15-21 جون 2026ء
گیت نمبر 122 سچائی کی راہ پر قائم رہیں
اپنی مشکلوں کو یہوواہ کی نظر سے دیکھیں
”چاہے مجھ پر مشکلیں اور پریشانیاں آئیں، مَیں تیرے حکموں سے گہرا لگاؤ رکھتا ہوں۔“—زبور 119:143۔
غور کریں کہ . . .
جب ہم اپنی مشکلوں کو اُس نظر سے دیکھتے ہیں جس نظر سے یہوواہ چاہتا ہے کہ ہم اِنہیں دیکھیں تو ہمیں یہوواہ کا وفادار اور خوش رہنے کی ہمت کیسے ملتی ہے۔
1-2. ہم مشکلوں میں بھی یہوواہ کا وفادار رہنے کے لیے کیا کر سکتے ہیں؟ (تصویر کو بھی دیکھیں۔)
یہوواہ اپنے بندوں کو بہت قیمتی خیال کرتا ہے۔ لیکن پھر بھی اُس کے بہت سے بندوں کی زندگی ”دُکھوں اور تکلیفوں سے“ بھری ہوئی ہے۔ (زبور 90:10) کچھ مسیحیوں کو اپنے گھر والوں کی طرف سے مخالفت کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اور کچھ مسیحیوں کو مُنادی کرنے کی وجہ سے اذیت دی جاتی ہے یا پھر جیل میں ڈال دیا جاتا ہے۔ کچھ مسیحی بڑھاپے کے مسئلوں کی وجہ سے یا پھر کسی بیماری کی وجہ سے تکلیف سہہ رہے ہیں۔ اور کچھ مسیحی اپنے کسی عزیز کی موت کے غم کی وجہ سے ٹوٹ گئے ہیں یا پھر اُن پر دُکھ کا کوئی اَور پہاڑ ٹوٹ پڑا ہے۔ کیا آپ بھی کسی بات کی وجہ سے بہت زیادہ پریشانی اور تکلیف سے گزر رہے ہیں؟
2 جب ہمیں کسی مشکل کا سامنا ہوتا ہے تو ہمیں اِسے اُسی نظر سے دیکھنے کی کوشش کرنی چاہیے جس نظر سے یہوواہ چاہتا ہے کہ ہم اِسے دیکھیں۔ ایسا کرنا ضروری کیوں ہے؟ کیونکہ اگر ہم اپنی مشکلوں کو یہوواہ کی نظر سے نہیں دیکھیں گے تو ہم یہ نہیں جان پائیں گے کہ ہم اِن سے اچھی طرح سے کیسے نمٹ سکتے ہیں۔ یہ بالکل ایسے ہی ہوگا جیسے گاڑی چلاتے وقت ہمارے سامنے کوئی رُکاوٹ کھڑی ہو جاتی ہے لیکن ہم اِسے اِس لیے اچھی طرح سے دیکھ نہیں پاتے کیونکہ ہماری گاڑی کا شیشہ گندا ہے۔ لیکن اگر ہماری گاڑی کا شیشہ صاف ہوگا تو ہمیں پتہ ہوگا کہ ہمیں کیا کرنا ہے۔ تو مشکلوں کا سامنا کرنے کے حوالے سے اِس مضمون میں ہم اِن تین باتوں پر غور کریں گے: (1)مشکلوں سے گزرتے وقت ہمیں کون سی بات یاد رکھنی چاہیے؟ (2)اگر ہم اپنی مشکلوں کو اُس نظر سے دیکھیں گے جس نظر سے یہوواہ چاہتا ہے کہ ہم اِنہیں دیکھیں تو ہمیں کیا فائدہ ہوگا؟ اور (3)جب ہمارے ساتھ کچھ بُرا ہوتا ہے تو ہم کیا کر سکتے ہیں؟
اگر ہم اپنی مشکلوں کو اُس نظر سے دیکھیں گے جس نظر سے یہوواہ چاہتا ہے کہ ہم اِنہیں دیکھیں تو ہم اِن سے اچھی طرح سے نمٹ پائیں گے۔ (پیراگراف نمبر 2 کو دیکھیں۔)
مشکلوں کے بارے میں مناسب سوچ اپنائیں
3. ہم ابھی مشکلوں سے کیوں نہیں بچ سکتے؟
3 اِس دُنیا میں رہتے ہوئے ہم مشکلوں سے مکمل طور پر نہیں بچ سکتے۔ جب تک ہم گُناہ سے پاک نہیں ہو جاتے یا جب تک شیطان کا اِس دُنیا سے راج ختم نہیں ہو جاتا تب تک ہمیں مشکلوں کا سامنا کرنا پڑے گا۔ جیسے جیسے اِس دُنیا کا خاتمہ قریب آ رہا ہے، ہمیں تو اَور بھی زیادہ مشکلوں سے گزرنا پڑے گا۔ مثال کے طور پر ہمیں اَور بھی زیادہ قدرتی آفتوں اور لوگوں کے بُرے رویے کا سامنا کرنا پڑے گا۔ (متی 24:8؛ 2-تیم 3:13) مستقبل میں یہوواہ ہر مشکل اور پریشانی کو دُور کر دے گا۔ لیکن ابھی وہ ایسا نہیں کرے گا کیونکہ اگر اُس نے ایسا کِیا تو یہ لگے کہ وہ دُنیا پر حکمرانی کرنے میں شیطان کی مدد کر رہا ہے۔ تو شیطان کی دُنیا میں رہتے ہوئے ہم چاہ کر بھی مشکلوں سے بچ نہیں سکتے۔—واعظ 9:12۔
4. مسیحیوں کو اَور کن مشکلوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے؟
4 یسوع مسیح کا شاگرد ہونے کی وجہ سے ہمیں اَور بھی مشکلوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ یسوع اکثر اپنے شاگردوں سے کہتے تھے کہ اُنہیں اُن کی پیروی کرنے کی وجہ سے اذیت دی جائے گی۔ (متی 24:9؛ یوح 16:2) اِس لیے جب ہمیں اذیت دی جاتی ہے تو ہم نہ تو حیران ہوتے ہیں اور نہ ہی ہمارا ایمان کمزور پڑتا ہے۔ (1-تھس 3:3، 4) دراصل جب ہم اپنے مضبوط ایمان کی وجہ سے مشکلوں کو برداشت کرتے ہیں تو ہم اِس بات کا پکا یقین رکھ سکتے ہیں کہ ہم ابھی بھی ہمیشہ کی زندگی کی طرف لے جانے والے راستے پر چل رہے ہیں۔ مشکلوں میں یہوواہ کا وفادار رہنے سے ہم یہ بھی ثابت کرتے ہیں کہ ہم کائنات میں چلنے والے مسئلے میں کس کا ساتھ دے رہے ہیں؛ یہوواہ کا یا شیطان کا؟ شیطان نے یہوواہ کے نام پر حملہ کرنے کے ساتھ ساتھ یہ دعویٰ بھی کِیا ہے کہ اِنسان محبت کرنے کی وجہ سے نہیں بلکہ اپنے فائدے کے لیے یہوواہ کی عبادت کرتے ہیں۔ شیطان اپنے اِس دعوے کو صحیح ثابت کرنے کے لیے یہوواہ کے بندوں پر حملے کرتا ہے۔ (ایو 1:9-11) لیکن جب ہم یہوواہ سے محبت کرنے کی وجہ سے مشکلوں کو برداشت کرتے ہیں تو یہوواہ بہت خوش ہوتا ہے۔—اَمثا 27:11۔
5. ہم واعظ 7:13، 14 میں لکھی بات سے کیا سیکھ سکتے ہیں؟ (تصویروں کو بھی دیکھیں۔)
5 یہوواہ ہم پر ہر مشکل آنے سے نہیں روکتا۔ یہوواہ کبھی کوئی بُرا کام نہیں کرتا اور نہ ہی وہ ہم پر بُرا وقت لا کر ہمیں آزماتا ہے۔ (یعقو 1:13) لیکن پھر بادشاہ سلیمان نے یہ کیوں لکھا کہ ”مصیبت کے دن“ ’سچے خدا کے کام‘ ہیں؟ (واعظ 7:13، 14 کو پڑھیں۔) سلیمان یہ نہیں کہہ رہے تھے کہ مصیبت کے پیچھے خدا کا ہاتھ ہوتا ہے بلکہ اُن کی بات کا مطلب یہ تھا کہ خدا ہم پر مصیبتیں آنے سے نہیں روکتا۔ تو پھر ہم واعظ 7:13، 14 میں لکھی بات سے کیا سیکھ سکتے ہیں؟ ہمیں اِس بات کو سمجھنے کی ضرورت ہے کہ جب تک ہم شیطان کی دُنیا میں رہیں گے، ہمیں اچھا اور بُرا وقت دونوں دیکھنا پڑے گا۔ جب ہماری زندگی میں اچھا وقت چل رہا ہوتا ہے تو ہمیں اِس کے لیے یہوواہ کا شکرگزار ہونا چاہیے کیونکہ ہر اچھی چیز ہمیں اُسی کی طرف سے ملتی ہے۔ لیکن سلیمان کی کہی بات سے ہم یہ بھی یاد رکھ سکتے ہیں کہ ہم یہ نہیں جان سکتے کہ مستقبل میں ہمارے ساتھ کیا ہوگا یا ہمیں کیسا وقت دیکھنا پڑے گا۔اچھے اور بُرے لوگوں، دونوں کے ساتھ ہی اچانک کچھ بھی ہو سکتا ہے۔
ہمیں یہ ماننا ہوگا کہ جب تک ہم شیطان کی دُنیا میں رہ رہے ہیں تب تک ہمیں اچھا اور بُرا وقت دیکھنا پڑے گا۔ (پیراگراف نمبر 5 کو دیکھیں۔)
6. یہوواہ ہم پر مصیبتیں آنے کی اِجازت کیوں دیتا ہے؟ (عبرانیوں 12:7، 11)
6 جب ہم کسی مشکل سے گزر رہے ہوتے ہیں تو یہوواہ ہمیں سکھاتا ہے کہ ہم مدد کے لیے اُس پر بھروسا کریں اور خود سے مسئلے حل کرنے کی کوشش نہ کریں۔ یہوواہ ہمیشہ ہماری مشکلوں کو دیکھتا ہے اور جب ہم تکلیف میں ہوتے ہیں تو اُسے بہت دُکھ ہوتا ہے اور وہ ہاتھ بڑھا کر ہماری مدد کرنا چاہتا ہے۔ بھلے ہی کبھی کبھار وہ ہمیں ”گہری تاریک وادی سے“ گزرنے دیتا ہے لیکن وہ اُس دوران بھی ہماری رہنمائی کر رہا ہوتا ہے، ہمیں اپنی محبت کا احساس دِلاتا ہے اور ہمیں مشکلوں سے لڑنے کی طاقت دیتا ہے۔ (زبور 23:4) مشکلوں سے گزرتے وقت ہم یہ بھی دیکھ پاتے ہیں کہ ہم میں کن خوبیوں کی کمی ہے جنہیں ہم یہوواہ کی مدد سے خود میں پیدا کر سکتے ہیں۔ (عبرانیوں 12:7، 11 کو پڑھیں۔) مثال کے طور پر ایوب میں خاکساری کی کمی تھی۔ سچ ہے کہ یہوواہ ایوب پر مصیبتیں نہیں لایا تھا لیکن جب اُس نے ایوب پر مصیبتیں آنے کی اِجازت دی تو اِن کے ذریعے وہ ایوب کو بہت اہم باتیں سکھا پایا۔ (ایو 42:1-6) چاہے ہم پر کوئی بھی مشکل آ جائے، ہم اِس بات کا پکا یقین رکھ سکتے ہیں کہ اگر یہوواہ نے اِس کی اِجازت دی ہے تو پھر وہ اِس بات کا بھی خیال رکھے گا کہ ہمارے ساتھ کچھ ایسا نہ ہو جس کی وجہ سے اُس کے ساتھ ہماری دوستی کو نقصان پہنچے۔ وہ مشکلوں میں ہمیں ”مکمل جیت“ دے گا۔—روم 8:35-39۔
7. جب آپ کو آپ کے ایمان کی وجہ سے اذیت دی جاتی ہے تو آپ خوش کیوں ہو سکتے ہیں؟
7 ہم اذیت کے باوجود بھی خوش رہ سکتے ہیں۔ اگر آپ اپنے ایمان کی وجہ سے اذیت سہہ رہے ہیں تو یہ نہ سوچیں کہ یہوواہ نے آپ کو برکت دینا چھوڑ دی ہے۔ دراصل مخالفت اور اذیت تو اِس بات کا نشان ہیں کہ یہوواہ آپ سے خوش ہے۔ (متی 5:10-12) اگر ہم اذیت کو اِس نظر سے دیکھیں گے تو ہم بھی ویسے ہی خوش رہ پائیں گے جس طرح یسوع کے رسول رہ پائے تھے۔ (اعما 5:40-42) اِس کے علاوہ جب ہم اذیت میں بھی یہوواہ کے وفادار رہتے ہیں تو اِس سے اُن لوگوں کو بھی فائدہ پہنچتا ہے جو یہوواہ کے گواہ نہیں ہیں۔ ہماری وفاداری کو دیکھ کر لوگوں کے دل میں یہوواہ کے بارے میں سچائی سیکھنے کا شوق پیدا ہو سکتا ہے جس سے یہوواہ کی بڑائی ہوتی ہے۔ (1-پطر 2:12) اور ذرا یوسف کی مثال پر بھی غور کریں۔ یہوواہ نے اُنہیں صرف قید سے رِہا ہونے کے بعد ہی برکت نہیں دی تھی بلکہ وہ تو اُنہیں اُس وقت بھی برکت دے رہا تھا جب وہ ابھی قید میں ہی تھے۔ تو یہوواہ آپ کو بھی آپ کی مشکلوں کے دوران برکت دے سکتا ہے۔—پید 39:3، 23۔
8. اَور کون سی چیز مشکلوں میں بھی یہوواہ کا وفادار رہنے میں ہماری مدد کر سکتی ہے؟
8 ہماری مشکلیں ایک نہ ایک دن ختم ہو جائیں گی۔ اِس کا مطلب ہے کہ ہماری کچھ مشکلیں اِس دُنیا میں رہتے ہوئے ہی ختم ہو سکتی ہیں اور جو ختم نہیں ہوتیں، وہ نئی دُنیا میں ضرور ختم ہو جائیں گی۔ ایوب کی مثال اِس بات کا جیتا جاگتا ثبوت ہے۔ بائبل میں بتایا گیا ہے کہ ”یہوواہ نے ایوب کو پہلے سے زیادہ برکت دی۔“ (ایو 42:12) اِسی طرح نئی دُنیا میں یہوواہ ہمیں ہماری سوچ سے بھی بڑھ کر برکتیں دے گا۔ بھلے ہی ابھی ہماری زندگی دُکھوں سے بھری ہے لیکن یہ دُکھ بھری زندگی صرف کچھ وقت کے لیے ہے۔ نئی دُنیا میں تو ہم ہمیشہ تک خوشیوں بھری زندگی گزاریں گے۔—متی 24:13۔
ایسی سوچ جو ہماری صورتحال کو اَور مشکل بنا سکتی ہے
9. کسی مشکل کا سامنا کرتے وقت ہمیں کس طرح کی سوچ سے بچنا چاہیے اور کیوں؟
9 اگر کسی مشکل سے گزرتے وقت ہم اُن باتوں پر یقین کرنے لگیں گے جو سچی نہیں ہیں تو ہماری صورتحال اَور بگڑ سکتی ہے۔ مثال کے طور پر شاید ہمیں لگے کہ ہم پر جو مصیبت آئی ہے، وہ یہوواہ کی طرف سے ہے۔ ایوب کو بھی کچھ وقت کے لیے لگا تھا کہ یہوواہ اُن پر مصیبتیں لایا ہے۔ اِس غلط سوچ کی وجہ سے ”وہ خدا کی بجائے خود کو صحیح ثابت کرنے کی کوشش“ کرنے لگے۔ (ایو 32:2) اور ذرا نعومی کی مثال پر بھی غور کریں۔ شروع شروع میں وہ بھی اپنی مصیبتوں کے لیے یہوواہ کو قصوروار ٹھہرانے لگیں۔ (رُوت 1:13، 20، 21) اگر ایوب اور نعومی اِسی بارے میں سوچتے رہتے کہ یہوواہ اُن پر مشکل وقت لایا ہے تو اُنہیں بہت نقصان ہو سکتا تھا۔ اِس طرح وہ یہوواہ سے ناراض ہو کر اُس کی خدمت کرنا چھوڑ سکتے تھے۔(اَمثا 19:3) لیکن یہوواہ نے ایوب اور نعومی کی مدد کی تاکہ وہ اپنی مشکلوں کے بارے میں صحیح سوچ اپنائیں اور اُس کی محبت کو محسوس کریں۔ یہوواہ کی طرف سے ملنے والی مدد کو قبول کرنے کی وجہ سے اُنہیں بہت برکتیں ملیں۔
10. مشکل وقت سے گزرتے وقت شاید ہم کیا سوچنے لگیں؟
10 اگر ہم یہ مانتے بھی ہیں کہ ہماری مشکلوں کے پیچھے یہوواہ کا ہاتھ نہیں ہے تو بھی ہو سکتا ہے کہ ہم یہ سوچنے لگیں کہ یہوواہ کو اِس بات سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ ہم پر کیا گزر رہی ہے۔ اِس طرح کی سوچ بھی ہماری ہمت توڑ سکتی ہے اور ہماری ساری طاقت نچوڑ سکتی ہے۔ (اَمثا 24:10) بادشاہ داؤد اور حبقوق نبی کو اپنی زندگی میں کئی مشکلوں کا سامنا کرنا پڑا اور کبھی کبھار تو اُنہیں یہ تک لگا کہ شاید یہوواہ اُن کی فریاد نہیں سُن رہا۔ (زبور 10:1؛ حبق 1:2) لیکن اُنہوں نے پھر بھی یہوواہ سے دُعا کرنا نہیں چھوڑا۔ یہوواہ نے بھی اُنہیں اُن کی دُعاؤں کا جواب دیا اور وہ اُن کی مدد کرتا رہا۔ یہوواہ ہر مشکل میں آپ کی بھی مدد کرتا رہے گا۔—زبور 10:17۔
11. اگر ہم مشکلوں کے حوالے سے صحیح سوچ نہیں اپنائیں گے تو کیا ہو سکتا ہے؟
11 اگر ہم مشکلوں کے حوالے سے صحیح سوچ نہیں اپنائیں گے تو ہم یہ سوچنے لگیں گے کہ یہوواہ ہم پر کوئی مصیبت نہیں آنے دے گا۔ اور پھر جب ہم پر کوئی مصیبت آئے گی تو ہم حیران رہ جائیں گے۔ (1-پطر 4:12) یسوع کے شاگردوں کے ساتھ ایسا ہی ہوا تھا۔ وہ یہ تسلیم ہی نہیں کر پا رہے تھے کہ یسوع کو اذیت سے گزرنا پڑے گا۔ (لُو 18:33، 34) حالانکہ یسوع نے صاف لفظوں میں بتایا تھا کہ اُن کے ساتھ کیا کچھ ہونے والا ہے لیکن پطرس رسول یہ سوچ رہے تھے کہ خدا یسوع کو اذیت سے نہیں گزرنے دے گا۔ لیکن یسوع جانتے تھے کہ یہوواہ کی مرضی کس بات میں ہے اور وہ اِسے پورا کرنا چاہتے تھے۔اگر یسوع پطرس کی طرح سوچنے لگتے تو اُن کے لیے یہوواہ کی مرضی کے مطابق کام کرنا بہت مشکل ہو جاتا۔ اِسی لیے یسوع نے پطرس کی درستی کی۔ (مر 8:31-33) یسوع کے شاگرد تو اُن کی موت کے بعد بھی یہ بات فوراً نہیں سمجھ پائے کہ یسوع کو کیوں قتل کِیا گیا تھا۔ لیکن یسوع نے اُن کی مدد کرنا اور اُن سے محبت کرنا نہیں چھوڑی۔ جب وہ مُردوں میں سے جی اُٹھے تو اُنہوں نے شاگردوں کو صحیفوں سے سمجھایا کہ اُنہیں اذیت دے کر کیوں مار ڈالا گیا تھا۔ (لُو 24:25-27، 32، 44-48) یسوع کی باتوں پر سوچ بچار کرنے سے شاگرد اُس اذیت کو سہنے کے لیے تیار ہو پائے جو بہت جلد اُنہیں دی جانے والی تھی۔ ہم بھی اِس بات پر سوچ بچار کر سکتے ہیں کہ بائبل میں اذیت اور مشکلیں سہنے کے حوالے سے کیا بتایا گیا ہے۔ اِس طرح ہم اِنہیں برداشت کرنے کے لیے تیار رہ پائیں گے۔
12. اگر ہم اپنی مشکلوں کو یہوواہ کی نظر سے نہیں دیکھیں گے تو کیا ہو سکتا ہے؟
12 اگر ہم اپنی مشکلوں کو یہوواہ کی نظر سے نہیں دیکھیں گے تو یہ ہمیں ضرورت سے زیادہ ہی بڑی لگنے لگیں گی۔ یسوع نے یہ بات انگوروں کے باغ میں کام کرنے والے مزدوروں کی مثال کے ذریعے سمجھائی تھی۔ کچھ مزدوروں کو لگا کہ اُنہیں جائز مزدوری نہیں ملی ہے۔ لیکن مالک نے اُن مزدوروں میں سے ایک سے کہا: ”دیکھو بھائی، مَیں تمہارے ساتھ نااِنصافی نہیں کر رہا۔“ (متی 20:10-13) اُس مالک نے واقعی مزدوروں کے ساتھ کوئی زیادتی نہیں کی تھی۔ وہ مزدور اِس لیے ناخوش تھے کیونکہ وہ ایک ایسی چیز کی توقع کر رہے تھے جس کی توقع اُنہیں نہیں کرنی چاہیے تھی۔ آج بھی شاید کچھ بہن بھائی اُس وقت ایسا ہی محسوس کریں جب اُنہیں یہوواہ کی خدمت میں وہ ذمےداری نہیں ملتی جس کی وہ توقع کر رہے ہوتے ہیں۔ تو ہم ہر مشکل کو یہوواہ کی نظر سے دیکھنے کے لیے کیا کر سکتے ہیں؟
جب کوئی مشکل کھڑی ہو جاتی ہے تو ہم کیا کر سکتے ہیں؟
13. جب ہمیں کسی مشکل کا سامنا کرنا پڑتا ہے تو کیا ہو سکتا ہے؟
13 یہوواہ کے بندوں کے طور پر ہم جانتے ہیں کہ بائبل میں مشکلوں اور مصیبتوں کے بارے میں کیا بتایا گیا ہے۔ ہم تو اکثر بائبل کی آیتوں کو اِستعمال کر کے اُن لوگوں کا حوصلہ بھی بڑھاتے ہیں جو مشکلوں کا سامنا کر رہے ہوتے ہیں۔ لیکن جب ہم کسی مشکل سے گزرتے ہیں تو شاید تب ہمیں اُس طرح سے سوچنا مشکل لگے جس طرح سے یہوواہ چاہتا ہے کہ ہم سوچیں۔ مثال کے طور پر شاید ہم سوچنے لگیں کہ ہم نے کوئی غلطی کی ہے جس کی وجہ سے یہوواہ ہمیں سزا دے رہا ہے یا ہماری دُعائیں نہیں سُن رہا۔ اگر آپ کے ذہن میں اِس طرح کی باتیں آنے لگی ہیں تو آپ کیا کر سکتے ہیں تاکہ آپ صحیح سوچ اپنا سکیں؟
14. کسی مصیبت کا سامنا کرتے وقت ہم یہوواہ سے کیا دُعا کر سکتے ہیں؟ (فِلپّیوں 4:13)
14 یہوواہ سے مدد مانگیں۔ یہوواہ کو اپنی مشکل بتائیں اور یہ بھی کہ آپ کیسا محسوس کر رہے ہیں۔ کُھل کر اُسے بتائیں کہ آپ کس طرح سے چاہتے ہیں کہ وہ آپ کی مدد کرے۔ یہوواہ سے اُس کی پاک روح اور دانشمندی مانگیں تاکہ آپ کو اپنی مشکلوں سے لڑنے کی طاقت ملے اور آپ صحیح فیصلے لے سکیں۔ لیکن یہوواہ سے دُعا کرتے وقت یہ یاد رکھیں کہ یہوواہ آپ کو آپ کی دُعا کا جواب شاید اُس طرح سے نہ دے جس طرح سے آپ نے سوچا ہوا ہے۔ (اِفِس 3:20) کبھی کبھار یہوواہ اپنے فرشتوں یا ہمارے ہمایمانوں کے ذریعے سے بھی ہماری مدد کرتا ہے۔ (زبور 34:7) تو وہ جس طرح سے بھی ہماری مدد کرتا ہے، اُسے قبول کریں۔ آپ اِس بات کا پکا یقین رکھ سکتے ہیں کہ یہوواہ کسی بھی مشکل میں آپ کو دل کھول کر اپنی پاک روح دے سکتا ہے۔—فِلپّیوں 4:13 کو پڑھیں۔
15. مشکل وقت سے گزرتے وقت ہمیں کون سے کام کرتے رہنے چاہئیں؟ (تصویر کو بھی دیکھیں۔)
15 وہ کام کرتے رہیں جن سے یہوواہ کے ساتھ آپ کی دوستی مضبوط رہے۔ مشکل وقت میں شاید ہم یہوواہ کی اُتنی زیادہ خدمت نہ کر سکیں جتنی ہم پہلے کِیا کرتے تھے۔ لیکن ’مشکلوں اور پریشانیوں‘ کا سامنا کرتے وقت ہمیں اِس بات کا اَور بھی زیادہ خیال رکھنا چاہیے کہ ہم اپنی سوچ کو یہوواہ کی سوچ کے مطابق ڈھالیں۔ (زبور 119:143) اِس لیے روزانہ خدا کا کلام پڑھیں، اِس کا مطالعہ کریں اور سیکھی ہوئی باتوں پر سوچ بچار کریں۔ جتنا زیادہ ہو سکتا ہے، بڑھ چڑھ کر مُنادی کریں۔ باقاعدگی سے اِجلاسوں میں جائیں اور اِن میں حصہ لیں۔ اِس کے علاوہ اکیلے رہنے کی بجائے اپنے بہن بھائیوں کے ساتھ وقت گزاریں۔—اَمثا 18:1۔
وہ کام کرتے رہیں جن سے آپ یہوواہ کے قریب اور اُس کے وفادار رہ سکیں۔ (پیراگراف نمبر 15 کو دیکھیں۔)
16. مشکلوں سے گزرتے وقت ہم کیسا محسوس کر سکتے ہیں لیکن ہمیں کیا کرنے کی ضرورت ہے؟ (2-کُرنتھیوں 10:4، 5)
16 بائبل کی مدد سے اپنی سوچ کو بدلیں۔ کبھی کبھار جب ہمارے ساتھ کچھ بُرا ہوتا ہے تو شاید ہم اپنے بارے میں یا پھر یہوواہ کے بارے میں کچھ بُرا سوچنے لگیں۔ ایسے وقت میں کیا چیز اپنے ذہن سے غلط سوچ کو نکالنے میں ہماری مدد کر سکتی ہے؟ (2-کُرنتھیوں 10:4، 5 کو پڑھیں۔) ہم بائبل اور تنظیم کی کتابوں کا مطالعہ کرنے سے یہوواہ کی سوچ جان سکتے ہیں۔ مثال کے طور پر کیا آپ کو لگتا ہے کہ یہوواہ اب آپ سے خوش نہیں ہے؟ اگر ایسا ہے تو پولُس رسول کی مثال پر غور کریں۔ پولُس کو یہوواہ کی خدمت کرتے ہوئے بہت بڑے مسئلوں کا سامنا کرنا پڑا۔ لیکن وہ اِن کے باوجود لگن سے یہوواہ کی خدمت کرتے رہے جس سے اُنہیں یقین ہو گیا کہ یہوواہ اور یسوع اُن سے خوش ہیں۔ (2-کُر 11:23-27) کیا آپ کو ابھی بھی یہ لگ رہا ہے کہ یہوواہ نے آپ کو آپ کے ماضی کے گُناہوں کے لیے معاف نہیں کِیا؟اگر ایسا ہے تو اُن آیتوں کی ایک لسٹ بنائیں جن میں بتایا گیا ہے کہ یہوواہ گُناہوں کو معاف کر دیتا ہے۔ (یسع 43:25) پھر اِن آیتوں کو پڑھیں اور اِن پر سوچ بچار کریں۔ (زبور 119:97) کیا آپ کے یا آپ کے کسی عزیز کے ساتھ کچھ بُرا ہوا ہے جس کی وجہ سے آپ کو اِس بات پر یقین کرنا مشکل لگ رہا ہے کہ یہوواہ اپنے بندوں کی حفاظت کرتا ہے؟ اگر ایسا ہے تو اِس بات پر تحقیق کریں کہ یہوواہ مصیبتوں کی اِجازت کیوں دیتا ہے اور آپ اِس بات کا پکا یقین کیوں رکھ سکتے ہیں کہ یہوواہ ہر مشکل میں ہماری مدد کر سکتا ہے۔ (زبور 91:9-12) اِس کے علاوہ ایسے بہن بھائیوں کی آپبیتیاں پڑھیں جو مشکل سے مشکل وقت میں بھی وفاداری سے یہوواہ کی خدمت کرتے رہے۔a
17. جب ہم پر مشکل وقت آتا ہے تو ہمیں کیا کرنا چاہیے؟
17 شاید ابھی آپ کسی بڑے مسئلے کا سامنا نہیں کر رہے اور آپ کی زندگی میں سب کچھ ٹھیک چل رہا ہے۔ اگر ایسا ہے تو اِس کے لیے یہوواہ کا شکرادا کریں اور اُن شاندار کاموں کے لیے اُس کی بڑائی کریں جو وہ آپ کے لیے کر رہا ہے۔ (واعظ 7:14) لیکن جب آپ کو مشکل وقت دیکھنا پڑتا ہے تو یہوواہ پر بھروسا ظاہر کرتے رہیں اور اُن باتوں کو یاد رکھیں جو یہوواہ نے اپنے کلام میں آپ سے کہی ہیں۔ اگر آپ ایسا کریں گے تو یہوواہ آپ کے لیے مشکل سے نکلنے کا ”راستہ . . . نکالے گا تاکہ آپ ثابتقدم رہ سکیں۔“ (1-کُر 10:13) لیکن ہم اُس وقت کیا کر سکتے ہیں جب ہمارے کسی ہمایمان پر مشکل وقت آتا ہے؟ ہم اُس مشکل گھڑی میں اُس کی مدد کیسے کر سکتے ہیں؟ اگلے مضمون میں اِنہی سوالوں پر بات کی جائے گی۔
گیت نمبر 150 مخلصی کے لیے یہوواہ پر آس لگائیں
a مثال کے طور پر ویبسائٹ jw.org پر آپبیتی ”ایک گھرانے نے اپنی خوشی واپس پالی“ میں بتایا گیا ہے کہ بھائی ڈیوڈ میزا نے اپنے بیٹے کی موت کے صدمے پر کیسے قابو پایا اور اُن کے گھر والے بھی اِس غم سے کیسے نمٹ پائے۔