 12 جب ہم سِرکوسہ کی بندرگاہ پر پہنچے تو تین دن وہاں رہے۔ 13 وہاں سے ہم ریگیُم گئے۔ اِس کے ایک دن بعد جنوب کی طرف سے ہوا چلنے لگی اور دوسرے دن ہم پُتیولی پہنچ گئے۔ 14 وہاں ہمیں کچھ بہن بھائی مل گئے اور اُن کے اِصرار پر ہم سات دن تک اُن کے ساتھ رہے۔ اِس کے بعد ہم روم کے لیے روانہ ہوئے۔ 15 جب روم کے بھائیوں کو خبر ملی کہ ہم آ رہے ہیں تو وہ اپیُس کے بازار اور تین سرائے تک ہم سے ملنے آئے۔ پولُس نے اُن کو دیکھ کر خدا کا شکر کِیا اور حوصلہ پایا۔ 16 آخر جب ہم روم پہنچے تو پولُس کو ایک فوجی کی نگرانی میں کرائے کے مکان میں رہنے کی اِجازت مل گئی۔
17 تین دن بعد پولُس نے یہودیوں کے رہنماؤں کو اپنے پاس بلوایا۔ جب وہ آ گئے تو پولُس نے اُن سے کہا: ”بھائیو، مَیں نے ہماری قوم اور ہمارے باپدادا کی روایتوں کے خلاف کچھ نہیں کِیا۔ پھر بھی مجھے یروشلیم میں گِرفتار کر کے رومیوں کے حوالے کر دیا گیا۔ 18 تفتیش کرنے کے بعد وہ لوگ اِس نتیجے پر پہنچے کہ مجھے سزائےموت دینے کی کوئی وجہ نہیں ہے اِس لیے وہ مجھے رِہا کرنا چاہتے تھے۔ 19 جب یہودیوں نے اِس پر اِعتراض کِیا تو مَیں قیصر سے اپیل کرنے پر مجبور ہو گیا لیکن میرا مقصد اپنی قوم پر اِلزام عائد کرنا نہیں تھا۔ 20 مجھے بنیاِسرائیل کی اُمید کی وجہ سے اِن زنجیروں میں جکڑا گیا ہے۔ اور یہی بات بتانے کے لیے مَیں نے آپ لوگوں کو یہاں بلوایا ہے۔“ 21 اِس پر اُنہوں نے کہا: ”ہمیں تو آپ کے بارے میں یہودیہ سے کوئی خط نہیں ملا اور جو بھائی وہاں سے آئے ہیں، اُنہوں نے بھی آپ کے خلاف کچھ نہیں کہا۔ 22 لیکن ہم آپ کی بات سننا چاہتے ہیں کیونکہ جہاں تک اِس فرقے کا تعلق ہے، ہم جانتے ہیں کہ ہر جگہ اِس کے خلاف بولا جاتا ہے۔“
23 اُنہوں نے ملاقات کے لیے ایک دن مقرر کِیا اور اُس دن پہلے سے زیادہ یہودی، پولُس کے گھر آئے۔ پولُس نے صبح سے شام تک خدا کی بادشاہت کے بارے میں اچھی طرح سے گواہی دے کر اُن کو ساری باتیں سمجھائیں۔ اُنہوں نے موسیٰ کی شریعت اور نبیوں کے صحیفوں سے یسوع کے بارے میں دلیلیں دے کر اُن کو قائل کرنے کی کوشش کی۔ 24 کچھ لوگ اُن کی باتوں پر یقین کرنے لگے جبکہ دوسروں نے یقین نہیں کِیا۔ 25 چونکہ وہ لوگ آپس میں متفق نہیں تھے اِس لیے وہ وہاں سے جانے لگے۔ یہ دیکھ کر پولُس نے کہا:
”پاک روح نے یسعیاہ نبی کے ذریعے آپ کے باپدادا کے بارے میں بالکل صحیح کہا تھا کہ 26 ”اُن لوگوں کے پاس جاؤ اور اُن سے کہو: ”تُم سنو گے لیکن اِس کا مطلب نہیں سمجھو گے اور تُم دیکھو گے لیکن تمہیں دِکھائی نہیں دے گا۔ 27 اُن لوگوں کا دل سخت ہو گیا ہے؛ اُنہوں نے اپنی آنکھیں بند کر لی ہیں؛ جو کچھ وہ اپنے کانوں سے سنتے ہیں، اُسے اَنسنا کر دیتے ہیں۔ وہ نہ تو اپنی آنکھوں سے دیکھتے ہیں، نہ اپنے کانوں سے سنتے ہیں، نہ اپنے دل سے سمجھتے ہیں اور نہ ہی میری طرف لوٹتے ہیں ورنہ مَیں اُن کو شفا دیتا۔“ “ 28 لہٰذا جان لیں کہ خدا کی طرف سے نجات کا پیغام غیریہودیوں کے پاس بھیجا گیا ہے اور وہ اِسے ضرور قبول کریں گے۔“ 29 —*
30 پولُس دو سال تک اپنے کرائے کے گھر میں رہے۔ وہ اُن لوگوں سے بڑی خوشی سے ملتے جو اُن کے پاس آتے 31 اور دلیری سے بِلاروکٹوک اُنہیں خدا کی بادشاہت کے بارے میں بتاتے اور مالک یسوع مسیح کے بارے میں تعلیم دیتے۔
”الفاظ کی وضاحت“ کو دیکھیں۔
”الفاظ کی وضاحت“ کو دیکھیں۔
یونانی میں: ”جیسی زبانیں“
تقریباً صبح نو بجے
”الفاظ کی وضاحت“ کو دیکھیں۔
”الفاظ کی وضاحت“ کو دیکھیں۔
”الفاظ کی وضاحت“ کو دیکھیں۔
”الفاظ کی وضاحت“ کو دیکھیں۔
یونانی میں: ”میری جان“
یونانی لفظ: ”ہادس۔“ ”الفاظ کی وضاحت“ کو دیکھیں۔
یونانی لفظ: ”ہادس۔“ ”الفاظ کی وضاحت“ کو دیکھیں۔
”الفاظ کی وضاحت“ کو دیکھیں۔
”الفاظ کی وضاحت“ کو دیکھیں۔
یونانی میں: ”جانیں“
یونانی میں: ”جانوں“
یعنی خدا کا گھر
”الفاظ کی وضاحت“ کو دیکھیں۔
تقریباً دوپہر تین بجے
یعنی خدا کا گھر
”الفاظ کی وضاحت“ کو دیکھیں۔
”الفاظ کی وضاحت“ کو دیکھیں۔
یونانی میں: ”جان“
یعنی خدا کا گھر
”الفاظ کی وضاحت“ کو دیکھیں۔
یونانی میں: ”کونے کا سر“
اِس کا مطلب یہ ہے کہ اُنہوں نے یہودیوں کے مدرسے میں تعلیم نہیں پائی تھی۔
”الفاظ کی وضاحت“ کو دیکھیں۔
”الفاظ کی وضاحت“ کو دیکھیں۔
”الفاظ کی وضاحت“ کو دیکھیں۔
”الفاظ کی وضاحت“ کو دیکھیں۔
یا ”جماعت“
یونانی میں: ”ناپاک روحوں“
”الفاظ کی وضاحت“ کو دیکھیں۔
یعنی خدا کا گھر
یا ”درخت“
یا ”ذمےدار“
یا شاید ”اِضحاق نے بھی یعقوب کے ساتھ ایسا ہی کِیا“
یونانی میں: ”جانیں“
یا ”وہ خدا کی نظر میں خوبصورت“
”الفاظ کی وضاحت“ کو دیکھیں۔
”الفاظ کی وضاحت“ کو دیکھیں۔
یا ”بحرِقلزم“
”الفاظ کی وضاحت“ کو دیکھیں۔
یونانی میں: ”تمہارے دلوں اور کانوں کا ختنہ نہیں ہوا ہے۔“
یونانی میں: ”روح“
”الفاظ کی وضاحت“ کو دیکھیں۔
یا ”جماعت“
یا شاید ”سامریہ کے ایک شہر“
یونانی میں: ”ناپاک روحیں“
”الفاظ کی وضاحت“ کو دیکھیں۔
”الفاظ کی وضاحت“ کو دیکھیں۔
”الفاظ کی وضاحت“ کو دیکھیں۔
”الفاظ کی وضاحت“ کو دیکھیں۔
”الفاظ کی وضاحت“ کو دیکھیں۔
یا ”برّہ“
متی 17:21 کے فٹنوٹ کو دیکھیں۔
”الفاظ کی وضاحت“ کو دیکھیں۔
یا ”عبادتگاہوں“
یا ”جماعت“
”الفاظ کی وضاحت“ کو دیکھیں۔
یونانی نام ڈورکس اور ارامی نام تبیتا کا مطلب غزال ہے۔
ایک ایسا رومی دستہ جس میں 600 فوجی ہوتے تھے
ایک ایسا افسر جو 100 فوجیوں کا اِنچارج ہوتا تھا
تقریباً دوپہر تین بجے
تقریباً دوپہر بارہ بجے
یونانی میں: ”برتن“
یونانی میں: ”برتن“
تقریباً دوپہر تین بجے
”الفاظ کی وضاحت“ کو دیکھیں۔
”الفاظ کی وضاحت“ کو دیکھیں۔
یا ”درخت“
یونانی میں: ”برتن“
یونانی میں: ”وہ چپ رہے“
”الفاظ کی وضاحت“ کو دیکھیں۔
یا ”جماعت“
یا ”جماعت“
یا ”پطرس پر مُقدمہ چلانے“
”الفاظ کی وضاحت“ کو دیکھیں۔
”الفاظ کی وضاحت“ کو دیکھیں۔
”الفاظ کی وضاحت“ کو دیکھیں۔
”الفاظ کی وضاحت“ کو دیکھیں۔
”الفاظ کی وضاحت“ کو دیکھیں۔
یا ”جماعت“
”الفاظ کی وضاحت“ کو دیکھیں۔
”الفاظ کی وضاحت“ کو دیکھیں۔
”الفاظ کی وضاحت“ کو دیکھیں۔
”الفاظ کی وضاحت“ کو دیکھیں۔
یا ”قاضی“
یا ”درخت“
”الفاظ کی وضاحت“ کو دیکھیں۔
”الفاظ کی وضاحت“ کو دیکھیں۔
”الفاظ کی وضاحت“ کو دیکھیں۔
”الفاظ کی وضاحت“ کو دیکھیں۔
”الفاظ کی وضاحت“ کو دیکھیں۔
یا ”تاج“
یونانی میں: ”شاگردوں کی جانوں“
یا ”جماعت“
”الفاظ کی وضاحت“ کو دیکھیں۔
یا ”جماعت“
یا ”جھونپڑی؛ خیمے“
”الفاظ کی وضاحت“ کو دیکھیں۔
”الفاظ کی وضاحت“ کو دیکھیں۔
یا ”میری رائے“
یونانی لفظ: ”پورنیا۔“ ”الفاظ کی وضاحت“ کو دیکھیں۔
یعنی ایسے جانوروں کا گوشت جن کا خون نہ بہایا گیا ہو
یونانی میں: ”آپ کی جانوں“
یا ”خطرے میں ڈال دی ہیں۔“
یعنی ایسے جانوروں کا گوشت جن کا خون نہ بہایا گیا ہو
یونانی لفظ: ”پورنیا۔“ ”الفاظ کی وضاحت“ کو دیکھیں۔
متی 17:21 کے فٹنوٹ کو دیکھیں۔
”الفاظ کی وضاحت“ کو دیکھیں۔
”الفاظ کی وضاحت“ کو دیکھیں۔
”الفاظ کی وضاحت“ کو دیکھیں۔
یا ”جماعتیں“
یا ”رنگ“
”الفاظ کی وضاحت“ کو دیکھیں۔
”الفاظ کی وضاحت“ کو دیکھیں۔
یونانی میں: ”روح“
”الفاظ کی وضاحت“ کو دیکھیں۔
یا ”ہم پر مُقدمہ چلائے بغیر“
یا ”آپ زیادہ مذہبی ہیں۔“
یعنی عبادتگاہ
”الفاظ کی وضاحت“ کو دیکھیں۔
یا ”جماعت“
”الفاظ کی وضاحت“ کو دیکھیں۔
یونانی میں: ”بُری روحیں“
”الفاظ کی وضاحت“ کو دیکھیں۔
یا ”اِس میں جان ہے۔“
یونانی میں: ”روٹی توڑی“
یا ”جماعت“
یا ”ترغیب دی“
یا ”عظیم رحمت کے کلام“
یونانی میں: ”ہم چپ ہو گئے“
”الفاظ کی وضاحت“ کو دیکھیں۔
یعنی ایسے جانوروں کا گوشت جن کا خون نہ بہایا گیا ہو
یونانی لفظ: ”پورنیا۔“ ”الفاظ کی وضاحت“ کو دیکھیں۔
یعنی خدا کا گھر
یعنی خدا کا گھر
یونانی میں: ”سفیدی پھری ہوئی دیوار“
تقریباً رات نو بجے
یونانی میں: ”وبا“
یعنی خدا کا گھر
متی 17:21 کے فٹنوٹ کو دیکھیں۔
یونانی میں: ”اُمید“
یعنی خدا کا گھر
یا ”آنکڑا؛ آنکس“
یعنی خدا کا گھر
یہ روزہ ستمبر یا اکتوبر میں ہوتا تھا جس کے بعد بارشیں اور طوفان شروع ہو جاتے تھے۔
”الفاظ کی وضاحت“ کو دیکھیں۔
یونانی میں: ”20 اورگیا“
یونانی میں: ”15 اورگیا“
یونانی میں: ”جانیں“
یونانی لفظ: ”دِیکے۔“ یہ لفظ اِنصاف کی دیوی کی طرف بھی اِشارہ کر سکتا ہے۔
متی 17:21 کے فٹنوٹ کو دیکھیں۔