مطالعے کا مضمون نمبر 25
گیت نمبر 96: خدا کا کلام—ایک خزانہ
دم توڑنے سے پہلے کی گئی پیشگوئی سے سبق—حصہ 2
”اِسرائیل نے اپنے ہر بیٹے کو وہ دُعا دی جو اُس کے لیے مناسب تھی۔“—پید 49:28۔
غور کریں کہ . . .
یعقوب نے مرنے سے پہلے اپنے باقی آٹھ بیٹوں کے بارے میں جو پیشگوئی کی، ہم اُس سے کون سے سبق سیکھ سکتے ہیں۔
1. اِس مضمون میں ہم یعقوب کی پیشگوئی کے کس حصے پر بات کریں گے؟
یعقوب کے بیٹے اُن کے اِردگِرد بیٹھے ہوئے تھے اور بڑے دھیان سے اُن کی وہ باتیں سُن رہے تھے جو یعقوب اُن میں سے ہر ایک کے بارے میں کہہ رہے تھے۔ جیسا کہ ہم نے پچھلے مضمون میں دیکھا تھا، یعقوب نے رُوبِن، شمعون، لاوی اور یہوداہ کے مستقبل کے بارے میں کچھ ایسی باتیں بتائی تھیں جو اُن چاروں کے وہموگمان میں بھی نہیں تھیں۔ یقیناً یہ چاروں بھائی سوچ رہے ہوں گے کہ پتہ نہیں، اب یعقوب اُن کے باقی آٹھ بھائیوں کے بارے میں کیا بتائیں گے۔ آئیے دیکھیں کہ ہم یعقوب کی اُن باتوں سے کیا سیکھ سکتے ہیں جو اُنہوں نے زِبُولون، اِشّکار، دان، جد، آشر، نفتالی، یوسف اور بِنیامین کے بارے میں کہیں۔a
زِبُولون
2. یعقوب نے زِبُولون کو کیا برکت دی اور اُن کی پیشگوئی کیسے پوری ہوئی؟ (پیدائش 49:13) (بکس کو بھی دیکھیں۔)
2 پیدائش 49:13 کو پڑھیں۔ یعقوب نے ظاہر کِیا کہ زِبُولون کا قبیلہ سمندر کے ساحل پر بسے گا اور اُن کا علاقہ وعدہ کیے ہوئے ملک میں شمال کی طرف ہوگا۔ اِس پیشگوئی کے تقریباً 200 سال بعد زِبُولون کے قبیلے کو اپنی میراث ملی۔ اُنہیں گلیل کی جھیل اور بحیرۂروم کے بیچ واقع علاقہ ملا۔ موسیٰ نے اُن کے بارے میں یہ پیشگوئی کی: ”اَے زؔبولون! تُو اپنے باہر جاتے وقت . . . خوش رہ۔“ (اِست 33:18) زِبُولون کے قبیلے کے پاس واقعی خوش ہونے کی وجہ تھی۔ ہم ایسا کیوں کہہ سکتے ہیں؟ بھلے ہی زِبُولون کو ملنے والا علاقہ گلیل کی جھیل اور بحیرۂروم کی سرحد پر نہیں تھا لیکن اُن کا علاقہ اِن کے بیچ تھا جس کی وجہ سے وہ بڑی آسانی سے اِن کے ساحل پر بنے علاقوں میں سفر کر سکتے اور وہاں خریدوفروخت کر سکتے تھے۔ شاید اِسی وجہ سے موسیٰ نے اُن کے بارے میں اِستثنا 33:18 میں لکھی پیشگوئی کی۔
3. کیا چیز خوش اور مطمئن رہنے میں ہماری مدد کر سکتی ہے؟
3 ہم کیا سیکھ سکتے ہیں؟ ہمارے پاس بھی خوش رہنے کی کئی وجوہات ہیں پھر چاہے ہمارے حالات جیسے بھی ہوں یا ہم کہیں بھی رہتے ہوں۔ خوش رہنے کے لیے یہ ضروری ہے کہ ہم اُن چیزوں پر مطمئن رہیں جو ہمارے پاس ہیں۔ (زبور 16:6؛ 24:5) کبھی کبھار ہمارا دھیان بڑی آسانی سے اُن چیزوں پر چلا جاتا ہے جو ہمارے پاس نہیں ہوتیں۔ تو اُن اچھی چیزوں کو یاد رکھنے کی پوری کوشش کریں جو آپ کے پاس ہیں اور جن سے آپ کو خوشی مل رہی ہے۔—گل 6:4۔
اِشّکار
4. یعقوب نے اِشّکار کو کیا برکت دی اور اُن کی پیشگوئی کیسے پوری ہوئی؟ (پیدائش 49:14، 15) (بکس کو بھی دیکھیں۔)
4 پیدائش 49:14، 15 کو پڑھیں۔ یعقوب نے محنت سے کام کرنے کے حوالے سے اِشّکار کی تعریف کی۔ اُنہوں نے اِشّکار کے بارے میں کہا کہ وہ ایک طاقتور گدھے کی طرح ہیں جو بھاری بوجھ اُٹھانے کے لیے تیار ہو جائیں گے۔ یعقوب نے اُن کے بارے میں یہ بھی کہا کہ اُنہیں اچھی اور خوبصورت سرزمین ملے گی۔ یعقوب کی بات واقعی سچ ثابت ہوئی۔ اِشّکار کے قبیلے کو دریائےاُردن کے پاس ایک زرخیز علاقہ ملا جہاں وہ بہت سی فصلیں اُگا سکتا تھا۔ (یشو 19:22) بےشک اِشّکار کے قبیلے نے اپنے علاقے کی دیکھبھال کرنے کے لیے بہت محنت کی تھی لیکن اُس نے دوسروں کے فائدے کے لیے بھی بہت محنت سے کام کِیا۔ (1-سلا 4:7، 17) مثال کے طور پر جب برق نام کے قاضی اور دبورہ نبِیّہ نے سیسرا سے لڑنے کے لیے بنیاِسرائیل سے مدد مانگی تو اِشّکار کا قبیلہ اُن قبیلوں میں سے ایک تھا جنہوں نے ایسا کرنے کے لیے خود کو پیش کِیا۔ اُس نے تو دوسرے موقعوں پر بھی خوشی سے جنگ لڑنے میں خدا کے بندوں کا ساتھ دیا۔—قُضا 5:15۔
5. ہمیں محنت سے کام کیوں کرنا چاہیے؟
5 ہم کیا سیکھ سکتے ہیں؟ ہم یہوواہ کی خدمت کرنے کے لیے جتنی بھی محنت کرتے ہیں، یہوواہ اِس کی بہت قدر کرتا ہے، بالکل اُسی طرح جس طرح اُس نے اِشّکار کے قبیلے کی کی تھی۔ (واعظ 2:24) مثال کے طور پر ذرا اُن بھائیوں کے بارے میں سوچیں جو کلیسیا کی دیکھبھال کرنے کے لیے بہت محنت سے کام کر رہے ہیں۔ (1-تیم 3:1) بےشک اِن بھائیوں کو سچمچ کی کوئی جنگ نہیں لڑنی پڑتی لیکن وہ خدا کے بندوں کو نقصاندہ باتوں سے محفوظ رکھنے کی جیتوڑ کوشش کرتے ہیں تاکہ وہ خدا کے قریب رہ سکیں۔ (1-کُر 5:1، 5؛ یہوداہ 17-23) یہ بھائی کلیسیا کا حوصلہ بڑھانے کے لیے تقریریں تیار کرنے میں بھی بہت محنت کرتے ہیں۔—1-تیم 5:17۔
دان
6. دان کے قبیلے کو کون سی ذمےداری دی گئی؟ (پیدائش 49:17، 18) (بکس کو بھی دیکھیں۔)
6 پیدائش 49:17، 18 کو پڑھیں۔ یعقوب نے دان کو ایک ایسے سانپ سے تشبیہ دی جو اپنے سے زیادہ طاقتور مخالف کو مار گِراتا ہے جیسے کہ جنگی گھوڑے اور اِس کے سوار کو۔ دان کے قبیلے نے بنیاِسرائیل کے دُشمنوں کے لیے اِتنا ہی خطرناک ثابت ہونا تھا۔ جب بنیاِسرائیل ملک کنعان کی طرف بڑھ رہے تھے تو دان کا قبیلہ بنیاِسرائیل کے تمام قبیلوں میں ”محافظ کے طور پر“ سب سے پیچھے تھا۔ (گن 10:25، اُردو جیو ورشن) دان کے قبیلے کو واقعی ایک بہت اہم ذمےداری دی گئی، بھلے ہی باقی قبیلے اُن سب کاموں کو نہیں دیکھ سکتے تھے جو دان کا قبیلہ اُن کے پیچھے رہتے ہوئے کر رہا تھا۔
7. ہمیں یہوواہ کی خدمت میں کوئی بھی ذمےداری نبھاتے وقت کس بات کو یاد رکھنا چاہیے؟
7 ہم کیا سیکھ سکتے ہیں؟ کیا کبھی آپ نے یہوواہ کی خدمت کرتے ہوئے کوئی ایسی ذمےداری نبھائی جس کے بارے میں دوسروں کو پتہ ہی نہیں چلا کہ یہ آپ نے نبھائی تھی؟ شاید آپ نے عبادتگاہ کی صفائی یا مرمت کرنے میں مدد کی تھی یا شاید کسی اِجتماع میں رضاکار کے طور پر کام کِیا تھا یا پھر کوئی اَور ذمےداری نبھائی تھی۔ اگر آپ نے اِن طریقوں سے مدد کی تھی تو ہم دل سے آپ کی تعریف کرتے ہیں۔ ہمیشہ یاد رکھیں کہ چاہے کوئی آپ کی محنت کو دیکھے یا نہ دیکھے، یہوواہ اِسے ضرور دیکھتا ہے اور وہ اُن سب کاموں کی بہت قدر کرتا ہے جو آپ اُس کے لیے کرتے ہیں۔ وہ خاص طور پر اُس وقت بہت خوش ہوتا ہے جب آپ کسی کو دِکھانے کے لیے نہیں بلکہ اُس سے محبت کرنے کی وجہ سے اُس کے لیے کچھ کرتے ہیں۔—متی 6:1-4۔
جد
8. بنیاِسرائیل کے دُشمنوں کے لیے جد کے قبیلے پر حملہ کرنا اِتنا آسان کیوں تھا؟ (پیدائش 49:19) (بکس کو بھی دیکھیں۔)
8 پیدائش 49:19 کو پڑھیں۔ یعقوب نے جد کے بارے میں یہ پیشگوئی کی کہ اُن پر لُٹیروں کا ایک گروہ دھاوا بولے گا۔ اِس کے تقریباً 200 سال بعد جد کے قبیلے کو ورثے میں دریائےاُردن کے مشرق کا علاقہ ملا۔ یہ ایسا علاقہ تھا جس کی سرحدوں پر اُن کی دُشمن قومیں رہتی تھیں اور وہ بڑی آسانی سے اُن پر حملہ کر سکتی تھیں۔ لیکن اِس خطرے کے باوجود جد کے قبیلے کے لوگ اُسی علاقے میں رہنا چاہتے تھے کیونکہ وہاں کافی ہریالی تھی جو اُن کی بھیڑبکریوں اور گائےبیلوں کے لیے بڑی زبردست جگہ تھی۔ (گن 32:1، 5) بےشک جد کے قبیلے کے لوگ بہت بہادر تھے۔ لیکن دلیر ہونے سے زیادہ وہ اِس بات پر بھروسا کرتے تھے کہ یہوواہ اُس علاقے کی حفاظت کرنے میں اُن کی مدد کرے گا جو اُس نے اُنہیں ورثے میں دیا ہے اور وہی دشمنوں کا مقابلہ کرنے میں اُن کا ساتھ دے گا۔ وہ تو کئی سالوں تک اپنے فوجیوں کو بنیاِسرائیل کے دوسرے قبیلوں کی مدد کرنے کے لیے بھی بھیجتے رہے تاکہ وہ یردن کے مغرب میں واقع علاقوں پر فتح پا سکیں۔ (گن 32:16-19) جد کے قبیلے کے آدمی اِس بھروسے پر اپنے بیوی بچوں کو چھوڑ کر جنگ لڑنے گئے کہ پیچھے یہوواہ اُن کی حفاظت کرے گا۔ اور یہوواہ نے واقعی اُنہیں اُن کی دلیری اور قربانی کے جذبے کے لیے برکت دی۔—یشو 22:1-4۔
9. اگر ہم یہوواہ پر بھروسا کرتے ہیں تو ہم کس طرح کے فیصلے کریں گے؟
9 ہم کیا سیکھ سکتے ہیں؟ اگر ہم مشکلوں میں بھی یہوواہ کی خدمت کرتے رہنا چاہتے ہیں تو ہمیں اُس پر بھروسا کرتے رہنا ہوگا۔ (زبور 37:3) آج ہمارے بہت سے بہن بھائی ایسا ہی کر رہے ہیں۔ وہ بڑی محنت سے ہماری عبادتگاہوں اور تنظیم کی دوسری عمارتوں کو بنانے میں حصہ لیتے ہیں یا ایسی جگہوں پر مُنادی کرنے کے لیے جاتے ہیں جہاں مبشروں کی زیادہ ضرورت ہے یا پھر وہ کچھ اَور طریقوں سے یہوواہ کی خدمت کرتے ہیں۔ حالانکہ ایسا کرتے وقت اُنہیں بہت سی قربانیاں دینی پڑتی ہیں لیکن وہ اِس بات پر پورا بھروسا کرتے ہیں کہ یہوواہ ہمیشہ اُن کی ضرورتوں کا خیال رکھے گا۔—زبور 23:1۔
آشر
10. (الف)آشر کے قبیلے کے بارے میں کی گئی پیشگوئی کیسے پوری ہوئی؟ (پیدائش 49:20) (بکس کو بھی دیکھیں۔) (ب)اِس قبیلے کے لوگ کیا کرنے میں ناکام ہو گئے؟
10 پیدائش 49:20 کو پڑھیں۔ یعقوب نے پیشگوئی کی کہ آشر کا قبیلہ مالدار ہو جائے گا اور بالکل ایسا ہی ہوا۔ آشر کے قبیلے کو جو میراث ملی، اُس میں کچھ علاقے ایسے تھے جو پورے ملک اِسرائیل میں بہت زرخیز تھے۔ (اِست 33:24) اُن کے علاقے کی سرحد پر بحیرۂروم تھا اور اِس میں فینیکے کے شہر صیدا کی بندرگاہ بھی شامل تھی۔ وہاں مختلف علاقوں سے کشتیاں آتی تھیں جن میں قیمتی تجارتی سامان ہوتا تھا۔ افسوس کی بات ہے کہ آشر نے وہاں بسنے والے کنعانیوں کو نہیں نکالا۔ (قُضا 1:31، 32) ایسا لگتا ہے کہ کنعانیوں کے بُرے اثر کی وجہ سے آشر کے قبیلے کے لوگ مالودولت پر اِتنی زیادہ توجہ دینے لگے کہ پاک عبادت کے لیے اُن کا جوش ٹھنڈا پڑ گیا۔ مثال کے طور پر جب قاضی برق نے اِسرائیلیوں سے کنعانی فوج سے لڑنے کے لیے مدد مانگی تو آشر کے قبیلے نے اپنے ہاتھ پیچھے کھینچ لیے۔ اِس وجہ سے وہ لوگ یہ دیکھنے کا موقع گنوا بیٹھے کہ یہوواہ نے ”مجدؔد کے چشموں کے پاس“ کتنے شاندار طریقے سے اِسرائیلیوں کو فتح بخشی۔ (قُضا 5:19-21) یقیناً آشر کے قبیلے کو اُس وقت بہت شرمندگی ہوئی ہوگی جب اُنہوں نے برق اور دبورہ کے گیت میں یہ الفاظ سنے ہوں گے: ’آشر کا قبیلہ ساحل پر بیٹھا رہا۔‘—قُضا 5:17، اُردو جیو ورشن۔
11. ہمیں پیسے اور چیزوں کے بارے میں مناسب سوچ کیوں رکھنی چاہیے؟
11 ہم کیا سیکھ سکتے ہیں؟ ہم اپنا زیادہ سے زیادہ وقت اور طاقت یہوواہ کی خدمت میں لگانا چاہتے ہیں۔ لیکن ایسا کرنے کے لیے ہمیں اِس بات کا خیال رکھنا ہوگا کہ ہم دُنیا کے لوگوں کی طرح زیادہ پیسہ کمانے اور چیزیں حاصل کرنے کو حد سے زیادہ اہمیت نہ دیں۔ (اَمثا 18:11) بےشک ہمیں پیسے کی ضرورت ہوتی ہے لیکن ہمیں اِس کے بارے میں مناسب سوچ رکھنی چاہیے۔ (واعظ 7:12؛ عبر 13:5) ہمیں اپنا وقت اور طاقت غیرضروری چیزیں حاصل کرنے میں ضائع نہیں کرنا چاہیے کیونکہ یہ یہوواہ کی خدمت کرنے کی راہ میں رُکاوٹ بن سکتی ہیں۔ اِس کی بجائے ہمیں پورے جی جان سے یہوواہ کے لیے وہ سب کچھ کرنے کی ضرورت ہے جو ہم کر سکتے ہیں۔ ہم جانتے ہیں کہ اگر ہم یہوواہ کے وفادار رہیں گے تو وہ ہمیں مستقبل میں حقیقی تحفظ اور پُرسکون زندگی دے گا۔—زبور 4:8۔
نفتالی
12. یعقوب نے نفتالی کے بارے میں جو بات کہی، وہ کیسے پوری ہوئی؟ (پیدائش 49:21) (بکس کو بھی دیکھیں۔)
12 پیدائش 49:21 کو پڑھیں۔ یعقوب نے نفتالی کے بارے میں کہا کہ ”وہ دل موہ لینے والی باتیں کرتا ہے۔“ یہ بات یسوع کے تعلیم دینے کے انداز پر بڑی اچھی طرح سے پوری اُتری۔ یسوع زمین پر خدمت کرتے ہوئے زیادہتر وقت شہر کفرنحوم میں رہے جو نفتالی کے قبیلے کے علاقے میں واقع تھا۔ اِسی لیے کفرنحوم کو یسوع کا ’اپنا شہر‘ کہا گیا ہے۔ (متی 4:13؛ 9:1؛ یوح 7:46) اِس کے علاوہ یسعیاہ نبی نے یسوع کے بارے میں پیشگوئی کرتے وقت کہا تھا کہ زِبُولون اور نفتالی کے علاقے کے لوگ ’بڑی روشنی دیکھیں گے۔‘ (یسع 9:1، 2) واقعی یسوع اپنی تعلیمات کے ذریعے ایسی ”حقیقی روشنی“ ثابت ہوئے ’جو ہر طرح کے لوگوں پر چمکی۔‘—یوح 1:9۔
13. ہم اِس بات کا خیال کیسے رکھ سکتے ہیں کہ یہوواہ ہماری باتوں سے خوش ہو؟
13 ہم کیا سیکھ سکتے ہیں؟ یہوواہ کی نظر میں یہ بات بہت اہمیت رکھتی ہے کہ ہم دوسروں سے کیا کہتے ہیں اور کس طرح سے کہتے ہیں۔ ہم ”دل موہ لینے والی باتیں“ کیسے کر سکتے ہیں جن سے یہوواہ خوش ہو؟ ہم ہمیشہ دوسروں سے سچ بول سکتے ہیں۔ (زبور 15:1، 2) ہم دوسروں سے حوصلہ بڑھانے والی باتیں کر سکتے ہیں۔ مثال کے طور پر ہم اُن کے اچھے کاموں کے لیے اُن کی تعریف کر سکتے ہیں اور اُن کی غلطیوں اور خامیوں کو اُچھالنے سے باز رہ سکتے ہیں۔ (اِفِس 4:29) ہم مُنادی میں دوسروں سے بات شروع کرنے کی مہارت میں بھی بہتری لا سکتے ہیں تاکہ ہم اُنہیں اچھی طرح سے گواہی دے سکیں۔
یوسف
14. یوسف کے بارے میں کی گئی پیشگوئی کیسے پوری ہوئی؟ (پیدائش 49:22، 26) (بکس کو بھی دیکھیں۔)
14 پیدائش 49:22، 26 کو پڑھیں۔یعقوب کو یقیناً یوسف پر بہت ناز ہوا ہوگا۔ یہوواہ نے یوسف کو ”اُن کے بھائیوں[میں]سے“ چُنا تھا تاکہ وہ اُنہیں ایک خاص مقصد کے لیے اِستعمال کر سکے۔ یعقوب نے یوسف کو ”ایک پھلدار درخت کی کونپل“ کہا۔ یعقوب خود وہ درخت تھے اور یوسف اُن سے نکلنے والی کونپل تھے۔ یوسف یعقوب کی عزیز بیوی راخل کے پہلوٹھے بیٹے تھے۔ یعقوب نے پیشگوئی کی کہ رُوبِن کی بجائے یوسف کو پہلوٹھے بیٹے کی دُگنی میراث ملے گی۔ رُوبِن یعقوب اور لِیاہ کے پہلوٹھے بیٹے تھے لیکن رُوبِن نے اپنے پہلوٹھے ہونے کا حق کھو دیا تھا۔ (پید 48:5، 6؛ 1-توا 5:1، 2) یوسف کے بارے میں کی گئی پیشگوئی تب پوری ہوئی جب اُن کے دونوں بیٹے یعنی اِفرائیم اور منسّی اِسرائیل کے دو الگ قبیلے بنے اور دونوں قبیلوں کو ہی اپنی اپنی میراث ملی۔—پید 49:25؛ یشو 14:4۔
15. جب یوسف کو نااِنصافی کا سامنا کرنا پڑا تو اُنہوں نے کیا کِیا؟
15 یعقوب نے یوسف کے بارے میں بات کرتے وقت تیراندازوں کا بھی ذکر کِیا جو یوسف سے ’نفرت کرتے رہے اور جنہوں نے اُن پر تیر برسائے۔‘ (پید 49:23) تیراندازوں کا اِشارہ یوسف کے بھائیوں کی طرف تھا جو اُن سے حسد کرتے تھے۔ یوسف کے بھائیوں نے اُن کے ساتھ بہت بُرا سلوک کِیا تھا اور اُن کی وجہ سے یوسف کو اپنی زندگی میں بہت تکلیفیں سہنی پڑی تھیں۔ لیکن اِن سب باتوں کے باوجود یوسف نے اپنے دل میں اپنے بھائیوں کے لیے نفرت نہیں پالی اور نہ ہی یہوواہ پر کوئی اِلزام لگایا۔ جیسے کہ یعقوب نے کہا: ”[یوسف]کی کمان اپنی جگہ سے نہیں ہلی اور[اُن]کے ہاتھ مضبوط رہے اور پُھرتی سے چلتے رہے۔“ (پید 49:24) ایک طرح سے یوسف نے اپنی شفقت اور مہربانی کی کمان سے اپنے بھائیوں کی نفرت کو مار گِرایا اور مشکل وقت میں یہوواہ پر اپنے بھروسے کو مضبوط رکھا۔ (پید 47:11، 12) یوسف نے مشکلوں میں بےحوصلہ ہونے کی بجائے اپنی شخصیت کو نکھارا۔ (زبور 105:17-19) اِس طرح وہ بڑے زبردست طریقے سے یہوواہ کے کام آ سکے۔
16. مشکلوں کا سامنا کرتے وقت ہمیں یوسف کی مثال پر غور کرنے سے کیسے فائدہ ہو سکتا ہے؟
16 ہم کیا سیکھ سکتے ہیں؟ جب آپ مشکلوں کا سامنا کرتے ہیں تو یہوواہ اور اپنے بہن بھائیوں کے لیے اپنی محبت کم نہ ہونے دیں اور اُن سے دُور نہ ہوں۔ یاد رکھیں کہ جب ہم ایمان کے کسی اِمتحان سے گزر رہے ہوتے ہیں تو اِس دوران یہوواہ ہماری بڑے زبردست طریقے سے ”تربیت“ کرتا ہے۔ (عبر 12:7، فٹنوٹ) اِس تربیت کی مدد سے ہم خود میں وہ خوبیاں پیدا کرپاتے ہیں جو یہوواہ میں ہیں جیسے کہ اُس کے رحم اور معاف کرنے کی خوبی کو۔ (عبر 12:11) ہم اِس بات کا پکا یقین رکھ سکتے ہیں کہ جس طرح یہوواہ نے یوسف کو اُن کی ثابتقدمی کا اِنعام دیا ویسے ہی وہ ہمیں بھی ہماری ثابتقدمی کا اجر دے گا۔
بِنیامین
17. بِنیامین کے بارے میں کی گئی پیشگوئی کیسے پوری ہوئی؟ (پیدائش 49:27) (بکس کو بھی دیکھیں۔)
17 پیدائش 49:27 کو پڑھیں۔ یعقوب نے پیشگوئی کی کہ بِنیامین کا قبیلہ بھیڑیے کی طرح ہوگا اور جنگ لڑنے میں بہت ماہر ہوگا۔ (قُضا 20:15، 16؛ 1-توا 12:2) یہ ایک لحاظ سے”صبح“ کی طرح تھا جب اِسرائیل کی سلطنت کا پہلا بادشاہ یعنی ساؤل بِنیامین کے قبیلے سے آئے۔ ساؤل ایک زبردست جنگجو ثابت ہوئے جنہوں نے بڑی بہادری سے فِلِستیوں سے جنگیں لڑیں۔ (1-سمو 9:15-17، 21) اور یہ ایک لحاظ سے ”شام“ کی طرح تھا جب بہت سالوں بعد بِنیامین کے قبیلے سے تعلق رکھنے والے وزیرِاعظم مردکی اور ملکہ آستر نے فارسی سلطنت میں رہنے والے اِسرائیلیوں کا نامونشان مٹنے سے بچا لیا۔—آستر 2:5-7؛ 8:3؛ 10:3۔
18. بِنیامین کے قبیلے نے یہوواہ کا وفادار رہنے کے حوالے سے جو مثال قائم کی، ہم اُس پر کیسے عمل کر سکتے ہیں؟
18 ہم کیا سیکھ سکتے ہیں؟ بےشک بِنیامین کا قبیلہ اُس وقت خوشی سے پھولے نہیں سما رہا ہوگا جب اُن کے قبیلے کا ایک شخص اِسرائیل کا پہلا بادشاہ بنا۔ لیکن بعد میں جب یہوواہ نے یہوداہ کے قبیلے سے داؤد کو بادشاہ کے طور پر چُنا تو آخرکار بِنیامین کے قبیلے نے اُن کا پورا ساتھ دیا۔ (2-سمو 3:17-19) اِس کے کئی سالوں بعد جب بنیاِسرائیل کے دس قبیلوں نے یہوداہ کے قبیلے کے خلاف بغاوت کی تو بِنیامین کا قبیلہ یہوداہ کے قبیلے اور بادشاہ داؤد کے گھرانے کا وفادار رہا۔ (1-سلا 11:31، 32؛ 12:19، 21) دُعا ہے کہ بِنیامین کے قبیلے کی طرح ہم بھی اُن لوگوں کے وفادار رہیں جنہیں یہوواہ نے اپنے بندوں کی پیشوائی کرنے کے لیے مقرر کِیا ہے۔—1-تھس 5:12۔
19. یعقوب نے مرتے وقت جو پیشگوئی کی، اُس سے ہمیں کیسے فائدہ ہو سکتا ہے؟
19 یعقوب نے مرنے سے پہلے جو پیشگوئی کی، اُس پر غور کرنے سے ہمیں واقعی بہت فائدہ ہو سکتا ہے۔ یعقوب کی پیشگوئی جس طرح سے پوری ہوئی، اُس سے اب ہمیں اِس بات کا اَور بھی پکا یقین ہو گیا ہے کہ یہوواہ کے کلام میں لکھی دوسری پیشگوئیاں بھی ضرور پوری ہوں گی۔ اِس کے علاوہ یہوواہ نے جس طرح سے یعقوب کے بیٹوں کو برکت دی، اُس سے ہم یہ بھی سمجھ پائے ہیں کہ ہمیں یہوواہ کو خوش کرنے اور اُس سے برکت پانے کے لیے کیا کرنا ہوگا۔
گیت نمبر 128: آخر تک ثابتقدم رہیں
a جب یعقوب نے اپنے پہلے بڑے چار بیٹوں یعنی رُوبِن، شمعون، لاوی اور یہوداہ کو برکت دی تو اِس کے بعد اُنہوں نے اپنے باقی آٹھ بیٹوں کو برکت دیتے وقت اُن کی پیدائش کی ترتیب سے ایسا نہیں کِیا۔