مطالعے کا مضمون نمبر 34
گیت نمبر 107: محبت کی راہ
کلیسیا کے بزرگ گُناہ کرنے والے شخص کے لیے محبت اور رحم کیسے دِکھا سکتے ہیں؟
”خدا اِتنا مہربان ہے کہ وہ آپ کو توبہ کرنے پر مائل کر رہا ہے۔“—روم 2:4۔
غور کریں کہ . . .
بزرگ کلیسیا میں اُن لوگوں کی مدد کرنے کی کوشش کیسے کرتے ہیں جن سے کوئی سنگین گُناہ ہو جاتا ہے۔
1. سنگین گُناہ کرنے والے کچھ لوگوں کے ساتھ کیا ہو سکتا ہے؟
پچھلے مضمون میں ہم نے دیکھا تھا کہ جب کُرنتھس کی کلیسیا میں ایک شخص نے سنگین گُناہ کِیا تھا تو پولُس رسول نے اُس کلیسیا کو اِس معاملے کو حل کرنے کے لیے کیا ہدایت دی تھی۔ گُناہ کرنے والے اُس شخص نے توبہ نہیں کی تھی جس کی وجہ سے اُسے کلیسیا سے نکال دیا گیا تھا۔ لیکن جیسے کہ ہماری مرکزی آیت میں بتایا گیا ہے، خدا گُناہ کرنے والے شخص کو توبہ کرنے پر مائل کر سکتا ہے۔ (روم 2:4) کلیسیا کے بزرگ اُس شخص کی توبہ کرنے میں مدد کیسے کر سکتے ہیں؟
2-3. (الف)ہمیں اُس وقت کیا کرنا چاہیے جب ہمیں پتہ چلتا ہے کہ ہمارے کسی ہمایمان نے سنگین گُناہ کِیا ہے؟ (ب)ہمیں ایسا کیوں کرنا چاہیے؟
2 بزرگ گُناہ کرنے والے شخص کی تبھی مدد کر سکتے ہیں جب اُنہیں پتہ ہوگا کہ اُس نے سنگین گُناہ کِیا ہے۔ تو اگر ہمیں پتہ چلتا ہے کہ ہمارے کسی ہمایمان نے سنگین گُناہ کِیا ہے جس کی وجہ سے اُسے کلیسیا سے نکالا جا سکتا ہے تو ہمیں کیا کرنا چاہیے؟ ہمیں اُس کی حوصلہافزائی کرنی چاہیے کہ وہ بزرگوں کو اپنے گُناہ کے بارے میں بتائے۔—یسع 1:18؛ اعما 20:28؛ 1-پطر 5:2۔
3 لیکن اگر گُناہ کرنے والا شخص ایسا نہیں کرتا تو پھر ہمیں کیا کرنا چاہیے؟ ہمیں خود بزرگوں کے پاس جا کر اُنہیں اِس کے بارے میں بتانا چاہیے تاکہ وہ اُس شخص کی مدد کر سکیں۔ ایسا کرنے سے ہم اپنے اُس ہمایمان کے لیے محبت دِکھا رہے ہوں گے کیونکہ ہم اُسے کھونا نہیں چاہتے۔ اگر گُناہ کرنے والا شخص اپنی بُری راہ کو نہیں چھوڑتا تو یہوواہ کے ساتھ اُس کی دوستی ٹوٹ سکتی ہے۔ اِس کے علاوہ اُس کی وجہ سے یہوواہ اور اُس کے بندوں کا نام خراب ہو سکتا ہے۔ اِس لیے ہمیں یہوواہ اور گُناہ کرنے والے شخص سے محبت کرنے کی وجہ سے دلیری سے بزرگوں کو اُس شخص کے گُناہ کے بارے میں بتانا چاہیے۔—زبور 27:14۔
بزرگ سنگین گُناہ کرنے والے شخص کی مدد کیسے کرتے ہیں؟
4. جب بزرگ سنگین گُناہ کرنے والے شخص سے ملنے کے لیے جائیں گے جو وہ کیا کرنے کی کوشش کریں گے؟
4 جب کلیسیا میں کوئی شخص سنگین گُناہ کرتا ہے تو بزرگوں کی جماعت تین بزرگوں کو چُنے گی جو ایک کمیٹیaکے طور پر اُس شخص سے ملنے جائیں گے۔ یہ بزرگ خاکساری سے کام لیں گے۔ وہ یہ بات ذہن میں رکھیں گے کہ بھلے ہی وہ گُناہ کرنے والے شخص کی مدد کرنا چاہتے ہیں کہ وہ توبہ کرے لیکن وہ اُسے ایسا کرنے پر مجبور نہیں کر سکتے۔ (اِست 30:19) بزرگ یہ بات بھی یاد رکھیں گے کہ یہ ضروری نہیں کہ گُناہ کرنے والا ہر شخص بادشاہ داؤد کی طرح اپنی غلطی تسلیم کرے۔ (2-سمو 12:13) گُناہ کرنے والے کچھ لوگ شاید یہوواہ کی نصیحت پر عمل کرنے سے اِنکار کر دیں۔ (پید 4:6-8) لیکن اِن سب باتوں کے باوجود بزرگ اپنی طرف سے پوری کوشش کریں گے کہ وہ گُناہ کرنے والے شخص کو توبہ کرنے پر مائل کریں۔ جب وہ ایسا کرنے کے لیے اُس شخص سے ملنے جاتے ہیں تو اُنہیں پاک کلام کے کن اصولوں کو ذہن میں رکھنا چاہیے؟
5. بزرگ گُناہ کرنے والے شخص سے ملاقات کرتے وقت بائبل کی کس نصیحت کو ذہن میں رکھیں گے؟ (2-تیمُتھیُس 2:24-26) (تصویر کو بھی دیکھیں۔)
5 بزرگ گُناہ کرنے والے شخص کو یہوواہ کی ایسی بیشقیمت بھیڑ خیال کریں گے جو بھٹک گئی ہے۔ (لُو 15:4، 6) اِس لیے جب وہ اُس شخص سے ملیں گے تو اُن کی باتیں اور رویہ سخت نہیں ہوگا اور وہ اُس کے ساتھ بُری طرح سے پیش نہیں آئیں گے۔ اِس کے علاوہ وہ یہ بھی نہیں سوچیں گے کہ اُن کا کام بس سوال پوچھنا اور تمام حقائق جمع کرنا ہے۔ اِس کی بجائے وہ 2-تیمُتھیُس 2:24-26 میں لکھی خوبیاں ظاہر کریں گے۔ (اِن آیتوں کو پڑھیں۔) وہ بڑے پیار اور نرمی سے اُس شخص کے دل تک پہنچنے کی کوشش کریں گے۔
پُرانے زمانے کے چرواہے کی طرح کلیسیا کے بزرگ یہوواہ کی کھوئی ہوئی بھیڑوں کو تلاش کرنے کی پوری کوشش کرتے ہیں۔ (پیراگراف نمبر 5 کو دیکھیں۔)
6. بزرگ گُناہ کرنے والے شخص سے ملنے سے پہلے اپنے دل کو تیار کیسے کریں گے؟ (رومیوں 2:4)
6 بزرگ اپنے دل کو تیار کریں گے۔ بزرگ یہوواہ کی طرح اُس شخص کے ساتھ مہربانی سے پیش آنے کی کوشش کریں گے۔ وہ پولُس کے اِن الفاظ کو یاد رکھیں گے: ”خدا اِتنا مہربان ہے کہ وہ آپ کو توبہ کرنے پر مائل کر رہا ہے۔“ (رومیوں 2:4 کو پڑھیں۔) بزرگ یہ بھی یاد رکھیں گے کہ وہ پہلے ایک چرواہے ہیں اور اُنہیں یسوع مسیح کی رہنمائی پر چلنے اور اُن کی طرح کلیسیا کی دیکھبھال کرنی چاہیے۔ (یسع 11:3، 4؛ متی 18:18-20) گُناہ کرنے والے شخص سے ملنے سے پہلے بزرگوں کی کمیٹی یہوواہ سے دُعا کر کے اِس بات پر غور کرے گی کہ وہ کس مقصد سے اُس شخص سے ملنے کے لیے جا رہی ہے۔ اِن بزرگوں کا مقصد یہ ہے کہ وہ گُناہ کرنے والے شخص کو توبہ کی طرف مائل کریں۔ ایسا کرنے کے لیے وہ بائبل اور ہماری کتابوں سے تحقیق کریں گے اور دُعا میں یہوواہ سے دانشمندی مانگیں گے۔ وہ اُس شخص کے پسمنظر پر بھی غور کریں گے جس کا اثر شاید اُس کی سوچ، رویے اور چالچلن پر ہوا ہوگا۔—اَمثا 20:5۔
7-8. بزرگ گُناہ کرنے والے شخص سے ملتے وقت یہوواہ کی طرح صبر سے کام کیسے لے سکتے ہیں؟
7 بزرگ یہوواہ کی طرح صبر سے کام لیں گے۔ وہ یہ یاد رکھیں گے کہ ماضی میں یہوواہ گُناہ کرنے والے لوگوں کے ساتھ کیسے پیش آیا تھا۔ مثال کے طور پر یہوواہ نے صبر سے قائن سے بات کی؛ اُسے گُناہ کے بُرے نتیجوں سے خبردار کِیا اور اُس سے کہا کہ اگر وہ اُس کی بات مانے گا تو اُسے برکتیں ملیں گی۔ (پید 4:6، 7) اِس کے علاوہ یہوواہ نے اپنے نبی ناتن کے ذریعے داؤد کی اِصلاح کی۔ ناتن نے داؤد کو اُن کی غلطی کا احساس دِلانے کے لیے ایک ایسی مثال دی جس نے داؤد کے دل پر گہرا اثر کِیا۔ (2-سمو 12:1-7) اور اگر ہم باغی اِسرائیلیوں کی مثال پر غور کریں تو یہوواہ بار بار اپنے نبیوں کو اُن کے پاس ”بھیجتا رہا۔“ (یرم 7:24، 25، نیو اُردو بائبل ورشن) اُس نے اِس بات کا اِنتظار نہیں کِیا کہ جب یہ لوگ توبہ کریں گے تب وہ اُن کی مدد کرے گا۔ وہ تو اُس وقت بھی اُن کی مدد کر رہا تھا جب وہ گُناہ پر گُناہ کر رہے تھے اور ابھی تک اُنہوں نے توبہ بھی نہیں کی تھی۔
8 بزرگ یہوواہ کی مثال پر عمل کرتے ہوئے گُناہ کرنے والے شخص کی مدد کرنے کی کوشش کریں گے۔ وہ 2-تیمُتھیُس 4:2 کے مطابق اُس شخص کے ساتھ ”صبر سے“ پیش آئیں گے۔ ایک بزرگ کو ہمیشہ ٹھنڈے دماغ اور صبر سے کام لینے کی ضرورت ہے تاکہ وہ گُناہ کرنے والے شخص کے دل میں صحیح کام کرنے کی خواہش پیدا کر سکے۔ اگر وہ بزرگ غصے میں آ جائے گا یا چڑ جائے گا تو شاید گُناہ کرنے والا شخص اُس کی بات سننے اور توبہ کرنے سے اِنکار کر دے۔
9-10. بزرگ گُناہ کرنے والے شخص کی مدد کیسے کر سکتے ہیں تاکہ اُسے احساس ہو کہ وہ کن کاموں کی وجہ سے یہوواہ سے دُور ہو گیا اور گُناہ کر بیٹھا؟
9 بزرگ یہ اندازہ لگانے کی کوشش کریں گے کہ وہ شخص کن کاموں کی وجہ سے گُناہ کر بیٹھا۔ مثال کے طور پر کیا اُس نے آہستہ آہستہ بائبل کا ذاتی مطالعہ کرنا یا مُنادی میں جانا چھوڑ دیا تھا جس کی وجہ سے یہوواہ کے ساتھ اُس کی دوستی کمزور پڑ گئی؟ کیا اُس نے باقاعدگی سے یہوواہ سے دُعا کرنا بند کر دیا تھا؟ کیا اُس نے اپنی بُری خواہشوں سے لڑنا چھوڑ دیا تھا؟ کیا وہ دوستوں اور تفریح کے حوالے سے غلط فیصلے لینے لگا تھا؟ اور اِس طرح کے فیصلوں کا اُس کے دل اور اُس کی سوچ پر کیا اثر ہونے لگا؟ کیا اُسے اِس بات کا احساس ہے کہ اُس کے فیصلوں اور کاموں سے اُس کے آسمانی باپ یہوواہ کے دل پر کیا اثر پڑا ہے؟
10 بزرگ اُس شخص سے اِس طرح کے سوال پوچھ سکتے ہیں تاکہ وہ یہ سوچ پائے کہ کن کاموں کی وجہ سے اُس کا یہوواہ کے ساتھ رشتہ کمزور پڑ گیا اور وہ گُناہ کر بیٹھا۔ اُنہیں یہ سوال شفقت بھرے انداز میں پوچھنے چاہئیں اور اُس شخص سے ایسے ذاتی معاملوں کے بارے میں بات نہیں کرنی چاہیے جنہیں جاننے کی اُنہیں ضرورت نہیں ہے۔ (اَمثا 20:5) اِس کے علاوہ بزرگ ناتن نبی کی طرح ایسی مثالیں اِستعمال کر سکتے ہیں جن سے گُناہ کرنے والا شخص یہ دیکھ پائے کہ اُس نے جو کچھ کِیا تھا، وہ کتنا غلط تھا۔ ہو سکتا ہے کہ جب بزرگ اُس شخص سے پہلی بار ملنے جائیں تو اُسے تب ہی اپنے فیصلوں اور سوچ پر پچھتاوا ہونے لگے۔ وہ تو شاید اُسی وقت توبہ بھی کر لے۔
11. یسوع مسیح گُناہ کرنے والے لوگوں کے ساتھ کیسے پیش آئے؟
11 بزرگ یسوع مسیح کی مثال پر عمل کرنے کی کوشش کریں گے۔ جب یسوع مسیح نے ترسسُ سے تعلق رکھنے والے ساؤل نام کے آدمی کی مدد کی تو اُنہوں نے اُس سے یہ سوال پوچھا: ”ساؤل، ساؤل، آپ مجھے اذیت کیوں پہنچا رہے ہیں؟“ اِس طرح یسوع مسیح نے ساؤل کو یہ احساس دِلایا کہ جو کچھ وہ کر رہے ہیں، وہ کتنا غلط ہے۔ (اعما 9:3-6) اور مُکاشفہ 2:20، 21 میں یسوع مسیح نے ”عورت، اِیزِبل“b کے معاملے پر بات کرتے ہوئے کہا: ”مَیں نے اُسے توبہ کرنے کے لیے وقت دیا۔“
12-13. بزرگ گُناہ کرنے والے شخص کو توبہ کرنے کے لیے وقت کیسے دے سکتے ہیں؟ (تصویر کو بھی دیکھیں۔)
12 بزرگ یسوع مسیح کی مثال عمل کریں گے اور فوراً یہ نہیں سوچ لیں گے کہ گُناہ کرنے والا شخص کبھی توبہ نہیں کرے گا۔ کچھ لوگ شاید اُسی وقت اپنے گُناہ سے توبہ کر لیں جب بزرگ پہلی بار اُن سے ملنے کے لیے جاتے ہیں۔ لیکن شاید کچھ کو ایسا کرنے میں وقت لگے۔ تو بزرگ ایسے لوگوں سے ایک سے زیادہ بار ملنے کا بندوبست کر سکتے ہیں۔ ہو سکتا ہے کہ پہلی ملاقات پر گُناہ کرنے والا شخص سنجیدگی سے اُن باتوں پر سوچ بچار کرنے لگے جو اُس سے کہی گئی ہیں۔ شاید وہ خاکساری سے دُعا میں یہوواہ سے اپنے گُناہ کا اِقرار کرے اور معافی مانگ لے۔ (زبور 32:5؛ 38:18) پھر ہو سکتا ہے کہ اگلی ملاقات پر اُس شخص کا رویہ اُس رویے سے بالکل فرق ہو جو پہلی ملاقات پر اُس کا تھا۔
13 گُناہ کرنے والے شخص کو توبہ کی طرف مائل کرنے کے لیے بزرگ اُس شخص کے لیے ہمدردی اور شفقت ظاہر کریں گے۔ وہ یہوواہ سے دُعا کریں گے کہ وہ اُن کوششوں پر برکت ڈالے جو وہ اُس شخص کی مدد کرنے کے لیے کرتے ہیں۔ بزرگ اِس بات کی اُمید نہیں چھوڑیں گے کہ اُن کا بھٹکا ہوا ہمایمان ہوش میں آ جائے گا اور توبہ کر لے گا۔—2-تیم 2:25، 26۔
بزرگوں کو گُناہ کرنے والے شخص سے شاید ایک سے زیادہ بار ملاقات کرنی پڑے تاکہ وہ شخص اپنے گُناہ سے توبہ کر سکے۔ (پیراگراف نمبر 12 کو دیکھیں۔)
14. جب ایک گُناہگار شخص توبہ کرتا ہے تو اِس کا سہرا کس کے سر جانا چاہیے اور کیوں؟
14 جب گُناہ کرنے والا شخص توبہ کرتا ہے تو سبھی کو بہت خوشی ہوتی ہے۔ (لُو 15:7، 10) لیکن اُس شخص کو توبہ کی طرف مائل کرنے کا سہرا کس کے سر جانا چاہیے؟ کیا بزرگوں کے سر؟ یاد کریں کہ پولُس رسول نے کہا تھا: ”خدا ایسے لوگوں کو توبہ کرنے کی توفیق بخشے۔“ (2-تیم 2:25) تو کوئی اِنسان نہیں بلکہ یہوواہ ایک شخص کی مدد کرتا ہے کہ وہ اپنی سوچ اور رویے کو بدلے۔ پولُس نے یہ بھی بتایا کہ جب ایک شخص توبہ کرتا ہے تو اِس کے کون سے اچھے نتیجے نکلتے ہیں۔ وہ شخص سچائی کے بارے میں پہلے سے زیادہ صحیح علم حاصل کر پاتا ہے، اپنے ہوش میں آ جاتا ہے اور اِس طرح شیطان کے پھندے سے چھٹکارا پانے کے قابل ہوتا ہے۔—2-تیم 2:26۔
15. بزرگ توبہ کرنے والے شخص کی بعد میں بھی مدد کرتے رہنے کے لیے کیا کر سکتے ہیں؟
15 جب ایک شخص اپنے گُناہ سے توبہ کر لیتا ہے تو بزرگوں کی کمیٹی اُس کا حوصلہ بڑھانے کے لیے اُس سے ملنے کا بندوبست کرے گی۔ بزرگ اُس شخص کے ایمان کو مضبوط کرنے، شیطان کی طرف سے آنے والی آزمائشوں سے لڑنے اور صحیح کام کرنے میں اُس کی مدد کرتے رہیں گے۔ (عبر 12:12، 13) بےشک بزرگ کسی کو بھی اُس شخص کے گُناہ یا اِس سے متعلق کوئی تفصیلات نہیں بتائیں گے۔ لیکن بزرگوں کو کلیسیا کو کس بات کے بارے میں بتانے کی ضرورت ہے؟
’تمام حاضرین کے سامنے درستی کریں‘
16. جب پولُس رسول نے 1-تیمُتھیُس 5:20 میں لفظ ”حاضرین“ اِستعمال کِیا تو اُن کا اِشارہ کن کی طرف تھا؟
16 پہلا تیمُتھیُس 5:20 کو پڑھیں۔ اِس آیت میں پولُس تیمُتھیُس سے بات کر رہے تھے جو اُنہی کی طرح کلیسیا میں ایک بزرگ تھے۔ اُنہوں نے تیمُتھیُس کو بتایا کہ وہ اُن لوگوں کے ساتھ کیسے پیش آئیں جو ”عادتاً گُناہ کرتے ہیں۔“ پولُس کی اِس بات کا کیا مطلب تھا کہ ”تمام حاضرین کے سامنے اُن لوگوں کی درستی کریں“؟ یہ ضروری نہیں کہ اِصطلاح ”تمام حاضرین“ کہنے سے پولُس پوری کلیسیا کی طرف اِشارہ کر رہے تھے۔ اِس کی بجائے ”تمام حاضرین“ کہنے سے پولُس کا اِشارہ اُن تمام لوگوں کی طرف تھا جو شاید پہلے سے ہی جانتے تھے کہ گُناہ ہوا ہے۔ ہو سکتا ہے کہ وہ اِس کے چشمدید گواہ تھے یا پھر گُناہ کرنے والے نے خود اُنہیں اپنے گُناہ کے بارے میں بتایا تھا۔ تو بزرگ صرف ایسے لوگوں کو ہی سمجھداری سے بتائیں گے کہ معاملہ حل ہو گیا ہے اور گُناہ کرنے والے کی درستی کی گئی ہے۔
17. اگر ایک شخص کی درستی کی گئی ہے تو کن صورتحال میں کلیسیا میں اِس بات کا اِعلان کِیا جانا چاہیے اور کیوں؟
17 کبھی کبھار کلیسیا میں بہت سے لوگوں کو پہلے سے ہی پتہ ہوتا ہے کہ ایک شخص نے سنگین گُناہ کِیا ہے یا پھر ہو سکتا ہے کہ اُنہیں بعد میں اِس کا علم ہو جائے۔ ایسی صورت میں ”حاضرین“ میں پوری کلیسیا ہی شامل ہوتی ہے۔ تو ایک بزرگ کلیسیا میں یہ اِعلان کرے گا کہ فلاں بھائی یا بہن کی درستی کی گئی ہے۔ یہ اِعلان کیوں کِیا جانا چاہیے؟ پولُس نے کہا: ”تاکہ باقی لوگوں کو عبرت حاصل ہو“ کہ وہ سنگین گُناہ نہ کریں۔
18. اگر ایک ایسا بپتسمہیافتہ مبشر سنگین گُناہ کرتا ہے جس کی عمر 18 سال سے کم ہے تو بزرگوں کو کیا کرنا چاہیے؟ (تصویر کو بھی دیکھیں۔)
18 اگر ایک ایسا بپتسمہیافتہ مبشر سنگین گُناہ کرتا ہے جس کی عمر 18 سال سے کم ہے تو بزرگوں کو کیا کرنا چاہیے؟ بزرگوں کی جماعت دو ایسے بزرگوں کا بندوبست کرے گی جو اُس بچے سے اُس کے ماں باپc کی موجودگی میں ملیں گے۔ وہ بزرگ ماں باپ سے ایسے سوال کریں گے جن سے وہ یہ جان سکیں کہ اُنہوں نے اپنے بچے کو توبہ کی طرف مائل کرنے اور صحیح راہ پر واپس لانے کے لیے کون سے قدم اُٹھائے ہیں۔ اگر بچہ اپنے ماں باپ کی طرف سے اِصلاح کو قبول کرتا ہے اور اپنی سوچ اور رویے کو بدل لیتا ہے تو وہ دو بزرگ یہ فیصلہ کر سکتے ہیں کہ بزرگوں کی کمیٹی کو اُس بچے اور اُس کے ماں باپ سے ملنے کی ضرورت نہیں ہے اور اُس کے ماں باپ آگے بھی اُس کی مدد کرتے رہیں۔ ویسے بھی یہوواہ نے یہ ذمےداری ماں باپ کو دی ہے کہ وہ پیار سے اپنے بچوں کی درستی اور اِصلاح کریں۔ (اِست 6:6، 7؛ اَمثا 6:20؛ 22:6؛ اِفِس 6:2-4) اِس کے بعد بزرگ کبھی کبھار ماں باپ سے بات کر سکتے ہیں تاکہ وہ یہ دیکھ سکیں کہ بچے کو وہ مدد مل رہی ہے جس کی اُسے ضرورت ہے۔ لیکن اگر وہ بپتسمہیافتہ نوجوان بُرے کام کرنے سے باز نہیں آتا تو پھر کیا کِیا جا سکتا ہے؟ ایسی صورت میں بزرگوں کی کمیٹی اُس نوجوان سے اُس کے ماں باپ کی موجودگی میں ملے گی۔
جب ایک نابالغ مبشر کوئی سنگین گُناہ کرتا ہے تو دو بزرگ اُس سے اُس کے ماں باپ کی موجودگی میں ملاقات کریں گے۔ (پیراگراف نمبر 18 کو دیکھیں۔)
”یہوواہ بہت ہی شفیق اور رحیم ہے“
19. جب بزرگ کسی ایسے شخص سے ملتے ہیں جس نے سنگین گُناہ کِیا ہے تو وہ یہوواہ کی مثال پر عمل کرنے کی کوشش کیسے کر سکتے ہیں؟
19 یہوواہ خدا بزرگوں کی کمیٹیوں میں شامل بزرگوں سے یہ توقع کرتا ہے کہ وہ کلیسیا کو پاک صاف رکھیں۔ (1-کُر 5:7) لیکن یہ بزرگ گُناہ کرنے والے شخص کی مدد کرنے کی پوری کوشش کریں گے کہ وہ توبہ کرے۔ اور جب وہ ایسا کر رہے ہوں گے تو وہ اِس بات کی اُمید نہیں چھوڑیں گے کہ وہ شخص بدل جائے گا۔ بزرگ اُس شخص کے بارے میں اچھا کیوں سوچیں گے؟ کیونکہ وہ یہوواہ کی مثال پر عمل کرنا چاہتے ہیں جو ”بہت ہی شفیق اور رحیم ہے۔“ (یعقو 5:11) غور کریں کہ یہ بات یوحنا رسول کی مثال سے کیسے نظر آئی۔ اُنہوں نے کہا: ”میرے پیارے بچو، مَیں آپ کو یہ باتیں اِس لیے لکھ رہا ہوں تاکہ آپ گُناہ نہ کریں۔ لیکن اگر کوئی شخص گُناہ کرے بھی تو آسمانی باپ کے پاس ہمارا ایک مددگار ہے یعنی یسوع مسیح جو نیک ہے۔“—1-یوح 2:1۔
20. ہم مضامین کے اِس سلسلے کے آخری مضمون میں کس بات پر غور کریں گے؟
20 افسوس کی بات ہے کہ کبھی کبھار کچھ مسیحی توبہ کرنے سے اِنکار کر دیتے ہیں۔ اگر ایسا ہوتا ہے تو اُنہیں کلیسیا سے نکال دیا جانا چاہیے۔ بزرگ ایسے معاملوں کو کیسے حل کرتے ہیں؟ اِس بارے میں ہم مضامین کے اِس سلسلے کے آخری مضمون میں بات کریں گے۔
گیت نمبر 103: ”آدمیوں کے رُوپ میں نعمتیں“
a ماضی میں اِس کمیٹی کو ”عدالتی کمیٹی“ کہا جاتا تھا۔ لیکن چونکہ اِس کمیٹی کا کام صرف فیصلہ کرنا ہی نہیں ہے اِس لیے اب سے ہم یہ اِصطلاح اِستعمال نہیں کریں گے۔ اِس کی بجائے ہم اِصطلاح ”بزرگوں کی کمیٹی“ اِستعمال کریں گے۔
b اِصطلاح ”عورت، اِیزِبل“ کا اِشارہ شاید ایک عورت یا عورتوں کے ایسے گروہ کی طرف ہے جو کلیسیا پر بُرا اثر ڈال رہا تھا۔
c اگر اُس بچے کے ماں باپ یہوواہ کے گواہ نہیں ہیں تو اُس بچے کے ساتھ یا تو اُس کا کوئی ایسا رشتےدار ہونا چاہیے جو یہوواہ کا گواہ ہو یا پھر اُسے بائبل کورس کرانے والا شخص یا پھر کوئی ایسا بالغ یہوواہ کا گواہ جس کی موجودگی میں وہ بچہ کُھل کر بات کر سکے۔ جو ہدایتیں اُس بچے کے ماں باپ کو دی گئی ہیں، وہی اُس رشتےدار، بائبل کورس کرانے والے شخص اور اُس بالغ یہوواہ کے گواہ کے لیے بھی ہیں۔