یہوواہ کے گواہوں کی آن لائن لائبریری
یہوواہ کے گواہوں کی
آن لائن لائبریری
اُردو
  • بائبل
  • مطبوعات
  • اِجلاس
  • qbwji مضمون 159
  • کیا جانور آسمان پر جاتے ہیں؟‏

اِس حصے میں کوئی ویڈیو دستیاب نہیں ہے۔

ہم معذرت خواہ ہیں کہ ویڈیو لوڈ نہیں ہو سکی۔

  • کیا جانور آسمان پر جاتے ہیں؟‏
  • پاک کلام سے متعلق سوال و جواب
  • ذیلی عنوان
  • ملتا جلتا مواد
  • پاک کلام کا جواب
  • مرنے کے بعد جانوروں کے ساتھ کیا ہوتا ہے؟‏
  • کیا جانور گُناہ کرتے ہیں؟‏
  • کیا جانوروں پر ظلم کرنا جائز ہے؟‏
  • سوالات از قارئین
    مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏2003ء
  • روح اور جان کے بارے میں پاک صحائف کی تعلیم
    پاک صحائف کی تعلیم حاصل کریں
پاک کلام سے متعلق سوال و جواب
qbwji مضمون 159
ایک کُتا

کیا جانور آسمان پر جاتے ہیں؟‏

پاک کلام کا جواب

پاک کلام میں بتایا گیا ہے کہ زمین پر موجود تمام جان‌داروں میں سے صرف اِنسانوں کی ایک مخصوص تعداد آسمان پر جائے گی۔ (‏مکاشفہ 14:‏1،‏ 3‏)‏ وہ اِس لیے آسمان پر جائیں گے تاکہ وہ یسوع مسیح کے ساتھ بادشاہوں اور کاہنوں کے طور پر حکمرانی کر سکیں۔ (‏لُوقا 22:‏28-‏30؛‏ مکاشفہ 5:‏9، 10‏)‏ زیادہ‌تر اِنسانوں کو زمین پر زندہ کِیا جائے گا تاکہ وہ زمین پر فردوس میں زندگی حاصل کریں۔—‏زبور 37:‏29‏۔‏

پاک کلام میں کسی ایسے آسمان کا ذکر نہیں کِیا گیا جہاں پالتو جانور جاتے ہیں۔ اور یہ مناسب بھی ہے کیونکہ جانور وہ اِقدام نہیں اُٹھا سکتے جو ”‏آسمانی بلا‌وے“‏ کے لائق ٹھہرنے کے لیے ضروری ہیں۔ (‏عبرانیوں 3:‏1‏)‏ اِن اِقدام میں خدا اور یسوع مسیح کو قریب سے جاننا، اُن پر ایمان ظاہر کرنا اور خدا کے حکموں پر عمل کرنا شامل ہے۔ (‏متی 19:‏17؛‏ یوحنا 3:‏16؛‏ 17:‏3‏)‏ صرف اِنسانوں کو ہی ہمیشہ زندہ رہنے کے لیے بنایا گیا تھا۔—‏پیدایش 2:‏16، 17؛‏ 3:‏22، 23‏۔‏

آسمان پر جانے کے لیے یہ ضروری ہے کہ زمین پر رہنے والی مخلوقات مریں اور پھر زندہ ہوں۔ (‏1-‏کُرنتھیوں 15:‏42‏)‏ پاک کلام میں چند ایسے واقعات کا ذکر ہے جن میں اِنسانوں کو زندہ کِیا گیا مگر ایسا کوئی واقعہ درج نہیں جس میں کسی جانور کو زندہ کِیا گیا ہو۔—‏1-‏سلاطین 17:‏17-‏24؛‏ 2-‏سلاطین 4:‏32-‏37؛‏ 13:‏20، 21؛‏ لُوقا 7:‏11-‏15؛‏ 8:‏41، 42،‏ 49-‏56؛‏ یوحنا 11:‏38-‏44؛‏ اعمال 9:‏36-‏42؛‏ 20:‏7-‏12‏۔‏

  • مرنے کے بعد جانوروں کے ساتھ کیا ہوتا ہے؟‏

  • کیا جانور گُناہ کرتے ہیں؟‏

  • کیا جانوروں پر ظلم کرنا جائز ہے؟‏

مرنے کے بعد جانوروں کے ساتھ کیا ہوتا ہے؟‏

پاک کلام میں بتایا گیا ہے کہ اِنسان اور جانور دونوں ’‏جان‌دار‘‏ ہیں۔ لہٰذا ایک لحاظ سے اِنسان اور جانور ایک جیسے ہیں کیونکہ دونوں”‏زمین کی مٹی“‏ سے بنے ہیں اور دونوں میں ”‏زندگی کا دم“‏ موجود ہے۔—‏پیدایش 1:‏24؛‏ 2:‏7؛‏ گنتی 31:‏28۔‏

پاک کلام میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ اِنسان اور جانور مر تے ہیں اور مرنے کے بعد ”‏خاک سے جا ملتے ہیں۔“‏ (‏خروج 19:‏13؛‏ واعظ 3:‏19، 20‏)‏ دوسرے لفظوں میں کہیں تو مرنے کے بعد اُن کا وجود بالکل ختم ہو جاتا ہے۔‏a

کیا جانور گُناہ کرتے ہیں؟‏

نہیں۔ گُناہ کرنے کا مطلب کچھ بھی ایسا کرنا، سوچنا یا محسوس کرنا ہے جو خدا کے حکموں کے خلاف ہو۔ گُناہ وہی مخلوق کر سکتی ہے جس میں صحیح اور غلط میں فرق کرنے کی صلاحیت ہو اور جانوروں میں یہ صلاحیت نہیں ہوتی۔ جانور اپنی محدود زندگی کے دوران عام طور پر اپنی فطرت کے مطابق عمل کرتے ہیں۔ (‏2-‏پطرس 2:‏12‏)‏ حالانکہ جانور گُناہ نہیں کرتے مگر پھر بھی جب اُن کی زندگی کی مُدت ختم ہو جاتی ہے تو وہ مر جاتے ہیں۔‏

کیا جانوروں پر ظلم کرنا جائز ہے؟‏

نہیں۔ خدا نے اِنسانوں کو جانوروں پر اِختیار تو دیا ہے مگر یہ حق نہیں دیا کہ وہ جانوروں سے بدسلوکی کریں۔ (‏پیدایش 1:‏28؛‏ زبور 8:‏6-‏8‏)‏ خدا کو تمام جانوروں، یہاں تک کہ چھوٹے پرندوں کی بھی فکر ہے۔ (‏یُوناہ 4:‏11؛‏ متی 10:‏29‏)‏ اُس نے اپنے بندوں کو یہ حکم دیا کہ وہ جانوروں کے ساتھ نرمی سے پیش آئیں۔—‏خروج 23:‏12؛ اِستثنا 25:‏4؛‏ امثال 12:‏10‏۔‏

جانوروں کے بارے میں پاک کلام کی کچھ آیتیں

پیدایش 1:‏28‏:‏ ”‏خدا نے [‏آدم اور حوا]‏ کو برکت دی اور کہا کہ پھلو اور بڑھو اور زمین کو معمورومحکوم کرو اور سمندر کی مچھلیوں اور ہوا کے پرندوں اور کُل جانوروں پر جو زمین پر چلتے ہیں اِختیار رکھو۔“‏

مطلب:‏ خدا نے اِنسانوں کو جانوروں پر اِختیار دیا ہے۔‏

واعظ 3:‏19، 20‏:‏ ”‏جو کچھ بنی‌آدم پر گذرتا ہے وہی حیوان پر گذرتا ہے۔ ایک ہی حادثہ دونوں پر گذرتا ہے جس طرح یہ مرتا ہے اُسی طرح وہ مرتا ہے۔ ہاں سب میں ایک ہی سانس ہے اور اِنسان کو حیوان پر کچھ فوقیت نہیں کیونکہ سب بطلان ہے۔ سب کے سب ایک ہی جگہ جاتے ہیں۔ سب کے سب خاک سے ہیں اور سب کے سب پھر خاک سے جا ملتے ہیں۔“‏

مطلب:‏ اِنسان اور جانور دونوں مرنے کے بعد خاک سے جا ملتے ہیں۔‏

امثال 12:‏10‏:‏ ”‏صادق اپنے چوپائے کی جان کا خیال رکھتا ہے۔“‏

مطلب:‏ اچھے لوگ اپنے پالتو جانوروں اور دوسرے جانوروں کا خیال رکھتے ہیں۔‏

متی 10:‏29‏:‏ ”‏کیا دو چڑیاں ایک پیسے کی نہیں بکتیں؟ لیکن اگر اُن میں سے ایک بھی زمین پر گِر جائے تو آپ کے آسمانی باپ کو خبر ہو جاتی ہے۔“‏

مطلب:‏ خدا کو تمام جانوروں، یہاں تک کہ چھوٹے پرندوں کی بھی فکر ہے۔‏

a مزید معلومات کے لیے کتاب ‏”‏پاک کلام کی تعلیم حاصل کریں“‏ کے باب نمبر 6 کو دیکھیں۔‏

    اُردو زبان میں مطبوعات (‏2026-‏2000)‏
    لاگ آؤٹ
    لاگ اِن
    • اُردو
    • شیئر کریں
    • ترجیحات
    • Copyright © 2026 Watch Tower Bible and Tract Society of Pennsylvania
    • اِستعمال کی شرائط
    • رازداری کی پالیسی
    • رازداری کی سیٹنگز
    • JW.ORG
    • لاگ اِن
    شیئر کریں