یہوواہ کے گواہ اُن لوگوں کے ساتھ کیسے پیش آتے ہیں جو اب اُن کی کلیسیا کا حصہ نہیں ہیں؟
ہم سب کے ساتھ پیار اور عزت سے پیش آنے کی پوری کوشش کرتے ہیں۔ اگر کوئی یہوواہ کا گواہ پہلے کی طرح یہوواہ کی عبادت نہیں کر رہا یا اُس نے عبادتوں میں آنا چھوڑ دیا ہے تو ہم اُس سے مل کر اُسے بتاتے ہیں a کہ ہم اُس سے بہت پیار کرتے ہیں اور اُس کی مدد کرنے کی کوشش کرتے ہیں تاکہ وہ دوبارہ سے یہوواہ کے ساتھ اپنی دوستی کو مضبوط کر سکے۔—لُوقا 15:4-7۔
کبھی کبھار یہوواہ کا ایک گواہ بپتسمہ لینے کے بعد کوئی ایسا کام کرتا ہے جس کی وجہ سے اُسے کلیسیا سے نکالا جا سکتا ہے۔ (1-کُرنتھیوں 5:13) لیکن پھر بھی ہم اپنے اُس ہمایمان سے بہت پیار کرتے ہیں۔ اِس لیے ہم اُس کی مدد کرنے کی کوشش کرتے ہیں تاکہ اُسے کلیسیا سے نکالا نہ جائے۔ ہم بائبل کی اِس نصیحت پر عمل کرتے ہیں کہ اگر کسی کو کلیسیا سے نکال بھی دیا جائے تو بھی ہمیں اُس سے پیار اور عزت سے پیش آنا چاہیے۔— مرقس 12:31؛ 1-پطرس 2:17۔
کس وجہ سے ایک شخص کو کلیسیا سے نکالا جا سکتا ہے؟
پاک کلام میں صاف صاف لکھا ہے کہ اگر ایک مسیحی کوئی سنگین گُناہ کرتا ہے اور توبہ نہیں کرتا تو اُسے کلیسیا سے نکال دیا جانا چاہیے۔ b (1-کُرنتھیوں 5:11-13) پاک کلام میں واضح طور پر بتایا گیا ہے کہ جنسی بدکاری،چوری، قتل، حد سے زیادہ شراب پینا، اپنے گھر والوں کو مارنا پیٹنا اور اِن جیسے اَور کام کرنا بہت سنگین گُناہ ہیں۔—1-کُرنتھیوں 6:9، 10؛ گلتیوں 5:19-21؛ 1-تیمُتھیُس 1:9، 10۔
لیکن اگر ایک شخص کوئی سنگین گُناہ کرتا ہے تو اِس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ اُسے فوراً کلیسیا سے نکال دیا جاتا ہے۔ کلیسیا کے بزرگ c اُس شخص کی مدد کرنے کی کوشش کرتے ہیں تاکہ وہ اپنی سوچ اور کاموں کو بدلے۔ (رومیوں 2:4) وہ بڑے پیار، عزت اور نرمی کے ساتھ گُناہ کرنے والے شخص کے دل تک پہنچنے کی کوشش کرتے ہیں۔ (گلتیوں 6:1) ایسا کرنے سے ہو سکتا ہے کہ اُس شخص کو اپنی غلطی کا احساس ہو جائے اور وہ توبہ کر لے۔ (2-تیمُتھیُس 2:24-26) بزرگ بار بار گُناہ کرنے والے شخص کی مدد کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ لیکن اگر پھر بھی وہ شخص بائبل میں دیے گئے اصولوں کے مطابق اپنی زندگی نہیں گزارنا چاہتا اور توبہ نہیں کرتا تو اُسے کلیسیا سے نکال دیا جانا چاہیے۔ اِس کے بعد بزرگ کلیسیا کے سامنے اِعلان کرتے ہیں کہ اب سے وہ شخص یہوواہ کا گواہ نہیں ہے۔
کلیسیا کے بزرگ بڑے پیار، عزت اور نرمی سے گُناہ کرنے والے شخص کے دل تک پہنچنے کی کوشش کرتے ہیں۔
جو شخص اپنے گُناہ سے توبہ نہیں کرتا اُسے کلیسیا سے کیوں نکال دیا جاتا ہے؟ ایک وجہ یہ ہے کہ خدا چاہتا ہے کہ کلیسیا کے سب لوگ اُس کے پاک اصولوں کے مطابق زندگی گزاریں۔ لیکن اگر گُناہ کرنے والا شخص کلیسیا میں رہے گا تو اُس کے اثر میں آ کر دوسرے لوگ بھی گُناہ کرنے کے خطرے میں پڑ سکتے ہیں۔ (1-کُرنتھیوں 5:6؛ 15:33؛ 1-پطرس 1:16) اِس کے علاوہ جب کسی شخص کو کلیسیا سے نکال دیا جاتا ہے تو شاید اُسے اپنے گُناہ کا احساس ہو اور وہ اپنے غلط کام کو چھوڑنے کا فیصلہ کرے۔— عبرانیوں 12:11۔
یہوواہ کے گواہ اُن لوگوں کے ساتھ کیسے پیش آتے ہیں جنہیں کلیسیا سے نکال دیا گیا ہے؟
پاک کلام میں لکھا ہے کہ مسیحیوں کو اُس شخص کے ساتھ ”اُٹھنا بیٹھنا بالکل چھوڑ“ دینا چاہیے جسے کلیسیا سے نکال دیا گیا ہے، یہاں تک کہ اُس کے ساتھ ’کھانا تک نہیں‘ کھانا چاہیے۔ (1-کُرنتھیوں 5:11)اِس لیے ہم اُس شخص کے ساتھ اُٹھتے بیٹھتے نہیں ہیں جسے کلیسیا سے نکال دیا گیا ہے۔ لیکن اِس کا مطلب یہ نہیں کہ ہم اُس شخص کو نظرانداز کرتے ہیں۔ہم اُس کے ساتھ عزت سے پیش آتے ہیں، وہ ہماری عبادتوں میں آ سکتا ہے اور اگر ایک یہوواہ کا گواہ چاہے تو وہ اُس شخص کو سلام کر سکتا ہے۔d اگر وہ شخص کلیسیا میں واپس آنا چاہتا ہے تو اُسے بزرگوں سے مدد مانگنی چاہیے۔
جن لوگوں کو کلیسیا سے نکال دیا گیا ہے، وہ بھی ہماری عبادتوں میں آ سکتے ہیں۔
لیکن ایک ایسے شخص کے بارے میں کیا کہا جا سکتا ہے جسے کلیسیا سے نکال دیا گیا ہے لیکن اُس کا جیون ساتھی اور اُس کے چھوٹے بچے ابھی بھی یہوواہ کے گواہ ہیں؟ حالانکہ وہ شخص اب اپنے گھر والوں کے ساتھ مل کر یہوواہ کی عبادت نہیں کرتا لیکن ابھی بھی وہ ایک گھرانہ ہے۔وہ پہلے کی طرح ہی ایک گھر میں ایک گھرانے کی طرح مل جل کر رہتے ہیں۔
جس شخص کو کلیسیا سے نکال دیا جاتا ہے، وہ درخواست کر سکتا ہے کہ بزرگ اُس سے ملنے کے لیے آئیں۔ بزرگ بڑے پیار سے پاک کلام سے اُسے نصیحت کرتے ہیں اور اُسے حوصلہ دیتے ہیں کہ وہ توبہ کرے اور دوبارہ سے خدا کی مرضی کے مطابق زندگی گزارے۔ (زکریاہ 1:3) اگر وہ شخص گُناہ کرنا چھوڑ دیتا ہے اور اپنے کاموں سے ثابت کرتا ہے کہ وہ واقعی پاک کلام میں دیے گئے اصولوں کے مطابق زندگی گزارنا چاہتا ہے تو وہ دوبارہ سے کلیسیا کا حصہ بن سکتا ہے۔ کلیسیا کے بہن بھائی اُس شخص کو ”معاف“ کر دیتے ہیں اور اُسے ”تسلی“ دیتے ہیں بالکل ویسے ہی جیسے شہر کُرنتھس کی کلیسیا کے مسیحیوں نے اُس شخص کو معاف کر دیا تھا جس نے اپنے گُناہ سے توبہ کر لی تھی۔—2-کُرنتھیوں 2:6-8۔
وہ لوگ جنہیں کلیسیا سے نکال دیا گیا تھا واپس آ کر کیسا محسوس کرتے ہیں ؟
ذرا غور کریں کہ کچھ یہوواہ کے گواہ جنہیں کلیسیا سے نکال دیا گیا تھا اور اُنہوں نے فیصلہ کِیا کہ وہ دوبارہ سے یہوواہ کی خدمت کرنا چاہتے ہیں، وہ اِس حوالے سے کیا کہتے ہیں۔
”مَیں کافی سالوں تک کلیسیا سے دُور رہی۔ جب مَیں نے واپس آنے کا فیصلہ کِیا تو مجھے لگتا تھا کہ بزرگ مجھ سے پوچھیں گے کہ اِس عرصے کے دوران مَیں کیا کر رہی تھی۔ لیکن بزرگوں نے مجھ سے کہا: ”ہم آپ کا حوصلہ بڑھانا چاہتے ہیں کہ آپ یہوواہ کی خدمت میں آگے بڑھیں۔“ یہ سن کر مَیں بہت پُرسکون ہو گئی۔“—ماریہ، ریاستہائے متحدہ امریکہ۔
”جب مَیں کلیسیا میں واپس آیا تو بہن بھائی بہت خوش تھے۔ مَیں محسوس کر سکتا تھا کہ بہن بھائی میری کتنی قدر کرتے ہیں۔ اُنہوں نے مجھے دل سے معاف کر دیا اور میری مدد کی تاکہ مَیں یہوواہ کی خدمت میں آگے بڑھوں۔ بزرگ ہمیشہ میری مدد کرنے کے لیے تیار رہتے تھے تاکہ مَیں یہوواہ کے ساتھ اپنی دوستی کو دوبارہ سے مضبوط کر سکوں۔ اُنہوں نے مجھے تسلی دی اور یہ دیکھنے میں میری مدد کی کہ یہوواہ مجھ سے بہت پیار کرتا ہے اور میری بڑی قدر کرتا ہے۔“—میلکم، سیرا لیون۔
”مَیں اِس بات کے لیے بہت شکرگزار ہوں کہ یہوواہ چاہتا ہے کہ کلیسیا پاک صاف رہے۔ یہ اِس بات کا ثبوت ہے کہ وہ اپنے بندوں سے بہت پیار کرتا ہے۔ شاید کچھ لوگ سوچیں کہ یہوواہ کے گواہ بڑے سخت ہیں کیونکہ وہ گُناہ سے توبہ نہ کرنے والے شخص کو کلیسیا سے نکال دیتے ہیں۔ لیکن اصل میں ایسا کرنا بالکل صحیح اور ضروری ہوتا ہے اور اِس سے سب کو فائدہ ہوتا ہے۔ مَیں اِس بات کے لیے بڑی شکرگزار ہوں کہ ہمارا آسمانی باپ یہوواہ پیار کرنے والا اور معاف کرنے والا خدا ہے۔“—سینڈی، ریاستہائے متحدہ امریکہ۔
a اِس مضمون میں لکھی باتیں عورتوں اور مردوں دونوں پر لاگو ہوتی ہیں۔
b پہلے ہم اُن لوگوں کو جو اپنے سنگین گُناہوں سے توبہ نہیں کرتے تھے کلیسیا سے خارجشُدہ کہتے تھے۔ لیکن اب ہم ایسے لوگوں کے بارے میں یہ کہتے ہیں کہ اُنہیں کلیسیا سے نکال دیا گیا ہے۔
c بزرگ ایسے آدمیوں کو مقرر کِیا جاتا ہے جو پُختہ مسیحی ہیں۔ وہ پاک کلام سے تعلیم دیتے ہیں، یہوواہ کے بندوں کی دیکھبھال کرتے ہیں، اُن کی مدد کرتے ہیں اور اُن کا حوصلہ بڑھاتے ہیں۔ اُنہیں اِس کام کے لیے پیسے نہیں ملتے۔—1-پطرس 5:1-3۔
d کچھ معاملوں میں ہو سکتا ہے کہ ایک شخص نہ صرف کلیسیا کو چھوڑنے کا فیصلہ کرے بلکہ ایسے کام بھی کرے جس سے کلیسیا کو نقصان پہنچے اور دوسرے لوگ بےحوصلہ ہو جائیں یا ہو سکتا ہے کہ وہ کلیسیا میں غلط کاموں کو بڑھاوا دے۔ اگر ایک شخص ایسے کرتا ہے تو ہم بائبل کے اِس حکم پر عمل کرتے ہیں کہ ایسے شخص کو ”سلام“ نہ کریں۔—2-یوحنا 9-11۔