یہوواہ کے گواہوں کی آن لائن لائبریری
یہوواہ کے گواہوں کی
آن لائن لائبریری
اُردو
  • بائبل
  • مطبوعات
  • اِجلاس
  • م25 ستمبر ص.‏ 2-‏7
  • کلیسیا کے بزرگوں سے مدد لیں

اِس حصے میں کوئی ویڈیو دستیاب نہیں ہے۔

ہم معذرت خواہ ہیں کہ ویڈیو لوڈ نہیں ہو سکی۔

  • کلیسیا کے بزرگوں سے مدد لیں
  • مینارِنگہبانی یہوواہ خدا کی بادشاہت کا اعلان کرتا ہے (‏مطالعے کا ایڈیشن)‏—‏2025ء
  • ذیلی عنوان
  • ملتا جلتا مواد
  • ہمیں بزرگوں سے مدد کب لینی چاہیے؟‏
  • ہمیں بزرگوں سے مدد کیوں لینی چاہیے؟‏
  • بزرگ ہماری مدد کیسے کرتے ہیں؟‏
  • ہم پر کیا ذمے‌داری آتی ہے؟‏
  • کلیسیا کے بزرگ گُناہ کرنے والے شخص کے لیے محبت اور رحم کیسے دِکھا سکتے ہیں؟‏
    مینارِنگہبانی یہوواہ خدا کی بادشاہت کا اعلان کرتا ہے (‏مطالعے کا ایڈیشن)‏—‏2024ء
  • یہوواہ کے گواہوں کی کلیسیائیں منظم طریقے سے کیسے کام کرتی ہیں؟‏
    اب اور ہمیشہ تک خوشیوں بھری زندگی!‏—‏ایک فائدہ‌مند بائبل کورس
  • بھائیو!‏ کیا آپ بزرگ بننے کے لیے محنت کر رہے ہیں؟‏
    مینارِنگہبانی یہوواہ خدا کی بادشاہت کا اعلان کرتا ہے (‏مطالعے کا ایڈیشن)‏—‏2024ء
  • یہوواہ کے بندوں کی مدد کرنے والے چرواہے
    مسیحی زندگی اور خدمت—‏اِجلاس کا قاعدہ 2023ء
مزید
مینارِنگہبانی یہوواہ خدا کی بادشاہت کا اعلان کرتا ہے (‏مطالعے کا ایڈیشن)‏—‏2025ء
م25 ستمبر ص.‏ 2-‏7

مطالعے کا مضمون نمبر 36

گیت نمبر 103‏:‏ ”‏آدمیوں کے رُوپ میں نعمتیں“‏

کلیسیا کے بزرگوں سے مدد لیں

‏”‏کیا آپ میں سے کوئی بیمار ہے؟‏ وہ کلیسیا کے بزرگوں کو اپنے پاس بلائے۔“‏‏—‏یعقو 5:‏14‏۔‏

غور کریں کہ ‏.‏ ‏.‏ ‏.‏

ہمیں کلیسیا کے بزرگوں سے اُس وقت مدد کیوں لینی چاہیے جب یہوواہ کے ساتھ ہماری دوستی خطرے میں ہوتی ہے۔‏

1.‏ یہوواہ نے یہ کیسے ظاہر کِیا ہے کہ اُس کی نظر میں اُس کے بندے بہت قیمتی ہیں؟‏

یہوواہ کی نظر میں اُس کا ہر بندہ بہت قیمتی ہے۔ وہ اپنے ہر بندے کا اُسی طرح سے خیال رکھتا ہے جس طرح ایک اچھا چرواہا اپنی بھیڑوں کا خیال رکھتا ہے۔ یہوواہ نے اپنی بھیڑوں کو اپنے بیٹے کے خون سے خریدا ہے اور کلیسیا کے بزرگوں کو اُن کا خیال رکھنے کی ذمے‌داری سونپی ہے۔ (‏اعما 20:‏28‏)‏ یہوواہ چاہتا ہے کہ بزرگ اُس کی ہر بھیڑ کا بہت پیار سے خیال رکھیں۔ تو یسوع کی رہنمائی میں چلتے ہوئے کلیسیا کے بزرگ یہوواہ کی بھیڑوں کا حوصلہ بڑھاتے ہیں اور اُنہیں ایسے خطروں سے محفوظ رکھتے ہیں جن کی وجہ سے وہ یہوواہ سے دُور ہو سکتی ہیں۔—‏یسع 32:‏1، 2‏۔‏

2.‏ یہوواہ خاص طور پر کن کی مدد کرتا ہے؟ (‏حِزقی‌ایل 34:‏15، 16)‏

2 یہوواہ کو اپنے ہر بندے کی دل سے فکر ہے۔ لیکن اُسے خاص طور پر اپنے اُن بندوں کی بہت فکر ہے جن کی دوستی اُس کے ساتھ کمزور ہو گئی ہے۔ یہوواہ کلیسیا کے بزرگوں کے ذریعے اُن کی مدد کرتا ہے۔ ‏(‏حِزقی‌ایل 34:‏15، 16 کو پڑھیں۔)‏ لیکن وہ چاہتا ہے کہ جب ہمیں مدد کی ضرورت پڑتی ہے تو ہم خود آگے بڑھ کر اِسے مانگیں۔ یہوواہ چاہتا ہے کہ ہم اُس سے مدد کے لیے دُعا کرنے کے ساتھ ساتھ کلیسیا کے ”‏چرواہوں اور اُستادوں“‏ سے بھی مدد مانگیں۔—‏اِفِس 4:‏11، 12‏۔‏

3.‏ کلیسیا کے بزرگ جس طرح سے ہماری مدد کر سکتے ہیں، اُس پر غور کرنے سے ہم سبھی کو کیسے فائدہ ہو سکتا ہے؟‏

3 اِس مضمون کے ذریعے ہم اِس بات کو اَور اچھی طرح سے سمجھ پائیں گے کہ یہوواہ کلیسیا کے بزرگوں کے ذریعے اُن لوگوں کی مدد کیسے کرتا ہے جن کی دوستی اُس کے ساتھ کمزور ہو گئی ہے۔ اِس حوالے سے ہم اِن سوالوں کے جواب حاصل کریں گے:‏ ہمیں بزرگوں سے مدد کب لینی چاہیے؟ ہمیں ایسا کیوں کرنا چاہیے؟ اور ہم اُن سے مدد کیسے لے سکتے ہیں؟ بھلے ہی ابھی یہوواہ کے ساتھ ہماری دوستی بہت مضبوط ہے تو بھی اِس مضمون پر غور کرنے سے ہمارے دل میں یہ قدر بڑھے گی کہ یہوواہ کس طرح سے بزرگوں کے ذریعے ہماری مدد کرتا ہے۔ اِس کے علاوہ ہم یہ بھی دیکھ پائیں گے کہ جب ہمیں بزرگوں سے مدد لینے کی ضرورت پڑتی ہے تو ہم کیا کر سکتے ہیں۔‏

ہمیں بزرگوں سے مدد کب لینی چاہیے؟‏

4.‏ ہم کیسے جانتے ہیں کہ یعقوب 5:‏14-‏16،‏ 19، 20 میں ایک ایسے شخص کے بارے میں بات کی جا رہی ہے جو روحانی لحاظ سے بیمار ہے؟ (‏تصویروں کو بھی دیکھیں۔)‏

4 یسوع کے شاگرد یعقوب نے بتایا کہ یہوواہ بزرگوں کے ذریعے ہماری مدد کیسے کرتا ہے۔ اُنہوں نے کہا:‏ ”‏کیا آپ میں سے کوئی بیمار ہے؟ وہ کلیسیا کے بزرگوں کو اپنے پاس بلا‌ئے۔“‏ ‏(‏یعقوب 5:‏14-‏16،‏ 19، 20 کو پڑھیں۔)‏ یعقوب ایک ایسے شخص کے بارے میں بات کر رہے تھے جو روحانی لحاظ سے بیمار ہے۔ ہم ایسا کیوں کہہ سکتے ہیں؟ غور کریں کہ یعقوب نے بیمار شخص سے کہا کہ وہ مدد کے لیے کسی ڈاکٹر کو نہیں بلکہ کلیسیا کے بزرگوں کو اپنے پاس بلا‌ئے۔ اِس کے علاوہ یعقوب نے یہ بھی بتایا کہ بیمار شخص کو اپنے گُناہوں سے معافی ملنے پر شفا مل سکتی ہے۔ جب ایک شخص روحانی لحاظ سے بیمار ہوتا ہے تو اِس کے علاج کے لیے بھی وہی قدم اُٹھائے جاتے ہیں جو ہم اُس وقت اُٹھاتے ہیں جب ہم سچ‌مچ بیمار ہوتے ہیں۔ جب ہم بیمار ہو جاتے ہیں تو ہم ڈاکٹر کے پاس جاتے ہیں، اُسے بتاتے ہیں کہ ہم کیسا محسوس کر رہے ہیں اور پھر ڈاکٹر کے مشوروں پر عمل کرتے ہیں۔ اِسی طرح جب یہوواہ کے ساتھ ہماری دوستی کمزور پڑ جاتی ہے تو ہمیں کسی بزرگ کے پاس جانا چاہیے، اُسے اپنے مسئلے کے بارے میں بتانا چاہیے اور پھر اُن نصیحتوں پر عمل کرنا چاہیے جو وہ بزرگ بائبل سے کرتا ہے۔‏

تصویروں کا مجموعہ:‏ 1.‏ ایک آدمی ایک ڈاکٹر کو بتا رہا ہے کہ اُسے کندھے میں کیا مسئلہ ہے۔ 2.‏ ایک بھائی اور ایک کلیسیا کا بزرگ باہر ایک بینچ پر بیٹھے ہیں۔ وہ بھائی اُس بزرگ کو اپنی صورتحال کے بارے میں بتا رہا ہے۔‏

جب ہم بیمار ہوتے ہیں تو ہم ڈاکٹر سے مدد لیتے ہیں۔ اِسی طرح جب ہم روحانی لحاظ سے بیمار ہوتے ہیں تو ہمیں کلیسیا کے بزرگوں سے مدد لینی چاہیے۔ (‏پیراگراف نمبر 4 کو دیکھیں۔)‏


5.‏ ہم یہ کیسے جان سکتے ہیں کہ یہوواہ کے ساتھ ہماری دوستی کمزور تو نہیں پڑ رہی ہے؟‏

5 یعقوب 5 باب میں ہماری حوصلہ‌افزائی کی گئی ہے کہ اگر ہمیں محسوس ہوتا ہے کہ کسی وجہ سے یہوواہ کے ساتھ ہماری دوستی کمزور پڑ رہی ہے تو ہمیں بزرگوں سے بات کرنی چاہیے۔ یہ بہت سمجھ‌داری کی بات ہوگی کہ ہم بزرگوں سے فوراً مدد مانگیں، اِس سے پہلے کہ یہوواہ کے ساتھ ہماری دوستی بالکل ٹوٹ جائے۔ ہمیں ایمان‌داری سے اپنا جائزہ لینا چاہیے۔ بائبل میں ہمیں آگاہ کِیا گیا ہے کہ ہم بڑی آسانی سے اِس دھوکے میں آ سکتے ہیں کہ یہوواہ کے ساتھ ہماری دوستی بالکل ٹھیک چل رہی ہے جبکہ شاید اصل میں ایسا نہ ہو۔ (‏یعقو 1:‏22‏)‏ پہلی صدی عیسوی میں سردیس کی کلیسیا کے کچھ مسیحیوں کے ساتھ ایسا ہی ہوا تھا۔ لیکن یسوع مسیح نے اُنہیں بتایا کہ یہوواہ اُن سے پہلے کی طرح خوش نہیں ہے۔ (‏مُکا 3:‏1، 2‏)‏ ہم یہ کیسے جان سکتے ہیں کہ یہوواہ کے ساتھ ہماری دوستی کمزور تو نہیں پڑ رہی؟ ایسا کرنے کا ایک طریقہ یہ ہے کہ ہم اِس سوال پر غور کریں کہ کیا ہم اب بھی یہوواہ کی عبادت کے لیے ویسا ہی جوش محسوس کرتے ہیں جیسا ہم پہلے کرتے تھے؟ (‏مُکا 2:‏4، 5‏)‏ ہم خود سے پوچھ سکتے ہیں:‏ ”‏کیا مَیں اب بھی اُتنے ہی شوق سے بائبل پڑھتا اور اِس میں لکھی باتوں پر سوچ بچار کرتا ہوں جتنا مَیں پہلے کِیا کرتا تھا؟ کیا مَیں اب بھی باقاعدگی سے اِجلاسوں میں جاتا ہوں اور ہر اِجلاس کی پہلے سے تیاری کرتا ہوں؟ کیا مُنادی کے لیے میرا جوش ٹھنڈا پڑ گیا ہے؟ کیا اب مَیں اپنا زیادہ‌تر وقت تفریح اور دوسرے کاموں میں لگاتا ہوں اور ہر وقت پیسے کے بارے میں سوچتا رہتا ہوں؟“‏ اگر اِن میں سے کسی ایک سوال کا جواب بھی ہاں میں ہے تو یہ اِس بات کا نشان ہے کہ یہوواہ کے ساتھ ہماری دوستی کمزور پڑ رہی ہے اور اگر ہم نے فوراً کوئی قدم نہیں اُٹھایا تو یہ اَور خراب ہو جائے گی۔ اگر ہم خود ہی یہوواہ کے ساتھ اپنی دوستی ٹھیک نہیں کر سکتے یا پھر اگر ہم نے کوئی ایسا کام کِیا ہے جو یہوواہ کے معیاروں کے خلاف ہے تو ہمیں بزرگوں سے مدد لینی چاہیے۔‏

6.‏ اگر کوئی مسیحی سنگین گُناہ کر بیٹھتا ہے تو اُسے کیا کرنا چاہیے؟‏

6 ظاہری بات ہے کہ اگر کسی شخص سے کوئی سنگین گُناہ ہو جاتا ہے جس کی وجہ سے اُسے کلیسیا سے نکالا جا سکتا ہے تو اُسے کسی بزرگ سے مدد لینے کے لیے اُس کے پاس جانا چاہیے۔ (‏1-‏کُر 5:‏11-‏13‏)‏ سنگین گُناہ کرنے والا شخص خود سے ہی یہوواہ کے ساتھ اپنی دوستی ٹھیک نہیں کر سکتا۔ اُسے یسوع کے فدیے کی بِنا پر یہوواہ سے معافی حاصل کرنے کے لیے ”‏ایسے کام کرنے چاہئیں جن سے ثابت ہو کہ[‏اُس]‏نے توبہ کر لی ہے۔“‏ (‏اعما 26:‏20‏)‏ اِن کاموں میں سے ایک کام کلیسیا کے بزرگوں سے مدد لینا ہے۔‏

7.‏ اَور کن کو بزرگوں سے مدد لینی چاہیے؟‏

7 کلیسیا کے بزرگ صرف اُن لوگوں کی ہی مدد نہیں کرتے جن سے کوئی سنگین گُناہ ہو جاتا ہے بلکہ وہ اُن لوگوں کی بھی مدد کرتے ہیں جو اپنی غلط خواہشوں کے آگے خود کو بہت کمزور محسوس کرتے ہیں۔ (‏اعما 20:‏35‏)‏ شاید آپ کے لیے غلط خواہشوں سے لڑنا اُس وقت اَور بھی زیادہ مشکل ہو اگر سچائی سیکھنے سے پہلے آپ کو نشے کی لت تھی، آپ گندی تصویریں اور فلمیں دیکھنے کے عادی تھے یا پھر بدچلن زندگی گزار رہے تھے۔ تو مدد لینے سے نہ گھبرائیں۔ یہ نہ سوچیں کہ آپ کو اپنی غلط خواہشوں سے اکیلے لڑنا ہوگا۔ کسی ایسے بزرگ سے بات کریں جس کے بارے میں آپ کو لگتا ہے کہ وہ دھیان سے آپ کی بات سنے گا، آپ کو اچھے مشورے دے گا اور آپ کو یقین دِلائے گا کہ اگر آپ اپنی غلط خواہشوں سے لڑتے رہیں گے تو یہوواہ آپ سے خوش ہوگا۔ (‏واعظ 4:‏12‏)‏ اور اگر آپ اپنی غلط خواہشوں سے لڑتے لڑتے ہمت ہار بیٹھے ہیں اور بزرگوں سے مدد مانگتے ہیں تو وہ آپ کو یاد دِلائیں گے کہ یہ قدم اُٹھانے سے آپ نے ثابت کِیا ہے کہ آپ یہوواہ کے ساتھ اپنی دوستی کو بہت قیمتی سمجھتے ہیں اور اپنی طاقت پر بھروسا نہیں کرتے۔—‏1-‏کُر 10:‏12‏۔‏

8.‏ کیا ہمیں بزرگوں کو اپنی ہر غلطی کے بارے میں بتانا چاہیے؟ وضاحت کریں۔‏

8 ہمیں اپنی ہر چھوٹی موٹی غلطی کے لیے بزرگوں کے پاس نہیں جانا چاہیے۔ مثال کے طور پر فرض کریں کہ ایک دن آپ کسی بہن یا بھائی سے دل دُکھانے والی بات کر دیتے ہیں یا پھر غصے میں اُس پر بھڑک اُٹھتے ہیں۔ ایسی صورت میں کسی بزرگ کے پاس جانے کی بجائے آپ کو یسوع کے بتائے ہوئے اصول پر عمل کرنا چاہیے اور خود اُس بہن یا بھائی کے پاس جا کر اُس سے صلح کرنی چاہیے۔ (‏متی 5:‏23، 24‏)‏ آپ ہماری تنظیم کی کتابوں میں نرم‌مزاجی، صبر اور ضبطِ‌نفس جیسی خوبیوں کا بھی مطالعہ کر سکتے ہیں تاکہ آپ آئندہ اِن خوبیوں کو ظاہر کر سکیں۔ بے‌شک آپ اُس وقت کسی بزرگ سے مدد لے سکتے ہیں جب پوری کوشش کرنے کے بعد بھی مسئلہ حل نہیں ہوتا۔ فِلپّیوں کی کلیسیا کے نام خط میں پولُس رسول نے ایک بھائی سے بات کی جس کے نام کا اُنہوں نے ذکر نہیں کِیا۔ اُنہوں نے اُس بھائی سے کہا کہ وہ یُوؤدیہ اور سِنتخے کی مدد کرے تاکہ وہ دونوں بہنیں اپنے اِختلافات کو دُور کر سکیں۔ تو آپ کی کلیسیا کا کوئی بزرگ بھی اِسی طرح سے آپ کی مدد کر سکتا ہے۔—‏فِل 4:‏2، 3‏۔‏

ہمیں بزرگوں سے مدد کیوں لینی چاہیے؟‏

9.‏ اگر ہمیں اپنے گُناہ کی وجہ سے شرمندگی محسوس ہوتی ہے تو بھی ہمیں بزرگوں سے مدد کیوں لینی چاہیے؟ (‏اَمثال 28:‏13‏)‏

9 ہمیں اُس وقت واقعی ایمان اور دلیری کی ضرورت ہوتی ہے جب ہمیں بزرگوں کو یہ بتانا ہوتا ہے کہ ہم سے کوئی سنگین گُناہ ہوا ہے یا ہمارے لیے اپنی غلط خواہشوں سے لڑنا بہت مشکل ہو رہا ہے۔ اگر ہمیں اِس بارے میں بات کرتے ہوئے شرمندگی محسوس ہوتی ہے تو بھی ہمیں بزرگوں کے پاس جانے سے نہیں ہچکچانا چاہیے۔ کیوں؟ کیونکہ یہوواہ بزرگوں کے ذریعے ہماری مدد کرتا ہے تاکہ ہم اُس کے ساتھ اپنی دوستی کو مضبوط رکھ سکیں۔ تو بزرگوں سے بات کرنے سے ہم ثابت کرتے ہیں کہ ہم یہوواہ پر بھروسا کرتے ہیں اور اُس کے اِس بندوبست کی حمایت کرتے ہیں۔ ہمیں پکا یقین ہے کہ یہوواہ ہماری مدد کرے گا تاکہ ہم اپنی خامیوں سے لڑ سکیں۔ (‏زبور 94:‏18‏)‏ ہمیں اِس بات کا بھی پکا یقین ہے کہ اگر ہم اپنے گُناہ کا اِقرار کریں گے اور اِسے چھوڑیں گے تو یہوواہ ہم پر رحم کرے گا۔‏‏—‏اَمثال 28:‏13 کو پڑھیں۔‏

10.‏ اگر ہم اپنے گُناہوں کو چھپانے کی کوشش کریں گے تو کیا ہو سکتا ہے؟‏

10 جب ہم بزرگوں کو اپنے سنگین گُناہ کے بارے میں بتاتے ہیں تو ہمیں بہت فائدہ ہوتا ہے۔ اِس طرح یہوواہ ہمیں معاف کر سکتا ہے اور ہم پھر سے اُس کے دوست بن سکتے ہیں۔ لیکن اگر ہم اپنے گُناہ کو بزرگوں سے چھپانے کی کوشش کریں گے تو ہمیں اَور زیادہ نقصان ہو سکتا ہے۔ جب بادشاہ داؤد نے اپنے گُناہوں کو چھپانے کی کوشش کی تو وہ بہت پریشان اور بے‌چین رہنے لگے کیونکہ وہ جانتے تھے کہ یہوواہ کے ساتھ اُن کی دوستی خراب ہو گئی ہے۔ (‏زبور 32:‏3-‏5‏)‏ جب ہم بیمار ہوتے ہیں اور اپنا علاج کرانے میں دیر لگاتے ہیں تو ہم اَور زیادہ بیمار ہو سکتے ہیں۔ اِسی طرح جب ہم سے کوئی سنگین گُناہ ہو جاتا ہے اور ہم بزرگوں کو اِس کے بارے میں بتانے میں دیر کرتے ہیں تو ہم یہوواہ کے ساتھ اپنی دوستی کھو سکتے ہیں۔ یہوواہ نہیں چاہتا کہ ہمارے ساتھ ایسا ہو اِس لیے وہ ہماری حوصلہ‌افزائی کرتا ہے کہ ہم اُس کے ساتھ ’‏معاملہ نمٹانے‘‏ کے لیے بزرگوں سے بات کریں جنہیں اُس نے ہماری مدد کرنے کے لیے مقرر کِیا ہے۔—‏یسع 1:‏5، 6،‏ 18‏۔‏

11.‏ اگر ہم اپنے گُناہ کو چھپانے کی کوشش کرتے ہیں تو اِس سے دوسروں کو کیا نقصان پہنچ سکتا ہے؟‏

11 اگر ہم بزرگوں سے اپنا گُناہ چھپانے کی کوشش کریں گے تو اِس سے دوسروں کو بھی نقصان پہنچ سکتا ہے۔ اِس طرح پوری کلیسیا پر یہوواہ کی پاک روح کام کرنا بند کر سکتی ہے اور بہن بھائیوں کا اِتحاد خطرے میں پڑ سکتا ہے۔ (‏اِفِس 4:‏30‏)‏ اور اگر ہمیں پتہ چلتا ہے کہ کلیسیا میں کسی نے کوئی سنگین گُناہ کِیا ہے تو ہمیں اُس شخص سے کہنا چاہیے کہ وہ بزرگوں کو جا کر اِس کے بارے میں بتائے۔ لیکن اگر کچھ وقت گزرنے کے بعد بھی وہ بزرگوں سے بات نہیں کرتا تو پھر ہمیں کیا کرنا چاہیے؟ اگر ہم اُس شخص کے گُناہ کو چھپائیں گے تو ہم بھی اُتنے ہی قصوروار ہوں گے جتنا گُناہ کرنے والا شخص ہے۔ (‏احبا 5:‏1)‏ اِس لیے ہمیں یہوواہ کے لیے اپنی محبت اور وفاداری ثابت کرتے ہوئے خود بزرگوں کے پاس جا کر اُنہیں اُس شخص کے گُناہ کے بارے میں بتانا چاہیے۔ اِس طرح ہم کلیسیا میں اپنے بہن بھائیوں کو محفوظ رکھ پائیں گے اور گُناہ کرنے والے شخص کی بھی مدد کر پائیں گے تاکہ وہ یہوواہ کے ساتھ پھر سے دوستی کر سکے۔‏

بزرگ ہماری مدد کیسے کرتے ہیں؟‏

12.‏ بزرگ اُن لوگوں کی مدد کیسے کرتے ہیں جن کی یہوواہ کے ساتھ دوستی کمزور پڑ گئی ہے؟‏

12 بائبل میں بزرگوں کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ اُن لوگوں کی مدد کریں جن کی یہوواہ کے ساتھ دوستی کمزور پڑ گئی ہے۔ (‏1-‏تھس 5:‏14‏)‏ اگر آپ نے گُناہ کِیا ہے تو بزرگ آپ کی سوچ اور احساسات کو سمجھنے کے لیے آپ سے کچھ سوال پوچھ سکتے ہیں۔ (‏اَمثا 20:‏5‏)‏ اِس حوالے سے اُن کی مدد کرنے کے لیے آپ کُھل کر اُن سے بات کر سکتے ہیں، بھلے ہی آپ کو اپنی ثقافت یا شرمیلے ہونے کی وجہ سے اپنے مسئلے کے بارے میں بات کرنا مشکل لگے۔ یہ فکر نہ کریں کہ آپ کچھ غلط کہہ دیں گے یا آپ کی باتیں ”‏بے‌تُکی“‏ لگیں گی۔ (‏ایو 6:‏3‏)‏ بزرگ فوراً سے آپ کے بارے میں کوئی رائے قائم نہیں کر لیں گے۔ اِس کی بجائے وہ دھیان سے آپ کی بات سنیں گے تاکہ وہ آپ کو بائبل سے نصیحت کرنے سے پہلے تمام باتیں جان جائیں۔ (‏اَمثا 18:‏13‏)‏ بزرگ جانتے ہیں کہ ایک شخص کو یہوواہ کے ساتھ اپنی دوستی پھر سے مضبوط کرنے میں وقت لگ سکتا ہے اِس لیے کبھی کبھار اُنہیں اُس شخص سے ایک سے زیادہ بار بات کرنے کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔‏

13.‏ جب بزرگ ہمارے لیے دُعا کرتے ہیں اور ہمیں بائبل سے نصیحت کرتے ہیں تو اِس سے ہمیں کیا فائدہ ہو سکتا ہے؟ (‏تصویروں کو بھی دیکھیں۔)‏

13 جب آپ بزرگوں سے بات کریں گے تو وہ آپ کے شرمندگی کے بوجھ کو اَور نہیں بڑھائیں گے۔ اِس کی بجائے وہ آپ کے لیے دُعا کریں گے۔ شاید آپ یہ دیکھ کر حیران رہ جائیں کہ اُن کی ”‏اِلتجا کا اثر“‏ کتنا زبردست ہوتا ہے۔ اِس کے علاوہ وہ ”‏یہوواہ کے نام سے[‏آپ]‏پر تیل ملیں“‏ گے۔ (‏یعقو 5:‏14-‏16‏)‏ یہ ”‏تیل“‏ خدا کے کلام میں پائی جانے والی سچائیوں کی طرف اِشارہ کرتا ہے۔ چونکہ بزرگ بڑی مہارت سے بائبل کو اِستعمال کرتے ہیں اِس لیے وہ آپ کو تسلی دے سکتے ہیں تاکہ آپ یہوواہ کے ساتھ اپنی دوستی کو پھر سے ٹھیک کر سکیں۔ (‏یسع 57:‏18‏)‏ وہ بائبل سے آپ کو جو نصیحت کریں گے، اُس کی مدد سے آپ میں صحیح کام کرتے رہنے کی ہمت پیدا ہوگی۔ اُن کے ذریعے آپ یہوواہ کی آواز کو سُن پائیں گے جو آپ سے کہتی ہے:‏ ”‏راہ یہ ہے، اِس پر چلو۔“‏—‏یسع 30:‏21‏۔‏

تصویروں کا مجموعہ:‏ 1.‏ جو ڈاکٹر پہلی تصویر میں تھا، وہ اُس آدمی کے کندھے کا معائنہ کر رہا ہے۔ اُس آدمی کے کندھے کا ایکسرے دیوار پر لگا ہوا ہے۔ 2.‏ جو بزرگ پہلی تصویر میں تھا، وہ اُس بھائی کا حوصلہ بڑھانے کے لیے ایک اَور بزرگ کے ساتھ اُس کے گھر پر گیا ہے۔ وہ بھائی بڑی خوشی سے اُن دونوں بزرگوں کی بات سُن رہا ہے۔‏

بزرگ بائبل سے اُس شخص کو تسلی دیتے ہیں جو روحانی لحاظ سے بیمار ہے۔ (‏پیراگراف نمبر 13-‏14 کو دیکھیں۔)‏


14.‏ گلتیوں 6:‏1 کے مطابق بزرگ اُس شخص کی مدد کیسے کرتے ہیں جو کوئی ”‏غلط قدم“‏ اُٹھاتا ہے؟ (‏تصویروں کو بھی دیکھیں۔)‏

14 گلتیوں 6:‏1 کو پڑھیں۔‏ جب ایک مسیحی کوئی ”‏غلط قدم“‏ اُٹھاتا ہے تو وہ یہوواہ کے معیاروں کے مطابق نہیں چل رہا ہوتا۔ ”‏غلط قدم“‏ کا اِشارہ غلط فیصلے یا پھر سنگین گُناہ کی طرف ہو سکتا ہے۔ کلیسیا کے بزرگ اُس مسیحی سے محبت کرنے کی وجہ سے ”‏نرمی سے اُس کی اِصلاح کرنے کی کوشش“‏ کرتے ہیں۔ جس یونانی لفظ کا ترجمہ ”‏اِصلاح“‏ کِیا گیا ہے، وہ اپنی جگہ سے ہلی ہوئی ہڈی کو واپس بٹھانے کے لیے بھی اِستعمال کِیا جا سکتا ہے تاکہ مریض ہمیشہ کے لیے معذور نہ ہو جائے۔ جس طرح ایک اچھا ڈاکٹر بڑے ہی آرام اور احتیاط سے مریض کی ہڈی کو بٹھاتا ہے تاکہ اُس مریض کو اَور تکلیف نہ ہو اُسی طرح جب بزرگ غلط قدم اُٹھانے والے مسیحی کی مدد کرتے ہیں تو وہ بڑے ہی پیار اور نرمی سے ایسا کرتے ہیں تاکہ اُس مسیحی کو اَور زیادہ تکلیف نہ پہنچے۔ بائبل میں بزرگوں کو یہ نصیحت بھی کی گئی ہے کہ وہ ”‏اپنا بھی دھیان رکھیں۔“‏ جب بزرگ کسی مسیحی کو صحیح راہ پر لانے میں اُس کی مدد کرتے ہیں تو وہ یہ یاد رکھتے ہیں کہ وہ بھی عیب‌دار ہیں اور اُن سے بھی غلطیاں ہو سکتی ہیں۔ اِس لیے وہ اُس مسیحی سے بات کرتے وقت یہ ظاہر نہیں کرتے کہ وہ اُس سے زیادہ بہتر اور نیک ہیں۔ اِس کی بجائے وہ اُس کے لیے ہمدردی دِکھاتے ہیں اور خاکساری سے کام لیتے ہیں۔—‏1-‏پطر 3:‏8‏۔‏

15.‏ اگر ہمیں کسی مسئلے کا سامنا ہے تو ہم کیا کر سکتے ہیں؟‏

15 ہم اپنی کلیسیا کے بزرگوں پر پورا بھروسا کر سکتے ہیں۔ یہوواہ نے اُنہیں سکھایا ہے کہ وہ ہمارے ذاتی معاملوں کو اپنے تک رکھیں اور اِن کے بارے میں کسی کو نہ بتائیں۔ بزرگوں نے یہ بھی سیکھا ہے کہ وہ ہمیں بائبل سے نصیحت کریں نہ کہ یہ بتائیں کہ اُن کے مطابق کیا صحیح ہے۔ اِس کے علاوہ بزرگوں نے یہ بھی سیکھا ہے کہ وہ مشکلوں کا بوجھ اُٹھانے میں ہماری مدد کرتے رہیں۔ (‏اَمثا 11:‏13؛‏ گل 6:‏2‏)‏ یہ سچ ہے کہ ہر بزرگ کی شخصیت اور تجربہ ایک دوسرے سے فرق ہوتا ہے اور اُن میں فرق فرق خوبیاں ہوتی ہیں لیکن ہم اپنے مسئلے کے بارے میں کسی بھی بزرگ سے بات کر سکتے ہیں۔ ظاہری بات ہے کہ ہم یہ سوچ کر ایک کے بعد ایک بزرگ کے پاس نہیں جائیں گے کہ اُن میں سے ایک ہم سے وہ بات کہے گا جو ہم سننا چاہتے ہیں۔ اگر ہم ایسا کریں گے تو ہم اُن لوگوں کی طرح ہوں گے جو خدا کے کلام کی ”‏صحیح تعلیم“‏ کو سننے کی بجائے وہ باتیں سننا چاہتے ہیں جو ”‏اُن کے کانوں کو بھلی لگیں گی۔“‏ (‏2-‏تیم 4:‏3‏)‏ جب ہم ایک بزرگ کو اپنے مسئلے کے بارے میں بتاتے ہیں تو ہو سکتا ہے کہ وہ ہمیں کوئی مشورہ دینے سے پہلے ہم سے پوچھے کہ کیا ہم نے دوسرے بزرگوں سے بھی اِس بارے میں بات کی ہے اور اُنہوں نے ہمیں کیا مشورہ دیا ہے؟ خاکساری کی خوبی کی وجہ سے وہ بزرگ پہلے کسی اَور بزرگ سے مشورہ لے سکتا ہے۔—‏اَمثا 13:‏10‏۔‏

ہم پر کیا ذمے‌داری آتی ہے؟‏

16.‏ ہم سب کی ذاتی طور پر کیا ذمے‌داری ہے؟‏

16 سچ ہے کہ کلیسیا کے بزرگ یہوواہ کی بھیڑوں کی دیکھ‌بھال کرتے ہیں لیکن وہ کبھی ہمیں یہ نہیں بتائیں گے کہ ہمیں کیا کرنا چاہیے یا کون سے فیصلے لینے چاہئیں۔ یہ ہم سب کی ذاتی ذمے‌داری ہے کہ ہم ایسے زندگی گزاریں جس سے خدا کے لیے ہماری بندگی ظاہر ہو۔ ہم سب کو ہی اپنی باتوں اور کاموں کے لیے خدا کو حساب دینا پڑے گا۔ (‏روم 14:‏12‏)‏ یہوواہ کی مدد سے ہم اچھے فیصلے لے سکتے ہیں اور اُس کے وفادار رہ سکتے ہیں۔ اِنہی باتوں کی وجہ سے بزرگ ہمیں یہ نہیں بتائیں گے کہ ہمیں کیا کرنا ہے اور کیا نہیں۔ اِس کی بجائے وہ بائبل کے ذریعے ہماری یہ سمجھنے میں مدد کریں گے کہ یہوواہ ایک معاملے کے بارے میں کیا سوچتا ہے اور اِس کے بعد وہ فیصلہ ہم پر چھوڑ دیں گے۔ جب ہم اُس نصیحت پر عمل کریں گے جو بزرگ ہمیں بائبل سے کریں گے تو ہم ”‏اپنی سوچنے سمجھنے کی صلاحیت کو اِستعمال کر کے“‏ اچھے فیصلے لے سکیں گے۔—‏عبر 5:‏14‏۔‏

17.‏ ہمارا کیا عزم ہونا چاہیے؟‏

17 ذرا سوچیں کہ ہمارے لیے یہوواہ کی بھیڑ ہونا کتنا بڑا اعزاز ہے!‏ یہوواہ نے ’‏اچھے چرواہے‘‏ یسوع مسیح کو زمین پر بھیجا تاکہ وہ ہماری خاطر اپنی جان قربان کریں اور یوں ہمیں ہمیشہ کی زندگی حاصل کرنے کا موقع ملے۔ (‏یوح 10:‏11‏)‏ اور ہمیں کلیسیا میں بزرگ دینے سے یہوواہ نے اپنا یہ وعدہ پورا کِیا ہے:‏ ”‏مَیں تمہیں ایسے چرواہے دوں گا جو میری مرضی کے مطابق چلیں گے۔ وہ تمہیں علم اور گہری سمجھ کھلائیں گے۔“‏ (‏یرم 3:‏15‏، ترجمہ نئی دُنیا‏)‏ تو جب ہمیں لگتا ہے کہ ہمارا ایمان کمزور پڑ رہا ہے یا ہمیں پھر سے یہوواہ کے ساتھ اپنی دوستی کو ٹھیک کرنے کی ضرورت ہے تو ہمیں بزرگوں سے مدد لینے سے نہیں گھبرانا چاہیے۔ آئیے یہ عزم کریں کہ یہوواہ نے بزرگوں کے ذریعے ہماری مدد کرنے کا جو بندوبست کِیا ہے، ہم اُس سے پورا فائدہ اُٹھائیں گے۔‏

آپ اِن سوالوں کے کیا جواب دیں گے:‏

  • ہمیں بزرگوں سے مدد کب لینی چاہیے؟‏

  • ہمیں بزرگوں سے مدد کیوں لینی چاہیے؟‏

  • بزرگ ہماری مدد کیسے کرتے ہیں؟‏

گیت نمبر 31‏:‏ خدا کے ساتھ ساتھ چلیں ہم

    اُردو زبان میں مطبوعات (‏2026-‏2000)‏
    لاگ آؤٹ
    لاگ اِن
    • اُردو
    • شیئر کریں
    • ترجیحات
    • Copyright © 2026 Watch Tower Bible and Tract Society of Pennsylvania
    • اِستعمال کی شرائط
    • رازداری کی پالیسی
    • رازداری کی سیٹنگز
    • JW.ORG
    • لاگ اِن
    شیئر کریں