قارئین کے سوال
اَمثال 30:18، 19 کو لکھنے والے شخص نے کہا: ”جوان عورت کے ساتھ آدمی کی راہ“ ’میری سمجھ سے باہر ہے۔‘ اُس کی اِس بات کا کیا مطلب تھا؟
بہت سے لوگ، یہاں تک کہ بائبل کے کچھ عالم بھی اِن الفاظ کو پڑھ کر اُلجھن میں پڑ گئے ہیں۔ ”ترجمہ نئی دُنیا“ میں اَمثال 30:18، 19 میں لکھا ہے: ”تین چیزیں ہیں جو میری سمجھ سے باہر ہیں[یا ”مجھے حیرت میں ڈال دیتی ہیں،“ فٹنوٹ]بلکہ چار ہیں جو مجھے سمجھ نہیں آتیں: آسمان میں اُڑتے عقاب کی راہ؛ چٹان پر رینگتے سانپ کی راہ؛ کُھلے سمندر میں چلتے جہاز کی راہ اور جوان عورت کے ساتھ آدمی کی راہ۔“
پہلے ہم سمجھتے تھے کہ اِصطلاح ”جوان عورت کے ساتھ آدمی کی راہ“ کسی غلط کام کی طرف اِشارہ کرتی ہے۔ ہم ایسا کیوں سمجھتے تھے؟ کیونکہ اَمثال 30 باب کی کچھ اَور آیتوں میں ایسی چیزوں کا ذکر کِیا گیا ہے جو ”کبھی ”بس“ نہیں کہتیں۔“ (اَمثا 30:15، 16) اور 20 آیت میں ”زِناکار عورت“ کے بارے میں بات کی گئی ہے جو یہ دعویٰ کرتی ہے کہ اُس نے کچھ غلط نہیں کِیا۔ تو اِن باتوں کی وجہ سے ہم سوچتے تھے کہ جس طرح آسمان کی بلندیوں پر اُڑنے والا عقاب، چٹان پر رینگنے والا سانپ اور کُھلے سمندر میں چلنے والا جہاز اپنے پیچھے اپنی موجودگی کا کوئی نشان نہیں چھوڑتا اُسی طرح ایک آدمی اپنے کیے ہوئے کاموں کا کوئی نشان نہیں چھوڑتا۔ اِس وجہ سے ہم یہ سمجھتے تھے کہ اِصطلاح ”جوان عورت کے ساتھ آدمی کی راہ“ اِس بات کی طرف اِشارہ کرتی ہے کہ ایک جوان آدمی ایک بھولی بھالی جوان عورت کے ساتھ جنسی تعلق قائم کرنے کے لیے اُسے بہلاتا پھسلاتا ہے جس کی اُس جوان عورت کو بھنک بھی نہیں پڑتی۔
لیکن ایسی کئی وجوہات ہیں جن کی بِنا پر لگتا ہے کہ اَمثال 30:19 میں بتائی گئی چیزیں غلط کاموں کی طرف اِشارہ نہیں کرتیں۔ اَمثال کو لکھنے والا شخص بس یہ بتا رہا تھا کہ وہ اُن چیزوں کی وجہ سے کتنا حیران اور دنگ رہ گیا تھا۔
عبرانی صحیفوں کے اصل نسخوں سے بھی یہ ظاہر ہوتا ہے کہ اِس آیت میں بتائی گئی چیزیں اچھے کاموں کی طرف اِشارہ کرتی ہیں۔ پُرانے عہدنامے کی ایک لغت میں بتایا گیا ہے کہ اَمثال 30:18 میں جس عبرانی اِصطلاح کا ترجمہ ”سمجھ سے باہر“ کِیا گیا ہے، وہ ایسی بات کی طرف اِشارہ کرتی ہے جو ناممکن سی لگتی ہے۔
امریکہ کی ہارورڈ یونیورسٹی کے پروفیسر کرافرڈ ٹوئے نے بھی بتایا کہ بائبل کی اِس آیت میں غلط کاموں کے بارے میں بات نہیں کی جا رہی۔ اُنہوں نے کہا کہ ”اَمثال کو لکھنے والا شخص آیت میں لکھی چیزوں کے بارے میں بس یہ بتانا چاہ رہا تھا کہ وہ کتنی شاندار اور حیرتانگیز ہیں۔“
تو یہ کہنا غلط نہیں ہوگا کہ اَمثال 30:18، 19 میں لکھی چیزیں واقعی بہت حیرتانگیز ہیں اور ہماری سمجھ سے باہر ہیں۔ اِن آیتوں کو لکھنے والے شخص کی طرح ہمیں بھی یہ بات بہت حیرت میں ڈال دیتی ہے کہ کس طرح سے ایک عقاب آسمان کی بلندیوں میں اُڑتا ہے؛ کس طرح سے ایک سانپ بِنا ٹانگوں کے چٹانوں پر چڑھتا ہے؛ کس طرح سے ایک بڑا اور بھاری بحری جہاز سمندر میں سفر کرتا ہے اور کس طرح ایک جوان آدمی ایک جوان عورت سے محبت کرنے لگتا ہے اور وہ دونوں ہنسی خوشی ایک ساتھ زندگی گزارتے ہیں۔