پاک کلام کا نظریہ
یسوع نے ”فرمانبرداری سیکھی“
یسوع مسیح ہمیشہ سے ہی یہوواہ کے فرمانبردار رہے ہیں۔ (یوح 8:29) تو پھر بائبل میں یہ کیوں کہا گیا ہے کہ ”[اُنہوں]نے تکلیفیں سہہ کر فرمانبرداری سیکھی“؟—عبر 5:8۔
جب یسوع مسیح زمین پر تھے تو اُنہوں نے ایسی باتوں کا سامنا کِیا جن کا سامنا اُنہوں نے آسمان پر نہیں کِیا تھا۔ مثال کے طور پر بھلے ہی اُن کے والدین یہوواہ سے بہت محبت کرتے تھے لیکن وہ عیبدار اِنسان تھے۔ (لُو 2:51) یسوع کو بُرے مذہبی رہنماؤں اور سیاسی حکمرانوں کی طرف سے بُرے سلوک کا سامنا کرنا پڑا۔ (متی 26:59؛ مر 15:15) اِس کے علاوہ یسوع نے ”خاکساری سے کام لیا اور[وہ دردناک]موت کا سامنا کرتے وقت بھی فرمانبردار رہے۔“—فِل 2:8۔
اِن باتوں کی وجہ سے یسوع نے اُس طرح سے یہوواہ کا فرمانبردار رہنا سیکھا جس طرح سے وہ آسمان پر رہتے ہوئے کبھی نہ سیکھ پاتے۔ اِسی لیے وہ ہمارے ایسے بادشاہ اور کاہنِاعظم بن سکے جو ہماری کمزوریوں کو سمجھتے ہیں اور ہمارے لیے ہمدردی دِکھاتے ہیں۔ (عبر 4:15؛ 5:9) یسوع مسیح نے تکلیفیں سہہ کر جو فرمانبرداری سیکھی، اُس کی وجہ سے وہ یہوواہ کی نظر میں اَور بھی بیشقیمت ہو گئے اور اُس کے اَور زیادہ کام آ سکے۔ جب ہم مشکل حالات میں بھی یہوواہ کے فرمانبردار رہتے ہیں تو ہم بھی یہوواہ کی نظر میں بیشقیمت بن جاتے ہیں اور ہر اُس ذمےداری کو نبھانے کے لیے اُس کے کام آ سکتے ہیں جو وہ ہمیں دینا چاہتا ہے۔—یعقو 1:4۔