یہوواہ کے گواہوں کی آن لائن لائبریری
یہوواہ کے گواہوں کی
آن لائن لائبریری
اُردو
  • بائبل
  • مطبوعات
  • اِجلاس
  • م26 مئی ص.‏ 2-‏7
  • بائبل کے اصول اِتنے اہم کیوں ہیں؟‏

اِس حصے میں کوئی ویڈیو دستیاب نہیں ہے۔

ہم معذرت خواہ ہیں کہ ویڈیو لوڈ نہیں ہو سکی۔

  • بائبل کے اصول اِتنے اہم کیوں ہیں؟‏
  • مینارِنگہبانی یہوواہ خدا کی بادشاہت کا اعلان کرتا ہے (‏مطالعے کا ایڈیشن)‏—‏2026ء
  • ذیلی عنوان
  • ملتا جلتا مواد
  • پاک کلام کے اصول کیا ہیں؟‏
  • پاک کلام کے اصول اِتنے اہم کیوں ہیں؟‏
  • ہم پاک کلام کے اصولوں کو کیسے پہچان سکتے ہیں؟‏
  • پاک کلام کے اصولوں پر عمل کرنے کا پکا اِرادہ کریں
  • بائبل کے اصولوں کے مطابق اپنے ضمیر کی تربیت کریں
    مینارِنگہبانی یہوواہ خدا کی بادشاہت کا اعلان کرتا ہے (‏مطالعے کا ایڈیشن)‏—‏2026ء
  • خدائی اُصولوں سے اپنے قدموں کی راہنمائی کریں
    مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏2002ء
  • ایسے فیصلے کریں جن سے ثابت ہو کہ آپ یہوواہ پر بھروسا کرتے ہیں
    مسیحی زندگی اور خدمت—‏اِجلاس کا قاعدہ 2023ء
  • خدا کے اصولوں پر عمل کرنے کے کیا فائدے ہیں؟‏
    خدا کی طرف سے خوشخبری
مزید
مینارِنگہبانی یہوواہ خدا کی بادشاہت کا اعلان کرتا ہے (‏مطالعے کا ایڈیشن)‏—‏2026ء
م26 مئی ص.‏ 2-‏7

6-‏12 جولائی 2026ء

گیت نمبر 98 خدا کا پاک کلام

بائبل کے اصول اِتنے اہم کیوں ہیں؟‏

‏”‏اپنی سوچنے سمجھنے کی صلاحیت کو اِستعمال میں لا کر مُقدس خدمت انجام دیں۔“‏‏—‏روم 12:‏1‏۔‏

غور کریں کہ ‏.‏ ‏.‏ ‏.‏

اصول کیا ہوتے ہیں اور ہم بائبل پڑھتے وقت اِس میں پائے جانے والے اصولوں کو کیسے پہچان سکتے ہیں۔‏

1-‏2.‏ (‏الف)‏بائبل کو ایک پُرانی کتاب کیوں کہا جا سکتا ہے؟ (‏ب)‏بائبل میں پایا جانے والا پیغام آج بھی ہمارے لیے فائدہ‌مند کیوں ہے؟‏

بائبل ایک بہت ہی پُرانی کتاب ہے۔ اِس کی سب سے پہلی کتابیں تقریباً 3500 سال پہلے لکھی گئی تھیں اور آخری کتاب تقریباً 2000 سال پہلے لکھی گئی تھی۔ لیکن اِتنی پُرانی کتاب ہونے کے باوجود بھی بائبل میں موجود پیغام آج بھی بہت فائدہ‌مند ہے۔ (‏عبر 4:‏12؛‏ 2-‏تیم 3:‏16، 17‏)‏ لاکھوں لوگ اِس بات کے گواہ ہیں کہ اُنہیں بائبل میں پائے جانے والے مشوروں پر عمل کرنے سے بہت فائدہ ہوا ہے۔ اِن کی مدد سے وہ اچھے فیصلے لے پائے ہیں اور زیادہ خوش ہیں۔‏

2 لیکن بھلا اِتنی پُرانی کتاب آج بھی ہمارے لیے فائدہ‌مند ہو سکتی ہے؟ بالکل!‏ ہم ایسا دو باتوں کی وجہ سے کہہ سکتے ہیں۔ سب سے پہلی بات تو یہ کہ بائبل میں لکھا پیغام ”‏زندہ خدا“‏ کی طرف سے ہے جو سچی دانش‌مندی کا سرچشمہ ہے۔ (‏1-‏تیم 4:‏10؛‏ روم 16:‏26، 27‏)‏ اور دوسری بات یہ کہ بائبل میں ایسے اصول دیے گئے ہیں جو وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ بھی نہیں بدلتے۔ اِسی وجہ سے چاہے ایک شخص کسی بھی زمانے میں رہ رہا ہو یا کسی بھی مشکل کا سامنا کر رہا ہو، اُسے بائبل میں پائے جانے والے اصولوں پر عمل کرنے سے اُتنا ہی فائدہ ہوتا ہے جتنا ماضی میں لوگوں کو ہوا تھا۔‏

3.‏ اِس مضمون میں ہم کن سوالوں کے جواب حاصل کریں گے؟‏

3 اِس مضمون میں ہم اِن سوالوں کے جواب حاصل کریں گے:‏ بائبل کے اصول کیا ہیں؟ یہ آج بھی ہمارے لیے اِتنے اہم کیوں ہیں؟ اور ہم بائبل پڑھتے وقت اِس میں پائے جانے والے اصولوں کو کیسے پہچان سکتے ہیں؟ اِس کے علاوہ اِس مضمون میں ہم یہ بھی دیکھیں گے کہ یسوع مسیح نے تعلیم دیتے وقت اصولوں کی اہمیت کیسے واضح کی۔‏

پاک کلام کے اصول کیا ہیں؟‏

4.‏ بائبل کے اصول کیا ہیں؟‏

4 بائبل کے اصول بائبل کی وہ اہم سچائیاں ہیں جن پر خدا کے قوانین ٹکے ہیں۔ کبھی کبھار ہم ایک قانون میں بتائے گئے اصول کو صاف طور پر دیکھ پاتے ہیں۔ (‏متی 22:‏37‏)‏ لیکن اصول قوانین سے بڑھ کر ہوتے ہیں۔ ایک قانون ایک خاص زمانے یا پھر ایک خاص صورتحال کو ذہن میں رکھ کر بنایا جاتا ہے۔ لیکن بائبل کے اصولوں کے ذریعے ہم مختلف معاملوں کے بارے میں یہوواہ کی سوچ اور احساسات سمجھ پاتے ہیں اور یہ دیکھ پاتے ہیں کہ ایک قانون کو دینے کے پیچھے کیا وجہ تھی۔ یہوواہ کے بنائے ہر قانون کے پیچھے ہی ایک جائز وجہ ہوتی ہے۔ لیکن جن اصولوں کی بنیاد پر یہوواہ نے قوانین بنائے ہیں، وہ کسی بھی زمانے میں اور کسی بھی صورتحال پر لاگو کیے جا سکتے ہیں۔ (‏زبور 119:‏111‏)‏ قوانین کو بدلنے کی ضرورت پڑ سکتی ہے لیکن اصول نہ تو کبھی بدلتے ہیں اور نہ ہی وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ پُرانے ہوتے ہیں۔—‏یسع 40:‏8‏۔‏

5.‏ ایک مثال کے ذریعے بتائیں کہ قوانین اور اصولوں میں کیا فرق ہوتا ہے۔ (‏تصویروں کو بھی دیکھیں۔)‏

5 آئیے ایک مثال پر غور کرتے ہیں جس کی مدد سے ہم قوانین اور اصولوں میں پائے جانے والے فرق کو سمجھ سکتے ہیں۔ فرض کریں کہ ایک ماں اپنے چھوٹے بچے سے کہتی ہے:‏ ”‏چُولھے کو ہاتھ نہ لگاؤ۔“‏ یہ ایک حکم یا قانون ہے۔ لیکن اِس حکم کے پیچھے پائی جانے والی سوچ یا اصول یہ ہے:‏ ”‏کسی گرم چیز کو ہاتھ نہ لگاؤ ورنہ آپ کو چوٹ لگ جائے گی۔“‏ یہ اصول صرف گرم چُولھے کو ہاتھ لگانے تک ہی محدود نہیں ہے۔ اِس اصول پر اُس وقت بھی عمل کِیا جا سکتا ہے جب ہم گرم اِستری، ہیٹر یا پھر کوئی ایسی چیز اِستعمال کر رہے ہوتے ہیں جس سے ہاتھ جل سکتا ہے۔اِس کے علاوہ اِس اصول پر صرف گھر کے اندر ہی نہیں بلکہ گھر سے باہر بھی عمل کِیا جا سکتا ہے۔ ظاہری بات ہے کہ ایک بچہ بڑا ہو کر چُولھا اِستعمال کرے گا۔ لیکن وہ احتیاط سے گرم چُولھے کو ہاتھ لگائے گا تاکہ وہ جل نہ جائے۔ اِس سے پتہ چلتا ہے کہ ایک قانون بدل سکتا ہے لیکن اِس قانون کے پیچھے چھپا اصول نہیں بدلتا۔‏

تصویروں کا مجموعہ:‏ ایک ماں اور اُس کا بیٹا مل کر کچن میں کھانا بنا رہے ہیں۔ 1.‏ وہ ماں کھانا بناتے ہوئے اپنے بیٹے سے جو ابھی چھوٹا ہے، کہہ رہی ہے کہ وہ گرم چُولھے کو ہاتھ نہ لگائے۔ 2.‏ کچھ سالوں بعد جب اُس کا بیٹا بڑا ہو گیا ہے تو وہ چُولھے پر کھانا بنا رہا ہے اور وہ اُس کے پاس کھڑی اُس کی مدد کر رہی ہے۔‏

ایک قانون تو بدل سکتا ہے لیکن اِس کے پیچھے چھپا اصول نہیں۔ (‏پیراگراف نمبر 5 کو دیکھیں۔)‏


پاک کلام کے اصول اِتنے اہم کیوں ہیں؟‏

6.‏ (‏الف)‏یہوواہ نے ہماری رہنمائی کرنے کے لیے ہمیں اپنے کلام میں کیا دیا ہے؟ (‏ب)‏یہوواہ نے یہ کیسے ظاہر کِیا ہے کہ وہ ہماری عزت کرتا ہے؟‏

6 یہوواہ نے ہم سے محبت کرنے کی وجہ سے ہمیں کچھ قانون دیے ہیں جن کو ماننے سے ہم خطروں سے بچ سکتے ہیں۔ (‏یعقو 2:‏11‏)‏ اِس کے علاوہ وہ اِن قوانین کے پیچھے چھپے اصولوں کو یا اُس کی سوچ کو سمجھنے میں بھی ہماری مدد کرتا ہے۔ یہوواہ نے ہر صورتحال کے لیے قانون نہیں بنائے۔ اِس کی بجائے وہ اپنے کلام میں پائے جانے والے اصولوں کے ذریعے ہماری رہنمائی کرتا ہے تاکہ ہم اُس وقت بھی اچھے فیصلے لے سکیں جب ایک صورتحال کے حوالے سے کوئی واضح قانون نہیں ہوتا۔ یہوواہ نے ہم پر قوانین کی بوچھاڑ نہ کرنے سے یہ ثابت کِیا ہے کہ وہ ہماری عزت کرتا ہے۔ اُس نے ہمیں اپنی مرضی سے فیصلے کرنے کی آزادی دی ہے تاکہ ہم یہ ثابت کر سکیں کہ ہم اُس سے محبت کرتے ہیں اور اُس کے حکم ماننا چاہتے ہیں۔‏‏—‏گل 5:‏13‏۔‏

7.‏ ایک مثال دیں جس سے پتہ چلتا ہے کہ بائبل کے اصول کتنے اہم ہیں۔ (‏تصویر کو بھی دیکھیں۔)‏

7 ہم یہ کیسے سمجھ سکتے ہیں کہ یہوواہ نے ہمیں جو قانون دیے ہیں، اُن کے پیچھے اُس کی سوچ کیا ہے؟ اِس سلسلے میں ذرا اِس مثال پر غور کریں۔ کچھ ملکوں میں سڑک پر ٹریفک کے نشان لگے ہوتے ہیں۔ کئی نشان ایسے ہوتے ہیں جن کی مدد سے ایک ڈرائیور یہ دیکھ پاتا ہے کہ وہ گاڑی چلاتے وقت کیا کر سکتا ہے اور کیا نہیں۔ مثال کے طور پر کچھ نشانوں کے ذریعے یہ ہدایت دی گئی ہوتی ہے کہ ڈرائیور کتنی رفتار میں گاڑی چلا سکتا ہے یا اُسے سڑک پر کب رُکنا ہے۔ اگر ڈرائیور اِن ہدایتوں کو نہیں مانتا تو اُسے جُرمانہ بھرنا پڑتا ہے۔ لیکن سڑک پر لگے کچھ نشان ایسے ہوتے ہیں جن میں خطرناک صورتحال سے آگاہ کِیا جاتا ہے جیسے کہ آگے راستہ کچا ہے یا سڑک پر تعمیراتی کام ہو رہا ہے۔ ایک اچھا ڈرائیور خطرے کی علامات کو دیکھ کر سمجھ‌داری سے کام لیتا ہے اور احتیاط سے گاڑی چلاتا ہے۔ مثال کے طور پر اگر تیز بارش ہو رہی ہوتی ہے تو وہ خطرے سے بچنے کے لیے اپنی ڈرائیونگ کو اِس کے مطابق ڈھالتا ہے۔ اِسی طرح یہوواہ کے بندے نہ صرف اُن کاموں سے دُور رہتے ہیں جن سے خدا کے کلام میں منع کِیا گیا ہے بلکہ وہ ایسی سوچ یا خیالوں کو بھی اپنے ذہن میں نہیں آنے دیتے جن سے خدا کا کوئی قانون ٹوٹ سکتا ہے۔ مگر ایسا تبھی ہو سکتا ہے اگر وہ مختلف معاملوں کے بارے میں یہوواہ کی سوچ کو سمجھیں گے۔‏

ایک گاڑی رات کے وقت پہاڑ پر بنی سڑک سے گزر رہی ہے۔ گاڑی کی ہیڈ لائٹ کی روشنی سے سڑک پر لگے اِشارے نظر آ رہے ہیں۔‏

جس طرح سڑک پر لگے اِشارے ایک ڈرائیور کو خطرے سے آگاہ کرتے ہیں اُسی طرح پاک کلام کے اصول ہمیں خطروں سے آگاہ کرتے ہیں۔ (‏پیراگراف نمبر 7 کو دیکھیں۔)‏


8.‏ جب ہم بائبل پڑھتے وقت اِس میں پائے جانے والے اصولوں کو ڈھونڈنے کی کوشش کرتے ہیں تو ہمیں کیا فائدہ ہوتا ہے؟ (‏رومیوں 12:‏1، 2‏)‏

8 پاک کلام کے اصولوں کو جاننے اور اِن کے مطابق زندگی گزارنے سے ہمیں اَور بھی بہت سے فائدے ہوتے ہیں۔ مثال کے طور پر ہم مختلف معاملوں کے بارے میں یہوواہ کی سوچ کو سمجھنے کے قابل ہوتے ہیں۔‏ تو بائبل پڑھتے وقت ہم ایسے اصول ڈھونڈنے کی کوشش کر سکتے ہیں جو ہمارے کام آ سکتے ہیں۔ ہم خود سے پوچھ سکتے ہیں کہ یہوواہ نے اپنے کلام میں فلاں اصول کیوں شامل کِیا ہے اور اِس سے ہمیں کیا فائدہ ہو سکتا ہے۔ اِس طرح ہم ”‏اپنی سوچنے سمجھنے کی صلاحیت“‏ کو کام میں لا کر یہوواہ کی خدمت کر سکیں گے اور یہ جان جائیں گے کہ ”‏خدا کی اچھی اور پسندیدہ اور کامل مرضی کیا ہے۔“‏‏—‏رومیوں 12:‏1، 2 کو پڑھیں۔‏a

9.‏ بائبل کے اصولوں کے مطابق زندگی گزارنے سے ہمیں اَور کون سے فائدے ہوتے ہیں؟ (‏عبرانیوں 5:‏13، 14‏)‏

9 بائبل کے اصولوں کے مطابق زندگی گزارنے سے ہم پُختہ مسیحی بنتے ہیں۔‏ جب ہم بائبل کے اصولوں پر چلتے ہیں تو یہوواہ کے ساتھ ہماری دوستی اَور مضبوط ہو جاتی ہے۔ ‏(‏عبرانیوں 5:‏13، 14 کو پڑھیں۔)‏ عام طور پر ماں باپ اپنے چھوٹے بچوں کو بہت سے حکم دیتے ہیں یا اُن کے لیے بہت سے قانون بناتے ہیں تاکہ اُن کے بچے غلط کاموں سے دُور رہیں اور صحیح کام کر سکیں۔ ہو سکتا ہے کہ بچے سزا کے ڈر سے اِن حکموں یا قوانین کو مانیں۔ لیکن یہوواہ ہمیں چھوٹے بچوں کی طرح نہیں سمجھتا بلکہ وہ ہمیں پُختہ شخص سمجھتا ہے۔ اُسے ہم پر پورا بھروسا ہے کہ ہم اُس کی مرضی کے مطابق فیصلے لیں گے اور جب ہم ایسا کرتے ہیں تو وہ بہت خوش ہوتا ہے۔—‏زبور 147:‏11؛‏ اَمثا 23:‏15،‏ 26؛‏ 27:‏11‏۔‏

ہم پاک کلام کے اصولوں کو کیسے پہچان سکتے ہیں؟‏

10.‏ ہم بائبل کے اصولوں کو کیسے پہچان سکتے ہیں؟‏

10 جب ہم بائبل پڑھتے وقت اِس میں پائے جانے والے اصولوں کو ڈھونڈنے کی کوشش کرتے ہیں تو ہم مختلف معاملوں کے بارے میں یہوواہ کی سوچ اور احساسات کو سمجھ پاتے ہیں۔ اِس کے علاوہ ہم یہ بھی دیکھ پاتے ہیں کہ یہوواہ نے فلاں قانون کس وجہ سے دیا تھا۔ جتنی اچھی طرح سے ہم ایک قانون کے پیچھے دی گئی وجہ کو سمجھ جاتے ہیں اُتنی ہی اچھی طرح سے ہم یہوواہ کی سوچ کو بھی سمجھ جاتے ہیں۔ لیکن یہوواہ کی سوچ کو سمجھنے کے لیے ہمیں اُس سے دُعا میں مدد مانگنی ہوگی اور اپنی سوچنے سمجھنے کی صلاحیت کو تیز کرنا ہوگا۔ (‏اَمثا 2:‏10-‏12‏)‏ اِس کے لیے ہم خود سے یہ سوال پوچھ سکتے ہیں:‏ ”‏یہوواہ نے یہ قانون کیوں دیا تھا؟ اگر یہوواہ فلاں کام کو پسند نہیں کرتا تو وہ اِسی سے ملتے جلتے اَور کاموں کو کیسا خیال کرے گا؟ مَیں بائبل میں لکھے اِس واقعے سے کیا سیکھتا ہوں اور مَیں اِس میں بتائی گئی باتوں پر کیسے عمل کر سکتا ہوں؟“‏ اگر ہم بائبل میں لکھے ایک واقعے کو سمجھ جائیں گے اور یہ بھی سمجھ جائیں گے کہ بائبل میں بتائے گئے ایک قانون کو دینے کے پیچھے وجہ کیا تھی یا اِس میں کون سے اصول پائے جاتے ہیں تو ہم یہوواہ کی مرضی کے مطابق فیصلے لے پائیں گے۔‏

11.‏ یسوع نے اپنے پہاڑی وعظ میں یہ کیسے سکھایا کہ ہم پاک کلام میں پائے جانے والے اصولوں کو کیسے پہچان سکتے ہیں؟ (‏تصویر کو بھی دیکھیں۔)‏

11 یسوع نے اپنے پہاڑی وعظ میں ہمیں سکھایا کہ ہم پاک کلام میں پائے جانے والے اصولوں کو کیسے پہچان سکتے ہیں۔ آئیے اِس سلسلے میں تین مثالوں پر غور کرتے ہیں۔ ہر مثال میں یسوع مسیح نے سب سے پہلے یہوواہ کے دیے ہوئے ایک قانون کا ذکر کِیا اور اِس کے بعد یہ ظاہر کِیا کہ اُس قانون کو دینے کے پیچھے یہوواہ کی سوچ کیا تھی یا اِس میں کون سا اصول پایا جاتا ہے۔ یسوع کی سکھائی ہوئی باتوں پر غور کرنے سے ہم دیکھ پائیں گے کہ ہم آج اُن اصولوں پر عمل کر کے صحیح فیصلے کیسے لے سکتے ہیں۔‏

یسوع مسیح ایک درخت کے نیچے بیٹھے اپنے شاگردوں کو تعلیم دے رہے ہیں۔‏

یسوع نے اپنے پہاڑی وعظ میں ہمیں سکھایا کہ ہم یہوواہ کے دیے ہوئے قوانین کے پیچھے چھپے اصولوں کو کیسے پہچان سکتے ہیں۔ (‏پیراگراف نمبر 11 کو دیکھیں۔)‏


12.‏ متی 5:‏21، 22 میں بتائے گئے قانون کے پیچھے ایک اصول کیا ہے؟ (‏تصویر کو بھی دیکھیں۔)‏

12 متی 5:‏21، 22 کو پڑھیں۔‏ ”‏قتل نہ کرو۔“‏ اِس قانون کے پیچھے ایک اصول کیا ہے؟ یہوواہ یہ نہیں چاہتا کہ ہم اپنی باتوں، کاموں، یہاں تک کہ خیالوں میں بھی دوسروں سے نفرت کریں۔‏ یسوع مسیح نے واضح کِیا کہ بھلے ہی ایک شخص کسی کو قتل نہ کرے لیکن اگر اُس کے دل میں اُس شخص کے خلاف ”‏غصہ بھڑکتا“‏ رہے گا یا وہ اُسے تکلیف پہنچانے والی باتیں کرے گا تو بھی وہ یہوواہ کے حکم کو توڑ رہا ہوگا کیونکہ اِس طرح کی باتوں کی وجہ سے ہی ایک شخص کسی کو قتل کر سکتا ہے۔—‏1-‏یوح 3:‏15‏۔‏

13.‏ ہم متی 5:‏21، 22 میں پائے جانے والے اصول پر کیسے عمل کر سکتے ہیں؟ (‏تصویر کو بھی دیکھیں۔)‏

13 ہم متی 5:‏21، 22 میں پائے جانے والے اصول پر کیسے عمل کر سکتے ہیں؟‏ ہمیں اپنے دل میں دوسروں کے لیے غصہ اور ناراضگی نہیں پالنی چاہیے۔ (‏احبا 19:‏18؛‏ ایو 36:‏13‏)‏ کیوں؟ کیونکہ غصے یا ناراضگی کی وجہ سے ہمارے دل میں نفرت پیدا ہوگی جس کی وجہ سے ہم دوسروں سے دل دُکھانے والی باتیں کہہ جائیں گے۔ (‏اَمثا 10:‏12‏)‏ مثال کے طور پر ہم اُس شخص کے بارے میں جھوٹی افواہیں پھیلانے لگیں گے اور اُس کی بدنامی کرنے لگیں گے جس سے اُس شخص کی نیک‌نامی برباد ہو جائے گی۔ (‏اَمثا 20:‏19؛‏ 25:‏23‏)‏ جب یسوع مسیح نے متی 5:‏21، 22 میں لکھی بات کہی تھی تو اُس وقت اِنٹرنیٹ، موبائل اور کمپیوٹر وغیرہ نہیں تھے۔ لیکن اُن کی نصیحت سے ہم سیکھتے ہیں کہ ہمیں سوشل میڈیا کے ذریعے دوسروں کے بارے میں بُری باتیں نہیں کرنی چاہئیں۔ ہمیں ہر صورتحال میں نفرت‌بھری باتیں کرنے سے باز رہنا چاہیے جن سے بھلے ہی ایک شخص کا خون تو نہیں ہو سکتا لیکن اُس کی نیک‌نامی کا خون ضرور ہو سکتا ہے۔‏

تصویروں کا مجموعہ:‏ پہلی تصویر میں بائبل کا یہ حکم لکھا ہے:‏ ”‏قتل نہ کرو۔“‏ اور دوسری تصویر میں دو بہنیں سرگوشی سے کسی کے بارے میں بات کر رہی ہیں جبکہ ایک بہن اُن کی بات‌چیت کو سُن کر خوش نہیں ہے۔‏

‏(‏پیراگراف نمبر 12-‏13 کو دیکھیں۔)‏


14.‏ متی 5:‏27، 28 میں بتائے گئے قانون کے پیچھے اصول کیا ہے؟ (‏تصویر کو بھی دیکھیں۔)‏

14 متی 5:‏27، 28 کو پڑھیں۔‏ ”‏زِنا نہ کرو۔“‏ اِس قانون کے پیچھے اصول کیا ہے؟ یہوواہ نہ صرف حرام‌کاری سے نفرت کرتا ہے بلکہ وہ ہر اُس خیال سے بھی نفرت کرتا ہے جس کی وجہ سے ایک شخص حرام‌کاری کرنے کے خطرے میں پڑ سکتا ہے۔‏ یسوع مسیح نے بتایا کہ اگر ایک شادی‌شُدہ آدمی (‏اپنی بیوی کے علاوہ)‏ کسی اَور عورت کو ایسی نظر سے دیکھتا رہتا ہے جس سے اُس کے دل میں اُس عورت کے لیے جنسی خواہش بھڑک سکتی ہے تو وہ گُناہ کر بیٹھا ہے۔ تو ایک شخص کو ہر صورت میں اپنے دل سے گندے خیال نکال دینے چاہئیں، بھلے ہی ایسا کرنے کے لیے اُسے کتنی ہی سخت کوشش کیوں نہ کرنی پڑے۔ (‏متی 5:‏29، 30‏)‏ یہ اصول غیرشادی‌شُدہ مسیحیوں کے لیے بھی ہے۔‏

15.‏ ہم متی 5:‏27، 28 میں پائے جانے والے اصول پر کیسے عمل کر سکتے ہیں؟ (‏تصویر کو بھی دیکھیں۔)‏

15 ہم متی 5:‏27، 28 میں پائے جانے والے اصول پر کیسے عمل کر سکتے ہیں؟‏ ہمیں گندی باتوں کے بارے میں سوچتے نہیں رہنا چاہیے۔ (‏2-‏سمو 11:‏2-‏4؛‏ ایو 31:‏1-‏3‏)‏ بے‌شک ایک مسیحی کو ہر طرح کے فحش مواد سے دُور رہنا چاہیے۔ اُسے یہ نہیں سوچنا چاہیے کہ گندی تصویروں یا فلموں کو دیکھنے میں کوئی بُرائی نہیں کیونکہ وہ صرف حرام‌کاری دیکھ رہا ہے نہ کہ اِسے کر رہا ہے۔ اِس کے علاوہ ہمیں دُنیا کے لوگوں کی طرح یہ بھی نہیں سوچنا چاہیے کہ کچھ قسم کے فحش مواد کو دیکھنے، سننے یا پڑھنے کا کوئی نقصان نہیں۔ یسوع مسیح کے زمانے میں موبائل، فلمیں اور تصویریں وغیرہ نہیں ہوا کرتی تھیں۔ لیکن یسوع مسیح نے ہمیں سکھایا ہے کہ یہوواہ گندی تصویروں یا فلموں کو کیسا خیال کرتا ہے جو آج بہت عام ہیں۔ اِس سے ہم جان جاتے ہیں کہ اگر ہم گندی تصویروں اور فلموں کو دیکھیں گے یا دوسروں کے ساتھ میسج یا فون پر گندی باتیں کریں گے تو یہوواہ سخت ناراض ہوگا۔ یسوع کے بتائے ہوئے اصول پر عمل کرنے سے ایک شادی‌شُدہ شخص اپنے جیون ساتھی کے ساتھ بے‌وفائی نہیں کرے گا۔ (‏ملا 2:‏15)‏ اِس اصول کی مدد سے سبھی مسیحی ہر اُس کام سے دُور رہ پائیں گے جس سے وہ حرام‌کاری کرنے کے خطرے میں پڑ سکتے ہیں۔—‏اَمثا 5:‏3-‏14‏۔‏

 تصویروں کا مجموعہ:‏ پہلی تصویر میں بائبل کا یہ حکم لکھا ہے:‏ ”‏زِنا نہ کرو۔“‏ اور دوسری تصویر میں ایک بھائی اپنے فون سے سوشل میڈیا کی ایک ایپ ڈیلیٹ کر رہا ہے۔‏

‏(‏پیراگراف نمبر 14-‏15 کو دیکھیں۔)‏


16.‏ متی 5:‏43، 44 میں بتائے گئے قانون کے پیچھے اصول کیا ہے؟ (‏تصویر کو بھی دیکھیں۔)‏

16 متی 5:‏43، 44 کو پڑھیں۔‏ ”‏اپنے پڑوسی سے محبت کرو۔“‏ اِس قانون کے پیچھے اصول کیا ہے؟ یہوواہ چاہتا ہے کہ ہم سب لوگوں کو اپنا پڑوسی سمجھیں اور اُن سے محبت کریں۔‏ یسوع مسیح کے زمانے میں یہودی یہ مانتے تھے کہ پڑوسی سے محبت کرنے کا مطلب یہ ہے کہ وہ صرف یہودیوں سے محبت کریں اور باقی لوگوں کو اپنا دُشمن سمجھیں۔ لیکن یسوع جانتے تھے کہ یہوواہ ایسا بالکل نہیں سوچتا۔ اُنہیں پتہ تھا کہ اُس حکم کے پیچھے یہوواہ کی سوچ کیا تھی۔ یسوع جانتے تھے کہ اُن کا شفیق آسمانی باپ چاہتا ہے کہ ہم سبھی کو اپنا پڑوسی سمجھیں پھر چاہے ایک شخص کسی بھی قوم یا نسل سے ہو۔—‏متی 5:‏45-‏48‏۔‏

17.‏ ہم متی 5:‏43، 44 میں پائے جانے والے اصول پر کیسے عمل کر سکتے ہیں؟ (‏تصویر کو بھی دیکھیں۔)‏

17 ہم متی 5:‏43، 44 میں پائے جانے والے اصول پر کیسے عمل کر سکتے ہیں؟‏ پڑوسی سے محبت کرنے کی وجہ سے ہم جنگوں میں حصہ نہیں لیں گے اور سیاسی اِختلافات میں نہیں پڑیں گے۔ (‏یسع 2:‏4؛‏ میک 4:‏3)‏ اِس کے علاوہ ہم اُن لوگوں کے ساتھ پیار اور نرمی سے پیش آئیں گے جو کسی دوسرے ملک، ثقافت یا مذہب سے تعلق رکھتے ہیں۔ (‏اعما 10:‏34، 35‏)‏ اور ہم اُن لوگوں کو معاف کر دیں گے جو ہمارے ساتھ یا ہمارے عزیزوں کے ساتھ بُرا سلوک کرتے ہیں۔—‏متی 18:‏21، 22؛‏ مر 11:‏25؛‏ لُو 17:‏3، 4‏۔‏

 تصویروں کا مجموعہ:‏ پہلی تصویر میں بائبل کا یہ حکم لکھا ہے:‏ ”‏اپنے پڑوسی سے محبت کرو۔“‏ اور دوسری تصویر میں ایک میاں بیوی بازار میں ہیں اور وہ ایک فرق قوم سے تعلق رکھنے والے آدمی کو بروشر ”‏اب اور ہمیشہ تک خوشیوں بھری زندگی!‏“‏ دِکھا رہے ہیں۔‏

‏(‏پیراگراف نمبر 16-‏17 کو دیکھیں۔)‏


پاک کلام کے اصولوں پر عمل کرنے کا پکا اِرادہ کریں

18.‏ (‏الف)‏ہمیں کیا کرنے کا پکا اِرادہ کرنا چاہیے؟ (‏ب)‏اگلے مضمون میں ہم کس بارے میں بات کریں گے؟‏

18 ہم یہوواہ کے بہت شکرگزار ہیں کہ اُس نے ہم پر قوانین کی بوچھاڑ نہیں کی۔ وہ ہمیں چھوٹا بچہ نہیں بلکہ پُختہ شخص سمجھتا ہے۔ یہوواہ چاہتا ہے کہ ہم اُس کے کلام میں بتائے گئے اصولوں کے مطابق فیصلے لیں۔ (‏1-‏کُر 14:‏20‏)‏ تو کوئی بھی فیصلہ لینے سے پہلے ”‏یہوواہ کی مرضی کو سمجھنے کی کوشش کریں“‏ یعنی یہ دیکھیں کہ وہ ایک معاملے کے بارے میں کیا سوچتا ہے اور کیسا محسوس کرتا ہے۔ (‏اِفِس 5:‏17‏)‏ ہم سزا کے ڈر سے نہیں بلکہ یہوواہ سے محبت کرنے کی وجہ سے صحیح فیصلے لینا چاہتے ہیں۔ لیکن یہوواہ نے اِس حوالے سے ہمیں اپنے اصولوں کے علاوہ ایک اَور نعمت بھی دی ہے۔ یہ ہمارا ضمیر ہے۔ اگلے مضمون میں ہم اِسی موضوع پر بات کریں گے۔‏

آپ اِن سوالوں کے کیا جواب دیں گے:‏

  • پاک کلام کے اصول کیا ہیں؟‏

  • اصولوں اور قوانین میں کیا فرق ہے؟‏

  • کچھ ایسے اصول بتائیں جن کا ذکر یسوع نے پہاڑی وعظ میں کِیا تھا۔‏

گیت نمبر 95 سچائی کی روشنی بڑھتی جا رہی ہے

a ایسی بہت سی صورتحال ہیں جن میں یہوواہ نے ہمیں کوئی قانون نہیں دیا۔ ایسی صورتحال میں ہمیں بائبل کی مختلف آیتوں پر غور کرنا چاہیے اور اِن میں پائے جانے والے اصولوں کے مطابق فیصلہ کرنا چاہیے۔ یہوواہ نے ہمیں سوچنے سمجھنے کی صلاحیت دی ہے جسے کام میں لا کر ہم ایسے فیصلے لے سکتے ہیں جن سے وہ خوش ہو اور ہمیں برکت دے۔ یہی بات پہلی صدی عیسوی کے مسیحیوں کو بھی سیکھنی پڑی تھی کیونکہ مسیحی بننے سے پہلے وہ یہودی مذہبی رہنماؤں کے بنائے ہوئے بہت سے قوانین کو مان رہے تھے۔‏

    اُردو زبان میں مطبوعات (‏2026-‏2000)‏
    لاگ آؤٹ
    لاگ اِن
    • اُردو
    • شیئر کریں
    • ترجیحات
    • Copyright © 2026 Watch Tower Bible and Tract Society of Pennsylvania
    • اِستعمال کی شرائط
    • رازداری کی پالیسی
    • رازداری کی سیٹنگز
    • JW.ORG
    • لاگ اِن
    شیئر کریں