یہوواہ کے گواہوں کی آن لائن لائبریری
یہوواہ کے گواہوں کی
آن لائن لائبریری
اُردو
  • بائبل
  • مطبوعات
  • اِجلاس
  • م26 جنوری ص.‏ 26-‏31
  • دوسروں کو سچائی بتاتے وقت نرمی سے کام لیں

اِس حصے میں کوئی ویڈیو دستیاب نہیں ہے۔

ہم معذرت خواہ ہیں کہ ویڈیو لوڈ نہیں ہو سکی۔

  • دوسروں کو سچائی بتاتے وقت نرمی سے کام لیں
  • مینارِنگہبانی یہوواہ خدا کی بادشاہت کا اعلان کرتا ہے (‏مطالعے کا ایڈیشن)‏—‏2026ء
  • ذیلی عنوان
  • ملتا جلتا مواد
  • ہمیں سچائی کہاں سے مل سکتی ہے؟‏
  • ہمیں سچ بولتے وقت کیا یاد رکھنا چاہیے؟‏
  • ہمیں کیسے سچائی بتانی چاہیے؟‏
  • ہمیں کب سچائی بتانی چاہیے؟‏
  • کیا آپ سچائی کو پہچانتے ہیں؟‏
    مینارِنگہبانی یہوواہ خدا کی بادشاہت کا اعلان کرتا ہے (‏مطالعے کا ایڈیشن)‏—‏2024ء
  • دیکھیں کہ اِن سوالوں کے کیا جواب ہیں۔‏
    2025ء-‏2026ء حلقے کا اِجتماع حلقے کے نگہبان کے ساتھ
  • ‏’‏سچائی کا خدا‘‏ ہمیشہ اپنے وعدوں کو پورا کرتا ہے
    مینارِنگہبانی یہوواہ خدا کی بادشاہت کا اعلان کرتا ہے (‏مطالعے کا ایڈیشن)‏—‏2026ء
  • خاکساری سے تسلیم کریں کہ آپ سب باتوں کو نہیں جانتے
    مینارِنگہبانی یہوواہ خدا کی بادشاہت کا اعلان کرتا ہے (‏مطالعے کا ایڈیشن)‏—‏2025ء
مزید
مینارِنگہبانی یہوواہ خدا کی بادشاہت کا اعلان کرتا ہے (‏مطالعے کا ایڈیشن)‏—‏2026ء
م26 جنوری ص.‏ 26-‏31

30 مارچ–‏5 اپریل 2026ء

گیت نمبر 76 تب کیسا لگتا ہے؟‏

دوسروں کو سچائی بتاتے وقت نرمی سے کام لیں

‏’‏ یہوواہ،‏ سچائی کا خدا!‏‘‏‏—‏زبور 31:‏5‏۔‏

غور کریں کہ ‏.‏ ‏.‏ ‏.‏

ہم سچ کیسے بول سکتے ہیں اور ہم اِس طرح سے دوسروں کو پاک کلام کی سچائیاں کیسے بتا سکتے ہیں جن سے اُنہیں فائدہ ہو۔‏

1.‏ یہوواہ کے خاندان کا حصہ بننے کے لیے ہمیں کیا کرنا ہوگا؟‏

جب ہم اپنے کسی ہم‌ایمان سے پہلی بار ملتے ہیں تو عام طور پر ہم ایک دوسرے سے یہ سوال پوچھتے ہیں:‏ ”‏آپ نے یہوواہ کے بارے میں سچائی کیسے سیکھی؟“‏ کچھ بہن بھائی کہتے ہیں کہ اُن کے امی ابو نے اُنہیں اُن کے بچپن سے ہی پاک کلام کی سچائیاں سکھائی ہیں اور کچھ بہن بھائی کہتے ہیں کہ اُنہیں یہوواہ کے بارے میں سچائی سیکھے ہوئے کچھ ہی سال ہوئے ہیں۔ ہم اِس طرح کے جواب اِس لیے دیتے ہیں کیونکہ پاک کلام کی سچائیاں ہماری زندگی میں بہت اہمیت رکھتی ہیں۔ کیوں؟ کیونکہ ہم جانتے ہیں کہ ہم صرف تبھی یہوواہ کے خاندان کا حصہ بن سکتے ہیں اگر ہم یہ ثابت کریں گے کہ ہم سچائی سے محبت کرتے ہیں اور اِس کے مطابق زندگی گزار رہے ہیں۔ سچائی کے مطابق زندگی گزارنے میں یہ شامل ہے کہ ہم ہر بات میں ایمان‌داری سے کام لیں اور سچ بولیں۔—‏زبور 15:‏1-‏3‏۔‏

2.‏ (‏الف)‏لوگ یسوع مسیح کے بارے میں کون سی بات جانتے تھے؟ (‏ب)‏لوگوں پر اُن سچائیوں کا کیا اثر ہوا جو یسوع اُنہیں سکھا رہے تھے؟‏

2 یسوع مسیح ہمیشہ سچ بولتے تھے۔ یہ بات تو اُن کے دُشمن بھی مانتے تھے حالانکہ اُنہیں کبھی کبھار یسوع کی باتیں پسند نہیں آتی تھیں۔ (‏متی 22:‏16‏)‏ یسوع مسیح لوگوں کو جو سچائیاں سکھا رہے تھے، اُن کے بارے میں اُنہوں نے کہا:‏ ”‏مَیں بیٹے اور باپ، بیٹی اور ماں اور بہو اور ساس کو ایک دوسرے سے جُدا کرنے آیا ہوں۔“‏ (‏متی 10:‏35‏)‏ یسوع مسیح یہ نہیں چاہتے تھے کہ لوگوں کو اُن کا اور اُن کے شاگردوں کا پیغام سُن کر بُرا لگے۔ لیکن وہ جانتے تھے کہ اُن کے پیغام کی وجہ سے لوگ بٹ جائیں گے۔ (‏متی 23:‏37‏)‏ اِس کا مطلب تھا کہ کچھ لوگ پاک کلام کی سچائیوں سے محبت کریں گے اور کچھ اِس سے نفرت کریں گے۔—‏2-‏تھس 2:‏9-‏11‏۔‏

3.‏ اِس مضمون میں ہم کن سوالوں کے جواب حاصل کریں گے؟‏

3 یسوع مسیح کی طرح ہم ہمیشہ سچ بولنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ہم دوسروں کو مُنادی کرتے اور پاک کلام کی سچائیاں سکھاتے ہیں حالانکہ ہم جانتے ہیں کہ اِس وجہ سے کچھ لوگ ہمیں پسند نہیں کریں گے۔ مگر کیا اِس کا یہ مطلب ہے کہ دوسروں کو سچ بتاتے وقت ہم یہ نہ سوچیں کہ ہمیں اِسے کب اور کیسے بتانا چاہیے؟ ایسا بالکل نہیں ہے۔ دراصل اِس مضمون میں ہم اِنہی سوالوں پر غور کریں گے کہ ہمیں کس بات کو ذہن میں رکھ کر دوسروں کو کوئی سچائی بتانی چاہیے؟ اور ہمیں کب اور کیسے سچائی بتانی چاہیے؟ لیکن سب سے پہلے ہم اِس سوال کا جواب حاصل کریں گے کہ ہمیں سچائی کہاں سے مل سکتی ہے؟ اِن سوالوں کے جواب حاصل کرنے سے ہم نرمی اور سمجھ‌داری سے اور صحیح وقت پر دوسروں کو بائبل کی سچائیاں بتا سکیں گے۔‏

ہمیں سچائی کہاں سے مل سکتی ہے؟‏

4.‏ ہم یہ کیوں کہہ سکتے ہیں کہ یہوواہ سچائی کا سرچشمہ ہے؟‏

4 یہوواہ سچائی کا سرچشمہ ہے۔ اُس کی ہر بات سچی ہے۔ مثال کے طور پر اُس نے ہمیں صحیح اور غلط کے بارے میں جو بھی باتیں بتائی ہیں، وہ بالکل سچ ہیں۔ (‏زبور 19:‏9؛‏ 119:‏142،‏ 151‏)‏ یہوواہ اپنے وعدوں کا پکا ہے۔ (‏گن 23:‏19)‏ اُس نے مستقبل کے بارے میں جو بھی وعدے کیے ہیں، وہ ضرور پورے ہوں گے۔ (‏یسع 55:‏10، 11‏)‏ بائبل میں بتایا گیا ہے کہ یہ ہو ہی نہیں سکتا ہے کہ یہوواہ جھوٹ بولے!‏ (‏عبر 6:‏18‏)‏ واقعی پاک کلام میں یہوواہ کے بارے میں بالکل ٹھیک کہا گیا ہے کہ وہ ’‏سچائی کا خدا‘‏ ہے۔—‏زبور 31:‏5‏۔‏

5.‏ ”‏سچائی کے خدا“‏ کو جاننا مشکل کیوں نہیں ہے؟ (‏اعمال 17:‏27‏)‏

5 کچھ لوگوں کو لگتا ہے کہ ”‏سچائی کے خدا“‏ یعنی یہوواہ کو جاننا بہت مشکل ہے اور کچھ تو اُس کے وجود کو مانتے ہی نہیں ہیں۔ لیکن ہم اپنے اِردگِرد ایسی بہت سے چیزیں دیکھ سکتے ہیں جن سے ثابت ہوتا ہے کہ یہوواہ موجود ہے۔ (‏روم 1:‏20‏)‏ جب پولُس رسول ایتھنز میں کچھ ایسے یونانی لوگوں سے بات کر رہے تھے جو بہت پڑھے لکھے تھے تو پولُس نے اُنہیں بتایا کہ خدا ”‏کسی سے دُور نہیں“‏ ہے۔ وہ چاہتا ہے کہ لوگ اُسے ڈھونڈیں۔ ‏(‏اعمال 17:‏27 کو پڑھیں۔)‏ یہوواہ تو خود ایسے لوگوں کو اپنے پاس لا رہا ہے جو بڑی خاکساری سے سچائی کی تلاش کر رہے ہیں۔—‏یوح 6:‏44‏۔‏

6.‏ (‏الف)‏بائبل میں لکھی کچھ سچائیوں کے بارے میں بتائیں۔ (‏ب)‏آپ اِن سچائیوں کو جان کر یہوواہ کے شکرگزار کیوں ہیں؟‏

6 یہوواہ کو ڈھونڈنے یا جاننے کا ایک طریقہ یہ ہے کہ ہم اُس کے کلام کا مطالعہ کریں۔ یہوواہ نے اپنی پاک روح کے ذریعے کچھ آدمیوں سے بائبل لکھوائی تھی۔ (‏2-‏پطر 1:‏20، 21‏)‏ تو بائبل میں جو بھی باتیں لکھی ہیں، وہ سب سچی ہیں اور ہم اُن پر پورا بھروسا رکھ سکتے ہیں۔ مثال کے طور پر بائبل میں کائنات اور زمین پر زندگی کی شروعات کے بارے میں جو کچھ بتایا گیا ہے، ہم اُس پر پورا بھروسا کر سکتے ہیں۔ (‏پید 1:‏1،‏ 26‏)‏ اِس میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ ہم سب گُناہ کیوں کرتے ہیں اور ہم پر مصیبتیں اور موت کیوں آتی ہے۔ (‏روم 5:‏12؛‏ 6:‏23‏)‏ اِس کے علاوہ اِس میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ یہوواہ اپنے بیٹے کے ذریعے اُس سارے نقصان کو ٹھیک کر دے گا جو ’‏جھوٹ کے باپ‘‏ یعنی شیطان کی وجہ سے ہوا ہے۔ (‏یوح 8:‏44؛‏ روم 16:‏20‏)‏ بائبل میں یہوواہ نے یہ وعدہ بھی کِیا ہے کہ یسوع مسیح ہر طرح کی بُرائی کو ختم کر دیں گے، مُردوں کو زندہ کریں گے، زمین کو فردوس بنا دیں گے اور ہمیں گُناہ سے پاک کر دیں گے۔ (‏یوح 11:‏25، 26؛‏ 1-‏یوح 3:‏8‏)‏ ہم بائبل میں لکھی اِن سبھی سچائیوں پر پکا بھروسا رکھ سکتے ہیں۔ ذرا سوچیں کہ یہ ہمارے لیے کتنے بڑے اعزاز کی بات ہے کہ یہوواہ نے ہمیں سچائی سکھائی ہے اور ہمیں یہ عزت بخشی ہے کہ ہم اِسے دوسروں کو بھی بتائیں!‏—‏متی 28:‏19، 20‏۔‏

ہمیں سچ بولتے وقت کیا یاد رکھنا چاہیے؟‏

7-‏8.‏ ہمیں کس نیت سے سچ بولنا چاہیے؟ ایک مثال دیں۔ (‏مرقس 3:‏11، 12‏)‏ (‏تصویروں کو بھی دیکھیں۔)‏

7 جیسے کہ ہم نے پہلے بات کی تھی، یہوواہ کے خاندان کا حصہ بننے کے لیے یہ بہت ضروری ہے کہ ہم دوسروں سے سچ بولیں۔ لیکن یہوواہ کو خوش کرنے کے لیے صرف سچ بولنا ہی کافی نہیں ہے۔ یہوواہ کی نظر میں یہ بات بہت اہمیت رکھتی ہے کہ ہم کس نیت سے سچ بول رہے ہیں۔ اِس سلسلے میں ذرا اُس واقعے پر غور کریں جب یسوع گلیل کی جھیل کے قریب مُنادی کر رہے تھے اور بہت سے لوگ اُن کے اِردگِرد جمع ہو گئے تھے۔ ‏(‏مرقس 3:‏11، 12 کو پڑھیں۔)‏ اِن میں ایسے لوگ بھی تھے جو بُرے فرشتوں کے قبضے میں تھے۔ وہ یسوع کو دیکھتے ہی اُن کے قدموں پر گِر رہے تھے اور چلّا رہے تھے:‏ ”‏آپ خدا کے بیٹے ہیں۔“‏ بُرے فرشتے یسوع مسیح کے بارے میں بالکل سچی بات بتا رہے تھے۔ مگر کیوں؟ شاید اِس کے پیچھے اُن کا مقصد یہ تھا کہ پہلے وہ لوگوں کو سچ بتا کر اُن کا بھروسا جیت لیں اور پھر بعد میں وہ اِن لوگوں کو بے‌حوصلہ کرنے والی باتیں بتا کر اُنہیں یہوواہ کی خدمت کرنے سے روک سکیں۔ مگر یہ بُرے فرشتے یسوع کو بے‌وقوف نہیں بنا سکتے تھے۔ یسوع اُن کی نیت اچھی طرح سے جانتے تھے۔ اِسی لیے یسوع نے اُنہیں حکم دیا کہ وہ اُن کے بارے میں بات نہ کریں۔‏

8 اِس واقعے سے پتہ چلتا ہے کہ یہوواہ اِس بات کو بہت اہم سمجھتا ہے کہ ہم کس نیت سے دوسروں کو اُس کے بارے میں سچائی سکھاتے ہیں۔ وہ چاہتا ہے کہ ہم اُس سے محبت کرنے کی وجہ سے ایسا کریں اور جب لوگ ہمارا پیغام سُن کر ہماری تعریف کریں تو ہم اُن کی توجہ یہوواہ پر دِلائیں اور اُس کی بڑائی کریں۔—‏متی 5:‏16؛‏ اعمال 14:‏12-‏15 پر غور کریں۔‏

دو فرق منظر جن میں دِکھایا گیا ہے کہ ایک بہن ایک جوان عورت کو کیسے بائبل کورس کرا رہی ہے۔ 1.‏ وہ بہن بائبل کو اِستعمال نہیں کر رہی بلکہ اپنے بارے میں بات کر رہی ہے۔ 2.‏ وہ بہن بائبل کھول کر اپنی طالبِ‌علم کو آیت دِکھا رہی ہے۔‏

لوگوں کو پاک کلام کی سچائیاں سکھاتے وقت آپ اُن کی توجہ کس کی طرف دِلاتے ہیں؟ (‏پیراگراف نمبر 7-‏8 کو دیکھیں۔)‏


9.‏ ہمیں کس بات سے خبردار رہنا چاہیے اور کیوں؟‏

9 ذرا ایک اَور صورتحال پر غور کریں جس میں ہمیں اپنی بڑائی چاہنے سے خبردار رہنا چاہیے۔ فرض کریں کہ کلیسیا کا ایک بزرگ ہمیں کوئی ایسی بات بتاتا ہے جسے راز میں رکھا جانا چاہیے۔ لیکن پھر ہم دوسروں کو بھی وہ بات بتا دیتے ہیں۔ بعد میں جب اِن لوگوں کو پتہ چلتا ہے کہ ہماری بتائی ہوئی بات بالکل سچی تھی تو وہ ہم سے بہت متاثر ہوتے ہیں اور اُنہیں لگتا ہے کہ ہم اَور بھی بہت سی راز کی باتیں جانتے ہیں۔ شاید اِس وجہ سے لوگوں کے دل میں ہماری عزت بڑھ جائے۔ لیکن ذرا سوچیں کہ کیا اِس سے یہوواہ خوش ہوگا؟ (‏اَمثا 11:‏13‏)‏ بالکل نہیں۔ ہم ایسا کیوں کہہ سکتے ہیں؟ بھلے ہی ہم نے دوسروں کو سچ بتایا لیکن اِس سچ کو بتانے کا حق ہمیں نہیں ملا تھا اور اِسے بتانے کے پیچھے ہماری نیت صحیح نہیں تھی۔‏

ہمیں کیسے سچائی بتانی چاہیے؟‏

10.‏ ’‏دلکش باتوں‘‏ کا کیا مطلب ہے؟ (‏کُلسّیوں 4:‏6‏)‏

10 کُلسّیوں 4:‏6 کو پڑھیں۔‏ پولُس رسول نے کُلسّے میں رہنے والے مسیحیوں کو ہدایت دی کہ اُن کی ”‏باتیں ہمیشہ دلکش“‏ ہونی چاہئیں۔ اِس بات کا کیا مطلب ہے؟ جس یونانی لفظ کا ترجمہ ”‏دلکش“‏ کِیا گیا ہے، اُس میں یہ خیال پیش کِیا گیا ہے کہ ہماری باتوں سے نہ صرف دوسروں کو فائدہ ہونا چاہیے بلکہ یہ نرم،شفقت بھری اور دل کو چُھو لینے والی بھی ہونی چاہئیں۔‏

11-‏12.‏ ہمیں اِس بات کا خیال کیوں رکھنا چاہیے کہ ہم کس طرح سے دوسروں کو پاک کلام کی سچائیاں بتائیں گے؟ ایک مثال دیں۔ (‏تصویروں کو بھی دیکھیں۔)‏

11 جب ہم دوسروں کو پاک کلام کی سچائیاں سکھاتے ہیں تو ہمیں پولُس کی ہدایت پر عمل کرتے ہوئے اِنہیں دلکش انداز میں بتانا چاہیے۔ بائبل میں پائی جانے والی سچائیوں کو دو دھاری تلوار کی طرح کہا گیا ہے جو ہماری جان اور روح کو ایک دوسرے سے الگ کرتی ہیں۔ دوسرے لفظوں میں کہیں تو اِن کی مدد سے ہم اپنے دل میں پائے جانے والے احساسات اور نیت کو دیکھ پاتے ہیں۔ (‏عبر 4:‏12‏)‏ لیکن اگر ہم بائبل کو صحیح طرح سے اِستعمال نہیں کریں گے تو ہم بِلاوجہ لوگوں کو ناراض کر بیٹھیں گے۔ آئیں دیکھیں کہ ایسا کیسے ہو سکتا ہے۔‏

12 فرض کریں کہ ہم مُنادی کرتے ہوئے ایک ایسے آدمی سے ملتے ہیں جو باقاعدگی سے بُتوں کے سامنے دُعا کرتا ہے اور اپنے گھر والوں کے ساتھ مل کر کرسمس اور ایسٹر مناتا ہے۔ اُس کی نظر میں یہ کام بالکل صحیح ہیں اور وہ لگن سے اِنہیں کرتا ہے۔ سچ ہے کہ ہم بائبل کو اِستعمال کرتے ہوئے اُسے دِکھا سکتے ہیں کہ بے‌جان بُتوں سے دُعا کرنا بے‌وقوفی کی بات ہے اور کرسمس اور ایسٹر جیسے تہوار جھوٹے مذہب سے تعلق رکھتے ہیں۔ (‏یسع 44:‏14-‏20؛‏ 2-‏کُر 6:‏14-‏17‏)‏ لیکن ذرا سوچیں کہ اگر ہم پہلی ملاقات پر ہی اُسے یہ باتیں بتا دیں گے تو کیا ظاہر ہوگا؟ بھلے ہی یہ باتیں بالکل سچی ہیں لیکن اِنہیں بتانے سے ظاہر ہوگا کہ ہم خدا کے کلام کو مہارت سے اِستعمال نہیں کر رہے۔‏

دو فرق منظر جن میں دِکھایا گیا ہے کہ ایک میاں بیوی گھر گھر مُنادی کرتے وقت اُس آدمی کو گواہی کیسے دے رہے ہیں جس نے اپنے گھر میں کرسمس کا درخت سجایا ہوا ہے۔ 1.‏ وہ میاں بیوی اُس آدمی کو ہماری ویب‌سائٹ jw.org سے مضمون ”‏پاک کلام سے کرسمس کے حوالے سے کیا پتہ چلتا ہے؟“‏ دِکھا رہے ہیں۔ وہ آدمی اپنے ہاتھ باندھے ہوئے بڑے غصے سے اُس میاں بیوی کی بات سُن رہا ہے۔ 2.‏ وہ میاں بیوی اُس آدمی کو ہماری ویب‌سائٹ jw.org سے وہ مضمون دِکھا رہے ہیں جس میں والدوں کو بہت اچھے مشورے دیے گئے ہیں۔ وہ آدمی بڑی خوشی سے اُن کی بات سُن رہا ہے۔‏

دوسروں کو سچائیاں بتاتے وقت آپ بائبل کو مہارت سے کیسے اِستعمال کر سکتے ہیں؟ (‏پیراگراف نمبر 11-‏12 کو دیکھیں۔)‏a


13.‏ ہم اپنی باتوں کو نمک کی طرح ذائقے‌دار کیسے بنا سکتے ہیں؟‏

13 پولُس نے یہ بھی کہا تھا کہ ہماری باتوں کو نمک کی طرح ذائقے‌دار ہونا چاہیے۔ لیکن یہ بات کہنے سے پولُس کا یہ مطلب نہیں تھا کہ ہم سچائی کو چھپانے کی کوشش کریں یا اِسے توڑ مروڑ کر پیش کریں۔ اِس کی بجائے وہ ہمارا یہ حوصلہ بڑھا رہے تھے کہ ہمیں پاک کلام کی سچائیوں کو اِس طرح سے بتانا چاہیے کہ یہ لوگوں کے دل کو چُھو لے۔ (‏ایو 12:‏11‏)‏ لیکن ایسا کرنا ہمیشہ آسان نہیں ہوتا۔ اِس کی کیا وجہ ہے؟ اِس سلسلے میں ذرا اِس مثال پر غور کریں:‏ جب ہم کسی کے لیے کھانا بناتے ہیں تو ہم اِس میں اپنے ذائقے کے حساب سے مصالحے ڈالتے ہیں کیونکہ ہمیں لگتا ہے کہ اُس شخص کو بھی اِس کا ذائقہ اچھا لگے گا۔ اِسی طرح جب ہم دوسروں سے بات کرتے ہیں تو شاید ہمیں لگے کہ جس انداز میں ہم بات کرتے ہیں، وہ اُنہیں سننے میں اچھی لگے گی۔ لیکن ہمیشہ ایسا نہیں ہوتا۔ مثال کے طور پر کچھ ثقافتوں میں لوگ صاف اور سیدھے لفظوں میں بات کرتے ہیں پھر چاہے وہ اپنے سے بڑی عمر والے شخص سے ہی بات کر رہے ہوں۔ لیکن کچھ ثقافتوں میں شاید اِس طرح سے بات‌چیت کرنے کو بہت بُرا سمجھا جاتا ہے۔ اِسی لیے پولُس نے کہا تھا کہ ہمیں اِس بات کا پتہ ہونا چاہیے کہ ہم ہر شخص کو کیسے جواب دیں گے۔ تو ہمیں لوگوں سے اُس طرح سے بات نہیں کرنی چاہیے جس طرح سے ہمیں ٹھیک لگتا ہے یا جو ہماری ثقافت میں عام ہے بلکہ ہمیں لوگوں کو ذہن میں رکھ کر اُن سے بات کرنی چاہیے۔‏

ہمیں کب سچائی بتانی چاہیے؟‏

14.‏ جب یسوع زمین پر تھے تو کیا اُنہوں نے اپنے شاگردوں کو ایک ہی وقت میں ساری سچائیاں سکھا دیں؟‏

14 یسوع مسیح ہمیشہ نرمی کے ساتھ اپنے شاگردوں سے بات کرتے تھے اور بڑے پیار سے اُنہیں بہت سی باتیں سکھاتے تھے۔ (‏مر 6:‏34‏)‏ حالانکہ یسوع جانتے تھے کہ اُن کے شاگردوں کو ابھی بھی بہت کچھ سیکھنے کی ضرورت ہے لیکن یسوع نے اُنہیں فوراً ہی سب باتیں بتانے کی کوشش نہیں کی۔ اِس کی بجائے اُنہوں نے اِس بات کا خیال رکھا کہ اُن کے شاگرد ایک وقت میں کتنی باتیں سمجھ سکتے ہیں۔ کچھ سچائیوں کے حوالے سے یسوع یہ جانتے تھے کہ ابھی اِنہیں بتانے کا صحیح وقت نہیں آیا۔ (‏یوح 16:‏12‏)‏ اِس سے ہم کیا سیکھتے ہیں؟‏

15.‏ کیا ہمیں ایک ہی وقت میں اپنے طالبِ‌علموں کو وہ تمام سچائیاں بتا دینی چاہئیں جو ہمیں پتہ ہیں؟ (‏اَمثال 25:‏11‏)‏ (‏تصویر کو بھی دیکھیں۔)‏

15 یسوع کی مثال سے پتہ چلتا ہے کہ سچائی جاننے کا یہ مطلب نہیں کہ جو کچھ ہمیں پتہ ہے، ہم دوسروں کو وہ سب کچھ ایک ہی وقت میں بتا دیں۔ تو یسوع کی طرح ہم بھی اِس بات کا خیال رکھ سکتے ہیں کہ لوگ ایک وقت میں کتنی باتیں سمجھ سکیں گے۔ اِس سلسلے میں ذرا پھر سے اُس شخص کی مثال پر غور کریں جو بڑے شوق سے اپنے گھر والوں کے ساتھ کرسمس اور ایسٹر مناتا ہے۔ ہمیں پتہ ہے کہ یہ تہوار بُت‌پرست مذہب سے تعلق رکھتے ہیں اور یہوواہ کو پسند نہیں ہیں۔ لیکن فرض کریں کہ ہم کرسمس سے ایک یا دو ہفتے پہلے اُس شخص کو بائبل کورس کرانے لگتے ہیں۔ ذرا سوچیں کہ اگر ہم اُسے یہ دِکھائیں گے کہ بائبل میں جھوٹے مذہب سے تعلق رکھنے والے تہواروں کے بارے میں کیا بتایا گیا ہے اور پھر یہ چاہیں گے کہ وہ شخص فوراً کرسمس منانا چھوڑ دے تو کیا ہم نرمی اور سمجھ‌داری سے کام لے رہے ہوں گے؟ سچ ہے کہ شاید بائبل کورس کرنے والے کچھ لوگ پاک کلام کی ہر سچائی کو سیکھ کر فوراً اِس پر عمل کرنے لگیں۔ لیکن کچھ لوگوں کو اپنی سوچ اور عادتیں بدلنے میں وقت لگتا ہے۔ تو اگر ہم صحیح وقت پر اپنے طالبِ‌علموں کو وہ بات بتائیں گے جسے جاننے کی اُنہیں ضرورت ہے تو ہم اچھی طرح سے اُن کی مدد کر پائیں گے کہ وہ خود کو بدل سکیں۔‏‏—‏اَمثال 25:‏11 کو پڑھیں۔‏

وہی میاں بیوی جو پچھلی تصویر میں بھی تھے، اُس آدمی کے گھر کے اندر بیٹھ کر اُسے کتاب ”‏خوشیوں بھری زندگی!‏“‏ سے بائبل کورس کرا رہے ہیں۔ اُن کے قریب ہی کرسمس کا درخت بھی نظر آ رہا ہے۔‏

یسوع کی مثال پر عمل کرتے ہوئے دیکھیں کہ آپ دوسروں کو کب سچائی بتائیں گے اور کس حد تک بتائیں گے؟ (‏پیراگراف نمبر 15 کو دیکھیں۔)‏


16.‏ ہم ’‏سچائی کے مطابق چلنے میں‘‏ اپنے طالبِ‌علموں کی مدد کیسے کر سکتے ہیں؟‏

16 جتنی زیادہ خوشی ہمیں دوسروں کو یہوواہ کے بارے میں سچائی بتا کر ملتی ہے اُتنی خوشی شاید کسی اَور چیز سے نہیں ملتی۔ تو جب ہم اپنے طالبِ‌علموں کی ’‏سچائی کے مطابق چلنے‘‏ میں مدد کرتے ہیں تو ہم یہ کام کر سکتے ہیں:‏ ہم اُن کے لیے اچھی مثال قائم کر سکتے ہیں۔ (‏3-‏یوح 3، 4‏)‏ ہم اِس بات کا خیال رکھ سکتے ہیں کہ ہم اپنی زندگی سے یہ ثابت کریں کہ ہم خدا کے کلام میں لکھے وعدوں پر پکا یقین رکھتے ہیں۔ ہم صاف‌دل سے سچ بول سکتے ہیں۔ ہم لوگوں کو سچائی سکھاتے وقت پیار، نرمی اور سمجھ‌داری سے کام لے سکتے ہیں اور صحیح وقت پر وہ بات بتا سکتے ہیں جسے جاننے کی اُنہیں ضرورت ہے۔ اِس کے علاوہ جب بھی ہماری تعریف کی جاتی ہے تو ہم دوسروں کی توجہ یہوواہ پر دِلا سکتے ہیں اور اُس کی بڑائی کر سکتے ہیں۔ اگر ہم ایسا کریں گے تو ہم ثابت کریں گے کہ ہم سچائی کے خدا یہوواہ کے ہیں۔‏

آپ نے بائبل کی اِن آیتوں سے کیا سیکھا ہے؟‏

  • اعمال 17:‏27

  • کُلسّیوں 4:‏6

  • اَمثال 25:‏11

گیت نمبر 160 ”‏خوش‌خبری“‏!‏

a تصویر کی وضاحت‏:‏ پہلی تصویر میں دِکھایا گیا ہے کہ ایک بھائی مُنادی کرتے وقت ایک آدمی کے گھر میں کرسمس کا درخت دیکھتا ہے اور وہ اُسے وہ مضمون دِکھاتا ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ کرسمس کی شروعات بُت‌پرست مذہب سے ہوئی تھی۔ دوسری تصویر میں دِکھایا گیا ہے کہ وہ بھائی اُس آدمی کو ایک ایسا مضمون دِکھاتا ہے جس میں والدوں کو بہت اچھے مشورے دیے گئے ہیں۔ آپ کے خیال میں کون سا مضمون اُس آدمی کے دل پر زیادہ اثر کرے گا؟‏

    اُردو زبان میں مطبوعات (‏2026-‏2000)‏
    لاگ آؤٹ
    لاگ اِن
    • اُردو
    • شیئر کریں
    • ترجیحات
    • Copyright © 2026 Watch Tower Bible and Tract Society of Pennsylvania
    • اِستعمال کی شرائط
    • رازداری کی پالیسی
    • رازداری کی سیٹنگز
    • JW.ORG
    • لاگ اِن
    شیئر کریں