8-14 جون 2026ء
گیت نمبر 8 یہوواہ ہماری پناہگاہ ہے
’سچائی کا خدا‘ ہمیشہ اپنے وعدوں کو پورا کرتا ہے
”اَے یہوواہ! سچائی کے خدا! تُو نے مجھے چھڑایا ہے۔“—زبور 31:5۔
غور کریں کہ . . .
ہم اِس بات پر پکا یقین کیوں رکھ سکتے ہیں کہ یہوواہ فردوس کے بارے میں اپنے ہر وعدے کو پورا کرے گا اور بہت جلد اُس کی بادشاہت شیطان کے پھیلائے ہر جھوٹ کا نامونشان مٹا دے گی۔
1. زبور 31:2-5 کے مطابق ہم یہوواہ پر بھروسا کیوں رکھ سکتے ہیں؟
ہم ایک ایسی دُنیا میں رہ رہے ہیں جہاں جھوٹ بولنا، دھوکا دینا اور دوسروں کی پیٹھ پر وار کرنا بہت عام بات ہے۔ دُنیا میں تو لوگوں کو سمجھ ہی نہیں آتا کہ وہ کس پر بھروسا کریں اور کس پر نہیں۔ بہت سے کاروباری لوگ بےایمانی کرتے ہیں۔ اکثر کمپنیاں اپنی چیزیں بیچتے وقت لوگوں کو بےوقوف بناتی ہیں اور اُن سے جھوٹ بولتی ہیں۔ اِس کے علاوہ کبھی کبھار تو لوگوں کے قریبی دوست بھی اپنے وعدوں کو توڑ دیتے ہیں اور ایک دوسرے کی پیٹھ پر وار کرتے ہیں۔ لیکن ہمیں یہ جان کر بہت حوصلہ ملتا ہے کہ کائنات میں ایک ایسی ہستی ہے جس پر ہم ہمیشہ بھروسا کر سکتے ہیں! یہ ہمارا خدا یہوواہ ہے جو ’سچائی کا خدا‘ ہے! (زبور 31:2-5 کو پڑھیں۔) سچائی یہوواہ کی ذات میں رچیبسی ہے۔ وہ کبھی جھوٹ بول ہی نہیں سکتا۔ اُس کی ہر بات سچی ہوتی ہے اور ہم آنکھیں بند کر کے اُس پر بھروسا کر سکتے ہیں۔
2. اِس مضمون میں ہم کن باتوں پر غور کریں گے؟
2 اِس مضمون میں ہم سب سے پہلے تو ایسی باتوں پر غور کریں گے جن کی مدد سے ہم دیکھ پائیں گے کہ ہم یہوواہ پر مکمل بھروسا کیوں کر سکتے ہیں۔ پھر ہم دیکھیں گے کہ یہوواہ شیطان اور اُس کی بُری دُنیا کو کیسے ختم کرے گا اور وہ ابھی زمین اور اِنسانوں کے لیے اپنے مقصد کو پورا کرنے کے لیے کیا کچھ کر رہا ہے۔ اِن باتوں پر غور کرنے سے ہم یہوواہ کے دلیر اور نڈر گواہ بن پائیں گے۔
ہم سچائی کے خدا پر بھروسا کیوں کر سکتے ہیں؟
3. ہم یہوواہ پر مکمل بھروسا کیوں رکھ سکتے ہیں؟
3 ہم یہوواہ پر بھروسا کر سکتے ہیں کیونکہ وہ ہمارا خالق ہے۔ اُسی نے آسمان، زمین اور ہر جاندار کو بنایا ہے۔ (پید 1:1؛ زبور 36:9؛ مُکا 4:11) اُس نے نہ صرف ہمیں زندگی دی ہے بلکہ وہ چیزیں بھی دی ہیں جو زندہ رہنے کے لیے ضروری ہیں جیسے کہ ہوا اور پانی۔ چونکہ یہوواہ نے ہمیں بنایا ہے، وہ سب باتوں کو جانتا ہے اور لامحدود طاقت کا مالک ہے اِس لیے ہم پورے اِعتماد سے اپنی زندگیاں اُس کے ہاتھوں میں سونپ سکتے ہیں۔ ہم اِس بات کا پکا یقین رکھ سکتے ہیں کہ وہ ابھی بھی صحیح راستے پر چلنے میں ہماری رہنمائی کرے گا اور مستقبل میں ہمیں ایک شاندار زندگی بھی دے گا۔
4. ہم کیسے جانتے ہیں کہ یہوواہ ہم سے محبت کرتا ہے؟
4 ہم یہوواہ پر بھروسا کر سکتے ہیں کیونکہ وہ ہم سے محبت کرتا ہے۔ یہوواہ نے اِس لیے اِنسانوں کو بنایا تاکہ وہ بھی زندگی کی نعمت کا مزہ لیں۔ اُس نے ہمیں ”اپنی شبیہ پر“ بنایا ہے اور ہم میں وہ خوبیاں ظاہر کرنے کی صلاحیت ڈالی ہے جو اُس میں بھی ہیں جیسے کہ محبت اور مہربانی۔ (پید 1:26) اُس نے ہمیں اپنی مرضی سے فیصلے کرنے کی آزادی دی ہے اور ہمیں رہنے کے لیے خوبصورت زمین دی ہے۔ (زبور 115:16) جب اُس نے ہمارے پہلے ماں باپ یعنی آدم اور حوّا کو بنایا تھا تو اُس نے اُنہیں ایک بہت ہی زبردست کام کرنے کے لیے دیا تھا۔ اُس نے اُنہیں پوری زمین کو فردوس بنانے کی ذمےداری دی تھی۔ (پید 1:28؛ 2:15) اُس نے اُنہیں کھانے کے لیے طرح طرح کی چیزیں دیں، اُن کے لیے مختلف قسم کے پودے اُگائے اور اُنہیں خوبصورت جانور دیے۔ یہوواہ نے یہ سب اِس لیے کِیا تاکہ اِنسانوں کو اِس سے خوشی ملے اور وہ زندگی کا مزہ لے سکیں۔ اِن سب باتوں سے ثابت ہوتا ہے کہ یہوواہ ہم سے کتنی محبت کرتا ہے اور ”اُس کی اٹوٹ محبت ہمیشہ ہمیشہ برقرار“ رہے گی۔—زبور 103:17۔
5. (الف)جب آدم اور حوّا نے یہوواہ سے بغاوت کی تو یہوواہ نے کیا کِیا؟ (ب)یہوواہ کے کچھ ایسے وعدے بتائیں جو وہ پورے کر چُکا ہے۔ (بکس ”یہوواہ ہمیشہ اپنے وعدوں کو پورا کرتا ہے“ کو دیکھیں۔)
5 ہم یہوواہ پر بھروسا کر سکتے ہیں کیونکہ وہ ہمیشہ اپنی بات پر قائم رہتا ہے۔ یہوواہ نے زمین کو ”بِلامقصد خلق نہیں کِیا بلکہ آباد ہونے کے لیے بنایا ہے۔“ (یسع 45:18، 19) جب آدم اور حوّا نے یہوواہ سے بغاوت کی تو یہوواہ نے اُنہیں موت کی سزا دی۔ جب ایسا ہوا تو شاید یہ لگ رہا تھا کہ شیطان یہوواہ کو اپنا مقصد پورا کرنے سے روکنے میں کامیاب ہو گیا ہے۔ لیکن کوئی بھی یہوواہ کو اُس کا مقصد پورا کرنے سے نہیں روک سکتا۔ جب یہوواہ ایک کام کرنے کا اِرادہ کر لیتا ہے تو وہ ہمیشہ اُسے انجام تک پہنچاتا ہے۔ (یسع 46:10، 11) تو آدم اور حوّا کی بغاوت کے بعد بھی یہوواہ کا یہ مقصد نہیں بدلا کہ زمین اچھے اور نیک اِنسانوں سے بھر جائے۔ اُس نے آدم اور حوّا کو بچے پیدا کرنے کی اِجازت دی اور اپنے اِکلوتے بیٹے کو قربان کر دیا تاکہ آدم اور حوّا کی اولاد زمین پر ہمیشہ تک زندہ رہنے کی اُمید رکھ سکے۔—یوح 3:16۔
سچائی کا خدا اپنے مقصد کو پورا کرتا ہے
6. باغِعدن میں ہونے والی بغاوت کے بعد یہوواہ نے کیا پیشگوئی کی؟
6 جس ہستی نے آدم اور حوّا کو یہوواہ کے خلاف بغاوت کرنے پر اُکسایا تھا، وہ ”قدیم سانپ[ہے]جسے اِبلیس اور شیطان کہا جاتا ہے۔“a (مُکا 12:9؛ پید 3:4، 5؛ یوح 8:44) اِسی لیے یہوواہ نے شیطان کے لیے یہ سزا مقرر کی ہے کہ مستقبل میں اُس کا نامونشان مٹ جائے گا۔ (پید 3:15) لیکن اِس سے پہلے بہت سے لوگ اُس کی مثال پر عمل کریں گے اور اُس جیسے کام کریں گے۔ لیکن کچھ لوگ یہوواہ کے وفادار رہیں گے اور اُس سے لپٹے رہیں گے۔
7. کون شیطان کی حمایت کرتے ہیں اور اُن کا انجام کیا ہوگا؟
7 بہت سے فرشتوں اور اِنسانوں نے شیطان کی بغاوت میں اُس کا ساتھ دیا ہے۔ چونکہ وہ سب یہوواہ کے مقصد کے خلاف ہیں اِس لیے وہ شیطان کی نسل سے ہیں۔ لیکن یہوواہ وہ وقت مقرر کر چُکا ہے جب وہ شیطان اور اُس کا ساتھ دینے والوں کو تباہ کر دے گا۔—دان 2:44؛ روم 16:20۔
8. یسوع مسیح نے 1914ء میں کیا کِیا؟ (تصویروں کو بھی دیکھیں۔)
8 یہوواہ نے شیطان اور اُس کے حمایتیوں کا نامونشان مٹانے کا وعدہ کِیا ہے۔ ہمارے پاس اِس بات کے کیا ثبوت ہیں کہ یہوواہ اپنا یہ وعدہ ضرور پورا کرے گا؟ 1914ء میں یسوع مسیح نے شیطان اور بُرے فرشتوں سے جنگ لڑنا شروع کی اور اُنہیں زمین پر پھینک دیا۔ (مُکا 12:7-9) حالانکہ یہ جنگ آسمان پر لڑی گئی تھی لیکن اِس کا اثر زمین پر رہنے والے لوگ بھی محسوس کر سکتے ہیں۔ بائبل میں لکھا ہے: ”اَے زمین اور سمندر، تُم پر افسوس! کیونکہ اِبلیس تمہارے پاس آ گیا ہے اور وہ بڑے غصے میں ہے کیونکہ وہ جانتا ہے کہ اُس کے پاس تھوڑا ہی وقت ہے۔“ (مُکا 12:12) 1914ء سے شیطان کی پوری توجہ زمین پر ہے۔ وہ پوری کوشش کر رہا ہے کہ وہ زیادہ سے زیادہ لوگوں کو اپنے پیچھے لگائے۔ اِسی وجہ سے دُنیا کے حالات اَور بگڑتے جا رہے ہیں۔ لیکن بہت جلد یسوع مسیح ”مکمل فتح حاصل“ کریں گے اور شیطان اور اُس کا ساتھ دینے والوں کو تباہ کر دیں گے۔ (مُکا 6:2) یوں وہ یہوواہ کے نام کو ہمیشہ ہمیشہ کے لیے پاک ثابت کر دیں گے۔ (زبور 45:4-6) تب ہر شخص یہ جان جائے گا کہ صرف یہوواہ ہی سچا خدا ہے!—حِز 38:23۔
World War I: U.S. National Archives photo; bomb: USAF photo; pandemic: blvdone/stock.adobe.com; riot: inhauscreative/E+ via Getty Images
1914ء سے دُنیا کے حالات اَور بھی زیادہ بگڑ گئے ہیں۔ (پیراگراف نمبر 8 کو دیکھیں۔)
سچائی کا خدا سچائی سے محبت کرنے والے لوگوں کو جمع کر رہا ہے
9. آج یہوواہ کن کو جمع کر رہا ہے؟
9 یہوواہ ”آسمان اور زمین کی چیزوں کو مسیح کے تحت جمع“ کر رہا ہے۔ (اِفِس 1:10) ’آسمان کی چیزوں‘ کا اِشارہ مسحشُدہ مسیحیوں کی طرف ہے جنہیں یہوواہ نے آسمان پر یسوع کے ساتھ حکمرانی کرنے کے لیے چُنا ہے۔ ”زمین کی چیزوں“ کا اِشارہ اُن لوگوں کی طرف ہے جو زمین پر فردوس میں ہمیشہ تک زندہ رہیں گے۔ یہوواہ کے یہ سبھی بندے شیطان کے جھوٹ کا پردہ فاش کر رہے ہیں اور لوگوں کی مدد کر رہے ہیں تاکہ وہ سچائی کے بارے میں علم حاصل کریں۔
10. یہوواہ لوگوں کی سچائی سیکھنے میں مدد کیسے کر رہا ہے؟ (مُکاشفہ 14:6، 7)
10 یہوواہ مُنادی کے کام کے ذریعے اُن لوگوں کو ڈھونڈ رہا ہے جو سچائی سے محبت کرتے ہیں۔ آج یہ کام جتنے بڑے پیمانے پر کِیا جا رہا ہے اُتنا پہلے کبھی نہیں کِیا گیا۔ (مُکاشفہ 14:6، 7 کو پڑھیں۔) سچ ہے کہ یہوواہ دُنیا بھر میں خوشخبری پھیلانے کے لیے اِنسانوں کو اِستعمال کر رہا ہے لیکن اُس کے فرشتے بھی نیک دل لوگوں کو کلیسیا میں جمع کرنے کے کام میں حصہ لے رہے ہیں۔ جب یہوواہ کے بندے دوسروں کو اُس کے بارے میں سچائی سکھاتے ہیں تو وہ جھوٹے مذاہب کا بھی پردہ فاش کرتے ہیں جنہیں شیطان یہوواہ کے بارے میں جھوٹ پھیلانے کے لیے اِستعمال کرتا ہے۔ (مُکا 18:2، 4) بہت جلد تمام جھوٹے مذاہب کو تباہ کر دیا جائے گا اور سچائی کے خدا یعنی یہوواہ سے محبت کرنے والے لوگ اُس کی بڑائی کریں گے جس کا وہ واقعی حقدار ہے۔—مُکا 17:16۔
11. ہم یہوواہ کے بندوں کو کیسے پہچان سکتے ہیں؟
11 یہوواہ فرق فرق قوموں اور ثقافتوں سے اُن لوگوں کو اپنے خاندان میں لا رہا ہے جو سچائی سے محبت کرتے ہیں۔ (مُکا 7:9، 10) جب یہ لوگ پہلی بار یہوواہ کے بارے میں سنتے ہیں تو وہ سچائی کو پہچان جاتے ہیں اور خوشی خوشی یہوواہ کے بندوں میں شامل ہونا چاہتے ہیں۔ (مر 13:10)جیسے جیسے وقت گزرتا جا رہا ہے، یہ بات اَور بھی زیادہ واضح ہوتی جا رہی ہے کہ کون یہوواہ کی مرضی کے مطابق اُس کی عبادت کر رہے ہیں اور کون نہیں۔ ملاکی نبی نے پیشگوئی کی تھی کہ ”تُم . . . صادق اور شریر میں اور خدا کی عبادت کرنے والے اور نہ کرنے والے میں امتیاز کرو گے۔“ (ملا 3:18) یہوواہ کے بندے اپنے چالچلن سے اور مُنادی کا کام کرنے سے یہ ثابت کر رہے ہیں کہ وہ سچائی کے خدا کی عبادت کرتے ہیں۔
12. مُنادی کے کام کے ذریعے یہوواہ کا مقصد کیسے پورا ہو رہا ہے؟
12 ہم ”بادشاہت کی خوشخبری کی مُنادی“ کرنے سے نہ صرف یسوع کے حکم پر عمل کرتے ہیں بلکہ اُن کی کہی ہوئی پیشگوئی کو بھی پورا کرتے ہیں۔ (متی 24:14؛ 28:18-20) اِس طرح دُنیا بھر سے لوگ یسوع کے پیروکار بن جاتے ہیں اور اُنہیں ہمیشہ تک سچائی کے خدا کی عبادت کرنے کی اُمید ملتی ہے۔ ذرا سوچیں کہ یہ ہمارے لیے کتنے بڑے اعزاز کی بات ہے کہ یہوواہ ہمیں موقع دیتا ہے کہ ہم اُس کے مقصد کو پورا کرنے میں اُس کے کام آ سکیں۔
اِس بات کا پکا یقین رکھیں کہ یہوواہ اپنے وعدوں کو ضرور پورا کرے گا
13. شیطان خاص طور پر کن کو اذیت دیتا ہے اور کیوں؟
13 شیطان بہت غصے میں ہے کیونکہ وہ جانتا ہے کہ ”اُس کے پاس تھوڑا ہی وقت ہے۔“ (مُکا 12:12، 13) وہ خاص طور پر مسحشُدہ مسیحیوں کو اذیت پہنچاتا ہے جن کو یہوواہ نے آسمان پر یسوع کے ساتھ حکمرانی کرنے کے لیے چُنا ہے۔ مسحشُدہ مسیحی ’خدا کے حکموں پر عمل کرتے ہیں اور اُنہیں یسوع کے بارے میں گواہی دینے کا کام دیا گیا ہے۔‘ (مُکا 12:17؛ 14:12) جو بھی شخص اُن کی حمایت کرتا ہے اور گواہی دینے کے کام میں اُن کا ساتھ دیتا ہے، وہ شیطان کی نفرت کا نشانہ بنتا ہے۔
14. جب شیطان یہوواہ کے بندوں پر حملہ کرے گا تو کیا ہوگا؟ (تصویر کو بھی دیکھیں۔)
14 جب بابلِعظیم تباہ ہو جائے گا تو شیطان کے حمایتی یہوواہ کے بندوں پر حملہ کرنے کی کوشش کریں گے جس کے نتیجے میں ہرمجِدّون کی جنگ شروع ہوگی۔ (مُکا 16:13، 14، 16) یسوع مسیح اپنی آسمانی فوجوں کے ساتھ مل کر یہوواہ کے بندوں کو بچائیں گے اور شیطان کی دُنیا کے باقی نظام کو مکمل طور پر تباہ کر دیں گے۔ (مُکا 19:19-21) تب جھوٹے، مکار اور دھوکےباز لوگوں کا نامونشان مٹ جائے گا۔ (مُکا 21:8) اُس وقت صحیح معنوں میں زمین پر نیکی کا راج ہوگا اور سچائی کے خدا کی بڑائی ہوگی۔
یسوع مسیح اور اُن کی آسمانی فوج گھوڑوں پر سوار ہے اور وہ سب ہرمجِدّون کی جنگ میں یہوواہ کے دُشمنوں کو تباہ کر رہے ہیں۔ (پیراگراف نمبر 14 کو دیکھیں۔)
15. ہم اِس بات پر مکمل بھروسا کیوں رکھ سکتے ہیں کہ یہوواہ اپنے اُن وعدوں کو ضرور پورا کرے گا جو اُس نے مستقبل کے بارے میں کیے ہیں؟ (یسعیاہ 65:16، 17) (تصویر کو بھی دیکھیں۔)
15 آج دُنیا میں لوگ پہلے سے بھی زیادہ بٹ گئے ہیں۔ لیکن یہوواہ کی مدد سے اُس کے بندے آپس میں متحد ہیں۔ یہوواہ اُن سب لوگوں کو اپنے خاندان کا حصہ بنا رہا ہے جو سچائی سے محبت کرتے ہیں۔ یہوواہ اپنے بندوں کو اور اُن کے اُس کام کو برکت دیتا رہے گا جو وہ اُس کے لیے کر رہے ہیں۔ کوئی بھی شخص یا چیز یہوواہ کو ایسا کرنے سے نہیں روک سکتی۔ (یسعیاہ 65:16، 17 کو پڑھیں۔) ہم اِس بات پر مکمل بھروسا رکھ سکتے ہیں کہ یہوواہ اپنے اُن وعدوں کو ضرور پورا کرے گا جو اُس نے مستقبل کے بارے میں کیے ہیں۔ کیوں؟ کیونکہ رومیوں 8:38، 39 میں لکھا ہے کہ”نہ موت، نہ زندگی، نہ فرشتے، نہ حکومتیں، نہ موجودہ چیزیں، نہ آنے والی چیزیں، نہ طاقتیں، نہ اُونچائی، نہ گہرائی اور نہ ہی کوئی اَور مخلوق ہمیں خدا کی اُس محبت سے جُدا کر سکتی ہے جو ہمارے مالک مسیح یسوع کے ذریعے ظاہر ہوتی ہے۔“
نئی دُنیا میں ہمیں وہ مشکلیں اور پریشانیاں یاد تک نہیں آئیں گی جن کا ہم ابھی سامنا کر رہے ہیں۔ (پیراگراف نمبر 15 کو دیکھیں۔)
16. آپ پورے دل سے یہوواہ پر بھروسا کیوں کرتے ہیں؟
16 واقعی ہمارے پاس سچائی کے خدا یہوواہ پر مکمل بھروسا کرنے کی بہت سی وجوہات ہیں۔ ہم نے دیکھا کہ یہوواہ ہمارا خالق ہے اور ہم سے بہت محبت کرتا ہے۔ وہ پوری دُنیا سے لوگوں کو جمع کر رہا ہے تاکہ وہ صحیح طریقے سے اُس کی عبادت کر سکیں۔ (یسع 60:22؛ زک 8:23) ہم جانتے ہیں کہ یہوواہ ہمیشہ اپنے مقصد کو پورا کرتا ہے اور وہ بہت جلد شیطان کے پھیلائے جھوٹ کا نامونشان مٹا دے گا۔ داؤد کی طرح ہماری بھی یہی دُعا ہے: ”یہوواہ کی بڑائی ہو؛ اُس جیسے حیرانکُن کام کوئی نہیں کر سکتا۔ اُس کے عظیمُالشان نام کی تعریف ہمیشہ ہوتی رہے؛ اُس کی شان پوری زمین پر پھیل جائے۔“—زبور 72:18، 19۔
گیت نمبر 2 یہوواہ تیرا نام ہے
a بائبل میں اِس بُرے فرشتے کا نام نہیں بتایا گیا۔ اِس میں اُسے ”اِبلیس“ کہا گیا ہے جس کا مطلب ہے: بدنام کرنے اور جھوٹ بولنے والا۔ اُسے ”شیطان“ بھی کہا گیا ہے جس کا مطلب ہے: خدا کا مخالف۔