آپبیتی
مجھے داناؤں کے ساتھ چلنے سے بڑا فائدہ ہوا
ٹھنڈی یخ صبح تھی۔ مَیں کچھ اَور لوگوں کے ساتھ امریکہ کی ریاست ساؤتھ ڈکوٹا میں ایک گودام میں کھڑا سردی کے مارے تھر تھر کانپ رہا تھا۔ مجھے لگ رہا تھا کہ جلد ہی برف پڑے گی۔ ہمارے سامنے ایک ہودی تھی جس میں پانی بھرا ہوا تھا۔ لیکن آپ سوچ رہے ہوں گے کہ مَیں اِتنی ٹھنڈ میں یہاں کیوں کھڑا تھا؟ آئیں، مَیں آپ کو اپنے بارے میں بتاؤں تاکہ آپ کو اِس سوال کا جواب مل جائے۔
میرا پسمنظر
تایا الفریڈ اور ابو
مَیں 7 مارچ 1936ء کو پیدا ہوا۔ ہم کُل چار بہن بھائی تھے اور مَیں چوتھے نمبر پر تھا۔ ہم ساؤتھ ڈکوٹا میں رہتے تھے جہاں ہماری کچھ زمینیں تھیں اور کھیتیباڑی سے گزر بسر کرتے تھے۔ میرے والدین نے 1934ء میں یہوواہ کے گواہوں کے طور پر بپتسمہ لیا تھا۔ اُنہوں نے اپنی زندگی یہوواہ خدا کے لیے وقف کر لی تھی اِس لیے اُن کا دھیان اُس کی خدمت کرنے پر تھا۔ میرے ابو نے کچھ عرصے تک ہماری چھوٹی سی کلیسیا کی پیشوائی کی اور بعد میں میرے تایا الفریڈ نے بھی یہ ذمےداری سنبھالی۔
ہم امی ابو کے ساتھ باقاعدگی سے اِجلاسوں پر اور گھر گھر مُنادی کرنے جاتے تھے۔ میرے والدین نے ہمارے لیے بہت ہی اچھی مثال قائم کی اور ہمارے دل میں بھی یہوواہ خدا کی محبت ڈالی۔ میری بہن ڈوروتھی اور مَیں، ہم دونوں چھ سال کی عمر میں مبشر بن گئے۔ جب 1943ء میں مسیحی خدمتی سکول قائم کِیا گیا تو مَیں اِس میں حصہ لینے لگا۔
مُنادی کے کام پر، 1952ء میں
ہماری زندگی میں اِجتماعوں کو اہم مقام حاصل تھا۔ مجھے ابھی تک بھائی گرانٹ سوٹر کی وہ تقریر یاد ہے جو اُنہوں نے 1949ء میں ایک اِجتماع پر دی۔ اِس تقریر میں اُنہوں نے اِس بات پر زور دیا کہ ہر بپتسمہیافتہ مسیحی کو اپنی زندگی بادشاہت کی خوشخبری سنانے میں صرف کرنی چاہیے۔ یہ تقریر سننے کے بعد مَیں نے خود کو یہوواہ خدا کے لیے وقف کر دیا اور 12 نومبر 1949ء کو حلقے کے اِجتماع پر بپتسمہ لے لیا۔ اُس موقعے پر میرے علاوہ تین اَور لوگوں کو یخ ٹھنڈ میں اُس ہودی میں بپتسمہ دیا گیا جس کا مَیں نے شروع میں ذکر کِیا تھا۔
مَیں نے پہلکار کے طور پر خدمت کرنے کا فیصلہ کِیا اور 1 جنوری 1952ء کو میرا یہ اِرادہ پورا ہوا۔ اُس وقت مَیں 15 سال کا تھا۔ بائبل میں لکھا ہے کہ ”وہ جو داناؤں کے ساتھ چلتا ہے دانا ہوگا“ اور میرے خاندان میں بہت سے دانشمند لوگ تھے جنہوں نے پہلکار کے طور پر خدمت کرنے میں میری مدد کی۔ (امثال 13:20) مَیں اکثر اپنے تایا جُولیُس کے ساتھ مُنادی کرنے جاتا تھا جن کی عمر 60 سال تھی۔ حالانکہ ہماری عمر میں بڑا فرق تھا لیکن ہمیں مل کر مُنادی کرنے میں خوب مزہ آتا تھا۔ وہ بہت تجربہکار تھے اور مَیں نے اُن سے بہت کچھ سیکھا۔ جلد ہی ڈوروتھی بھی پہلکار کے طور پر خدمت کرنے لگیں۔
حلقے کے نگہبانوں کا اچھا اثر
جب مَیں چھوٹا تھا تو حلقے کے نگہبان اور اُن کی بیویاں اکثر ہمارے گھر ٹھہرتے تھے۔ اِن میں سے ایک جوڑا بھائی جیسی کانٹویل اور اُن کی بیوی لن تھا جنہوں نے مجھ پر اچھا اثر ڈالا۔ اُنہیں میرا بڑا خیال تھا۔ جب وہ آسپاس کی کلیسیاؤں کا دورہ کرتے تھے تو اکثر وہ مجھے اپنے ساتھ مُنادی میں لے جاتے تھے۔ اُن کی حوصلہافزائی کی وجہ سے میرے دل میں پہلکار بننے کی خواہش مضبوط ہو گئی۔ مَیں بھی اُن کی طرح خدا کی خدمت میں مصروف رہنا چاہتا تھا۔
بھائی جیسی کے بعد بھائی بڈ ملر ہمارے حلقے کے نگہبان بنے۔ جب اُنہوں نے اپنی بیوی جون کے ساتھ ہماری کلیسیا کا دورہ کِیا تو مَیں 18 سال کا تھا۔ اُس وقت مجھے فوج میں بھرتی ہونے کے لیے بلایا گیا۔ جو کمیٹی آدمیوں کو فوج میں بھرتی ہونے کے لیے چُنتی تھی، اُس نے مجھے ایک ایسا کام دیا جو میرے خیال میں غیرجانبداری کے تقاضوں پر پورا نہیں اُترتا تھا۔ (یوحنا 15:19) اِس کے علاوہ مَیں اپنا وقت بادشاہت کی خوشخبری سنانے کے لیے صرف کرنا چاہتا تھا۔ اِس لیے مَیں نے کمیٹی سے اپیل کی کہ مجھے مذہبی اُستاد کا درجہ دیا جائے تاکہ مَیں فوج میں بھرتی ہونے سے بَری رہوں۔
جب اِس اپیل کے حوالے سے کمیٹی کے سامنے میری پیشی ہوئی تو بھائی بڈ میرے ساتھ گئے۔ وہ نڈر اور پُراِعتماد شخص تھے اور بائبل سے اچھی طرح واقف تھے۔ اُن کے ساتھ سے مجھے بڑا حوصلہ ملا۔ اُس پیشی کے نتیجے میں مجھے 1954ء میں مذہبی اُستاد کا درجہ دیا گیا۔ اب مَیں خدا کی خدمت کے سلسلے میں اپنا ایک اَور خواب پورا کر سکتا تھا۔
واچٹاور فارم پر خدمت کرتے وقت
مجھے بیتایل میں خدمت کرنے کے لیے بلایا گیا۔ مَیں نے تقریباً تین سال واچٹاور فارم پر خدمت کی۔ وہاں مجھے بہت سے دانشمند بہن بھائیوں کے ساتھ کام کرنے اور اُن سے سیکھنے کا شرف ملا۔
بیتایل میں خدمت
ہمارے ریڈیو سٹیشن پر بھائی فرینز کے ساتھ
واچٹاور فارم پر ہمارا ریڈیو سٹیشن ڈبلیوبیبیآر بھی تھا۔ اِس سٹیشن کو یہوواہ کے گواہوں نے 1924ء سے 1957ء تک چلایا۔ واچٹاور فارم پر صرف 15 سے 20 بہن بھائی کام کرتے تھے جن میں سے زیادہتر کمعمر اور ناتجربہکار تھے۔ لیکن وہاں بھائی ایلڈن وُڈورتھ بھی ہمارے ساتھ کام کرتے تھے جو ایک عمررسیدہ مسحشُدہ بھائی تھے۔ وہ بہت ہی دانشمند تھے اور ہم سے ایک باپ کی طرح محبت کرتے تھے۔ اُن کی رہنمائی سے ہمیں بڑا فائدہ ہوا۔
بھائی ہیری پیٹرسن بڑے شوق سے مُنادی کرتے تھے۔
بھائی فریڈرک فرینز بھی واچٹاور فارم پر ہمارے ساتھ کام کرتے تھے۔ اُن کی دانشمندی مثالی تھی اور وہ بائبل کا وسیع علم رکھتے تھے جس سے ہمیں بھی فائدہ ہوا۔ وہ ہم میں سے ہر ایک کا بہت خیال رکھتے تھے۔ واچٹاور فارم پر بھائی ہیری پاپاگیروپولُس ہمارے باورچی تھے۔ لیکن ہم سے اُن کا نام بولا نہیں جاتا تھا اِس لیے ہم اُنہیں بھائی پیٹرسن کہتے تھے۔ وہ بھی مسحشُدہ تھے اور بڑے شوق سے مُنادی کرتے تھے۔ وہ بیتایل میں اپنا کام بڑی سنجیدگی سے لیتے تھے لیکن اِس کے ساتھ ساتھ وہ مُنادی کے کام میں بھی بھرپور حصہ لیتے تھے۔ بھائی پیٹرسن مہینے میں سینکڑوں رسالے لوگوں میں تقسیم کرتے تھے۔ وہ بھی بائبل کا وسیع علم رکھتے تھے اور ہمارے بہت سے سوالوں کے جواب دیتے تھے۔
دانشمند بہنوں سے سبق
واچٹاور فارم پر پھل اور سبزی کی جتنی بھی پیداوار ہوتی تھی، اِسے وہیں پکا کر ٹین کے ڈبوں میں ڈالا جاتا تھا۔ ہر سال بیتایل کے اِستعمال کے لیے تقریباً 45 ہزار ٹین کے ڈبے بھرے جاتے تھے۔ اِس کام میں مَیں بہن ایٹا ہتھ کا ہاتھ بٹایا کرتا تھا جو بہت ہی دانشمند تھیں۔ ہم اُن کی بتائی ہوئی ترکیبوں کے مطابق اِن پھلوں اور سبزیوں کو پکاتے تھے۔ جب ہم یہ کام کرتے تھے تو مقامی کلیسیاؤں کی بہنیں آ کر ہماری مدد کرتی تھیں۔ بہن ایٹا کی یہ ذمےداری تھی کہ اِن بہنوں کو بتائیں کہ کون کیا کیا کرے گا۔ بہن ایٹا اپنے کام میں بہت ماہر تھیں لیکن اِس کے باوجود وہ ہمیشہ اُن بھائیوں کا احترام کرتی تھیں جو فارم کی نگرانی کرتے تھے۔ اُنہوں نے ہم سب کے لیے تابعداری کی عمدہ مثال قائم کی۔
انجی اور مَیں، بہن ایٹا ہتھ کے ساتھ
اِن موقعوں پر انجی رومانو بھی ہمارے ساتھ کام کرنے کے لیے آتی تھیں۔ جب انجی بائبل کورس کر رہی تھیں تو بہن ایٹا نے اُن کی بہت مدد کی۔ انجی بڑی دانشمند لڑکی تھیں۔ اپریل 1958ء میں مَیں نے اُن سے شادی کر لی۔ اب تک ہمیں مل کر یہوواہ کی خدمت کرتے ہوئے 58 سال ہو گئے ہیں۔ اِس پورے عرصے کے دوران انجی نے میرا بڑا ساتھ دیا۔ وہ یہوواہ خدا کی بہت وفادار ہیں جس سے ہماری ازدواجی زندگی پر اچھا اثر پڑا ہے۔
مشنری اور سفری نگہبان کے طور پر خدمت
جب 1957ء میں ہمارے ریڈیو سٹیشن کو بیچ دیا گیا تو مَیں نے تھوڑے عرصے کے لیے بروکلن بیتایل میں خدمت کی۔ پھر مَیں نے انجی سے شادی کر لی اور بیتایل چھوڑ دیا۔ ہم نے مل کر تین سال تک شہر نیو یارک میں پہلکاروں کے طور پر خدمت کی۔ اِس دوران مَیں نے کچھ عرصے تک اُن لوگوں کے لیے ملازمت بھی کی جنہوں نے ہمارا ریڈیو سٹیشن خریدا تھا۔
انجی اور مَیں نے سادہ زندگی گزاری تاکہ ہم خدا کی تنظیم کے زیادہ کام آ سکیں۔ اِس کے نتیجے میں 1961ء میں ہمیں خصوصی پہلکاروں کے طور پر ریاست نبراسکا بھیجا گیا۔ ہم نے وہاں تھوڑا عرصہ ہی خدمت کی اور پھر ہمیں بادشاہتی خدمتی سکول میں تربیت حاصل کرنے کے لیے ریاست نیو یارک کے شہر ساؤتھ لانسنگ بلایا گیا۔ ایک مہینہ تربیت حاصل کرنے کے بعد ہم نے سوچا کہ ہمیں واپس نبراسکا بھیجا جائے گا لیکن ایسا نہیں ہوا۔ ہم یہ سُن کر بہت حیران تھے کہ ہمیں مشنریوں کے طور پر ملک کمبوڈیا بھیجا جا رہا ہے۔ جب ہم جنوب مشرقی ایشیا کے اِس خوبصورت ملک میں پہنچے تو ہم نے ایسے مناظر دیکھے، ایسے ساز سنے اور ایسے کھانے کھائے جو ہمارے لیے بالکل انوکھے تھے۔ ہم اِس ملک کے باشندوں کو بادشاہت کی خوشخبری سنانے کے لیے بےتاب تھے۔
انجی کے ساتھ جب ٹیوی پر ہمارا اِنٹرویو لیا گیا، 1975ء میں
مگر پھر کمبوڈیا میں سیاسی صورتحال بدل گئی اور ہمیں جنوبی ویتنام بھیج دیا گیا۔ افسوس کی بات ہے کہ وہاں دو سال خدمت کرنے کے بعد مَیں بہت بیمار ہو گیا اور ہمیں امریکہ واپس جانا پڑا۔ لیکن جونہی میری صحت ٹھیک ہو گئی، ہم دوبارہ سے پہلکاروں کے طور پر خدمت کرنے لگے۔
مارچ 1965ء میں مجھے حلقے کے نگہبان کے طور پر مقرر کِیا گیا اور ہم کلیسیاؤں کا دورہ کرنے لگے۔ ہم نے یہ خدمت 33 سال تک کی جس دوران مَیں نے حلقے کے نگہبان اور صوبائی نگہبان کی ذمےداریاں سنبھالیں۔ اِس کے علاوہ ہم نے صوبائی اِجتماعوں کے اِنتظام کے سلسلے میں بھی کام کِیا۔ مجھے یہ کام بہت اچھا لگتا تھا کیونکہ میرے دل میں اِجتماع ایک خاص مقام رکھتے ہیں۔ ہم نے کچھ سال تک شہر نیو یارک کی کلیسیاؤں کا دورہ بھی کِیا اور اِس دوران مشہور یانکی سٹیڈیم میں صوبائی اِجتماع منعقد کیے۔
تنظیم کے سکولوں کے سلسلے میں خدمت
مجھے اور انجی کو خدا کی خدمت کرتے وقت طرح طرح کے شرف اور ذمےداریاں ملیں جن میں سے کچھ آسان تھیں اور کچھ مشکل۔ مثال کے طور پر 1995ء میں مجھے منسٹریل ٹریننگ سکول کے ٹیچر کے طور پر مقرر کِیا گیا۔ اِس کے تین سال بعد ہمیں بیتایل میں آ کر خدمت کرنے کو کہا گیا۔ مَیں بہت خوش تھا کیونکہ 40 سال پہلے مَیں نے بیتایل ہی سے خصوصی کُلوقتی خدمت شروع کی تھی۔ بیتایل میں مَیں نے کچھ عرصے کے لیے خدمتی شعبے میں کام کِیا اور اُن سکولوں میں پڑھایا جو ہماری تنظیم منعقد کرتی ہے۔ پھر 2007ء میں گورننگ باڈی نے مسیحی سکولوں کا شعبہ قائم کِیا۔ یہ شعبہ اُن تمام سکولوں کی نگرانی کرتا ہے جو بیتایل میں منعقد کیے جاتے ہیں۔ کچھ سالوں کے لیے مجھے اِس شعبے کی نگرانی کرنے کا شرف ملا۔
پچھلے چند سالوں میں ہماری تنظیم کے سکولوں کے حوالے سے کافی تبدیلیاں کی گئیں۔ 2008ء میں کلیسیا کے بزرگوں کے لیے سکول قائم کِیا گیا اور تقریباً دو سال تک 12 ہزار سے زیادہ بزرگوں نے پیٹرسن اور بروکلن بیتایل میں منعقد ہونے والے اِس سکول میں تربیت پائی۔ اب یہ سکول بہت سے دوسرے علاقوں میں بھی منعقد کِیا جا رہا ہے۔ 2010ء میں منسٹریل ٹریننگ سکول کا نام غیرشادیشُدہ بھائیوں کے لیے سکول میں بدل دیا گیا۔ اِس کے ساتھ ساتھ ایک نیا سکول قائم کِیا گیا جسے شادیشُدہ جوڑوں کے لیے سکول کا نام دیا گیا۔
ستمبر 2014ء میں اِن دو سکولوں کی جگہ بادشاہت کے مُنادوں کے لیے سکول قائم کِیا گیا۔ اِس سکول میں شادیشُدہ جوڑے اور غیرشادیشُدہ بھائی اور بہنیں تربیت حاصل کر سکتے ہیں۔ جب بہن بھائیوں نے سنا کہ یہ سکول دوسرے ملکوں میں بھی منعقد کِیا جائے گا تو وہ بہت خوش ہوئے۔ مجھے یہ دیکھ کر بڑی خوشی ہوتی ہے کہ ہماری تنظیم اِن سکولوں کے ذریعے دُنیا بھر میں بہن بھائیوں کو خدا کی خدمت کے حوالے سے تربیت حاصل کرنے کا موقع فراہم کر رہی ہے۔ بہت سے بہن بھائی اپنی زندگی میں تبدیلیاں لا رہے ہیں تاکہ وہ اِن سکولوں پر تربیت حاصل کر سکیں۔ مجھے اُن طالبِعلموں سے ملاقات کرنا بہت اچھا لگتا ہے جو پوری دُنیا سے اِن سکولوں پر تربیت حاصل کرنے کے لیے یہاں آتے ہیں۔
جب مَیں اپنی زندگی پر غور کرتا ہوں تو مَیں یہوواہ کا بہت شکرگزار ہوتا ہوں کہ میرا واسطہ بہت سے دانشمند لوگوں سے پڑا جنہوں نے مجھے سچائی کی راہ پر چلنا سکھایا۔ اِن میں سے کچھ لوگ میری قوم اور تہذیب سے نہیں تھے۔ لیکن اُن کی باتوں اور اُن کے کاموں سے صاف دِکھتا تھا کہ اُن کے دل میں یہوواہ خدا کے لیے محبت بھری ہے۔ واقعی یہوواہ کی تنظیم میں دانشمند لوگوں کی کمی نہیں!
مجھے پوری دُنیا سے آنے والے طالبِعلموں سے ملاقات کرنا بہت اچھا لگتا ہے۔