مطالعے کا مضمون نمبر 24
گیت نمبر 98: خدا کا پاک کلام
دم توڑنے سے پہلے کی گئی پیشگوئی سے سبق—حصہ 1
”سب میرے پاس آ جاؤ تاکہ مَیں آپ کو بتاؤں کہ آگے چل کر آپ کے ساتھ کیا کیا ہوگا۔“—پید 49:1۔
غور کریں کہ . . .
یعقوب نے مرنے سے پہلے رُوبِن، شمعون، لاوی اور یہوداہ کے بارے میں جو پیشگوئی کی، ہم اُس سے کون سے سبق سیکھ سکتے ہیں۔
1-2. یعقوب نے مرنے سے پہلے کیا کِیا اور کیوں؟ (تصویر کو بھی دیکھیں۔)
یہوواہ کے وفادار بندے یعقوب کو ملک کنعان سے مصر گئے ہوئے تقریباً 17 سال ہو گئے تھے۔ وہ اپنے پورے گھرانے سمیت مصر گئے تھے۔ (پید 47:28) یعقوب کو لگتا تھا کہ اُن کے بیٹے یوسف فوت ہو چُکے ہیں لیکن جب اُنہوں نے یوسف کو مصر میں صحیح سلامت دیکھا تو وہ بہت خوش ہوئے۔ اُنہیں یہ دیکھ کر بھی بہت خوشی ہوئی کہ آخرکار اُن کے سب بیٹے آپس میں متحد ہو گئے ہیں۔ لیکن اب یعقوب کو لگ رہا تھا کہ اُن کی زندگی کے بس کچھ ہی دن باقی رہ گئے ہیں۔ اِس لیے اُنہوں نے اپنے سب بیٹوں کو اپنے پاس بُلوایا تاکہ وہ اُنہیں اپنے مرنے سے پہلے کچھ خاص باتیں بتا سکیں۔—پید 49:28۔
2 اُس زمانے میں یہ بہت عام بات تھی کہ ایک گھر کا سربراہ اپنی موت سے پہلے اپنے گھرانے کو جمع کرتا تھا تاکہ وہ اُنہیں آخری بار کچھ ہدایتیں دے سکے۔ (یسع 38:1) اِسی موقعے پر وہ یہ بھی ظاہر کر دیتا تھا کہ اُس کے بعد گھرانے کی سربراہی کون کرے گا۔
یعقوب مرنے سے پہلے اپنے 12 بیٹوں کے بارے میں پیشگوئی کر رہے ہیں۔ (پیراگراف نمبر 1-2 کو دیکھیں۔)
3. پیدائش 49:1، 2 کے مطابق یعقوب کی باتیں اِتنی خاص کیوں تھیں؟
3 پیدائش 49:1، 2 کو پڑھیں۔ لیکن یعقوب نے اپنے بیٹوں کو جمع کر کے اُن سے جو باتیں کہیں، وہ اُن باتوں سے فرق تھیں جو عام طور پر ایک شخص اپنے مرنے سے پہلے اپنے گھرانے سے کرتا تھا۔ یعقوب ایک نبی تھے۔ یہوواہ کی مدد سے اُنہوں نے اپنے بیٹوں کے بارے میں کچھ ایسی خاص باتیں بتائیں جو مستقبل میں اُن کے اور اُن کے گھرانوں کے ساتھ ہونی تھیں۔
4. اِس مضمون میں ہم کن باتوں پر غور کریں گے؟ (بکس ”یعقوب کا گھرانہ“ کو بھی دیکھیں۔)
4 اِس مضمون میں ہم یعقوب کی اُن باتوں پر غور کریں گے جو اُنہوں نے اپنے اِن چار بیٹوں کے بارے میں کہیں: رُوبِن، شمعون، لاوی اور یہوداہ۔ اور اگلے مضمون میں ہم یعقوب کی اُن باتوں پر غور کریں گے جو اُنہوں نے اپنے باقی آٹھ بیٹوں کے بارے میں کہیں۔ آگے چل کر ہم دیکھیں گے کہ یعقوب نے جو باتیں کہیں، وہ صرف اُن کے بیٹوں کے بارے میں ہی نہیں بلکہ اِن بیٹوں کی اولاد کے بارے میں بھی تھیں جنہوں نے آخرکار ایک بڑی قوم بن جانا تھا۔ جب ہم اِس بات پر غور کریں گے کہ ماضی میں بنیاِسرائیل کے ساتھ کیا ہوا تو ہم صاف طور پر دیکھ پائیں گے کہ یعقوب کی پیشگوئی کتنی صحیح ثابت ہوئی۔ اِس کے علاوہ یعقوب کی کہی باتوں پر غور کرنے سے ہم کچھ ایسے اہم سبق بھی سیکھ پائیں گے جن سے ہم اپنے آسمانی باپ یہوواہ کو خوش کر سکیں گے۔
رُوبِن
5. رُوبِن اپنے والد سے غالباً کس اعزاز کو پانے کی توقع کر رہے ہوں گے؟
5 یعقوب نے سب سے پہلے رُوبِن کو مخاطب کرتے ہوئے کہا: ”رُوبِن! آپ میرے پہلوٹھے ہو۔“ (پید 49:3) پہلوٹھا بیٹا ہونے کی وجہ سے غالباً رُوبِن یہ توقع کر رہے تھے کہ اُنہیں اپنے بھائیوں کی نسبت اپنے باپ سے دُگنی وراثت ملے گی۔ شاید وہ یہ بھی توقع کر رہے ہوں گے کہ اپنے والد کی موت کے بعد وہ خاندان کے سربراہ ہوں گے اور اُن کے بعد اُن کی اولاد کو یہ اعزاز ملے گا۔
6. رُوبِن نے اپنے پہلوٹھے ہونے کا حق کیوں کھو دیا؟ (پیدائش 49:3، 4)
6 لیکن رُوبِن نے اپنے پہلوٹھے ہونے کا حق کھو دیا۔ (1-توا 5:1) کیوں؟ کیونکہ راخل کی موت کے کچھ وقت بعد رُوبِن راخل کی نوکرانی بِلہاہ کے ساتھ ہمبستر ہوئے۔ (پید 35:19، 22) راخل نے اپنی نوکرانی بِلہاہ یعقوب کو دی تھی تاکہ وہ اُن کی بیوی بنے۔ لیکن رُوبِن نے بِلہاہ کے ساتھ جنسی تعلق کیوں قائم کِیا؟ رُوبِن راخل کی بہن لِیاہ کے بیٹے تھے۔ شاید وہ یہ نہیں چاہتے تھے کہ راخل کے بعد بِلہاہ اُن کی ماں کی جگہ لے لے۔ شاید اُنہوں نے بِلہاہ سے اِس لیے جنسی تعلق قائم کِیا تاکہ یعقوب بِلہاہ سے نفرت کرنے لگیں اور اُن کی ماں کو زیادہ پیار اور توجہ دیں۔ یا یہ بھی ہو سکتا ہے کہ رُوبِن نے ہوس کا شکار ہو کر بِلہاہ کے ساتھ جنسی تعلق قائم کِیا۔ وجہ چاہے کچھ بھی رہی ہو، رُوبِن نے جو کِیا، اُس کی وجہ سے یہوواہ اور اُن کے والد یعقوب اُن سے بہت ناراض ہوئے۔—پیدائش 49:3، 4 کو پڑھیں۔
7. رُوبِن اور اُن کی اولاد کے ساتھ کیا ہوا؟ (بکس ”وہ پیشگوئی جو یعقوب نے اپنے مرنے سے پہلے کی“ کو بھی دیکھیں۔)
7 یعقوب نے رُوبِن سے کہا: ”آپ کو عظمت نہیں ملے گی۔“ یعقوب کی یہ بات واقعی سچ ثابت ہوئی۔ بائبل میں ہمیں کہیں بھی اِس بات کا ذکر نہیں ملتا کہ رُوبِن کی اولاد میں سے کبھی کوئی شخص بادشاہ، کاہن یا نبی بنا۔ لیکن یعقوب نے رُوبِن کو اپنی وراثت سے بالکل بےدخل نہیں کِیا۔ رُوبِن کا گھرانہ بھی اِسرائیل کا ایک قبیلہ بنا۔ (یشو 12:6) رُوبِن نے ہمیشہ بُرے کام نہیں کیے۔ اُنہوں نے کئی موقعوں پر بہت شاندار خوبیاں بھی ظاہر کیں اور بائبل میں بِلہاہ کے واقعے کے بعد ہمیں کہیں اِس بات کا ذکر نہیں ملتا کہ رُوبِن نے پھر کبھی حرامکاری کی تھی۔—پید 37:20-22؛ 42:37۔
8. ہم رُوبِن سے کیا کچھ سیکھتے ہیں؟
8 ہم کیا سیکھ سکتے ہیں؟ ہمیں اپنی غلط خواہشوں سے لڑنے کے لیے سخت کوشش کرنی چاہیے اور اپنے اِس عزم پر ڈٹے رہنا چاہیے کہ ہم کبھی حرامکاری نہیں کریں گے۔ اگر کبھی ہمیں گُناہ کرنے کی آزمائش کا سامنا ہوتا ہے تو ہمیں تھوڑی دیر کے لیے رُک کر یہ سوچنا چاہیے کہ ہمارے اُس کام سے یہوواہ، ہمارے گھر والوں اور دوسروں کا کتنا دل دُکھے گا۔ ہمیں یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ ”اِنسان جو کچھ بوتا ہے، وہی کاٹتا ہے۔“ (گل 6:7) لیکن رُوبِن کی مثال سے ہم صرف یہی سبق نہیں سیکھتے۔ اُن کے ساتھ جو کچھ ہوا، اُس سے ہم یہوواہ کے رحم کے حوالے سے بھی ایک بہت اہم بات سیکھتے ہیں۔ ہم سیکھتے ہیں کہ حالانکہ یہوواہ ہمیں اپنی غلطیوں کے نتیجے بھگتنے سے نہیں بچاتا لیکن اگر ہم توبہ کرتے ہیں اور صحیح کام کرنے کی پوری کوشش کرتے ہیں تو وہ ہمیں معاف کر دیتا اور برکت دیتا ہے۔
شمعون اور لاوی
9. یعقوب نے شمعون اور لاوی سے پیدائش 49:5-7 میں لکھی بات کیوں کہی؟
9 پیدائش 49:5-7 کو پڑھیں۔ پھر یعقوب نے شمعون اور لاوی کے بارے میں بات کی۔ لیکن یعقوب نے اُن کے بارے میں جو کچھ کہا، اُس سے ظاہر ہوا کہ وہ اُن دونوں سے بالکل خوش نہیں تھے۔ کئی سال پہلے سِکم نام کے ایک کنعانی آدمی نے یعقوب کی بیٹی دِینہ کی عزت لُوٹی تھی۔ ظاہری بات ہے کہ یعقوب کے سبھی بیٹے اپنی بہن کے ساتھ ہوئے اِس ہولناک واقعے کی وجہ سے غصے میں تھے۔ لیکن شمعون اور لاوی تو غصے میں آپے سے باہر ہو گئے تھے اور تشدد کرنے پر اُتر آئے تھے۔ یعقوب کے بیٹوں نے چالاکی سے کام لیتے ہوئے سِکم اور اُن کے شہر کے لوگوں سے یہ جھوٹا وعدہ کِیا کہ اگر اُن کے مرد اپنا ختنہ کرائیں گے تو وہ اُن سے صلح کر لیں گے۔ شہر سِکم کے آدمیوں نے یہ شرط مان لی۔ لیکن جب وہ آدمی شدید تکلیف میں تھے تو شمعون اور لاوی ’اپنی اپنی تلوار لے کر شہر کے اندر گئے اور اُنہوں نے وہاں کے سب مردوں کو قتل کر دیا۔‘—پید 34:25-29۔
10. یعقوب نے شمعون اور لاوی کے بارے میں جو پیشگوئی کی، وہ کیسے پوری ہوئی؟ (بکس ”وہ پیشگوئی جو یعقوب نے اپنے مرنے سے پہلے کی“ کو بھی دیکھیں۔)
10 شمعون اور لاوی نے جو کچھ کِیا، اُس کی وجہ سے یعقوب اُن سے سخت ناراض ہوئے۔ یعقوب نے اُن دونوں کے بارے میں یہ پیشگوئی کی کہ اُن کی میراث ملک اِسرائیل میں بکھری ہوگی۔ یہ پیشگوئی تقریباً 200 سال بعد تب پوری ہوئی جب بنیاِسرائیل وعدہ کیے ہوئے ملک میں داخل ہوئے۔ شمعون کے قبیلے کی میراث یہوداہ کے قبیلے کی میراث کے درمیان تھی۔ اُنہیں یہوداہ کے قبیلے کے علاقے میں دُوردراز جگہوں پر میراث ملی تھی۔ (یشو 19:1) اور لاوی کے قبیلے کو ملک اِسرائیل کے مختلف علاقوں میں 48 شہر ورثے میں ملے تھے۔—یشو 21:41۔
11. شمعون اور لاوی کے قبیلوں نے کون سے اچھے کام کیے؟
11 شمعون اور لاوی کی اولاد نے اپنے باپدادا کی غلطیوں کو نہیں دُہرایا۔ لاوی کے قبیلے نے یہوواہ کی پاک عبادت کے لیے اپنی وفاداری ثابت کی۔ جب موسیٰ کوہِسینا پر یہوواہ سے شریعت لینے گئے تو اُس دوران بہت سے اِسرائیلی بچھڑے کی پوجا کرنے لگے۔ لیکن جب موسیٰ نے نیچے اُتر کر لوگوں سے کہا کہ ”جو جو [یہوواہ] کی طرف ہے وہ میرے پاس آ جائے“ تو لاویوں نے موسیٰ کا ساتھ دیا اور اُن کے ساتھ مل کر بُتپرستی کرنے والے اِسرائیلیوں کو مار ڈالا۔ (خر 32:26-29) یہوواہ نے لاوی کے قبیلے کے آدمیوں کو کاہنوں کے طور پر خدمت کرنے کا خاص اعزاز بخشا۔ (خر 40:12-15؛ گن 3:11، 12) اور بعد میں شمعون کے قبیلے نے وعدہ کیے ہوئے ملک میں اپنے علاقوں پر فتح پانے کے لیے یہوداہ کے قبیلے کے ساتھ مل کر کنعانیوں سے جنگ لڑی جو کہ یہوواہ کے مقصد کے بالکل عین مطابق تھا۔—قُضا 1:3، 17۔
12. ہم شمعون اور لاوی سے کیا کچھ سیکھتے ہیں؟
12 ہم کیا سیکھ سکتے ہیں؟ کبھی بھی غصے میں آ کر کوئی فیصلہ یا کام نہ کریں۔ سچ ہے کہ جب ہمارے یا ہمارے کسی عزیز کے ساتھ بُرا سلوک کِیا جاتا ہے تو ہمیں غصہ آ سکتا ہے جو کہ غلط بات نہیں۔ (زبور 4:4) لیکن ہمیں یہ یاد رکھنا چاہیے کہ اگر ہم شدید غصے میں کسی کو تکلیف پہنچانے والی بات کہیں گے یا کوئی کام کریں گے تو یہوواہ سخت ناخوش ہوگا۔ (یعقو 1:20) چاہے کلیسیا کے اندر یا اِس سے باہر کوئی شخص ہمارے ساتھ بُرا سلوک کرے، ہمیں آگے سے ہمیشہ وہی کام کرنا چاہیے جو یہوواہ کو پسند ہے۔ اِس طرح ہم غصے میں آ کر کوئی ایسی بات یا کام نہیں کریں گے جس سے دوسروں کو نقصان پہنچے گا۔ (روم 12:17، 19؛ 1-پطر 3:9) اگر آپ نوجوان ہیں اور آپ کے ماں باپ ایسے کام کر رہے ہیں جو یہوواہ کو پسند نہیں ہیں تو یاد رکھیں کہ یہ لازمی نہیں کہ آپ بھی اُنہی کی طرح بنیں۔ یہ آپ کے ہاتھ میں ہے کہ آپ یہوواہ کو خوش کرنے والے کام کریں گے یا نہیں۔ یہ نہ سوچیں کہ آپ کبھی یہوواہ کو خوش نہیں کر پائیں گے اور آپ کو کبھی اُس سے برکتیں نہیں ملیں گی۔ آپ صحیح کام کرنے کے لیے جو بھی کوشش کریں گے، یہوواہ اُس میں آپ کا پورا ساتھ دے گا اور آپ کو برکت دے گا۔
یہوداہ
13. جب یعقوب کی یہوداہ سے بات کرنے کی باری آئی تو شاید یہوداہ کیوں فکرمند ہوئے ہوں گے؟
13 شمعون اور لاوی کے بعد اب یعقوب نے یہوداہ سے بات کرنی تھی۔ جو کچھ یعقوب نے اپنے بڑے بیٹوں کے بارے میں کہا تھا، اُسے سُن کر یقیناً یہوداہ کو یہ فکر ہوئی ہوگی کہ پتہ نہیں، یعقوب اُن کے بارے میں کیا کہیں گے۔ دیکھا جائے تو یہوداہ سے بھی کچھ سنگین غلطیاں ہوئی تھیں۔ مثال کے طور پر جب شمعون اور لاوی نے شہر سِکم کے آدمیوں کو قتل کِیا تھا تو یہوداہ اپنے باقی بھائیوں کے ساتھ اُس شہر کے لوگوں کا مالواسباب لُوٹنے گئے تھے۔ (پید 34:27) اِس کے علاوہ یوسف کو ایک غلام کے طور پر بیچنے کا مشورہ یہوداہ نے ہی دیا تھا اور بعد میں اُنہوں نے اپنے بھائیوں کے ساتھ مل کر اپنے باپ سے اِس بارے میں جھوٹ بولا تھا۔ (پید 37:31-33) بعد میں یہوداہ نے اپنی بہو کے ساتھ جنسی تعلق بھی قائم کِیا تھا کیونکہ اُنہیں یہ غلطفہمی ہوئی تھی کہ وہ کوئی جسمفروش عورت ہے۔—پید 38:15-18۔
14. یعقوب نے یہوداہ سے کیا کہا اور یہوداہ نے کون سے اچھے کام کیے تھے؟ (پیدائش 49:8، 9)
14 لیکن یہوواہ کی پاک روح کی رہنمائی میں یعقوب نے یہوداہ کی صرف تعریف ہی کی اور اُن سے وعدہ کِیا کہ اُن کو اور اُن کے گھرانے کو صرف برکتیں ہی برکتیں ملیں گی۔ (پیدائش 49:8، 9 کو پڑھیں۔) یہوداہ نے ظاہر کِیا تھا کہ وہ اپنے بوڑھے باپ کی بہت پرواہ کرتے تھے اور اپنے سب سے چھوٹے بھائی بِنیامین سے بھی اِتنی محبت کرتے تھے کہ وہ اُس کی خاطر خود غلام بننے کو تیار تھے۔—پید 44:18، 30-34۔
15. یہوداہ کو کن کن طریقوں سے برکت ملی؟
15 یعقوب نے پیشگوئی کی کہ یہوداہ اپنے بھائیوں کی پیشوائی کریں گے۔ لیکن یہ پیشگوئی تقریباً 200 سال گزرنے کے بعد پوری ہونے لگی۔ بائبل میں یہوداہ کے پیشوائی کرنے کا پہلی بار ذکر تب ملتا ہے جب بنیاِسرائیل مصر سے نکلنے کے بعد ویرانے سے گزرتے ہوئے ملک کنعان کی طرف جا رہے تھے۔ یہوداہ کا قبیلہ اپنے بھائیوں کے قبیلے میں سب سے آگے تھا۔ (گن 10:14) اِس کے کئی سال بعد یہوواہ نے یہوداہ کے قبیلے کو ملک کنعان پر فتح پانے میں پیشوائی کرنے کے لیے مقرر کِیا۔ (قُضا 1:1، 2) اور داؤد اُن بہت سے بادشاہوں میں سے وہ پہلے بادشاہ تھے جو یہوداہ کے قبیلے سے آئے۔ لیکن یہوداہ کے بارے میں کی گئی پیشگوئی اَور بھی کئی طریقوں سے پوری ہوئی۔
16. پیدائش 49:10 میں لکھی پیشگوئی کیسے پوری ہوئی؟ (بکس ”وہ پیشگوئی جو یعقوب نے اپنے مرنے سے پہلے کی“ کو بھی دیکھیں۔)
16 یعقوب نے پیشگوئی میں یہ بھی ظاہر کِیا کہ تمام اِنسانوں کا حکمران یہوداہ کی نسل سے آئے گا اور وہ ہمیشہ تک حکمرانی کرے گا۔ (پیدائش 49:10 اور فٹنوٹ کو پڑھیں۔) یہ حکمران یسوع مسیح ہیں جن کو یعقوب نے شیلوہ کہا۔ ایک فرشتے نے یسوع کے بارے میں کہا: ”یہوواہ خدا اُسے اُس کے باپ داؤد کا تخت دے گا۔“ (لُو 1:32، 33) یسوع کو ”یہوداہ کے قبیلے کا شیر“ بھی کہا گیا ہے۔—مُکا 5:5۔
17. ہم دوسروں کو یہوواہ کی نظر سے کیسے دیکھ سکتے ہیں؟
17 ہم کیا سیکھ سکتے ہیں؟ حالانکہ یہوداہ نے کچھ بڑی غلطیاں کی تھیں لیکن یہوواہ نے اُنہیں برکت دی۔ شاید یہوداہ کے بھائیوں نے سوچا ہو کہ یہوواہ نے یہوداہ میں ایسا کیا دیکھا ہے جو اُس نے اُنہیں برکت دینے کا وعدہ کِیا ہے۔ ہم نہیں جانتے کہ اُنہوں نے کیا سوچا ہوگا لیکن ہم یہ ضرور جانتے ہیں کہ یہوواہ نے یہوداہ میں اچھائی دیکھ کر اُنہیں برکت دی تھی۔ ہم یہوواہ کی مثال پر کیسے عمل کر سکتے ہیں؟ جب کسی بہن یا بھائی کو کوئی خاص اعزاز ملتا ہے تو شاید ہم فوراً اُس کی کسی خامی کے بارے میں سوچنا شروع کر دیں۔ لیکن ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ یہوواہ یقیناً اُس بہن یا بھائی کی خوبیوں کی وجہ سے اُس سے خوش ہے۔ یہوواہ اپنے بندوں میں اچھائی ڈھونڈتا ہے اور ہمیں بھی ایسا ہی کرنا چاہیے۔
18. ہم یہوداہ کی اولاد کی مثال پر کیسے عمل کر سکتے ہیں؟
18 ہم یہوداہ کی مثال سے صبر کرنے کی اہمیت بھی سیکھ سکتے ہیں۔ یہوواہ ہمیشہ اپنے وعدوں کو پورا کرتا ہے، بھلے ہی وہ اُس طریقے سے اور اُس وقت ایسا نہ کرے جس کی ہم نے توقع کی ہوتی ہے۔ غور کریں کہ شروع شروع میں جن لوگوں نے بنیاِسرائیل کی پیشوائی کی تھی، وہ یہوداہ کی نسل سے نہیں تھے۔ لیکن یہوداہ کی اولاد نے وفاداری سے اُن لوگوں کا ساتھ دیا جنہیں یہوواہ نے پیشوائی کرنے کے لیے مقرر کِیا تھا پھر چاہے وہ لاویوں کے قبیلے سے موسیٰ تھے، اِفرائیم کے قبیلے سے یشوع تھے یا بِنیامین کے قبیلے سے بادشاہ ساؤل تھے۔ دُعا ہے کہ ہم بھی ہر اُس شخص کی حمایت کریں جسے آج یہوواہ ہماری پیشوائی کرنے کے لیے چُنتا ہے۔—عبر 6:12۔
19. یعقوب نے مرتے وقت جو پیشگوئی کی، اُس سے ہمیں یہوواہ کے بارے میں کیا پتہ چلتا ہے؟
19 ہم نے اب تک یعقوب کی اُس پیشگوئی سے کیا سیکھا ہے جو اُنہوں نے مرنے سے پہلے اپنے پہلے چار بیٹوں کے بارے میں کی؟ یہ بات تو واضح ہے کہ ”جس نظر سے اِنسان دیکھتا ہے، خدا اُس نظر سے نہیں دیکھتا۔“ (1-سمو 16:7) یہوواہ بہت صبر کرنے اور معاف کرنے والا خدا ہے۔ سچ ہے کہ وہ غلط کام کو بالکل برداشت نہیں کرتا لیکن وہ اپنے بندوں سے یہ توقع بھی نہیں کرتا کہ وہ کبھی کوئی غلطی نہ کریں۔ وہ تو اُن لوگوں کو بھی برکت دیتا ہے جنہوں نے ماضی میں سنگین گُناہ کیے تھے لیکن اِس شرط پر کہ وہ دل سے توبہ کریں اور صحیح کام کریں۔ اگلے مضمون میں ہم دیکھیں گے کہ یعقوب نے اپنے باقی آٹھ بیٹوں کے بارے میں کیا پیشگوئی کی۔
گیت نمبر 124: وفادار ہوں