مطالعے کا مضمون نمبر 48
گیت نمبر 129 ہم ثابتقدم رہیں گے
ایوب کی کتاب مشکلیں سہتے وقت آپ کے کام آ سکتی ہے
”بےشک خدا بُرائی نہیں کرتا۔“—ایو 34:12۔
غور کریں کہ . . .
ہم ایوب کی کتاب کے ذریعے یہ کیسے جان سکتے ہیں کہ یہوواہ نے مصیبتوں کی اِجازت کیوں دی ہے اور کیا چیز اِنہیں برداشت کرنے اور یہوواہ کا وفادار رہنے میں ہماری مدد کر سکتی ہے۔
1-2. ہمیں کن باتوں کی وجہ سے ایوب کی کتاب پڑھنی چاہیے؟
کیا آپ نے حال ہی میں ایوب کی کتاب پڑھی ہے؟ حالانکہ یہ کتاب تقریباً 3500 سال پہلے لکھی گئی تھی لیکن آج بھی بہت سے لوگ اِس کتاب کو بہترین کتابوں میں سے ایک خیال کرتے ہیں۔ لوگ ایوب کی کتاب کو لکھنے والے شخص کی بہت تعریف کرتے ہیں کیونکہ اِس میں اُس نے سادہ اور آسان الفاظ اِستعمال کیے ہیں اور باتوں کو اِس طرح سے بیان کِیا ہے جس سے پڑھنے والوں کے دل پر گہرا اثر ہو۔ سچ ہے کہ اِس کتاب کو موسیٰ نے لکھا تھا لیکن جو کچھ موسیٰ لکھ رہے تھے، وہ یہوواہ خدا اُنہیں بتا رہا تھا۔—2-تیم 3:16۔
2 ایوب کی کتاب بائبل کی ایک بہت ہی اہم کتاب ہے۔ ہم یہ کیوں کہہ سکتے ہیں؟ کیونکہ اِس کی مدد سے ہم یہ بات اچھی طرح سے سمجھ جاتے ہیں کہ فرشتوں اور اِنسانوں کو یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ وہ یہوواہ سے محبت کرنے کی وجہ سے اُس کی عبادت کریں گے یا نہیں اور اُس کے نام کو پاک ثابت کریں گے یا نہیں۔ اِس کتاب کے ذریعے ہم یہوواہ کی شاندار خوبیوں کو بھی صاف طور پر دیکھ پاتے ہیں جیسے کہ اُس کی محبت، دانشمندی، اِنصاف اور طاقت کو۔ مثال کے طور پر ایوب کی کتاب میں یہوواہ کو تقریباً 31 بار ”لامحدود قدرت کا مالک“ کہا گیا ہے۔ جتنا زیادہ اِس کتاب میں یہوواہ کے لیے یہ لقب اِستعمال ہوا ہے اُتنا بائبل کی کسی اَور کتاب میں نہیں ہوا۔ ایوب کی کتاب میں اُن بہت سے اہم سوالوں کے جواب بھی دیے گئے ہیں جن کے بارے میں آج بھی کئی لوگ جاننا چاہتے ہیں جیسے کہ یہ سوال کہ خدا ہم پر مصیبتیں کیوں آنے دیتا ہے؟
3. ہمیں ایوب کی کتاب کا مطالعہ کرنے سے کون سے فائدے ہو سکتے ہیں؟
3 ایوب کی کتاب کو پڑھنا ایک پہاڑ پر چڑھنے کی طرح ہے۔ جب ایک شخص پہاڑ کی اُونچائی پر چڑھ جاتا ہے تو وہ اپنے اِردگِرد چیزوں کو صاف طور پر دیکھ پاتا ہے۔ اِسی طرح جب ہم ایوب کی کتاب پڑھتے ہیں تو ہم یہ صاف طور پر دیکھ پاتے ہیں کہ یہوواہ ہماری تکلیفوں اور مصیبتوں کو کیسا خیال کرتا ہے۔ آئیے دیکھیں کہ ایوب کی کتاب اُس وقت ہمارے کام کیسے آ سکتی ہے جب ہم تکلیفوں سے گزر رہے ہوتے ہیں۔ پھر اِس بات پر بھی غور کریں کہ ایوب کے ساتھ جو کچھ ہوا، اُس پر سوچ بچار کرنے سے بنیاِسرائیل کو کیسے فائدہ ہوا ہوگا اور آج ہمیں کیسے فائدہ ہو سکتا ہے۔ اِس کے علاوہ ہم ایوب کی کتاب کے ذریعے دوسروں کی مدد کیسے کر سکتے ہیں۔
خدا نے ایوب پر آنے والی مصیبتوں کو نہیں روکا
4. ایوب میں اور مصر میں رہنے والے کچھ اِسرائیلیوں میں کیا فرق تھا؟
4 ایوب اُس زمانے میں رہ رہے تھے جب بنیاِسرائیل مصر میں غلام تھے۔ ایوب ملک عُوض میں رہتے تھے جو شاید وعدہ کیے ہوئے ملک کے مشرق میں اور شمالی عرب میں کہیں تھا۔ جب بنیاِسرائیل مصر میں تھے تو اُن میں سے کچھ لوگ جھوٹے دیوتاؤں کی پوجا کرنے لگ گئے تھے۔ لیکن ایوب اُن لوگوں کی طرح نہیں تھے۔ وہ وفاداری سے یہوواہ کی عبادت کرتے رہے۔ (یشو 24:14؛ حِز 20:8) اِسی لیے یہوواہ نے ایوب کے بارے میں کہا: ”زمین پر[اُن]جیسا کوئی نہیں۔“a (ایو 1:8) پورے مشرق میں ایوب سے زیادہ امیر اور عزتدار شخص کوئی نہیں تھا۔ (ایو 1:3) بےشک شیطان کو یہ دیکھ کر بہت غصہ آتا ہوگا کہ ایوب جیسا عزتدار اور بااِختیار شخص بڑی وفاداری سے یہوواہ کی عبادت کر رہا ہے!
5. یہوواہ نے ایوب پر مصیبتیں کیوں آنے دیں؟ (ایوب 1:20-22؛ 2:9، 10)
5 شیطان نے دعویٰ کِیا کہ اگر ایوب پر مصیبتیں آئیں گی تو ایوب یہوواہ سے مُنہ موڑ لیں گے۔ (ایو 1:7-11؛ 2:2-5) یہوواہ ایوب سے بہت محبت کرتا تھا۔ لیکن شیطان کے اِس گھٹیا دعوے سے بہت سے سوال کھڑے ہو گئے تھے۔ اِس لیے یہوواہ نے شیطان کو اپنا دعویٰ ثابت کرنے کا موقع دیا۔ (ایو 1:12-19؛ 2:6-8) شیطان نے ایوب سے اُن کے سارے جانور چھین لیے، ایوب کے سارے بچوں کو مار ڈالا اور ایوب کے جسم کو سر سے لے کر پاؤں تک تکلیفدہ پھوڑوں سے بھر دیا۔ حالانکہ شیطان نے ایوب پر مصیبتیں لانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی لیکن ایوب پھر بھی یہوواہ کے وفادار رہے۔ (ایوب 1:20-22؛ 2:9، 10 کو پڑھیں۔) وقت آنے پر یہوواہ نے ایوب کی صحت ٹھیک کر دی اور اُنہیں پھر سے دولت، عزت اور نیکنامی بخشی۔ اُس نے ایوب کو دس اَور بچے دیے اور معجزہ کر کے اُن کی زندگی کو 140 سال اَور بڑھا دیا جس کی وجہ سے ایوب اپنی چار نسلوں کو دیکھ پائے۔ (ایو 42:10-13، 16) آئیے دیکھیں کہ ایوب کی زندگی پر غور کرنے سے ماضی میں یہوواہ کے بندوں کو کیسے فائدہ ہوا ہوگا اور آج ہمیں کیسے فائدہ ہو سکتا ہے۔
6. اگر بنیاِسرائیل نے ایوب کی زندگی پر غور کِیا ہوگا تو اُنہیں کیسے فائدہ ہوا ہوگا؟ (تصویر کو بھی دیکھیں۔)
6 بنیاِسرائیل کو کیسے فائدہ ہوا ہوگا؟ بنیاِسرائیل مصر میں بڑی مشکل زندگی جی رہے تھے۔ مثال کے طور پر یشوع اور کالِب نے اپنا بچپن غلاموں کے طور پر گزارا تھا۔ پھر مصر سے آزاد ہونے کے بعد یشوع اور کالِب کو بنیاِسرائیل کی نافرمانی کی وجہ سے 40 سال تک ویرانے میں رہنا پڑا۔ اگر بنیاِسرائیل یہ جانتے تھے کہ ایوب پر کون سی مصیبتیں آئی تھیں اور بعد میں یہوواہ نے اُنہیں کون سی برکتیں دی تھیں تو یقیناً اِس سے اُنہیں اور اُن کی آنے والی نسلوں کو بہت حوصلہ ملا ہوگا۔ وہ یہ سمجھ گئے ہوں گے کہ مصیبتوں کے پیچھے خدا کا نہیں بلکہ شیطان کا ہاتھ ہے اور خدا لوگوں پر مصیبتیں کیوں آنے دیتا ہے۔ وہ یہ بھی سمجھ گئے ہوں گے کہ یہوواہ اُن لوگوں سے بہت محبت کرتا ہے اور اُنہیں اجر دیتا ہے جو مشکلوں کے باوجود اُس کے وفادار رہتے ہیں۔
بنیاِسرائیل کئی سالوں سے مصر میں غلاموں کی زندگی جی رہے تھے۔ آخرکار جب بعد میں اُنہیں ایوب کے بارے میں پتہ چلا ہوگا تو اُن کی مثال سے اُنہیں بہت حوصلہ ملا ہوگا۔ (پیراگراف نمبر 6 کو دیکھیں۔)
7-8. جو بہن بھائی تکلیفیں سہہ رہے ہیں، اُنہیں ایوب کی کتاب پر غور کرنے سے کیسے فائدہ ہو سکتا ہے؟ ایک مثال دیں۔
7 ہمیں کیسے فائدہ ہو سکتا ہے؟ افسوس کی بات ہے کہ آج بہت سے لوگ خدا پر اپنا بھروسا کھو بیٹھے ہیں کیونکہ وہ یہ نہیں سمجھ پاتے کہ اچھے لوگوں کے ساتھ بُرا کیوں ہوتا ہے اور خدا نے مصیبتوں کی اِجازت کیوں دی ہے۔ اِس سلسلے میں روانڈا سے تعلق رکھنے والی بہن ہیزلb کی مثال پر غور کریں۔ جب وہ چھوٹی تھیں تو وہ خدا پر ایمان رکھتی تھیں۔ لیکن پھر اُن کے ساتھ بہت بُرا ہوا۔ اُن کے امی ابو کی طلاق ہو گئی جس کے بعد بہن ہیزل کی امی نے دوسری شادی کر لی۔ بہن ہیزل کا سوتیلا باپ اُن کے ساتھ بہت بُری طرح سے پیش آتا تھا۔ پھر جب بہن ہیزل نوجوان تھیں تو ایک آدمی نے اُن کی عزت لُوٹ لی۔ بہن ہیزل تسلی پانے کے لیے اپنے مذہب کی ایک عبادت میں گئیں لیکن اُنہیں کوئی تسلی نہیں ملی۔ بعد میں اُنہوں نے خدا کو ایک خط لکھا جس میں اُنہوں نے کہا: ”اَے خدا! مَیں ہمیشہ تجھ سے دُعائیں کرتی تھی اور ہمیشہ اچھے کام کرنے کی کوشش کی کرتی تھی لیکن تُو نے میری اچھائیوں کا صلہ بُرائی سے دیا۔ اِس لیے مَیں تجھے چھوڑ رہی ہوں اور اب سے مَیں وہی کروں گی جس سے مجھے خوشی ملے گی۔“ ہم اُن لوگوں کے درد کو سمجھ سکتے ہیں جنہیں بہن ہیزل کی طرح خدا کے بارے میں جھوٹ بتایا گیا ہے اور جو یہ مانتے ہیں کہ بُرائی کے پیچھے خدا کا ہاتھ ہے۔
8 لیکن ہم نے ایوب کی کتاب سے یہ سیکھ لیا ہے کہ دُنیا میں ہونے والی بُرائی کا ذمےدار خدا نہیں بلکہ شیطان ہے۔ ہم نے یہ بھی سیکھا ہے کہ ہمیں مصیبتیں سہنے والے لوگوں کے بارے میں یہ نہیں سوچنا چاہیے کہ وہ اپنے بُرے کاموں کا نتیجہ بھگت رہے ہیں۔ بائبل میں بتایا گیا ہے کہ ”کسی پر بھی بُرا وقت آ سکتا ہے اور کسی کے ساتھ اچانک کچھ بھی ہو سکتا ہے۔“ (واعظ 9:11؛ ایو 4:1، 8) اِس کے علاوہ ہم نے یہ بھی سیکھا ہے کہ جب ہم مشکلوں میں بھی یہوواہ کے وفادار رہتے ہیں تو ہم اُس کے پاک نام کا دِفاع کرتے ہیں اور اُسے موقع دیتے ہیں کہ وہ شیطان کو مُنہ توڑ جواب دے۔ (ایو 2:3؛ اَمثا 27:11) ہم یہوواہ کے بہت شکرگزار ہیں کہ اُس نے ہمیں اپنے کلام سے یہ باتیں سکھائی ہیں کیونکہ اب ہم جان گئے ہیں کہ ہم پر اور ہمارے پیاروں پر مصیبتیں کیوں آتی ہیں۔ اور یہی بات بہن ہیزل بھی اُس وقت سمجھ گئیں جب اُنہوں نے یہوواہ کے گواہوں سے بائبل کورس کرنا شروع کِیا۔ اُنہوں نے کہا: ”مَیں نے پھر سے خدا سے دل کھول کر دُعا کی۔ مَیں نے یہوواہ سے کہا کہ سچ ہے کہ مَیں نے اُس سے کہا تھا کہ مَیں اُسے چھوڑ دوں گی لیکن اصل میں مَیں ایسا نہیں چاہتی تھی۔ مَیں نے وہ بات اِس لیے کی تھی کیونکہ اُس وقت مَیں یہ نہیں جانتی تھی کہ وہ کتنا شفیق خدا ہے۔ اب مَیں جان گئی ہوں کہ یہوواہ مجھ سے محبت کرتا ہے۔ اِس لیے اب مَیں خوش اور مطمئن رہتی ہوں۔“ ہم بہت شکرگزار ہیں کہ ہم یہ جانتے ہیں کہ خدا ہم پر مصیبتیں کیوں آنے دیتا ہے۔ اب آئیے دیکھتے ہیں کہ مشکل وقت میں ایوب کی کتاب ہماری مدد کیسے کر سکتی ہے۔
ایوب کی زندگی پر غور کرنے سے ہمیں ثابتقدم رہنے کی ہمت ملتی ہے
9. جب ایوب راکھ میں بیٹھ گئے تو اُن کی صورتحال کیسی تھی؟ (یعقوب 5:11)
9 ذرا اُس منظر کا تصور کریں جب ایوب راکھ میں بیٹھ گئے تھے۔ اُن کا پورا جسم پھوڑوں سے بھرا ہوا ہے اور وہ شدید تکلیف میں ہیں۔ اُن کی جِلد بیماری کی وجہ سے کالی پڑ گئی ہے اور بہت خراب ہو گئی ہے۔ وہ بڑے ہی کمزور لگ رہے ہیں اور اُن میں کچھ بھی کرنے کی طاقت نہیں بچی۔ بس وہ راکھ میں بیٹھ کر مٹی کے ٹوٹے ہوئے برتن کے ایک ٹکڑے سے اپنی جِلد کُھرچ رہے ہیں۔ وہ اِتنے درد میں ہیں کہ وہ اکثر چلّا اُٹھتے ہیں۔ اِتنی تکلیف میں ہونے کے باوجود بھی ایوب نہ صرف جینا چاہتے تھے بلکہ یہوواہ کے وفادار بھی رہنا چاہتے تھے۔ (یعقوب 5:11 کو پڑھیں۔) کس چیز نے ایوب کی ثابتقدم رہنے میں مدد کی؟
10. ہم یہ کیوں کہہ سکتے ہیں کہ ایوب کا یہوواہ کے ساتھ ایک مضبوط رشتہ تھا؟
10 ایوب نے کُھل کر یہوواہ کو بتایا کہ وہ کیسا محسوس کر رہے ہیں۔ (ایو 10:1، 2؛ 16:20) مثال کے طور پر ایوب 3 باب میں ہم پڑھتے ہیں کہ ایوب کے ساتھ جو کچھ ہوا تھا، اُس کی وجہ سے اُن کا دل دُکھ اور کڑواہٹ سے بھر گیا تھا۔ اُنہیں تو یہ غلطفہمی بھی ہو گئی تھی کہ یہوواہ اُن پر مصیبتیں لایا ہے۔ پھر جب ایوب کے تین دوست بار بار اُن سے یہ کہہ رہے تھے کہ خدا نے اُنہیں اُن کے گُناہوں کی سزا دی ہے تو ایوب بس یہی کہتے رہے کہ وہ یہوواہ کے وفادار رہے ہیں۔ وہ تو اکثر یہ بات یہوواہ سے کرتے رہے۔ ایسا کرتے ہوئے ایوب کچھ ایسی باتیں بھی کہہ گئے جن سے لگ رہا تھا کہ وہ خدا سے زیادہ نیک ہیں۔ (ایو 10:1-3؛ 32:1، 2؛ 35:1، 2) ایوب نے تسلیم کِیا کہ وہ خود کو صحیح ثابت کرنے میں اِتنا کھو گئے تھے کہ وہ ”بےتُکی باتیں“ کہہ گئے۔ (ایو 6:3، 26) پھر ایوب 31 باب میں ہم پڑھتے ہیں کہ ایوب یہوواہ سے جواب مانگنے لگے اور کہنے لگے کہ وہ سزا کے لائق نہیں تھے۔ (ایو 31:35) بےشک ایوب کو یہ اِصرار نہیں کرنا چاہیے تھا کہ یہوواہ خود اُنہیں جواب دے کہ اُن پر مصیبتیں کیوں آ رہی ہیں۔
11. ایوب نے یہوواہ کا وفادار رہنے کے حوالے سے جو کچھ کہا، یہوواہ نے اُس کا جواب کیسے دیا؟
11 ایوب نے جس طرح سے یہوواہ سے بات کی، اُس سے ثابت ہوتا ہے کہ یہوواہ کے ساتھ اُن کی پکی دوستی تھی اور وہ اِس بات پر پورا بھروسا کرتے تھے کہ یہوواہ اُن کی وفاداری کو دیکھے گا اور اِنصاف سے اُن کے ساتھ پیش آئے گا۔ بعد میں یہوواہ نے طوفان میں سے ایوب سے بات کی۔ لیکن ایسا کرتے وقت اُس نے ایوب کو یہ نہیں بتایا کہ اُن پر مصیبتیں کیوں آ رہی ہیں۔ یہوواہ نے ایوب کی کڑوی باتوں اور شکایتوں کی وجہ سے نہ تو اُنہیں بُرا بھلا کہا اور نہ ہی اُنہیں سزا دی۔ اِس کی بجائے یہوواہ نے ایک شفیق باپ کی طرح بڑے پیار اور نرمی سے اپنے اِس دُکھی بیٹے کی سوچ کو ٹھیک کِیا۔ اِس سے ایوب کو بہت فائدہ ہوا۔ اُنہوں نے اُن باتوں کے لیے توبہ کی جو وہ بِلاسوچے سمجھے کہہ گئے تھے اور خاکساری سے یہ تسلیم کِیا کہ یہوواہ کے مقابلے میں وہ بہت کم علم رکھتے ہیں۔ (ایو 31:6؛ 40:4، 5؛ 42:1-6) آئیے دیکھیں کہ ایوب کی زندگی پر غور کرنے سے ماضی میں یہوواہ کے بندوں کو کیسے فائدہ ہوا ہوگا اور آج ہمیں کیسے فائدہ ہو سکتا ہے۔
12. ایوب کی زندگی پر غور کرنے سے بنیاِسرائیل کو کیسے فائدہ ہوا ہوگا؟
12 بنیاِسرائیل کو کیسے فائدہ ہوا ہوگا؟ بنیاِسرائیل ایوب سے بہت کچھ سیکھ سکتے تھے۔ آئیے موسیٰ کی بات کرتے ہیں۔ اُنہیں بنیاِسرائیل کی پیشوائی کرتے ہوئے بہت سی مشکلوں کا اور کئی بار مایوسی کا سامنا ہوا۔ جب جب بنیاِسرائیل کو کسی مسئلے کا سامنا ہوتا تھا تو وہ یہوواہ کے خلاف باتیں کرنے لگ جاتے تھے۔ لیکن اُس مشکل وقت میں موسیٰ یہوواہ کو اپنی پریشانیاں بتاتے تھے۔ (خر 16:6-8؛ گن 11:10-14؛ 14:1-4، 11؛ 16:41، 49؛ 17:5) ایوب کی مثال اُس وقت بھی موسیٰ کے بہت کام آئی ہوگی جب یہوواہ نے موسیٰ کی اِصلاح کی تھی۔ ذرا اُس واقعے پر غور کریں جب بنیاِسرائیل نے قادِس میں خیمے لگائے ہوئے تھے۔ یہ غالباً اُس وقت کی بات تھی جب اُن لوگوں کو ویرانے میں رہتے ہوئے 40واں سال چل رہا تھا۔ اُس وقت موسیٰ بنیاِسرائیل پر اِتنا غصہ ہو گئے تھے کہ ”وہ بِلاسوچے سمجھے بول پڑے“ اور اُنہوں نے یہوواہ کی بڑائی نہیں کی۔ (زبور 106:32، 33) اِس وجہ سے یہوواہ نے اُنہیں وعدہ کیے ہوئے ملک میں جانے کی اِجازت نہیں دی۔ (اِست 32:50-52) یہوواہ کی طرف سے ملنے والی اِصلاح سے یقیناً موسیٰ کو بہت تکلیف پہنچی ہوگی لیکن اُنہوں نے خاکساری سے اِسے قبول کِیا۔ ایوب کے واقعے سے اُن وفادار اِسرائیلیوں کو بھی بہت فائدہ ہوا ہوگا جو موسیٰ کے زمانے کے بعد رہ رہے تھے۔ ایوب کی زندگی پر غور کرنے سے وہ یہ سیکھ سکتے تھے کہ وہ کُھل کر یہوواہ کو اپنے احساسات کیسے بتا سکتے ہیں اور خدا کی بجائے خود کو صحیح ثابت کرنے سے کیسے بچ سکتے ہیں۔ وہ یہ بھی سیکھ سکتے تھے کہ اُنہیں یہوواہ کی طرف سے ملنے والی اِصلاح کو خاکساری سے قبول کرنا چاہیے۔
13. ایوب کی زندگی پر غور کرنے سے ہمیں ثابتقدم رہنے کی ہمت کیسے ملتی ہے؟ (عبرانیوں 10:36)
13 ہمیں کیسے فائدہ ہو سکتا ہے؟ مسیحیوں کے طور پر آج ہمیں بھی ثابتقدم رہنے کی ضرورت ہے۔ (عبرانیوں 10:36 کو پڑھیں۔) شاید ہم کسی بیماری سے لڑ رہے ہیں یا شدید پریشانی سے گزر رہے ہیں۔ یا شاید ہمارے گھر میں مسئلے چل رہے ہیں، ہمارا کوئی عزیز فوت ہو گیا ہے یا ہمیں کسی اَور بڑی مشکل کا سامنا ہے۔ کبھی کبھار یہ بھی ہوتا ہے کہ ہم پہلے سے ہی کسی مشکل سے گزر رہے ہوتے ہیں اور دوسرے ہم سے کوئی ایسی بات کہہ دیتے ہیں جس کی وجہ سے ہم اَور زیادہ پریشان ہو جاتے ہیں۔ (اَمثا 12:18) لیکن ایوب کی کتاب سے ہم سیکھتے ہیں کہ ہم دل کھول کر یہوواہ کو اپنے احساسات بتا سکتے ہیں اور اِس بات پر بھروسا رکھ سکتے ہیں کہ وہ ہماری سنے گا۔ (1-یوح 5:14) ہم اِس بات کا بھی یقین رکھ سکتے ہیں کہ اگر ہم پریشانی میں ایوب کی طرح بِلا سوچے سمجھے کوئی بات کہہ جائیں گے تو یہوواہ ہم پر غصہ نہیں ہوگا۔ اِس کی بجائے وہ ہمیں ہماری مشکل سے لڑنے کے لیے طاقت اور دانشمندی دے گا۔ (2-توا 16:9؛ یعقو 1:5) اور اگر ہمیں اپنی سوچ کو ٹھیک کرنے کی ضرورت ہوگی تو یہوواہ ہماری بھی بالکل ویسے ہی مدد کرے گا جیسے اُس نے ایوب کی کی تھی۔ وہ ایسا اپنے کلام، اپنی تنظیم یا پھر کسی پُختہ مسیحی کے ذریعے کرے گا۔ ایوب کی مثال سے پتہ چلتا ہے کہ جب یہوواہ ہماری درستی کرتا ہے تو ہمیں ہمت نہیں ہارنی چاہیے۔ (عبر 12:5-7) ہمیں یہ یاد رکھنا چاہیے کہ جس طرح ایوب کو خاکساری سے یہوواہ کی طرف سے ملنے والی اِصلاح کو قبول کرنے سے فائدہ ہوا تھا، ہمیں بھی ہوگا۔ (2-کُر 13:11) واقعی ہم ایوب کی کتاب سے بہت سے شاندار سبق سیکھتے ہیں! آئیے اب دیکھتے ہیں کہ ہم اِس کتاب کے ذریعے دوسروں کی مدد کیسے کر سکتے ہیں۔
ایوب کی کتاب کے ذریعے دوسروں کی مدد کریں
14. ہم مُنادی میں ملنے والے لوگوں کو بائبل سے یہ کیسے دِکھا سکتے ہیں کہ ہم پر مصیبتیں کیوں آتی ہیں؟
14 کیا کبھی مُنادی کرتے ہوئے آپ کسی ایسے شخص سے ملے جس نے آپ سے پوچھا کہ ہم پر مصیبتیں کیوں آتی ہیں؟ آپ نے اُسے اِس سوال کا کیا جواب دیا؟ اِس سوال کا جواب دیتے ہوئے ہم اکثر لوگوں کو یہ بتاتے ہیں کہ باغِعدن میں کیا ہوا تھا۔ شاید ہم اُنہیں بتاتے ہیں کہ ایک بُرے فرشتے یعنی شیطان نے آدم اور حوّا سے جھوٹ بولا تھا جس کی وجہ سے اُن دونوں نے خدا سے بغاوت کی۔ (پید 3:1-6) پھر ہم اُنہیں بتاتے ہیں کہ اِس بغاوت کی وجہ سے ہی لوگوں پر مصیبتیں آتی ہیں اور وہ مرتے ہیں۔ (روم 5:12) اِس کے بعد ہم لوگوں کو یہ بتاتے ہیں کہ خدا نے کچھ وقت کے لیے مصیبتوں کی اِجازت اِس لیے دی ہے تاکہ یہ ثابت ہو سکے کہ شیطان جھوٹا ہے۔ اِس کے علاوہ یہوواہ نے مصیبتوں کی اِجازت اِس لیے بھی دی ہے تاکہ سب لوگوں تک یہ خوشخبری پہنچ سکے کہ وہ مستقبل میں سب اِنسانوں کو پھر سے بےعیب بنا دے گا۔ (مُکا 21:3، 4) بےشک مُنادی میں ملنے والے لوگوں کو بائبل سے یہ باتیں بتانا بہت اچھا ہے کیونکہ اِس سے بہت سے لوگوں کی یہ سمجھنے میں مدد ہوئی ہے کہ اُن پر مصیبتیں کیوں آتی ہیں۔
15. ہم ایوب کی کتاب کے ذریعے ایک شخص کو یہ کیسے سمجھا سکتے ہیں کہ ہم پر مصیبتیں کیوں آتی ہیں؟ (تصویروں کو بھی دیکھیں۔)
15 ہم ایک شخص کو ایوب کی کتاب کے ذریعے سے بھی یہ سمجھا سکتے ہیں کہ اِنسانوں پر مصیبتیں کیوں آتی ہیں۔ سب سے پہلے تو ہم اُس شخص کی تعریف کر سکتے ہیں کہ اُس نے بہت ہی اہم سوال پوچھا ہے۔ پھر ہم اُسے بتا سکتے ہیں کہ خدا کے وفادار بندے ایوب نے بھی اُسی کی طرح یہ سوال کِیا تھا اور وہ تو یہ تک سوچنے لگے تھے کہ اُن پر جو مصیبتیں آئی ہیں، اُن کے پیچھے خدا کا ہاتھ ہے۔ (ایو 7:17-21) جب آپ اِس طرح سے بات شروع کریں گے تو وہ شخص یہ دیکھ پائے گا کہ جس سوال کا جواب وہ جاننا چاہتا ہے، اُسی کے بارے میں ماضی میں بھی لوگ جاننا چاہتے تھے۔ پھر آپ سمجھداری سے اُس شخص کو یہ بتا سکتے ہیں کہ ایوب کی کتاب سے پتہ چلتا ہے کہ ایوب پر جو مصیبتیں آئی تھیں، اُن کے پیچھے خدا کا نہیں بلکہ شیطان کا ہاتھ تھا۔ شیطان نے یہ دعویٰ کِیا تھا کہ اِنسان صرف اپنے مطلب کے لیے خدا کی عبادت کرتا ہے لیکن جب اُس پر مشکلیں آئیں گی تو وہ خدا سے مُنہ پھیر لے گا۔ اِس کے بعد آپ اُس شخص کو بتا سکتے ہیں کہ خدا ایوب پر مصیبتیں نہیں لایا لیکن اُس نے اِن مصیبتوں کی اِجازت اِس لیے دی تاکہ یہ ثابت ہو سکے کہ ایسے لوگ موجود ہیں جو اُس پر ایمان رکھتے ہیں۔ اِس کے علاوہ ایسا کرنے سے اُس نے اپنے اِن بندوں کو موقع دیا ہے کہ وہ شیطان کے دعوے کو جھوٹا ثابت کر سکیں۔ پھر آخر میں آپ یہ بھی بتا سکتے ہیں کہ کچھ وقت بعد خدا نے ایوب کو اُن کی وفاداری کا اِنعام دیا تھا۔ تو اِس طرح سے ہم دوسروں کو یہ تسلی دے سکتے ہیں کہ مصیبتوں کے پیچھے یہوواہ کا ہاتھ نہیں ہے۔
آپ ایوب کی کتاب کے ذریعے دوسروں کو اِس بات کا یقین کیسے دِلا سکتے ہیں کہ بُرائی اور مصیبتوں کے پیچھے خدا کی ہاتھ نہیں ہے؟ (پیراگراف نمبر 15 کو دیکھیں۔)
16. ایک مثال دیں جس سے پتہ چلتا ہے کہ ایوب کی کتاب سے اُن لوگوں کی بہت مدد ہو سکتی ہے جو کسی تکلیف سے گزر رہے ہیں۔
16 غور کریں کہ ایوب کی کتاب سے ماریو نام کے ایک شخص کی مدد کیسے ہوئی۔ یہ 2021ء کی بات تھی۔ ایک دن ہماری ایک بہن فون کے ذریعے گواہی دے رہی تھی۔ جس شخص کو اُنہوں نے سب سے پہلے فون لگایا، اُس کا نام ماریو تھا۔ اُس بہن نے ماریو کو بائبل کی ایک آیت پڑھ کر سنائی اور بتایا کہ خدا ہماری دُعاؤں کو سنتا ہے اور اُس نے ہمیں مستقبل میں شاندار برکتیں دینے کا وعدہ کِیا ہے۔ پھر جب بہن نے ماریو سے پوچھا کہ وہ اُس آیت کے بارے میں کیا سوچتے ہیں تو ماریو نے اُس بہن کو بتایا کہ وہ خودکُشی کرنے والے تھے اور بہن کا فون آنے سے پہلے اپنے گھر والوں اور دوستوں کو خط لکھ رہے تھے۔ ماریو نے کہا: ”مَیں خدا پر ایمان رکھتا ہوں۔ لیکن آج صبح مجھے ایسے لگ رہا تھا جیسے اُسے میری کوئی فکر نہیں اور اُس نے مجھے میرے حال پر چھوڑ دیا ہے۔“ بعد میں جب ہماری بہن نے دوبارہ ماریو کو فون کِیا تو اُس نے ماریو کو ایوب کی تکلیفوں کے بارے میں بتایا۔ ماریو نے بہن سے کہا کہ وہ ایوب کی پوری کتاب پڑھنا چاہتے ہیں۔ اِس لیے بہن نے اُنہیں ”کتابِمُقدس—ترجمہ نئی دُنیا“ کا لنک بھیجا۔ اِس کا کیا نتیجہ نکلا؟ ماریو نے بائبل کورس کرنا شروع کر دیا اور وہ اُس خدا کے بارے میں اَور زیادہ سیکھنے لگے جو اُن سے محبت کرتا اور اُن کی فکر کرتا ہے۔
17. آپ اِس بات کے لیے یہوواہ کے شکرگزار کیوں ہیں کہ اُس نے ایوب کی کتاب کو اپنے کلام میں شامل کِیا؟ (ایوب 34:12)
17 واقعی خدا کے کلام میں لوگوں کی مدد کرنے اور اُن لوگوں کو تسلی دینے کی طاقت ہے جو مشکلوں سے گزر رہے ہیں۔ (عبر 4:12) ہم یہوواہ کے بہت شکرگزار ہیں کہ اُس نے ایوب کی آپبیتی کو اپنے کلام میں شامل کِیا۔ (ایو 19:23، 24) ایوب کی کتاب سے ہمیں اِس بات کا یقین ہو جاتا ہے کہ ”خدا بُرائی نہیں کرتا۔“ (ایوب 34:12 کو پڑھیں۔) اِس سے ہمیں یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ خدا نے مصیبتوں کی اِجازت کیوں دی ہے اور ہم مصیبتوں میں یہوواہ کے وفادار کیسے رہ سکتے ہیں۔ اِس سے ہم یہ بھی سیکھتے ہیں کہ ہم اُن لوگوں کو تسلی کیسے دے سکتے ہیں جو مصیبتوں سے گزر رہے ہیں۔ اگلے مضمون میں ہم دیکھیں گے کہ ایوب کی کتاب دوسروں کو نصیحت کرنے کے حوالے سے ہمارے کام کیسے آ سکتی ہے۔
گیت نمبر 156 یہ ہے ایمان
a ایوب اُس زمانے میں رہ رہے تھے جب یوسف پہلے سے ہی فوت ہو چُکے تھے اور ابھی یہوواہ نے موسیٰ کو مصر میں بنیاِسرائیل کو آزاد کرانے کے لیے نہیں بھیجا تھا۔ تو یہوواہ اور شیطان کے بیچ جو باتچیت ہوئی تھی اور ایوب پر جو مصیبتیں آئی تھیں، یہ سب 1657 قبلازمسیح سے تقریباً 1514 قبلازمسیح کے عرصے کے دوران ہوا ہوگا۔
b کچھ نام فرضی ہیں۔