کیا آپ امن کو فروغ دیں گے؟
یہوواہ خدا چاہتا ہے کہ اُس کے خادم صلحپسند ہوں اور ایک دوسرے کے ساتھ امن سے رہیں۔ اِس طرح کلیسیا امن کا گہوارہ بن جاتی ہے۔ یہ بات دوسرے لوگوں کو بھی متاثر کرتی ہے اور وہ کلیسیا کی طرف کھنچے چلے آتے ہیں۔
مثال کے طور پر جب ملک مڈاگاسکر میں رہنے والے ایک عامل نے دیکھا کہ یہوواہ کے خادموں میں کتنا امن ہے تو اُس نے سوچا کہ ”اگر مَیں کبھی کوئی مذہب اپناؤں گا تو یہ اِنہی لوگوں کا مذہب ہوگا۔“ کچھ عرصے کے بعد اُس نے جادوٹونا کرنا چھوڑ دیا، وہ یہوواہ کے معیاروں کے مطابق اپنی ازدواجی زندگی میں تبدیلیاں لے آیا اور یہوواہ کی عبادت کرنے لگا۔
اِس آدمی کی طرح ہر سال ہزاروں لوگ یہوواہ کی کلیسیا میں شامل ہو جاتے ہیں اور اِس میں پائے جانے والے پُرامن ماحول سے لطف اُٹھاتے ہیں۔ لیکن بائبل میں لکھا ہے کہ ’حسد اور لڑائی جھگڑے‘ کی وجہ سے کلیسیا میں دوستیاں ٹوٹ سکتی ہیں اور بہت سے مسئلے کھڑے ہو سکتے ہیں۔ (یعقوب 3:14-16) البتہ اِس میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ ہم ایسے مسئلوں سے کیسے بچ سکتے ہیں اور امن کی بنیاد کو کیسے مضبوط بنا سکتے ہیں۔ آئیں، کچھ ایسے مسئلوں پر غور کریں جو اصل میں پیش آئے تھے اور دیکھیں کہ بائبل کے کن اصولوں پر عمل کرنے سے اِن مسئلوں کو حل کِیا گیا۔
مسئلے اور اِن کے حل
”میری ایک بھائی سے نہیں بنتی تھی جو میرے ساتھ کام کرتا تھا۔ ایک بار جب ہم دونوں ایک دوسرے سے جھگڑ رہے تھے تو اچانک دو لوگ کمرے میں آ گئے اور ہماری باتیں سُن لیں۔“—کرِس۔
”مَیں باقاعدگی سے ایک بہن کے ساتھ مُنادی کرتی تھی لیکن اچانک اُس نے میرے ساتھ مُنادی پر جانا بند کر دیا۔ پھر اُس نے مجھ سے بات کرنا بھی بند کر دیا۔ مجھے سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ اُس نے ایسا کیوں کِیا۔“—جینٹ۔
”مَیں دو لوگوں کے ساتھ کانفرنس کال کر رہا تھا۔ اُن میں سے ایک نے خدا حافظ کہا۔ مجھے لگا کہ اُس نے فون بند کر دیا ہے اِس لیے مَیں دوسرے شخص سے اُس کی بُرائیاں کرنے لگا لیکن دراصل اُس نے فون بند نہیں کِیا تھا۔“—مائیکل۔
”ہماری کلیسیا میں دو پہلکار بہنیں تھیں جن کی آپس میں نہیں بنتی تھی۔ اِن میں سے ایک بہن بات بات پر دوسری کو ڈانٹتی رہتی تھی۔ اُن کی اِس نوک جھونک کی وجہ سے دوسروں کا سکون بھی برباد ہو رہا تھا۔“—گیری۔
شاید آپ سوچیں کہ یہ تو کوئی بڑے مسئلے نہیں تھے۔ لیکن سچ تو یہ ہے کہ اِن مسئلوں کی وجہ سے اِن بہن بھائیوں کے رشتے میں گہری دراڑ پڑ سکتی تھی اور کلیسیا کا امن برباد ہو سکتا تھا۔ خوشی کی بات ہے کہ اِن بہن بھائیوں نے بائبل کے اصولوں پر عمل کِیا اور صلح کر لی۔ اُنہوں نے کن اصولوں پر عمل کِیا؟
”راستہ میں تُم جھگڑا نہ کرنا۔“ (پیدایش 45:24) یوسف نے اپنے بھائیوں کو یہ ہدایت اُس وقت دی جب وہ اپنے باپ کے پاس لوٹنے والے تھے۔ جب ایک شخص اپنے جذبات کو قابو میں نہیں رکھتا تو ایک مشکل صورتحال اَور بھی بگڑ سکتی ہے کیونکہ شاید دوسروں کو بھی غصہ آ جائے۔ بھائی کرِس کو احساس ہوا کہ کبھی کبھار اُنہیں خاکساری سے کام لینا اور دوسروں کی ہدایتوں پر عمل کرنا مشکل لگتا تھا۔ وہ اپنی سوچ میں تبدیلی لانا چاہتے تھے اِس لیے اُنہوں نے اُس بھائی سے معافی مانگی جس سے اُنہوں نے جھگڑا کِیا تھا۔ پھر اُنہوں نے اپنے غصے پر قابو پانے کی بھرپور کوشش کی۔ جب دوسرے بھائی نے دیکھا کہ بھائی کرِس خود کو بدلنے کی کتنی کوشش کر رہے ہیں تو وہ بھی اپنے رویے میں تبدیلی لانے لگا۔ اب وہ دونوں صلح صفائی سے رہتے ہیں اور مل کر یہوواہ کی خدمت کرتے ہیں۔
”صلاح کے بغیر اِرادے پورے نہیں ہوتے۔“ (امثال 15:22) جب بہن جینٹ کی سہیلی نے اُن سے بات کرنا چھوڑ دی تو اُنہوں نے اِس مسئلے کو حل کرنے کے لیے اِس آیت پر عمل کرنے کا اِرادہ کِیا۔ وہ اپنی سہیلی سے صلاح یعنی بات کرنے گئیں۔ اُنہوں نے اپنی سہیلی سے پوچھا کہ وہ اُن سے کیوں ناراض ہے۔ شروع شروع میں تو اُن دونوں کو ایک دوسرے سے بات کرنا مشکل لگ رہا تھا لیکن اُنہوں نے آرام سے ایک دوسرے سے بات کی جس سے ماحول پُرسکون ہوتا گیا۔ بہن جینٹ کی سہیلی کو احساس ہوا کہ اُسے غلطفہمی ہوئی تھی اور جس معاملے کی وجہ سے وہ ناراض تھی، اُس میں بہن جینٹ کا کوئی ہاتھ نہیں تھا۔ لہٰذا اُس نے بہن جینٹ سے معافی مانگی۔ اب وہ پہلے کی طرح دوست ہیں اور مل کر مُنادی کرتی ہیں۔
”اگر آپ قربانگاہ پر نذرانہ پیش کرنے جا رہے ہوں اور آپ کو یاد آئے کہ آپ کا بھائی آپ سے ناراض ہے تو اپنا نذرانہ وہیں قربانگاہ کے آگے چھوڑ دیں۔ پہلے جا کر اپنے بھائی سے صلح کریں اور پھر واپس آ کر نذرانہ پیش کریں۔“ (متی 5:23، 24) یہ ہدایت یسوع مسیح نے اپنے پہاڑی وعظ میں دی تھی۔ بھائی مائیکل کو اِس بات پر بہت دُکھ تھا کہ اُنہوں نے اپنے بھائی کی بُرائیاں کیں۔ اُنہوں نے سوچا کہ وہ اپنے بھائی سے صلح کرنے کی پوری کوشش کریں گے۔ وہ اُس بھائی کے پاس گئے اور اُسے بتایا کہ وہ اپنی حرکت پر کتنے شرمندہ ہیں۔ اِس پر اُس بھائی کا ردِعمل کیا تھا؟ بھائی مائیکل کہتے ہیں: ”میرے بھائی نے مجھے دل سے معاف کر دیا۔“ اب وہ دونوں دوبارہ سے دوست ہیں۔
”اگر آپ کو ایک دوسرے سے شکایت بھی ہو تو ایک دوسرے کی برداشت کریں اور دل سے ایک دوسرے کو معاف کریں۔“ (کُلسّیوں 3:12-14) کیا اُن دو پہلکار بہنوں نے بھی ایسا ہی کِیا؟ اُن کی کلیسیا کے ایک بزرگ نے اُنہیں نرمی سے احساس دِلایا کہ وہ اپنے لڑائی جھگڑوں کی وجہ سے دوسروں کو بھی پریشان کر رہی ہیں۔ اُس نے اُنہیں ہدایت دی کہ وہ ایک دوسرے سے صبر سے پیش آئیں اور اِس بات کا پورا خیال رکھیں کہ اُن کی وجہ سے کلیسیا کا امن برباد نہ ہو۔ اُن بہنوں نے بزرگ کی ہدایت پر عمل کِیا۔ اب وہ دونوں مل کر خدا کی خدمت کرنے سے خوشی حاصل کر رہی ہیں۔
اگر کسی بہن یا بھائی نے آپ کا دل دُکھایا ہے تو معاملے کو درگزر کرنے کے سلسلے میں کُلسّیوں 3:12-14 میں درج ہدایت آپ کے بھی کام آ سکتی ہے۔ لیکن اگر بہت کوشش کے بعد بھی آپ کو درگزر کرنا مشکل لگ رہا ہے تو پھر آپ کیا کر سکتے ہیں؟ آپ اُس ہدایت پر عمل کر سکتے ہیں جو یسوع مسیح نے متی 18:15 میں دی تھی۔ یہ سچ ہے کہ یسوع مسیح نے یہ ہدایت سنگین گُناہوں کے سلسلے میں دی تھی لیکن ہم اِس میں پائے جانے والے اصول پر اُس وقت بھی عمل کر سکتے ہیں جب ہمارا کسی بہن یا بھائی سے چھوٹا موٹا اِختلاف ہوتا ہے۔ ہم اُس کے پاس جا کر نرمی اور خاکساری سے مسئلے پر بات کر سکتے ہیں اور مل کر اِسے حل کر سکتے ہیں۔
بائبل میں اَور بھی بہت سی ہدایتیں درج ہیں۔ لیکن اِن پر عمل کرنے کے لیے ضروری ہے کہ ہم ”روح کا پھل“ ظاہر کریں جس میں ”محبت، خوشی، اِطمینان، تحمل، مہربانی، اچھائی، ایمان، نرممزاجی اور ضبطِنفس“ شامل ہیں۔ (گلتیوں 5:22، 23) یہ خوبیاں تیل کی طرح ہیں۔ جس طرح تیل ڈالنے سے مشین زیادہ اچھی طرح سے چلتی ہے اِسی طرح اِن خوبیوں کی مدد سے صلح کرنا زیادہ آسان ہو جاتا ہے۔
مختلف شخصیتیں کلیسیا میں رنگ بھر دیتی ہیں
ہم سب فرق فرق شخصیت کے مالک ہیں۔ ہماری خوبیاں، سوچنے اور بات کرنے کا انداز اور مزاج ایک دوسرے سے فرق ہوتا ہے۔ اِس طرح کے فرق کی وجہ سے دوستیوں میں رنگ بھر جاتا ہے لیکن اِس فرق کی وجہ سے اِختلافات بھی پیدا ہو سکتے ہیں۔ ایک تجربہکار بزرگ نے اِس حوالے سے کہا: ”ایک شرمیلے شخص کو کسی شوخمزاج اور باتونی شخص کے ساتھ وقت گزارنا مشکل لگ سکتا ہے۔ دِکھنے میں شاید یہ معمولی سی بات لگے لیکن اِس وجہ سے بڑے سنگین مسئلے پیدا ہو سکتے ہیں۔“ کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ اُن لوگوں کی کبھی نہیں بن سکتی جن کی شخصیتوں میں بڑا فرق ہوتا ہے۔ لیکن ضروری نہیں کہ ایسا ہو۔ ذرا پطرس رسول اور یوحنا رسول کی مثال پر غور کریں۔ پطرس رسول کا نام سنتے ہی ہمارے ذہن میں ایک ایسا شخص آتا ہے جو جلدباز تھا اور دل میں آئی ہر بات بول دیتا تھا جبکہ یوحنا رسول کا سُن کر ہمارے ذہن میں ایک ایسے شخص کی تصویر بنتی ہے جو بڑا شفیق تھا اور خوب سوچ سمجھ کر بات کرتا تھا۔ لیکن اِس کے باوجود اُن دونوں نے مل کر یہوواہ کی خدمت کی۔ (اعمال 8:14؛ گلتیوں 2:9) اِسی طرح آج بھی ایسے مسیحی جن کی شخصیتوں میں زمین آسمان کا فرق ہوتا ہے، مل کر خدا کی خدمت کر سکتے ہیں۔
کیا آپ کی کلیسیا میں کوئی ایسا بھائی یا بہن ہے جس کی باتیں اور کام آپ کو ناگوار گزرتے ہیں؟ ایسی صورت میں یاد رکھیں کہ یسوع مسیح نے نہ صرف آپ کے لیے بلکہ اُس بھائی یا بہن کے لیے بھی اپنی جان قربان کی اِس لیے آپ کا فرض بنتا ہے کہ آپ اُس سے محبت کریں۔ (یوحنا 13:34، 35؛ رومیوں 5:6-8) لہٰذا یہ فیصلہ نہ کریں کہ آپ اُس بہن یا بھائی سے کبھی دوستی نہیں کریں گے اور اُس سے دُور رہیں گے۔ اِس کی بجائے خود سے پوچھیں کہ ”کیا وہ کوئی ایسا کام کر رہا ہے جو یہوواہ کے حکموں کے خلاف ہے؟ کیا وہ جان بُوجھ کر مجھے پریشان کرنے کی کوشش کر رہا ہے؟“ سب سے اہم سوال جو آپ خود سے پوچھ سکتے ہیں، وہ یہ ہے کہ ”اُس بہن یا بھائی میں کون سی خوبیاں ہیں جو مَیں بھی پیدا کرنا چاہتا ہوں؟“
مثال کے طور پر اگر ایک مسیحی بہت باتونی ہے لیکن آپ کمگو ہیں تو ذرا سوچیں کہ وہ مُنادی کے دوران کتنی آسانی سے لوگوں سے بات شروع کرتا ہوگا۔ کیوں نہ اُس کے ساتھ مُنادی کریں اور دیکھیں کہ آپ اُس سے کیا کچھ سیکھ سکتے ہیں؟ اگر وہ بڑا فراخدل ہے لیکن آپ ہاتھ کھینچ کر رکھتے ہیں تو کیوں نہ دھیان دیں کہ اُسے بوڑھے، بیمار اور ضرورتمند بہن بھائیوں کی مدد کرنے سے کتنی خوشی ملتی ہے؟ سبق یہ ہے کہ اگر ہم اپنے بہن بھائیوں کی خوبیوں پر دھیان دیں گے تو شخصیتوں کا فرق مٹ جائے گا اور ہم ایک دوسرے کے زیادہ قریب ہو جائیں گے۔ اِس طرح نہ صرف ہمیں سکون ملے گا بلکہ کلیسیا کا بھی امنوسکون برقرار رہے گا۔
پہلی صدی عیسوی میں دو بہنیں تھیں جن کے نام یُوؤدیہ اور سِنتخے تھے۔ لگتا ہے کہ اِن کی شخصیت میں بڑا فرق تھا کیونکہ پولُس رسول نے اُنہیں نصیحت کی کہ وہ ”مالک کی خدمت میں ایک جیسی سوچ رکھیں۔“ (فِلپّیوں 4:2) کیا آپ بھی اپنے بہن بھائیوں کے ساتھ متحد ہو کر یہوواہ کی خدمت کریں گے اور یوں کلیسیا میں امن کو فروغ دیں گے؟
اِختلافات کو دُور کرنے میں دیر نہ کریں
اگر ہمارے دل میں کسی بہن یا بھائی کے لیے رنجش ہے تو ہمیں کیوں اِسے جلد سے جلد دُور کرنا چاہیے؟ دراصل رنجش، ناراضگی اور خفگی جیسے منفی احساسات ایسی جھاڑیوں کی طرح ہوتے ہیں جو ایک خوبصورت باغ میں اُگنے لگتی ہیں۔ اگر ہم اِن کو جڑ سے نہیں اُکھاڑیں گے تو یہ پورے باغ میں پھیل جائیں گی۔ اِسی طرح اگر ہم منفی احساسات کو اپنے دل سے نہیں نکالیں گے تو یہ پوری کلیسیا پر بُرا اثر ڈالیں گے۔ لیکن اگر ہم یہوواہ اور اپنے بہن بھائیوں سے محبت کرتے ہیں تو ہم کلیسیا کے امن کو برقرار رکھنے کی ہر ممکن کوشش کریں گے۔
جب ہم دوسروں کے ساتھ صلح کرنے کی کوشش کرتے ہیں تو اکثر اِس کے حیرانکُن نتیجے نکلتے ہیں۔
جب ہم دوسروں کے ساتھ صلح کرنے کی کوشش کرتے ہیں تو اکثر اِس کے حیرانکُن نتیجے نکلتے ہیں۔ ہماری ایک بہن کے ساتھ ایسا ہی ہوا۔ وہ بتاتی ہے: ”ایک بہن میرے ساتھ ایسا سلوک کرتی تھی جیسے مَیں کوئی چھوٹی بچی ہوں۔ مجھے اِس بات سے بڑی کوفت ہوتی تھی۔ میری ناراضگی اِس حد تک بڑھ گئی تھی کہ مَیں اُس بہن سے سیدھے مُنہ بات ہی نہیں کرتی تھی۔ مَیں نے سوچا کہ ”اگر وہ میرا احترام نہیں کرتی تو مَیں اُس کا احترام کیوں کروں؟““
مگر پھر اِس بہن نے اپنے گریبان میں جھانکا۔ وہ کہتی ہے: ”جب مجھے احساس ہوا کہ مجھ میں کتنی خامیاں ہیں تو مَیں بہت مایوس ہوئی۔ مَیں جان گئی کہ مجھے اپنی سوچ کو بدلنا ہوگا۔ مَیں نے دُعا میں یہوواہ سے اِس بارے میں بات کی اور پھر اُس بہن کے لیے ایک چھوٹا سا تحفہ اور ایک کارڈ خریدا۔ کارڈ میں مَیں نے اُس سے اپنے بُرے رویے کے لیے معافی مانگی۔ ہم دونوں ایک دوسرے سے گلے ملیں اور معاملے کو رفعدفع کر دیا۔ اب ہمیں ایک دوسرے سے کوئی شکایت نہیں ہے۔“
ظاہری بات ہے کہ سب امنوسکون کی خواہش رکھتے ہیں۔ لیکن جب رُتبے یا عزت کی بات آتی ہے تو لوگ لڑائی جھگڑا کرنے پر اُتر آتے ہیں۔ دُنیا میں یہ رویہ عام ہے لیکن یہوواہ اپنے بندوں سے توقع کرتا ہے کہ اُن میں امن اور اِتحاد ہو۔ پولُس رسول نے خدا کے اِلہام سے مسیحیوں کو یہ ہدایت دی: ”اپنے چالچلن سے ظاہر کریں کہ آپ اُس بلاوے کے لائق ہیں جس کے لیے آپ کو بلایا گیا تھا۔“ پولُس رسول نے اُنہیں یہ بھی بتایا کہ وہ ایسا کیسے کر سکتے ہیں۔ اُنہوں نے کہا: ”خاکساری، نرممزاجی اور صبر کے ساتھ چلیں اور محبت کی بِنا پر ایک دوسرے کی برداشت کریں۔ اُس اِتحاد کو برقرار رکھنے کی پوری کوشش کریں جو ہمیں پاک روح کے ذریعے حاصل ہے اور صلح کے بندھن کو قائم رکھیں۔“ (اِفسیوں 4:1-3) صلح کا یہ بندھن بہت ہی قیمتی اثاثہ ہے۔ لہٰذا اِسے مضبوط بنانے کی بھرپور کوشش کریں اور آپس کے اِختلافات کو دُور کرنے میں بالکل دیر نہ کریں۔