آزادی کی نعمت کی قدر کریں
”جہاں یہوواہ کی روح ہے وہاں آزادی ہے۔“—2-کُرنتھیوں 3:17۔
1، 2. (الف) فیصلہ کرنے کی آزادی کے بارے میں لوگوں کی رائے کیا ہے؟ (ب) خدا کے کلام میں فیصلہ کرنے کی آزادی کے بارے میں کیا کہا گیا ہے اور ہم کن سوالوں پر بات کریں گے؟
جب ایک عورت کو کسی ذاتی معاملے کے بارے میں فیصلہ کرنا پڑا تو اُس نے اپنے دوست سے کہا: ”مجھے مشورے نہ دو۔ بس یہ بتاؤ کہ مَیں کیا کروں۔ یہ میرے لیے زیادہ آسان رہے گا۔“ یہ عورت خود کوئی فیصلہ کرنے کی بجائے چاہتی تھی کہ کوئی اَور اُس کے لیے فیصلہ کرے۔ یوں اُس نے اُس نعمت کی ناقدری کی جو خدا نے اُسے عطا کی تھی یعنی فیصلہ کرنے کی آزادی۔ آپ اِس نعمت کے بارے میں کیسا محسوس کرتے ہیں؟ کیا آپ فیصلہ کرنے کی آزادی کی قدر کرتے ہیں؟ یا کیا آپ چاہتے ہیں کہ دوسرے آپ کے لیے فیصلے کریں؟
2 فیصلہ کرنے کی آزادی کے بارے میں لوگ فرق فرق رائے رکھتے ہیں۔ کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ ہمیں یہ آزادی حاصل نہیں ہے کیونکہ خدا نے پہلے سے ہی سب کچھ طے کر رکھا ہے۔ بعض لوگ کہتے ہیں کہ ایک شخص کو یہ آزادی صرف اُسی صورت میں حاصل ہو سکتی ہے جب وہ کسی کے آگے جوابدہ نہ ہو۔ لیکن خدا کے کلام میں بتایا گیا ہے کہ خدا نے ہمیں اِس طرح سے بنایا ہے کہ ہم اپنی عقل سے کام لے کر خود ذاتی فیصلے کر سکیں۔ (یشوع 24:15 کو پڑھیں۔) اُس کے کلام میں اِن سوالوں کے بھی جواب پائے جاتے ہیں: کیا ہماری ذاتی آزادی پر حدیں لگی ہیں؟ ہم اپنی اِس آزادی کو کیسے اِستعمال کر سکتے ہیں؟ ہم اپنے فیصلوں سے کیسے ظاہر کر سکتے ہیں کہ ہم یہوواہ خدا سے محبت کرتے ہیں؟ ہم دوسروں کے فیصلوں کا احترام کیسے کر سکتے ہیں؟
یہوواہ خدا اور یسوع مسیح کی مثال
3. یہوواہ خدا اپنی آزادی کو کیسے اِستعمال کرتا ہے؟
3 یہوواہ خدا کو لامحدود آزادی حاصل ہے۔ وہ اِس آزادی کو جس طرح سے اِستعمال کرتا ہے، اِس سے ہم بہت کچھ سیکھ سکتے ہیں۔ مثال کے طور پر اُس نے بنیاِسرائیل کو اپنی ”خاص اُمت“ کے طور پر چُننے کا فیصلہ کِیا۔ (اِستثنا 7:6-8) اُس نے یہ فیصلہ اِس لیے کِیا کیونکہ وہ اُس وعدے کو نبھانا چاہتا تھا جو اُس نے اپنے دوست ابراہام سے کِیا تھا۔ (پیدایش 22:15-18) یہوواہ خدا اپنی آزادی کو اِستعمال کرتے وقت ہمیشہ محبت اور اِنصافپسندی سے کام لیتا ہے۔ یہ اِس بات سے ظاہر ہوتا ہے کہ اُس نے بنیاِسرائیل کی اِصلاح کیسے کی۔ اُنہوں نے بار بار اُس کے حکموں کو توڑا۔ لیکن جب بھی وہ دل سے توبہ کرتے، یہوواہ خدا اُن پر رحم کرتا اور اُن سے محبت سے پیش آتا۔ اُس نے کہا: ”مَیں کُشادہدلی سے اُن سے محبت رکھوں گا کیونکہ میرا قہر اُن پر سے ٹل گیا۔“ (ہوسیع 14:4) یہوواہ نے اپنی آزادی دوسروں کی مدد کرنے کے لیے اِستعمال کی اور یوں ہمارے لیے عمدہ مثال قائم کی۔
زمین پر آنے سے پہلے یسوع مسیح نے شیطان کا ساتھ دینے کی بجائے یہوواہ کا ساتھ دینے کا فیصلہ کِیا۔
4، 5. (الف) فیصلہ کرنے کی آزادی سب سے پہلے کس کو دی گئی اور اُس نے اِسے کیسے اِستعمال کِیا؟ (ب) ہم میں سے ہر ایک کو خود سے کون سا سوال پوچھنا چاہیے؟
4 یہوواہ خدا نے محبت کی بِنا پر فرشتوں اور اِنسانوں کو فیصلہ کرنے کی آزادی دی۔ سب سے پہلی ہستی جسے یہ آزادی دی گئی، وہ یسوع مسیح تھے جو ”ہوبہو اَندیکھے خدا کی طرح“ تھے۔ (کُلسّیوں 1:15) یسوع مسیح نے اِس آزادی کو کیسے اِستعمال کِیا؟ زمین پر آنے سے پہلے اُنہوں نے شیطان کا ساتھ دینے کی بجائے یہوواہ کا ساتھ دینے کا فیصلہ کِیا۔ جب یسوع مسیح زمین پر تھے اور شیطان نے اُنہیں ورغلانے کی کوشش کی تو اُنہوں نے اُس کی پیشکش کو رد کرنے کا فیصلہ کِیا۔ (متی 4:10) اور اپنی موت سے پہلے کی رات یسوع مسیح نے اپنے آسمانی باپ سے کہا کہ ”باپ، اگر تُو چاہتا ہے تو یہ پیالہ مجھ سے ہٹا دے۔ لیکن میری مرضی نہیں بلکہ تیری مرضی ہو۔“ (لُوقا 22:42) دُعا ہے کہ ہم بھی یسوع مسیح کی طرح اپنی آزادی کو یہوواہ خدا کی بڑائی کرنے اور اُس کی مرضی پر چلنے کے لیے اِستعمال کریں۔ لیکن کیا ایسا کرنا عیبدار اِنسانوں کے لیے ممکن ہے؟
5 جی کیونکہ یسوع مسیح کی طرح ہم بھی خدا کی صورت پر بنائے گئے ہیں۔ (پیدایش 1:26) مگر اِنسانوں کو لامحدود آزادی حاصل نہیں ہے۔ خدا کے کلام میں بتایا گیا ہے کہ یہوواہ نے اِنسانوں کی آزادی پر حدیں لگائی ہیں اور وہ چاہتا ہے کہ اِنسان اِنہیں پار نہ کرے۔ مثال کے طور پر وہ چاہتا ہے کہ بیوی اپنے شوہر کی تابعدار ہو اور بچے اپنے والدین کے۔ (اِفسیوں 5:22؛ 6:1) مگر سوال یہ ہے کہ ہم اُس آزادی کو کیسے اِستعمال کریں گے جو ہمیں دی گئی ہے؟ یہ بہت اہم سوال ہے کیونکہ اِس کا تعلق ہمارے مستقبل سے ہے۔
ذاتی آزادی کا صحیح اور غلط اِستعمال
6. مثال دے کر واضح کریں کہ ذاتی آزادی پر حدیں لگانا اہم کیوں ہے۔
6 لیکن جس آزادی پر حدیں لگی ہوں، کیا اِسے واقعی آزادی کہا جا سکتا ہے؟ جی بالکل کیونکہ آزادی پر حدیں ہمارے تحفظ کے لیے لگائی جاتی ہیں۔ ذرا تصور کریں کہ آپ کسی دُوردراز شہر کا سفر کر رہے ہیں۔ لیکن کوئی حدبندی نہ ہونے کی وجہ سے ہر کوئی خود فیصلہ کر رہا ہے کہ وہ گاڑی سڑک کی کس طرف چلائے گا اور کتنی تیز چلائے گا۔ کیا آپ اُس سڑک پر سفر کرتے وقت خود کو محفوظ خیال کریں گے؟ ہرگز نہیں۔ اِس سے ظاہر ہوتا ہے کہ جب لوگوں کی آزادی پر حدیں لگائی جاتی ہیں تو وہ اپنی آزادی سے زیادہ لطف اُٹھا سکتے ہیں۔ یہوواہ خدا نے ہمارے فائدے کے لیے ہی ہماری آزادی پر حدیں لگائی ہیں۔ آئیں، بائبل میں کچھ لوگوں کی زندگی پر غور کریں اور دیکھیں کہ حد میں رہ کر اپنی آزادی کو اِستعمال کرنے کے کتنے فائدے ہوتے ہیں۔
7. (الف) آدم میں اور جانوروں میں کیا فرق تھا؟ (ب) شروع میں آدم نے فیصلہ کرنے کی نعمت کو کیسے اِستعمال کِیا؟
7 یہوواہ خدا نے سب سے پہلے اِنسان آدم کو بھی فیصلہ کرنے کی نعمت عطا کی۔ لیکن اُس نے جانوروں کو یہ نعمت نہیں دی۔ شروع میں تو آدم نے اِس نعمت کو اچھے طریقے سے اِستعمال کِیا۔ یہ اُس وقت ظاہر ہوا جب اُنہیں جانوروں کے نام رکھنے کی ذمےداری دی گئی۔ بائبل میں لکھا ہے کہ یہوواہ خدا ”کُل دشتی جانور اور ہوا کے کُل پرندے . . . آؔدم کے پاس لایا کہ دیکھے کہ وہ اُن کے کیا نام رکھتا ہے۔“ آدم نے کچھ عرصے تک ہر جانور کی خصوصیات اور حرکات پر غور کِیا اور پھر اُن کے نام رکھے۔ اُنہوں نے ایک جانور کو جو بھی نام دینے کا فیصلہ کِیا، یہوواہ خدا نے اِسے قبول کِیا۔ بائبل میں لکھا ہے: ”آؔدم نے جس جانور کو جو کہا وہی اُس کا نام ٹھہرا۔“—پیدایش 2:19۔
8. آدم نے اپنی آزادی کا ناجائز فائدہ کیسے اُٹھایا اور اِس کا کیا نتیجہ نکلا؟
8 یہوواہ خدا نے آدم کو یہ ذمےداری بھی دی کہ وہ پوری زمین کو فردوس بنا دیں۔ اُس نے آدم سے کہا: ”پھلو اور بڑھو اور زمین کو معمورومحکوم کرو اور سمندر کی مچھلیوں اور ہوا کے پرندوں اور کُل جانوروں پر جو زمین پر چلتے ہیں اِختیار رکھو۔“ (پیدایش 1:28) افسوس کی بات ہے کہ آدم نے وہ پھل کھانے کا فیصلہ کِیا جس سے خدا نے منع کِیا تھا اور یوں اُنہوں نے اُن حدوں کو نظرانداز کِیا جو یہوواہ خدا نے اُن کی آزادی پر لگائی تھیں۔ چونکہ اُنہوں نے اپنی آزادی کا ناجائز فائدہ اُٹھایا اِس لیے اِنسان ہزاروں سال سے دُکھ اور تکلیف سہہ رہے ہیں۔ (رومیوں 5:12) آئیں، آدم کے فیصلے کے بُرے نتائج کو ہمیشہ یاد رکھیں۔ پھر ہم اپنی آزادی کا ناجائز فائدہ نہیں اُٹھائیں گے بلکہ اُن حدوں کا احترام کریں گے جو خدا نے اِس پر لگائی ہیں۔
بنیاِسرائیل نے خدا کی خاص ملکیت بننے کا فیصلہ کِیا اور یوں اُن حدوں کو بھی قبول کِیا جو یہوواہ خدا نے اُن کے لیے مقرر کیں۔
9. یہوواہ خدا نے بنیاِسرائیل پر کون سا فیصلہ چھوڑ دیا اور اُنہوں نے کیا کرنے کا وعدہ کِیا؟
9 تمام اِنسانوں نے آدم اور حوا سے گُناہ کرنے کا رُجحان اور موت ورثے میں پائی ہے۔ لیکن خدا نے ابھی بھی اِنسانوں کو فیصلہ کرنے کی آزادی دے رکھی ہے۔ ہم یہ کیسے جانتے ہیں؟ یہوواہ خدا بنیاِسرائیل کو اپنی قوم کے طور پر چُننا چاہتا تھا۔ لیکن اُس نے یہ فیصلہ اُن کے ہاتھ میں چھوڑ دیا کہ وہ اِس شرف کو قبول کریں گے یا نہیں۔ (خروج 19:3-6) بنیاِسرائیل نے یہوواہ کی خاص ملکیت بننے کا فیصلہ کِیا اور یوں اُن حدوں کو بھی قبول کِیا جو یہوواہ نے اُن کے لیے مقرر کیں۔ اُنہوں نے وعدہ کِیا کہ ”جو کچھ [یہوواہ] نے فرمایا ہے وہ سب ہم کریں گے۔“ (خروج 19:8) مگر بعد میں بنیاِسرائیل نے اِس وعدے کو توڑ دیا۔ ہم اُن کی طرح نہیں بننا چاہتے اِس لیے آئیں، یہوواہ خدا کی قربت میں رہیں اور اُس کے حکموں پر عمل کریں۔ اِس طرح ظاہر ہو جائے گا کہ ہم آزادی کی نعمت کی قدر کرتے ہیں۔—1-کُرنتھیوں 10:11۔
10. بائبل سے کیسے ظاہر ہوتا ہے کہ عیبدار اِنسان اپنی آزادی کو یہوواہ کی بڑائی کرنے کے لیے اِستعمال کر سکتے ہیں؟ (اِس مضمون کی پہلی تصویر کو دیکھیں۔)
10 عبرانیوں 11 باب میں ہم خدا کے 16 خادموں کے بارے میں پڑھتے ہیں جنہوں نے حد میں رہ کر اپنی آزادی کو اِستعمال کِیا۔ اِس کے نتیجے میں اُن کو بہت سی برکتیں ملیں اور ایک شاندار مستقبل کی اُمید بھی دی گئی۔ اِن میں سے ایک نوح تھے۔ نوح نے اپنے ایمان کی بدولت خدا کے حکم کے مطابق کشتی بنانے کا فیصلہ کِیا جس کے نتیجے میں اُنہوں نے اپنے گھر والوں اور آئندہ آنے والی نسلوں کو بچا لیا۔ (عبرانیوں 11:7) ابراہام اور سارہ خوشی خوشی اُس ملک میں جا کر رہنے لگے جسے خدا نے اُنہیں دینے کا وعدہ کِیا تھا۔ اگر وہ چاہتے تو وہ شہر اُور ”واپس جانے کا راستہ نکال لیتے۔“ لیکن اُنہوں نے ایسا نہیں کِیا بلکہ اپنا دھیان اُن وعدوں پر لگائے رکھا جو خدا نے اُن سے کیے تھے۔ خدا کے کلام میں لکھا ہے کہ ”اُنہوں نے زیادہ اچھی جگہ حاصل کرنے کی کوشش کی۔“ (عبرانیوں 11:8، 13، 15، 16) موسیٰ نے مصر کے خزانوں کو ٹھکرا دیا اور ”گُناہ کا وقتی مزہ لُوٹنے کی بجائے خدا کے بندوں کے ساتھ بدسلوکی برداشت کرنے کا اِنتخاب کِیا۔“ (عبرانیوں 11:24-26) آئیں، ہم بھی خدا کے اِن خادموں جیسا ایمان پیدا کریں اور آزادی کی نعمت کو خدا کی مرضی پر چلنے کے لیے اِستعمال کریں۔
11. (الف) ذاتی آزادی کو صحیح طریقے سے اِستعمال کرنے سے کون سا شرف ملتا ہے؟ (ب) آپ اپنی آزادی کو یہوواہ کی بڑائی کرنے کے لیے کیوں اِستعمال کرنا چاہتے ہیں؟
11 شاید ہمیں لگے کہ اگر کوئی اَور ہمارے لیے فیصلہ کرے تو ہمارے لیے آسانی ہوگی۔ لیکن اگر ہم دوسروں سے کہیں گے کہ وہ ہمارے لیے فیصلہ کریں تو ہم اُس شاندار شرف کو حاصل نہیں کر پائیں گے جو ذاتی آزادی کو صحیح طریقے سے اِستعمال کرنے سے ملتا ہے۔ اِستثنا 30:19، 20 میں اِس شرف کے بارے میں بتایا گیا ہے۔ (اِن آیتوں کو پڑھیں۔) اُنیسویں آیت میں خدا نے بنیاِسرائیل کے سامنے یہ اِنتخاب رکھا کہ وہ کس راہ پر چلیں گے۔ بیسویں آیت کے مطابق یہوواہ نے اُنہیں اِنتخاب کرنے کا موقع اِس لیے دیا تاکہ وہ اُس کے لیے محبت ظاہر کر سکیں۔ ہم بھی یہوواہ خدا کی عبادت کرنے کا اِنتخاب کر سکتے ہیں اور یوں ظاہر کر سکتے ہیں کہ ہم اُس سے کتنی محبت کرتے ہیں۔ اِس طرح یہ بھی ظاہر ہو جائے گا کہ ہم اپنی آزادی کو اُس کی بڑائی کرنے کے لیے اِستعمال کرنا چاہتے ہیں۔
آزادی کی نعمت کا ناجائز فائدہ نہ اُٹھائیں
12. ہمیں آزادی کی نعمت کے ساتھ کیا نہیں کرنا چاہیے؟
12 فرض کریں کہ آپ اپنے دوست کو قیمتی تحفہ دیتے ہیں۔ اگر وہ اِسے کوڑے میں پھینک دے یا اِس سے دوسروں کو نقصان پہنچائے تو آپ کو کیسا لگے گا؟ بِلاشُبہ آپ کو بہت دُکھ ہوگا۔ یہوواہ خدا نے اِنسانوں کو ایک بہت ہی قیمتی نعمت عطا کی ہے۔ لیکن جب لوگ اِس نعمت کو غلط طریقے سے اِستعمال کرتے ہیں یا اِس سے دوسروں کو نقصان پہنچاتے ہیں تو خدا کو بھی بہت دُکھ ہوتا ہے۔ خدا کے کلام میں بتایا گیا ہے کہ ”آخری زمانے میں“ لوگ ناشکرے ہوں گے۔ (2-تیمُتھیُس 3:1، 2) بِلاشُبہ ہم اِن لوگوں میں شامل نہیں ہونا چاہتے۔ تو پھر ہم آزادی کی نعمت کے لیے شکرگزاری کیسے ظاہر کر سکتے ہیں؟ اور آزادی کو غلط طریقے سے اِستعمال کرنے میں کیا شامل ہے؟
13. ہمیں اپنی آزادی کو کس مقصد کے لیے اِستعمال کرنا چاہیے؟
13 ہم سب کو یہ اِنتخاب کرنے کی آزادی ہے کہ ہم کس سے دوستی کریں گے، کیسے کپڑے پہنیں گے اور کس طرح کی تفریح سے لطف اُٹھائیں گے۔ لیکن اگر ہم اِن معاملوں میں ایسے اِنتخاب کریں گے جو خدا کو پسند نہیں ہیں تو ہم اِس ”آزادی کو بُرے کام کرنے کا بہانہ“ بنا رہے ہوں گے۔ (1-پطرس 2:16 کو پڑھیں۔) ہمیں ”اِس آزادی کو جسمانی خواہشوں کو پورا کرنے کے لیے“ نہیں بلکہ ”خدا کی بڑائی کے لیے“ اِستعمال کرنا چاہیے۔—گلتیوں 5:13؛ 1-کُرنتھیوں 10:31۔
14. فیصلہ کرنے کی آزادی کو اِستعمال کرتے وقت ہمیں یہوواہ پر بھروسا کیوں کرنا چاہیے؟
14 ہمیں یہوواہ خدا کی رہنمائی پر بھروسا کرنا چاہیے اور اُس کی مقررہ حدوں کا احترام کرنا چاہیے کیونکہ وہ ہمیں ’مفید تعلیم دیتا ہے اور ہمیں اُس راہ میں جس میں ہمیں جانا ہے، لے چلتا ہے۔‘ (یسعیاہ 48:17) ہمیں خاکساری سے اِس بات کو تسلیم کرنا چاہیے کہ ”اِنسان کی راہ اُس کے اِختیار میں نہیں۔ اِنسان اپنی روِش میں اپنے قدموں کی راہنمائی نہیں کر سکتا۔“ (یرمیاہ 10:23) آدم اور بنیاِسرائیل نے اپنی عقل پر بھروسا کِیا۔ اُنہوں نے خدا کی رہنمائی کو نظرانداز کِیا اور اُن حدوں کو پار کِیا جو اُس نے مقرر کی تھیں۔ ہمیں اُن سے عبرت حاصل کرنی چاہیے اور ”سارے دل سے [یہوواہ] پر توکل“ کرنا چاہیے۔—امثال 3:5۔
دوسروں کے فیصلوں کا احترام کریں
15. ہم گلتیوں 6:5 سے کیا سیکھ سکتے ہیں؟
15 ہمیں تسلیم کرنا چاہیے کہ دوسروں کو بھی اپنے لیے فیصلے کرنے کا حق ملا ہے۔ اِس حق کو اِستعمال کرتے ہوئے مسیحی ایک ہی معاملے کے بارے میں فرق فرق فیصلے کر سکتے ہیں۔ یہ طرزِزندگی اور عبادت جیسے اہم معاملوں کے بارے میں بھی سچ ہے۔ اُس اصول کو یاد رکھیں جو گلتیوں 6:5 میں پایا جاتا ہے۔ (اِس آیت کو پڑھیں۔) فیصلے کرنے کے سلسلے میں بھی ہر مسیحی کو ”اپنی ذمےداری کا بوجھ“ خود اُٹھانا پڑے گا۔ لہٰذا ہمیں اپنے بہن بھائیوں کے فیصلوں کا احترام کرنا چاہیے۔
ہم اپنے لیے تو فیصلے کر سکتے ہیں لیکن ہمیں اِنہیں دوسروں پر مسلّط نہیں کرنا چاہیے۔ (پیراگراف 15 کو دیکھیں۔)
16، 17. (الف) کُرنتھس کی کلیسیا میں کیا بحث چل رہی تھی؟ (ب) پولُس رسول نے اِس مسئلے کو حل کرنے کے لیے کیا کہا اور اِس سے ہم کیا سیکھ سکتے ہیں؟
16 بائبل میں ایک واقعے کے بارے میں بتایا گیا ہے جس سے دوسروں کی آزادی کا احترام کرنے کی اہمیت ظاہر ہوتی ہے۔ پولُس رسول کے زمانے میں بُتوں کے آگے چڑھائے جانے والے گوشت کو بعد میں بازار میں بیچا جاتا تھا۔ کُرنتھس کی کلیسیا کے مسیحیوں میں یہ بحث چل رہی تھی کہ آیا اِس گوشت کو کھانا جائز ہے یا نہیں۔ کچھ مسیحیوں کا ضمیر اُنہیں ایسا گوشت کھانے کی اِجازت دیتا تھا کیونکہ اُن کی نظر میں ”بُت کچھ بھی نہیں“ تھے۔ لیکن جو مسیحی ایک زمانے میں بُتپرست تھے، اُن کی نظر میں ایسا گوشت کھانا بُت کی پوجا کرنے کے برابر تھا۔ (1-کُرنتھیوں 8:4، 7) اِس سنگین مسئلے کی وجہ سے کلیسیا کا اِتحاد برباد ہو سکتا تھا۔ پولُس رسول نے اِسے حل کرنے کے لیے کیا کِیا؟
17 پولُس نے اُس کلیسیا کے بہن بھائیوں سے کہا کہ کھانے کی چیزیں اُنہیں خدا کے زیادہ قریب نہیں لے جا سکتیں۔ (1-کُرنتھیوں 8:8) پھر اُنہوں نے کہا: ”آپ اِنتخاب کا حق تو رکھتے ہیں لیکن خبردار رہیں کہ آپ کے اِنتخاب کی وجہ سے وہ لوگ گمراہ نہ ہو جائیں جن کا ضمیر کمزور ہے۔“ (1-کُرنتھیوں 8:9) جو مسیحی گوشت نہیں کھاتے تھے، اُن سے پولُس نے کہا کہ وہ اُن مسیحیوں کو قصوروار نہ ٹھہرائیں جو گوشت کھانے کا فیصلہ کرتے ہیں۔ (1-کُرنتھیوں 10:25، 29، 30) اِس سے ظاہر ہوتا ہے کہ عبادت جیسے اہم معاملوں میں بھی ہر مسیحی کو اپنے ضمیر کے مطابق فیصلہ کرنے کی آزادی تھی۔ تو پھر جب ہمارے بہن بھائی معمولی معاملوں میں ذاتی فیصلے کرتے ہیں تو کیا ہمیں اُن کے فیصلوں کا احترام نہیں کرنا چاہیے؟—1-کُرنتھیوں 10:32، 33۔
18. آپ کیسے ظاہر کر سکتے ہیں کہ آپ آزادی کی نعمت کی قدر کرتے ہیں؟
18 یہوواہ خدا نے ہمیں فیصلہ کرنے کی آزادی دی ہے جو کہ ایک بہت بڑی نعمت ہے۔ (2-کُرنتھیوں 3:17) ہم اِس نعمت کی قدر کرتے ہیں کیونکہ اِس کی بدولت ہم ظاہر کر سکتے ہیں کہ ہم یہوواہ خدا سے کتنی محبت کرتے ہیں۔ آئیں، ہم آئندہ بھی ایسے فیصلے کریں جن سے یہوواہ خدا کی بڑائی ہو اور ہمیشہ اِس بات کا احترام کریں کہ دوسروں کو بھی فیصلہ کرنے کا حق دیا گیا ہے۔