یہوواہ کے گواہوں کی آن لائن لائبریری
یہوواہ کے گواہوں کی
آن لائن لائبریری
اُردو
  • بائبل
  • مطبوعات
  • اِجلاس
  • م26 مئی ص.‏ 8-‏13
  • بائبل کے اصولوں کے مطابق اپنے ضمیر کی تربیت کریں

اِس حصے میں کوئی ویڈیو دستیاب نہیں ہے۔

ہم معذرت خواہ ہیں کہ ویڈیو لوڈ نہیں ہو سکی۔

  • بائبل کے اصولوں کے مطابق اپنے ضمیر کی تربیت کریں
  • مینارِنگہبانی یہوواہ خدا کی بادشاہت کا اعلان کرتا ہے (‏مطالعے کا ایڈیشن)‏—‏2026ء
  • ذیلی عنوان
  • ملتا جلتا مواد
  • ضمیر کیا ہے؟‏
  • ہم اپنے ضمیر کی تربیت کیسے کر سکتے ہیں؟‏
  • بائبل کے اُن اصولوں کو کیسے ڈھونڈیں جو ہمارے کام آ سکتے ہیں؟‏
  • یہ ثابت کریں کہ آپ نے اپنے ضمیر کی اچھی تربیت کی ہے
  • کیا آپ کا ضمیر آپ کی صحیح رہنمائی کرتا ہے؟‏
    مینارِنگہبانی یہوواہ خدا کی بادشاہت کا اعلان کرتا ہے (‏مطالعے کا ایڈیشن)‏—2018ء
  • خدا کے سامنے اپنا ضمیر صاف رکھیں
    ہم خدا کی محبت میں کیسے قائم رہ سکتے ہیں؟‏
  • آپ صاف ضمیر کیسے رکھ سکتے ہیں؟‏
    خدا کی محبت میں قائم رہیں
  • ہم اچھے فیصلے کیسے کر سکتے ہیں؟‏
    اب اور ہمیشہ تک خوشیوں بھری زندگی!‏—‏ایک فائدہ‌مند بائبل کورس
مزید
مینارِنگہبانی یہوواہ خدا کی بادشاہت کا اعلان کرتا ہے (‏مطالعے کا ایڈیشن)‏—‏2026ء
م26 مئی ص.‏ 8-‏13

13-‏19 جولائی 2026ء

گیت نمبر 127 مَیں تیرا شکریہ کیسے ادا کروں؟‏

بائبل کے اصولوں کے مطابق اپنے ضمیر کی تربیت کریں

‏”‏ہر کوئی اپنی ذمے‌داری کا بوجھ اُٹھائے گا۔“‏‏—‏گل 6:‏5‏۔‏

غور کریں کہ ‏.‏ ‏.‏ ‏.‏

ہم بائبل کے اصولوں کے مطابق اپنے ضمیر کی تربیت کیسے کر سکتے ہیں تاکہ یہ صحیح راہ پر ہماری رہنمائی کرے۔‏

1-‏2.‏ (‏الف)‏یہوواہ نے آدم اور حوّا میں کون سی صلاحیت ڈالی تھی؟ (‏ب)‏آدم اور حوّا اُس صلاحیت کے لیے شکرگزاری کیسے ظاہر کر سکتے تھے؟‏

جانور اپنی فطرت کے مطابق کام کرتے ہیں اور بہت سی مشینیں اُسی پروگرام کے مطابق کام کرتی ہیں جو اُن میں ڈالا جاتا ہے۔ لیکن اِنسان جانوروں اور مشینوں سے فرق ہیں۔ خدا نے اِنسانوں کو ایک خاص صلاحیت کے ساتھ بنایا ہے۔ اُس نے اُنہیں اپنی مرضی سے فیصلے کرنے کی آزادی دی ہے۔ بائبل میں بتایا گیا ہے کہ خدا نے پہلے اِنسان یعنی آدم کو ”‏اپنی شبیہ“‏ پر بنایا تھا۔ (‏پید 1:‏26، 27‏)‏ تو آدم اور حوّا دونوں کے پاس ہی اپنی مرضی سے فیصلے کرنے کی صلاحیت تھی۔‏

2 یہوواہ نے آدم اور حوّا کو قوانین یا حکموں کی لمبی چوڑی فہرست نہیں دی تھی۔ اُس نے اُن سے صرف یہی کہا تھا کہ وہ زمین کا خیال رکھیں، اِسے اپنی اولاد سے بھر دیں اور اِس بات کو تسلیم کریں کہ صرف یہوواہ کو ہی صحیح اور غلط کا معیار قائم کرنے کا اِختیار ہے۔ (‏پید 1:‏28؛‏ 2:‏16، 17‏)‏ آدم اور حوّا اپنی مرضی سے فیصلے کرنے کی صلاحیت کے لیے یہوواہ کا شکریہ کیسے ادا کر سکتے تھے؟ اُنہیں خوشی سے اُس کے دیے ہوئے حکموں کو ماننا چاہیے تھا جو بہت ہی آسان اور سادہ تھے۔ اِس طرح وہ یہ ظاہر کر سکتے تھے کہ وہ یہوواہ سے محبت کرتے ہیں، اُسے خوش کرنا چاہتے ہیں اور وہ اُس کی دی ہوئی ہر نعمت کے لیے اُس کے شکرگزار ہیں۔—‏اَمثا 23:‏15‏۔‏

3.‏ آدم اور حوّا نے اپنی مرضی سے فیصلے کرنے کی صلاحیت کو کیسے اِستعمال کِیا؟‏

3 بائبل سے پتہ چلتا ہے کہ آدم اور حوّا نے اپنی مرضی سے فیصلے کرنے کی صلاحیت کو سمجھ‌داری سے اِستعمال نہیں کِیا۔ اِس کی بجائے اُنہوں نے یہوواہ کی نافرمانی کرنے کا فیصلہ کِیا۔ اُن کے اِس فیصلے سے ظاہر ہوا کہ وہ بہت خودغرض تھے۔ وہ یہوواہ سے پیار نہیں کرتے تھے اور اُن کے دل میں اُس کی دی ہوئی نعمتوں کے لیے کوئی قدر نہیں تھی۔ (‏پید 3:‏1-‏7‏)‏ آدم اور حوّا کے بُرے فیصلے کا نتیجہ ہم آج تک بھگت رہے ہیں۔—‏روم 5:‏12‏۔‏

4.‏ (‏الف)‏گلتیوں 6:‏5 کے مطابق ہم سب کو کیا کرنا چاہیے؟ (‏ب)‏اِس مضمون میں ہم یہوواہ کی دی ہوئی کس نعمت پر بات کریں گے؟‏

4 ہمیں ہر دن بہت سے فیصلے لینے پڑتے ہیں جن کی وجہ سے ہماری زندگی مشکل ہو سکتی ہے۔ ‏(‏گلتیوں 6:‏5 کو پڑھیں۔)‏ کچھ فیصلے بہت آسان ہوتے ہیں لیکن کچھ بہت ہی مشکل۔ تو ہم ایسے فیصلے کیسے لے سکتے ہیں جن سے یہوواہ خوش ہو؟ سب سے پہلے تو ہمیں یہ ماننے کی ضرورت ہے کہ ہمیں واقعی یہوواہ کی مدد چاہیے۔ (‏اَمثا 16:‏3؛‏ یرم 10:‏23‏)‏ یسوع مسیح بھی یہ مانتے تھے کہ اُنہیں خدا کی مدد کی ضرورت ہے۔ (‏عبر 5:‏7‏)‏ اگر ایک بے‌عیب اِنسان یعنی یسوع کو یہوواہ کی رہنمائی کی ضرورت تھی تو ہم عیب‌دار اِنسانوں کو تو اِس سے بھی زیادہ یہوواہ کی رہنمائی کی ضرورت ہے۔ آئیے اب یہوواہ کی دی ہوئی ایک اَور نعمت پر غور کرتے ہیں جس کی مدد سے ہم صحیح فیصلے لے سکتے ہیں۔ یہ نعمت ہمارا ضمیر ہے۔‏

ضمیر کیا ہے؟‏

5.‏ (‏الف)‏ضمیر کیا ہے؟ (‏ب)‏ہمارا ضمیر ہماری مدد کیسے کرتا ہے؟ (‏رومیوں 2:‏14، 15‏)‏

5 ضمیر وہ احساس ہے جس کی مدد سے ہم صحیح اور غلط کو جان پاتے ہیں۔ ضمیر تو اُن لوگوں میں بھی ہوتا ہے جو یہوواہ کے قوانین کو بالکل نہیں جانتے۔ (‏2-‏کُر 4:‏2‏)‏ ہمارا ضمیر ایک منصف کی طرح ہے جو ہمیں ہماری سوچ اور کاموں کے لیے یا تو قصوروار ٹھہرا سکتا ہے یا پھر بہانے بنا سکتا ہے۔ ‏(‏رومیوں 2:‏14، 15 کو پڑھیں۔)‏ ہمارا ضمیر ہمیں غلط کاموں کو کرنے سے خبردار کر سکتا ہے۔ (‏1-‏سمو 26:‏8-‏11‏)‏ یا پھر یہ ہم میں صحیح کاموں کو کرنے کا حوصلہ پیدا کر سکتا ہے۔ سچ ہے کہ ہمارے پاس اپنی مرضی سے فیصلے کرنے کی صلاحیت ہے لیکن یہ اِس بات کی ضمانت نہیں کہ ہم ہمیشہ ایسے فیصلے کریں گے جن سے یہوواہ خوش ہوگا۔ ہمیں اپنے ضمیر کی روشنی میں یہ دیکھنا چاہیے کہ کیا ایک فیصلہ اچھا ہے یا بُرا؟‏

6.‏ ہمارے ضمیر کے ساتھ کیا مسئلہ ہو سکتا ہے؟‏

6 لیکن افسوس کی بات ہے کہ ہمارا ضمیر ہمیشہ صحیح طرح سے کام نہیں کرتا۔ جس طرح ہم عیب‌دار ہیں اُسی طرح ہمارا ضمیر بھی عیب‌دار ہے۔ ہمارا ضمیر مختلف باتوں کی وجہ سے کمزور یا خراب ہو سکتا ہے۔ مثال کے طور پر ہم جس طرح کے ماحول یا ثقافت میں پلے بڑھے ہیں یا ہم جن غلط خواہشوں سے لڑ رہے ہیں، اِن کا ہمارے ضمیر پر بُرا اثر پڑ سکتا ہے۔ بائبل میں بتایا گیا ہے کہ ایک شخص کا ضمیر ”‏کمزور،“‏ ”‏ناپاک“‏ یا ”‏آلودہ“‏ ہو سکتا ہے یا پھر یہ ’‏سُن پڑ سکتا ہے جیسے اِسے گرم لوہے سے داغا گیا ہو۔‘‏ (‏1-‏کُر 8:‏12؛‏ طِط 1:‏15؛‏ 1-‏تیم 4:‏2؛‏ عبر 10:‏22‏)‏ اِس طرح کا ضمیر کبھی بھی اچھے فیصلے لینے میں صحیح طرح سے رہنمائی نہیں کر سکتا۔ یہ بالکل ایک خراب ترازو کی طرح ہوگا جسے صحیح کرانے کی ضرورت ہے۔ تو ہمیں اپنے ضمیر کو صحیح حالت میں رکھنے کے لیے سخت محنت کرنے کی ضرورت ہے۔ (‏1-‏پطر 3:‏16‏)‏ لیکن ہم ایسا کیسے کر سکتے ہیں؟‏

ہم اپنے ضمیر کی تربیت کیسے کر سکتے ہیں؟‏

7-‏8.‏ (‏الف)‏ہم اپنے ضمیر کی تربیت کیسے کر سکتے ہیں؟ (‏ب)‏پاک کلام کے اصول ہماری رہنمائی کیسے کرتے ہیں؟ ایک مثال دیں۔ (‏تصویر کو بھی دیکھیں۔)‏

7 ہم اپنے ضمیر کی تربیت کرنے کے لیے کیا کر سکتے ہیں؟ ہمیں باقاعدگی سے خدا کے کلام کو پڑھنا چاہیے جس سے ہم یہ سمجھ پائیں گے کہ یہوواہ کی نظر میں کیا صحیح ہے اور کیا غلط۔ یہوواہ کے دیے ہوئے قوانین کا مطالعہ کرنے سے ہم اُس کی سوچ کو سمجھ سکتے ہیں۔ لیکن جیسا کہ ہم نے پچھلے مضمون میں سیکھا تھا، قوانین صرف کچھ خاص صورتحال میں ہی ہمارے کام آ سکتے ہیں۔ اِس لیے ہمیں پاک کلام میں پائے جانے والے اصولوں کو تلاش کرنے کی ضرورت ہے کیونکہ اِن سے ہم مختلف معاملوں کے بارے میں یہوواہ کی سوچ اور احساسات جان سکتے ہیں۔—‏یسع 55:‏9‏۔‏

8 ہماری زندگی بالکل ایسے ہی ہے جیسے ہم کسی ویرانے میں سفر کر رہے ہوں جہاں نہ کوئی سڑک ہے اور نہ ہی راستہ سمجھانے کے لیے کوئی نشان۔ شاید ہی ہم میں سے کوئی سورج یا ستاروں کا رُخ دیکھ کر یہ اندازہ لگا سکے کہ ہمیں اپنی منزل کی طرف جانے کے لیے کس طرف بڑھنا ہے۔ لیکن ذرا سوچیں کہ اگر ہمارے پاس اُس ویرانے کا نقشہ ہوگا جس میں کچھ ایسی جگہیں بتائی گئی ہیں جہاں پہاڑ یا دریا وغیرہ ہیں تو ہمیں اِس بات سے حوصلہ ملے گا کہ ہم صحیح راستے کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ بائبل بالکل ایک نقشے کی طرح ہے جو صحیح راستے پر چلنے میں ہماری رہنمائی کرتی ہے اور اِس میں پائے جانے والے اصول نقشے میں بتائی گئی جگہوں کی طرح ہیں۔ تو اگر ہم پاک کلام کے اصولوں کے ذریعے یہوواہ کی سوچ کو سمجھیں گے تو ہم اِس بات کا پکا یقین رکھ سکتے ہیں کہ ہم بالکل صحیح راستے کی طرف بڑھ رہے ہیں جس کی منزل یہوواہ کو خوش کرنا ہے۔‏

ایک صحرا میں پیدل سفر کرنے والا شخص نقشے میں بنی جگہوں کے ذریعے دیکھ رہا ہے کہ وہ صحیح راستے کی طرف بڑھ رہا ہے یا نہیں۔‏

بائبل میں پائے جانے والے اصول نقشے میں بتائی گئی جگہوں کی طرح ہیں جنہیں دیکھ کر ہمیں حوصلہ ملتا ہے کہ ہم صحیح راستے کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ (‏پیراگراف نمبر 8 کو دیکھیں۔)‏


9.‏ ہم اَور کس طرح سے اپنے ضمیر کی تربیت کیسے کر سکتے ہیں؟ (‏رومیوں 9:‏1‏)‏

9 اپنے ضمیر کی صحیح طرح سے تربیت کرنے کے لیے ہمیں خدا کی پاک روح کی ضرورت ہے۔ ‏(‏رومیوں 9:‏1 کو پڑھیں۔)‏ پاک روح کی مدد سے ہم مختلف معاملوں کے بارے میں یہوواہ کی سوچ کو سمجھ سکتے ہیں۔ اِس کی مدد سے ہم میں وہ کام کرنے کی خواہش اور طاقت بھی پیدا ہو سکتی ہے جو یہوواہ کو پسند ہیں۔ (‏فِل 2:‏13‏)‏ لیکن ہم یہوواہ کی پاک روح حاصل کرنے کے لیے کیا کر سکتے ہیں؟‏

10.‏ ہم یہوواہ کی پاک روح حاصل کرنے کے لیے کیا کر سکتے ہیں؟ (‏لُوقا 11:‏10،‏ 13‏)‏

10 یہوواہ سے دُعا میں پاک روح مانگیں۔ (‏لُوقا 11:‏10،‏ 13 کو پڑھیں۔)‏ ہم اِس بات کا پکا بھروسا رکھ سکتے ہیں کہ یہوواہ دل کھول کر ہمیں اپنی پاک روح دے گا۔ (‏یوح 3:‏34‏)‏ وہ اُن سبھی لوگوں کو کُھل کر اپنی پاک روح دیتا ہے جو اِس کی رہنمائی میں چلتے ہیں۔ (‏اَمثا 1:‏23؛‏ یعقو 1:‏5‏)‏ لیکن اَور کون سی چیز اپنے ضمیر کی تربیت کرنے میں ہماری مدد کر سکتی ہے؟‏

11.‏ (‏الف)‏ہماری زندگی کا اہم مقصد کیا ہونا چاہیے؟ (‏ب)‏ہمیں اِس بات کا خیال کیوں رکھنا چاہیے کہ ہمارے ضمیر کی تربیت بائبل سے ہوئی ہو اور یہ صحیح طرح سے کام کر رہا ہو؟‏

11 ہمیشہ یہوواہ کو خوش کرنے کی کوشش کریں۔‏ (‏اَمثا 8:‏34، 35‏)‏ یہی ہماری زندگی کا اہم مقصد ہونا چاہیے۔ اگر ہم اِسی مقصد کو ذہن میں رکھ کر ہر صورتحال کا سامنا کریں گے تو ہم اپنے ضمیر کی تربیت کر رہے ہوں گے۔ ہمارا ضمیر صرف تبھی اچھی طرح سے کام کرے گا اگر ہم یہوواہ کی طرح سوچیں گے اور اُس کے احساسات کی پرواہ کریں گے۔ آج زندگی پہلے سے بھی زیادہ مشکل ہو گئی ہے۔ اِس لیے ہمیں ایسے ضمیر کی سخت ضرورت ہے جو صحیح طرح سے ہماری رہنمائی کرے۔ ہمیں اکثر ایسی صورتحال کا سامنا کرنا پڑتا ہے جس کے بارے میں شاید بائبل میں کچھ زیادہ نہیں بتایا گیا جیسے کہ ہمیں کون سی تفریح کرنی چاہیے، کس قسم کی نوکری کرنی چاہیے، کیسی تعلیم حاصل کرنی چاہیے یا کن لوگوں کے ساتھ وقت گزارنا چاہیے۔ تو ہم یہ کیسے جان سکتے ہیں کہ اِن معاملوں میں ہم جو فیصلے لیں گے، اُن سے یہوواہ خوش ہوگا یا نہیں؟—‏2-‏کُر 1:‏12‏۔‏

12.‏ ہم یہ کیسے جان سکتے ہیں کہ ہمارا ضمیر صحیح طرح سے ہماری رہنمائی کر رہا ہے یا نہیں؟ (‏اِفِسیوں 5:‏10‏)‏

12 بائبل میں لکھی باتوں پر گہرائی سے سوچ بچار کریں۔‏ (‏زبور 49:‏3‏)‏ جب آپ بائبل پڑھتے ہیں تو ایسے اصولوں کو ڈھونڈنے کی کوشش کریں جن سے آپ یہوواہ کی سوچ کو بہتر طور پر سمجھ سکیں۔ ‏(‏اِفِسیوں 5:‏10 کو پڑھیں۔)‏ جب ہم اپنی زندگی میں کسی مشکل صورتحال کا سامنا کرتے ہیں تو ہمیں بائبل کے ایسے اصول تلاش کرنے چاہئیں جن سے ہم یہ جان سکیں کہ ہمارا ضمیر صحیح فیصلے لینے میں ہماری مدد کر رہا ہے یا نہیں۔ (‏اَمثا 2:‏4-‏9،‏ 11-‏13‏)‏ اِس طرح اُن اصولوں کی مدد سے ہم اپنے ضمیر کی درستی کر پائیں گے، اِس میں بہتری لا پائیں گے اور وہ کام کر پائیں گے جو یہوواہ ہم سے چاہتا ہے۔—‏عبر 5:‏14‏۔‏

13.‏ ہمیں کیا کرنے سے بچنا چاہیے؟ ایک مثال دیں۔‏

13 فیصلہ کرنے کے بعد وہ اصول تلاش کرنے کی کوشش نہ کریں جو آپ کے فیصلے کی حمایت کریں۔‏ ہم اُن اِسرائیلیوں کی طرح نہیں بننا چاہتے جو اُس وقت یہوداہ میں ہی رہے جب یروشلم کو 607 قبل‌ازمسیح میں تباہ کر دیا گیا تھا۔ اُنہوں نے یرمیاہ سے کہا:‏ ”‏آپ کا خدا یہوواہ ہمیں بتائے کہ ہمیں کس راستے پر چلنا چاہیے اور کیا کرنا چاہیے۔“‏ (‏یرم 42:‏3-‏6‏)‏ بھلے ہی اُن اِسرائیلیوں نے یرمیاہ سے یہ بات کہی لیکن وہ پہلے سے ہی یہ فیصلہ کر چُکے تھے کہ وہ کیا کریں گے کیونکہ جب اُنہیں یہوواہ کی ہدایت پسند نہیں آئی تو وہ اپنے فیصلے پر ٹکے رہے جس کا بہت بُرا نتیجہ نکلا۔ (‏یرم 42:‏19-‏22؛‏ 43:‏1، 2،‏ 4‏)‏ تو کوئی بھی فیصلہ لینے سے پہلے ہمیں بائبل میں اُن اصولوں کو تلاش کرنے کی ضرورت ہے جن سے ہم یہوواہ کی سوچ جان سکیں اور پھر اِس کے مطابق عمل کر سکیں۔‏

14.‏ ہمیں فیصلے لیتے وقت پاک کلام کے اصولوں پر عمل کرنے کی ضرورت کیوں ہے؟‏

14 پاک کلام کے اصولوں کو ذہن میں رکھ کر فیصلے لیں۔‏ (‏متی 7:‏24-‏29؛‏ یعقو 1:‏23-‏25‏)‏ جب ہم پاک کلام کے اصولوں کے مطابق فیصلے لیتے ہیں تو ہم پاک روح کی رہنمائی میں چل رہے ہوتے ہیں۔ اِس کے نتیجے میں یہوواہ ہمیں آگے بھی اپنی پاک روح دیتا رہتا ہے۔ (‏اعما 5:‏32‏)‏ لیکن اگر ہم پاک روح کی رہنمائی کو قبول نہیں کریں گے تو ہم اِسے ”‏غمگین“‏ کر بیٹھیں یا اِس کے خلاف کام کرنے لگیں گے۔ (‏اِفِس 4:‏30؛‏ یسع 63:‏10؛‏ اعما 7:‏51‏)‏ پھر یہوواہ ہمیں اپنی پاک روح دینا بند کر دے گا۔ (‏زبور 51:‏11؛‏ 1-‏تھس 5:‏19‏)‏ یہ بڑی تباہی کی بات ہوگی!‏ کیوں؟ کیونکہ ہمیں اُس طاقت کی بہت ضرورت ہے جو صرف خدا کی پاک روح سے ہی مل سکتی ہے۔—‏اِفِس 3:‏16‏۔‏

بائبل کے اُن اصولوں کو کیسے ڈھونڈیں جو ہمارے کام آ سکتے ہیں؟‏

15-‏16.‏ (‏الف)‏ہم بائبل میں اُن اصولوں کو کیسے ڈھونڈ سکتے ہیں جو ہمارے کام آ سکتے ہیں؟ (‏ب)‏بائبل کے کون سے اصول سگریٹ چھوڑنے میں ایک طالبِ‌علم کی مدد کر سکتے ہیں؟‏

15 تحقیق کرنے کے اوزار اِستعمال کریں۔‏ بے‌شک بائبل کے اصولوں پر عمل کرنے سے پہلے یہ ضروری ہے کہ ہم اِن اصولوں کو ڈھونڈیں۔ مثال کے طور پر آپ اپنے اُس طالبِ‌علم کی مدد کیسے کر سکتے ہیں جسے سگریٹ پینے کی عادت کو چھوڑنا مشکل لگ رہا ہے؟ شاید آپ کا طالبِ‌علم سوچے کہ بائبل میں سگریٹ پینے کے بارے میں کچھ نہیں بتایا گیا۔ تو آپ پاک کلام سے ایسے اصول ڈھونڈنے میں اُس کی مدد کیسے کر سکتے ہیں جن سے وہ یہ سمجھ جائے کہ سگریٹ پینا غلط ہے؟ ایسا کرنے کا ایک بہترین اوزار کتاب ‏”‏یہوواہ کے گواہوں کے لئے مطالعے کے حوالے“‏ ہے۔ آپ اپنے طالبِ‌علم کی توجہ اِس کتاب کے ذیلی عنوان ”‏تمباکو اور سگریٹ‏“‏ پر دِلا سکتے ہیں۔ اِس کے علاوہ آپ اُسے ہماری ویب‌سائٹ پر مضمون ”‏کیا تمباکونوشی گُناہ ہے؟‏‏“‏ پڑھنے کے لیے بھی کہہ سکتے ہیں۔ اِس مضمون کو پڑھتے وقت اُسے بائبل کی کون سی آیتیں یا اصول ملیں گے؟‏

16 ذرا تین ایسے اصولوں پر غور کریں جو اِس مضمون میں دیے گئے ہیں:‏ (‏1)‏ہم زندگی کا احترام کرتے ہیں کیونکہ یہ خدا کی طرف سے ایک تحفہ ہے۔ (‏اعما 17:‏24، 25‏)‏ (‏2)‏ہم اپنے کاموں سے دوسروں کو نقصان نہیں پہنچانا چاہتے۔ (‏متی 22:‏39‏)‏ اور (‏3)‏ہم کوئی بھی ایسا کام نہیں کرنا چاہتے جس سے ہماری صحت کو نقصان پہنچے اور ہم خدا کی نظر میں ناپاک ہو جائیں۔ (‏روم 12:‏1؛‏ 2-‏کُر 7:‏1‏)‏ تو بھلے ہی بائبل میں سگریٹ پینے کے بارے میں کچھ نہیں بتایا گیا لیکن آپ کا طالبِ‌علم بائبل میں پائے جانے والے اصولوں کی مدد سے اِس معاملے میں یہوواہ کی سوچ جان سکتا ہے۔‏

17.‏ ایک مسیحی لڑکا اور لڑکی جن کی آپس میں شادی ہونے والی ہے، اپنی شادی کی تیاریاں کرتے وقت بائبل میں ایسے اصول کیسے ڈھونڈ سکتے ہیں جو صحیح فیصلے لینے میں اُن کے کام آ سکیں؟‏

17 وہ لڑکا اور لڑکی جن کی آپس میں شادی ہونے والی ہے، شادی کی تیاریاں کرتے وقت پاک کلام کے ایسے اصول کیسے ڈھونڈ سکتے ہیں جو صحیح فیصلے لینے میں اُن کے کام آ سکیں؟ وہ بھی کتاب ‏”‏مطالعے کے حوالے“‏ سے مدد لے سکتے ہیں۔ وہ ذیلی عنوان ”‏شادی کی تقریب‏“‏ میں دیے گئے مضامین پڑھ سکتے ہیں جن میں بائبل کے بنیادی اصول دیے گئے ہیں۔ آئیے چھ ایسے اصولوں پر غور کرتے ہیں جن پر ایک لڑکا اور لڑکی سوچ بچار کر سکتے ہیں۔ (‏1)‏سارے اِنتظامات سے یہوواہ کی بڑائی ہونی چاہیے۔ (‏1-‏کُر 10:‏31، 32‏)‏ (‏2)‏ہمارے کپڑے تقریب کے لحاظ سے مناسب اور حیادار ہونے چاہئیں۔ (‏1-‏تیم 2:‏9؛‏ 1-‏پطر 3:‏3، 4‏)‏ (‏3)‏ہمیں دِکھاوا کرنے سے خبردار رہنا چاہیے جس سے شیطان کی دُنیا کی جھلک نظر آتی ہے۔ (‏یوح 17:‏14؛‏ یعقو 1:‏27؛‏ 1-‏یوح 2:‏15، 16‏)‏ (‏4)‏ساری باتیں مناسب طریقے سے اور منظم انداز میں ہونی چاہئیں۔ (‏1-‏کُر 14:‏40‏)‏ (‏5)‏شادی کے بعد رکھی جانے والی دعوت غیر مہذب نہیں ہونی چاہیے جس میں لوگ حد سے زیادہ شراب پئیں۔ (‏گل 5:‏21‏)‏ اور (‏6)‏دُلہا اور دُلہن کو شادی کی تقریب کی نگرانی کرنے کے لیے کسی کو مقرر کرنا چاہیے تاکہ ہر کام یہوواہ کی مرضی کے مطابق ہو سکے۔—‏یوح 2:‏8، 9‏۔‏

18-‏19.‏ (‏الف)‏یہوواہ کی تنظیم کا دیا ہوا اَور کون سا اوزار ہمارے کام آ سکتا ہے؟ (‏ب)‏اِس اوزار کو اِستعمال کرتے ہوئے آپ کو اُس وقت بائبل کے کون سے اصول ملے جب آپ کو کسی تہوار میں شامل ہونے کا فیصلہ کرنا تھا؟ (‏بکس ”‏جانیں کہ یہوواہ اِن معاملوں کے بارے میں کیا سوچتا ہے‏“‏ کو دیکھیں۔)‏

18 ایک اَور کتاب جس سے ہمارے کئی بہن بھائیوں کو بہت فائدہ ہوا ہے، وہ ‏”‏زندگی گزارنے کے لیے پاک کلام کے اصول“‏ والی کتاب ہے۔ اِس میں مختلف موضوعات پر پاک کلام کی آیتوں کی فہرست دی گئی ہے۔ جب آپ اپنی پسند کا موضوع چُن لیتے ہیں تو پھر اِس میں آپ کو ایسے سوال اور اُن کے ساتھ دی گئی ایسی آیتیں ملیں گی جن سے آپ کو پاک کلام کے اصولوں کا پتہ چلے گا۔ مثال کے طور پر شاید ایک مسیحی سوچے کہ کیا اُسے فلاں تہوار میں شامل ہونا چاہیے یا نہیں؟ تو اگر وہ اِس کتاب میں موضوع ”‏تہوار؛ تقریب“‏ پر جائے گا تو اُسے اِس میں یہ ذیلی عنوان ملے گا:‏”‏ایسی تقریبات یا تہوار جو سچے مسیحی نہیں مناتے‏۔“‏

19 ذرا اِس حصے میں بتائی گئی اِن باتوں پر غور کریں:‏ ”‏مسیحیوں کو ایسے تہوار کیوں نہیں منانے چاہئیں جن کا تعلق جھوٹے مذہب سے ہے؟ (‏1-‏کُر 10:‏21؛‏ 2-‏کُر 6:‏14-‏18؛‏ اِفِس 5:‏10، 11‏)‏“‏ پھر اِس حصے میں بائبل سے کچھ ایسے تہواروں کی مثالیں دی گئی ہیں جو غلط ہیں۔ ذیلی عنوان ”‏قومی تہوار‏“‏ میں بائبل کے کئی ایسے اصول دیے گئے ہیں جن کی مدد سے ایک مسیحی اُس وقت صحیح فیصلہ لے سکتا ہے جب اُسے کسی ایسی تقریب میں حصہ لینے کے لیے کہا جاتا ہے جو کسی قوم کے بیچ ہونے والی جنگ کی یاد میں منائی جاتی ہے یا جس میں کسی اِنسان کی اِس حد تک تعظیم کی جاتی ہے جس کا حق‌دار صرف یہوواہ ہے۔ ہم یہوواہ کی تنظیم کے بہت شکرگزار ہیں کہ اُس نے ہمیں ایسے اوزار دیے ہیں جن کی مدد سے ہم اپنے ضمیر کی اچھی تربیت کر سکتے ہیں۔‏

جانیں کہ یہوواہ اِن معاملوں کے بارے میں کیا سوچتا ہے

کتاب ‏”‏زندگی گزارنے کے لیے پاک کلام کے اصول‏“‏ میں مختلف موضوعات کے بارے میں بائبل کے بہت سے اصول دیے گئے ہیں۔ کیوں نہ خاندانی عبادت کے دوران اِس بکس میں بتائے گئے کسی موضوع پر غور کریں اور دیکھیں کہ بائبل میں اِن موضوعات کے حوالے سے کون سے اصول دیے گئے ہیں؟‏

  • اِختلافات دُور کرنا

  • ایمان‌داری؛ سچ بولنا

  • بُت‌پرستی

  • بُری عادتیں؛ غلط کام

  • پیسہ

  • تفریح

  • جھوٹ بولنا

  • دُنیا سے دوستی

  • سیاسی معاملوں میں طرف‌داری نہ کرنا

  • شراب پینا

  • فحاشی؛ فحش مواد؛ گندی ویڈیوز اور تصویریں دیکھنا

  • مختلف مذہبوں کا مل کر عبادت کرنا

  • معافی

یہ ثابت کریں کہ آپ نے اپنے ضمیر کی اچھی تربیت کی ہے

20.‏ ہم یہ کیسے ظاہر کر سکتے ہیں کہ ہم نے اپنے ضمیر کی اچھی طرح سے تربیت کی ہوئی ہے؟‏

20 یہوواہ نے ہمیں اپنی مرضی سے فیصلے کرنے کی صلاحیت دی ہے جس کی ہم بہت قدر کرتے ہیں۔ لیکن ہم یہ بھی جانتے ہیں کہ ہمیں اپنے ضمیر کی اچھی تربیت کرنی چاہیے تاکہ ہم اِس صلاحیت کو اچھے سے اِستعمال کر سکیں۔ اگر ہم نے اپنے ضمیر کی اچھی تربیت کی ہوگی تو ہم ایسے فیصلے لے پائیں گے جو یہوواہ کی مرضی کے مطابق ہوں گے اور جن سے اُس کی بڑائی ہوگی۔ لیکن ایسا کرنے کے لیے ہمیں یہوواہ کی پاک روح کی ضرورت ہے۔ تو ہمیں دُعا میں اِسے مانگتے رہنا چاہیے اور پھر اِس کی رہنمائی میں چلنا چاہیے۔ اِس کے علاوہ پاک کلام کے اصول بھی ہمارے ضمیر کی رہنمائی کرنے میں ہمارے کام آ سکتے ہیں۔ آئیے ہم یہوواہ کی دی ہوئی اِن نعمتوں کو اچھی طرح سے اِستعمال کریں۔ یوں ہم دیکھ پائیں گے کہ خدا کا کلام ہماری زندگی پر اثر کر رہا ہے۔—‏2-‏تیم 3:‏16، 17؛‏ عبر 4:‏12‏۔‏

آپ اِن سوالوں کے کیا جواب دیں گے:‏

  • ضمیر کیا ہے؟‏

  • ہم اپنے ضمیر کی تربیت کیسے کر سکتے ہیں؟‏

  • کوئی بھی فیصلہ لیتے وقت پاک کلام کے اصول ہمارے کام کیسے آ سکتے ہیں؟‏

گیت نمبر 135 نوجوانوں سے یہوواہ کی گزارش

    اُردو زبان میں مطبوعات (‏2026-‏2000)‏
    لاگ آؤٹ
    لاگ اِن
    • اُردو
    • شیئر کریں
    • ترجیحات
    • Copyright © 2026 Watch Tower Bible and Tract Society of Pennsylvania
    • اِستعمال کی شرائط
    • رازداری کی پالیسی
    • رازداری کی سیٹنگز
    • JW.ORG
    • لاگ اِن
    شیئر کریں