مطالعے کا مضمون نمبر 18
گیت نمبر 65: آگے بڑھتے رہیں!
جوان بھائیو! مرقس اور تیمُتھیُس کی طرح بنیں
”مرقس کو بھی اپنے ساتھ لیتے آئیں کیونکہ وہ خدا کی خدمت کرنے میں میرے بڑے کام آتے ہیں۔“—2-تیم 4:11۔
غور کریں کہ . . .
جوان بھائی مرقس اور تیمُتھیُس کی مثال پر غور کرنے سے خود میں ایسی خوبیاں کیسے پیدا کر سکتے ہیں جن کے ذریعے وہ یہوواہ اور اپنی کلیسیا کے بہن بھائیوں کی اَور زیادہ خدمت کر سکیں۔
1-2. کن مشکلوں کی وجہ سے مرقس اور تیمُتھیُس یہوواہ اور اپنے بہن بھائیوں کی اَور زیادہ خدمت کرنے سے پیچھے ہٹ سکتے تھے؟
جوان بھائیو! کیا آپ یہوواہ کی اَور زیادہ خدمت کرنا اور اپنی کلیسیا کے بہن بھائیوں کے اَور زیادہ کام آنا چاہتے ہیں؟ بےشک آپ ایسا چاہتے ہیں۔ ہمیں یہ دیکھ کر بہت خوشی ہوتی ہے کہ اِتنے زیادہ جوان بھائی دوسروں کی خدمت کرنے کو تیار ہیں! (زبور 110:3) لیکن شاید کچھ باتوں کی وجہ سے آپ کو یہوواہ اور اپنے بہن بھائیوں کی اَور زیادہ خدمت کرنا مشکل لگے۔ مثال کے طور پر کیا آپ اِس وجہ سے ایسا کرنے سے ہچکچا رہے ہیں کیونکہ آپ کو ڈر ہے کہ پتہ نہیں، یہوواہ آپ کو کہاں جانے یا کون سی خدمت کرنے کو کہے گا؟ یا پھر کیا آپ کو یہ لگتا ہے کہ آپ کسی ذمےداری کو اچھی طرح سے نہیں نبھا پائیں گے؟ اگر آپ کے دل میں ایسی باتیں ہیں تو پریشان نہ ہوں۔
2 مرقس اور تیمُتھیُس کو بھی اِسی طرح کی مشکل کا سامنا تھا۔ لیکن وہ اِس ڈر سے یہوواہ اور دوسروں کی خدمت کرنے سے پیچھے نہیں ہٹے کہ ایسا کرنے سے آگے چل کر اُن کی زندگی بدل جائے گی یا وہ اچھی طرح سے اپنی ذمےداریوں کو نہیں نبھا پائیں گے۔ مثال کے طور پر جب پولُس رسول اور برنباس اپنا پہلا مشنری دورہ کر رہے تھے تو اُنہوں نے مرقس کو بھی اپنے ساتھ چلنے کو کہا۔ اُس وقت مرقس غالباً اپنی امی کے ساتھ ایک بہت ہی اچھے گھر میں آرامدہ زندگی گزار رہے تھے۔ (اعما 12:12، 13، 25) لیکن مرقس نے یہوواہ کی اَور زیادہ خدمت کرنے کے لیے اپنا گھر چھوڑ دیا۔ پہلے وہ انطاکیہ گئے اور پھر وہ پولُس اور برنباس کے ساتھ دُوردراز جگہوں پر خدمت کرنے کے لیے گئے۔ (اعما 13:1-5) اور جب پولُس نے تیمُتھیُس کو اپنے ساتھ فرق فرق جگہوں پر مُنادی کرنے کی دعوت دی تو شاید تیمُتھیُس اپنے ماں باپ کے ساتھ ہی رہ رہے تھے۔ تیمُتھیُس جوان تھے اور اُنہیں یہوواہ کی خدمت کرنے کے حوالے سے اِتنا تجربہ نہیں تھا۔ اِس لیے وہ سوچ سکتے تھے کہ ابھی وہ اِس لائق نہیں کہ پولُس کے ساتھ مل کر خدمت کر سکیں۔ (1-کُرنتھیوں 16:10، 11 اور 1-تیمُتھیُس 4:12 پر غور کریں۔) لیکن اُنہوں نے پھر بھی ایسا کرنے کا فیصلہ کِیا اور اِس وجہ سے اُنہیں بہت برکتیں ملیں۔—اعما 16:3-5۔
3. (الف)ہم کیسے جانتے ہیں کہ پولُس رسول مرقس اور تیمُتھیُس کی بہت قدر کرتے تھے؟ (2-تیمُتھیُس 4:6، 9، 11) (تصویروں کو بھی دیکھیں۔) (ب)اِس مضمون میں ہم کن سوالوں پر غور کریں گے؟
3 مرقس اور تیمُتھیُس نے جوانی میں ہی بہت سی اہم ذمےداریوں کو نبھانا سیکھ لیا تھا۔ پولُس اِن دونوں بھائیوں کی اِتنی زیادہ قدر کرتے تھے کہ جب پولُس کو قتل کر دیا جانا تھا تو وہ چاہتے تھے کہ یہ بھائی اُن آخری لمحوں میں اُن کے ساتھ ہوں۔ (2-تیمُتھیُس 4:6، 9، 11 کو پڑھیں۔) پولُس مرقس اور تیمُتھیُس کی کن خوبیوں کی وجہ سے اُن سے اِتنی محبت اور اُن پر اِتنا بھروسا کرتے تھے؟ جوان بھائی مرقس اور تیمُتھیُس کی طرح کیسے بن سکتے ہیں؟ اور پولُس نے تیمُتھیُس کو جو شفقت بھری نصیحتیں کیں، اُن پر عمل کرنے سے آج جوان بھائیوں کو کیسے فائدہ ہو سکتا ہے؟
پولُس رسول مرقس اور تیمُتھیُس کی اِتنی قدر کرتے تھے کہ اُنہوں نے اِن دونوں بھائیوں کو اُن کی جوانی میں ہی کلیسیا میں اہم کام کرنے کی ذمےداری سونپی۔ (پیراگراف نمبر 3 کو دیکھیں۔)b
مرقس کی طرح لگن اور محنت سے خدمت کریں
4-5. مرقس نے لگن اور محنت سے دوسروں کی خدمت کیسے کی؟
4 ایک لغت کے مطابق دوسروں کی خدمت کرنے کا مطلب یہ ہے کہ ہم دوسروں کی مدد کرنے کے لیے سخت محنت کریں اور اُس وقت بھی اُن کی مدد کرنے سے پیچھے نہ ہٹیں جب ایسا کرنا ہمارے لیے مشکل ہو۔ مرقس نے اِس حوالے سے عمدہ مثال قائم کی۔ جب پولُس نے مرقس کو اپنے ساتھ دوسرے مشنری دورے پر لے جانے سے اِنکار کر دیا تو یقیناً مرقس کو بہت دُکھ اور مایوسی ہوئی ہوگی۔ (اعما 15:37، 38) لیکن اُنہوں نے اِس وجہ سے بےحوصلہ ہو کر اپنے بہن بھائیوں کی خدمت کرنا نہیں چھوڑی۔
5 مرقس اپنے کزن برنباس کے ساتھ دوسرے علاقوں میں خدمت کرنے کے لیے چلے گئے۔ پھر اِس کے تقریباً 11 سال بعد جب پولُس روم میں قید تھے تو مرقس بھی اُن بھائیوں میں سے ایک تھے جو پولُس کے مشکل وقت میں اُن کا حوصلہ بڑھانے کے لیے وہاں موجود تھے۔ (فِلیمون 23، 24) پولُس تو مرقس کی مدد کے لیے اُن کے اِتنے شکرگزار تھے کہ اُنہوں نے مرقس کے بارے میں کہا کہ ”اِن کی وجہ سے مجھے بڑی تسلی ملی ہے۔“—کُل 4:10، 11۔
6. مرقس کو اُن پُختہ بھائیوں کے ساتھ خدمت کرنے سے کیسے فائدہ ہوا جو کئی سالوں سے یہوواہ کی خدمت کر رہے تھے؟ (فٹنوٹ کو دیکھیں۔)
6 مرقس کو دوسرے پُختہ بھائیوں کے ساتھ وقت گزارنے سے بہت سی اچھی باتوں کا تجربہ ہوا۔ روم میں پولُس کے ساتھ کچھ وقت گزارنے کے بعد مرقس بابل میں پطرس کے ساتھ خدمت کرنے کے لیے چلے گئے۔ وہ دونوں اِتنے پکے دوست بن گئے کہ پطرس نے مرقس کو ”میرا بیٹا“ کہا۔ (1-پطر 5:13) جب پطرس اور مرقس مل کر خدمت کر رہے تھے تو غالباً پطرس نے اپنے اِس جوان دوست کو یسوع کی زندگی اور خدمت کے بارے میں بہت سی دلچسپ باتیں بتائی ہوں گی جن کا ذکر بعد میں مرقس نے اپنی اِنجیل میں کِیا۔a
7. بھائی سنگاُو نے مرقس کی مثال پر کیسے عمل کِیا؟ (تصویر کو بھی دیکھیں۔)
7 مرقس یہوواہ کی خدمت کرنے میں مصروف رہے اور پُختہ بھائیوں کے قریب رہے۔ بھائیو! آپ مرقس کی مثال پر کیسے عمل کر سکتے ہیں؟ شاید آپ یہوواہ کی اَور زیادہ خدمت کرنا چاہتے ہیں۔ شاید آپ خادم یا پھر بزرگ بننا چاہتے ہیں۔ لیکن اگر ابھی تک ایسا نہیں ہوا تو بےحوصلہ نہ ہوں۔ اِس کی بجائے ایسے طریقوں کے بارے میں سوچنے کی کوشش کریں جن سے آپ یہوواہ اور اپنے بہن بھائیوں کی اَور زیادہ خدمت کر سکیں۔ ذرا بھائی سنگاُو کی مثال پر غور کریں جو ابھی کلیسیا میں ایک بزرگ ہیں۔ جب وہ جوان تھے تو وہ اپنا موازنہ دوسرے جوان بھائیوں سے کرتے تھے۔ اِن میں سے کچھ بھائیوں کو کلیسیا میں زیادہ ذمےداریاں نبھانے کے لیے دی گئیں۔ بھائی سنگاُو کو یہ دیکھ کر بہت مایوسی ہوئی کہ اُنہیں نظرانداز کِیا جا رہا ہے۔ آخرکار اُنہوں نے کُھل کر بزرگوں کو اپنے احساسات بتائے۔ ایک بزرگ نے بھائی سنگاُو کو یہ مشورہ دیا کہ وہ دوسروں کے لیے جو کچھ کر سکتے ہیں، وہ ضرور کریں، بھلے ہی دوسرے اُن کے اچھے کاموں کو نہ دیکھ پائیں۔ بھائی سنگاُو نے اِس مشورے پر عمل کِیا اور وہ بوڑھے اور ایسے بہن بھائیوں کی مدد کرنے لگے جنہیں عبادتوں میں جانے کے لیے مدد کی ضرورت ہوتی تھی۔ اُس وقت کو یاد کرتے ہوئے بھائی سنگاُو نے کہا: ”مَیں اچھے سے سیکھ گیا ہوں کہ دوسروں کی خدمت کرنے کا اصل میں کیا مطلب ہوتا ہے۔ مَیں نے اُسی خوشی کو محسوس کِیا ہے جو دوسروں کی مدد کرنے سے ملتی ہے۔“
جوان بھائیوں کے لیے یہ کیوں اچھا ہے کہ وہ ایسے پُختہ بھائیوں کے ساتھ وقت گزاریں جو کئی سالوں سے یہوواہ کی خدمت کر رہے ہیں؟ (پیراگراف نمبر 7 کو دیکھیں۔)
تیمُتھیُس کی طرح دل سے دوسروں کی فکر کریں
8. پولُس نے تیمُتھیُس کو اپنے ساتھ سفر پر لے جانے کے لیے کیوں چُنا؟ (فِلپّیوں 2:19-22)
8 پولُس کو ایسے دلیر بھائیوں کی ضرورت تھی جو اُن کے ساتھ اُن شہروں میں جا سکیں جہاں پہلے پولُس کی مخالفت کی گئی تھی۔ اُنہوں نے سب سے پہلے سیلاس کو اپنے ساتھ چلنے کو کہا جو کئی سالوں سے یہوواہ کی خدمت کر رہے تھے۔ (اعما 15:22، 40) پھر اُنہوں نے تیمُتھیُس کو اپنے ساتھ لے جانے کے لیے چُنا۔ پولُس تیمُتھیُس کو اپنے ساتھ کیوں لے جانا چاہتے تھے؟ اِس کی ایک وجہ تو تیمُتھیُس کی نیکنامی تھی۔ اُن کے علاقے کے بھائی اُن کی بہت تعریف کرتے تھے۔ (اعما 16:1، 2) تیمُتھیُس دل سے لوگوں کی فکر کرتے تھے۔—فِلپّیوں 2:19-22 کو پڑھیں۔
9. ہم کیوں کہہ سکتے ہیں کہ تیمُتھیُس کو اپنے بہن بھائیوں کی دل سے فکر تھی؟
9 جب تیمُتھیُس پولُس کے ساتھ خدمت کرنے لگے تو فوراً ہی یہ بات صاف نظر آنے لگی کہ تیمُتھیُس کو خود سے زیادہ دوسروں کی فکر ہے۔ اِسی وجہ سے پولُس نے پورے اِعتماد سے تیمُتھیُس کو بیریہ رہنے کے لیے کہا تاکہ وہ وہاں یسوع کے نئے شاگردوں کا حوصلہ بڑھا سکیں۔ (اعما 17:13، 14) بےشک اِس دوران تیمُتھیُس نے سیلاس سے بہت کچھ سیکھا ہوگا جو بیریہ میں ہی رہ رہے تھے۔ لیکن بعد میں پولُس نے تیمُتھیُس کو اکیلے شہر تھسلُنیکے بھیجا تاکہ وہ وہاں کے بہن بھائیوں کا حوصلہ بڑھا سکیں۔ (1-تھس 3:2، فٹنوٹ) اِس کے اگلے 15 سال بعد بھی تیمُتھیُس کا پیار اپنے بہن بھائیوں کے لیے بڑھتا ہی گیا۔ وہ اُن سے اِتنی گہری محبت کرتے تھے کہ کچھ موقعوں پر تو وہ اپنے اُن ہمایمانوںکے ساتھ ’روئے جو رو رہے تھے‘ یعنی تکلیف سے گزر رہے تھے۔ (روم 12:15؛ 2-تیم 1:4) جوان بھائی تیمُتھیُس کی مثال پر کیسے عمل کر سکتے ہیں؟
10. بھائی اُوشے نے دوسروں کی بھلائی میں دلچسپی لینا کیسے سیکھا؟
10 ذرا اُوشے نام کے بھائی کی مثال پر غور کریں جنہوں نے دوسروں کی بھلائی میں دلچسپی لینا سیکھا۔ جب وہ نوجوان تھے تو بھائی اُوشے کو بڑی عمر کے بہن بھائیوں کے ساتھ باتچیت کرنا مشکل لگتا تھا۔ وہ بس اُنہیں سلام کر کے آگے بڑھ جاتے تھے۔ لیکن پھر ایک بزرگ نے بھائی اُوشے کو مشورہ دیا کہ وہ اپنے ہمایمانوں سے باتچیت شروع کرنے کے لیے اُنہیں بتائیں کہ اُنہیں اُن کی کون سی بات اچھی لگتی ہے۔ اُس بزرگ نے بھائی اُوشے کو کچھ ایسی باتیں سوچنے کے لیے بھی کہا جن میں دوسرے دلچسپی رکھتے ہیں۔ بھائی اُوشے نے اُس بزرگ کے مشوروں پر عمل کِیا۔ اب بھائی اُوشے خود بھی کلیسیا میں ایک بزرگ ہیں۔ اُنہوں نے کہا: ”اب میرے لیے ہر عمر کے لوگوں سے باتچیت کرنا آسان ہو گیا ہے۔ مَیں بہت خوش ہوں کہ اب مَیں اپنے ہمایمانوں کے حالات اور اُن کی مشکلوں کو بہتر طور پر سمجھ سکتا ہوں اور اِس وجہ سے مَیں اُن کی اچھے سے مدد کر پاتا ہوں۔“
11. جوان بھائی اپنی کلیسیا کے بہن بھائیوں کی بھلائی میں دلچسپی کیسے لے سکتے ہیں؟ (تصویر کو بھی دیکھیں۔)
11 جوان بھائیو! آپ بھی دوسروں کی بھلائی میں دلچسپی لینا سیکھ سکتے ہیں۔ جب آپ عبادتوں میں ہوتے ہیں تو ہر عمر اور پسمنظر کے بہن بھائیوں سے بات کرنے کی کوشش کریں۔ اُن سے اُن کا حال چال پوچھیں اور پھر اُن کی بات کو دھیان سے سنیں۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ آپ دیکھ پائیں گے کہ آپ کن طریقوں سے اُن کی مدد کر سکتے ہیں۔ شاید آپ کو پتہ چلے گا کہ کسی بوڑھے میاں بیوی کو جےڈبلیو لائبریری ایپ اِستعمال کرنے کے حوالے سے مدد کی ضرورت ہے۔ یا پھر اُنہیں مُنادی میں کسی مبشر کے ساتھ کی ضرورت ہے۔ کیا آپ اُنہیں ٹیبلٹ یا فون وغیرہ اِستعمال کرنا سکھا سکتے ہیں یا پھر مُنادی کے لیے اُن کے ساتھ جا سکتے ہیں؟ جب آپ دوسروں کی مدد کرنے میں پہل کریں گے تو آپ سب کے لیے اچھی مثال قائم کریں گے۔
نوجوان بھائی مختلف طریقوں سے کلیسیا کے بہن بھائیوں کی مدد کر سکتے ہیں۔ (پیراگراف نمبر 11 کو دیکھیں۔)
پولُس کی شفقت بھری نصیحتوں سے فائدہ اُٹھائیں
12. جوان بھائی اُن نصیحتوں سے فائدہ کیسے حاصل کر سکتے ہیں جو پولُس نے تیمُتھیُس کو کیں؟
12 پولُس نے تیمُتھیُس کو ایسی فائدہمند نصیحتیں کیں جن پر عمل کرنے سے تیمُتھیُس اچھی طرح سے یہوواہ کی خدمت کر پائے اور اُنہیں ایسا کرنے سے بہت خوشی ملی۔ (1-تیم 1:18؛ 2-تیم 4:5) آج جوان بھائیوں کو بھی پولُس کی اِن شفقت بھری نصیحتوں پر عمل کرنے سے فائدہ ہو سکتا ہے۔ وہ کیسے؟ پولُس نے تیمُتھیُس کو جو دو خط لکھے، کیوں نہ اُنہیں اِس طرح سے پڑھیں جیسے پولُس نے یہ آپ کے لیے لکھے ہوں اور پھر دیکھیں کہ آپ اِن میں دیے گئے مشوروں پر کیسے عمل کر سکتے ہیں۔ اِس سلسلے میں آئیے کچھ مثالوں پر غور کرتے ہیں۔
13. کیا چیز یہوواہ کا اَور زیادہ وفادار رہنے میں آپ کی مدد کرے گی؟
13 ”خدا کی بندگی کرنے کا عزم کریں اور اِس سلسلے میں اپنی تربیت کریں۔“ (1-تیم 4:7) اِصطلاح ”خدا کی بندگی“ کا کیا مطلب ہے؟ اِس کا مطلب یہوواہ سے گہرا لگاؤ رکھنا اور اپنے دل میں اُس کا وفادار رہنے اور اُسے خوش کرنے کی خواہش رکھنا ہے۔ یہ باتیں پیدائشی طور پر ہم میں نہیں ہوتیں۔ یہوواہ کے لیے ایسی وفاداری اور محبت پیدا کرنے کے لیے ہمیں سخت کوشش کرنی پڑتی ہے۔ یہ بات ہمیں پولُس کے الفاظ سے پتہ چلتی ہے۔ جس یونانی اِصطلاح کا ترجمہ ”تربیت کریں“ کِیا گیا ہے، وہ اکثر ایسے کھلاڑیوں کے لیے اِستعمال ہوئی ہے جو سخت مشق کرتے ہیں تاکہ وہ مقابلے کے لیے تیار ہو سکیں۔ اِن کھلاڑیوں کو اچھی عادتیں اپنانے اور اپنا دھیان اپنے مقصد پر رکھنے کے لیے خود میں ضبطِنفس پیدا کرنا پڑتا ہے۔ ہمیں بھی اپنے اندر ضبطِنفس کی خوبی پیدا کرنی چاہیے تاکہ ہم ایسی عادتیں اپنا سکیں جو یہوواہ کے اَور قریب جانے میں ہماری مدد کر سکیں۔
14. بائبل کو پڑھتے وقت ہمارا مقصد کیا ہونا چاہیے؟ مثال دیں۔
14 یہ بہت ضروری ہے کہ ہم ہر روز بائبل پڑھنے کی عادت اپنائیں۔ لیکن ایسا کرتے وقت ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ ہمیں بائبل اِس مقصد سے پڑھنی چاہیے تاکہ ہم یہوواہ کے اَور قریب ہو جائیں۔ مثال کے طور پر ذرا سوچیں کہ آپ اُس واقعے سے کیا سیکھ سکتے ہیں جس میں یسوع مسیح ایک جوان امیر حاکم سے بات کر رہے تھے۔ (مر 10:17-22) وہ جوان آدمی مانتا تھا کہ یسوع ہی مسیح ہیں لیکن اُس کا ایمان اِتنا مضبوط نہیں تھا کہ وہ یسوع کا پیروکار بن جاتا۔ لیکن پھر بھی یسوع کو ”اُس پر پیار آیا۔“ یسوع نے جس شفقت بھرے انداز میں اُس سے بات کی، کیا یہ بات آپ کے دل کو نہیں چُھو لیتی؟ بےشک یسوع چاہتے تھے کہ وہ شخص اپنے لیے اچھا فیصلہ لے۔ اِس کے علاوہ یسوع نے اُس شخص کے لیے جو محبت محسوس کی، اُس سے ہم یہوواہ کی اُس شخص کے لیے محبت صاف طور پر دیکھ پاتے ہیں۔ (یوح 14:9) تو جب آپ اِس واقعے پر اور اپنی صورتحال پر سوچ بچار کرتے ہیں تو خود سے پوچھیں: ”مجھے یہوواہ کے اَور قریب ہونے اور دوسروں کی اَور زیادہ خدمت کرنے کے لیے کیا کرنے کی ضرورت ہے؟“
15. ایک جوان بھائی کو دوسروں کے لیے اچھی مثال کیوں قائم کرنی چاہیے؟ ایک مثال دیں۔ (1-تیمُتھیُس 4:12، 13)
15 ”اُن لوگوں کے لیے مثال قائم کریں جو خدا کے وفادار ہیں۔“ (1-تیمُتھیُس 4:12، 13 کو پڑھیں۔) پولُس نے تیمُتھیُس کو صرف یہی نصیحت نہیں کی کہ وہ تعلیم دینے اور صحیفوں کی تلاوت کرنے کی مہارت کو نکھاریں بلکہ اُنہوں نے اُنہیں یہ نصیحت بھی کی کہ وہ خود میں محبت، ایمان اور پاکیزگی جیسی خوبیاں بھی پیدا کریں۔ اُنہوں نے ایسا کیوں کہا؟ کیونکہ ہماری باتوں سے زیادہ ہماری اچھی مثال کا لوگوں پر گہرا اثر ہو سکتا ہے۔ فرض کریں کہ آپ کو اِجلاس میں جوش سے مُنادی کرنے کے حوالے سے تقریر کرنے کو کہا جاتا ہے۔ لیکن آپ تبھی اِس موضوع پر کُھل کر اور پورے اِعتماد سے بات کر پائیں گے اگر آپ خود بھی اِس حوالے سے اچھی مثال قائم کر رہے ہیں۔ آپ کی اچھی مثال سے آپ کی باتوں میں وزن آ جائے گا اور لوگوں کے دل میں اِن باتوں پر عمل کرنے کا جذبہ پیدا ہوگا۔—1-تیم 3:13۔
16. (الف)جوان مسیحی کن پانچ طریقوں سے دوسروں کے لیے اچھی مثال قائم کر سکتے ہیں؟ (ب)ایک جوان بھائی ”اپنی باتوں“ سے دوسروں کے لیے اچھی مثال کیسے بن سکتا ہے؟
16 پہلا تیمُتھیُس 4:12 میں پانچ ایسے طریقے بتائے گئے ہیں جن میں ایک جوان بھائی اچھی مثال قائم کر سکتا ہے۔ کیوں نہ ذاتی مطالعے کے دوران اِن پانچ طریقوں پر غور کریں؟ فرض کریں کہ آپ ”اپنی باتوں“ سے دوسروں کے لیے اچھی مثال قائم کرنا چاہتے ہیں۔ تو ایسے طریقوں کے بارے میں سوچیں جن میں آپ اپنی باتوں کے ذریعے دوسروں کا حوصلہ بڑھا سکتے ہیں۔ مثال کے طور پر کیا آپ اکثر اُن کاموں کے لیے اپنے امی ابو کا شکریہ ادا کر سکتے ہیں جو وہ آپ کے لیے کر رہے ہیں؟ یا پھر کیا آپ کسی بھائی یا بہن کو بتا سکتے ہیں کہ آپ کو اِجلاس میں اُس کے حصے میں کون سی بات بہت اچھی لگی؟ آپ اِجلاسوں میں اپنے الفاظ میں جواب دینے کی بھی کوشش کر سکتے ہیں۔ جب آپ اپنی باتوں سے دوسروں کے لیے اچھی مثال قائم کریں گے تو دوسرے دیکھ پائیں گے کہ آپ پختگی حاصل کر رہے ہیں۔—1-تیم 4:15۔
17. کیا چیز ایک جوان بھائی کی مدد کر سکتی ہے تاکہ وہ یہوواہ کی خدمت کے حوالے سے اپنے منصوبے کو پورا کر سکے؟ (2-تیمُتھیُس 2:22)
17 ’جوانی کی خواہشوں سے بھاگیں اور نیکی کی جستجو کریں۔‘ (2-تیمُتھیُس 2:22 کو پڑھیں۔) پولُس رسول نے تیمُتھیُس کو نصیحت کی کہ وہ اپنی اُن خواہشوں سے لڑیں جن کی وجہ سے اُن کا دھیان یہوواہ کی خدمت سے ہٹ سکتا ہے اور یہوواہ کے ساتھ اُن کی دوستی کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔ شاید آپ نے بھی دیکھا ہوگا کہ کچھ کام اور تفریح ہمارا اِتنا وقت کھا جاتے ہیں کہ ہمارے پاس یہوواہ کی خدمت کرنے کے لیے زیادہ وقت نہیں بچتا حالانکہ یہ کام اور تفریح غلط نہیں ہوتے۔ مثال کے طور پر ذرا سوچیں کہ آپ کوئی کھیل کھیلنے، اِنٹرنیٹ اِستعمال کرنے یا کوئی ویڈیو گیم کھیلنے میں کتنا وقت لگاتے ہیں۔ کیا آپ اِس میں سے کچھ وقت یہوواہ اور دوسروں کی اَور زیادہ خدمت کرنے کے لیے اِستعمال کر سکتے ہیں؟ شاید آپ عبادتگاہ کی مرمت اور دیکھبھال کرنے یا پھر ٹرالی کے ذریعے گواہی دینے کے لیے خود کو پیش کر سکتے ہیں۔ اگر آپ ایسے کاموں میں اپنا وقت لگائیں گے تو آپ نئے دوست بنا پائیں گے جو یہوواہ کی خدمت کے حوالے سے منصوبے بنانے اور اِنہیں پورا کرنے میں آپ کی مدد کر سکتے ہیں۔
دوسروں کی خدمت کرنے سے برکتیں حاصل کریں
18. مرقس اور تیمُتھیُس کو کون سی برکتیں ملیں؟
18 مرقس اور تیمُتھیُس نے یہوواہ اور دوسروں کی اَور زیادہ خدمت کرنے کے لیے قربانیاں دیں۔ اِس کے نتیجے میں اُن کی زندگی خوشیوں سے بھر گئی اور اُنہیں برکتیں ملیں۔ (اعما 20:35) مرقس نے اپنے بہن بھائیوں کی خدمت کرنے کے لیے فرق فرق علاقوں کا سفر کِیا۔ اُنہوں نے یسوع مسیح کی زندگی اور خدمت کے بارے میں بہت سی شاندار باتیں بھی لکھیں۔ تیمُتھیُس نے نئی کلیسیائیں قائم کرنے اور بہن بھائیوں کا حوصلہ بڑھانے میں پولُس کی بہت مدد کی۔ بےشک یہوواہ اِن دونوں بھائیوں کی اُن تمام قربانیوں کو دیکھ رہا تھا جو وہ اُس کی خدمت کرنے کے لیے دے رہے تھے اور یہوواہ اِن سے بہت خوش تھا۔ یقیناً اِس خیال سے مرقس اور تیمُتھیُس کو بھی بہت خوشی ملی ہوگی۔
19. جوان بھائیوں کو پولُس کی اُن نصیحتوں پر دھیان کیوں دینا چاہیے جو اُنہوں نے تیمُتھیُس کو کی تھیں اور ایسا کرنے کا کیا نتیجہ نکلے گا؟
19 پولُس سچے دل سے تیمُتھیُس سے محبت کرتے تھے۔ اِس بات کا ثبوت ہمیں اُن کے اُن خطوں سے ملتا ہے جو اُنہوں نے اپنے اِس عزیز دوست کو لکھے تھے۔ یہ خط یہوواہ کی پاک روح سے لکھے گئے تھے۔ اِس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہوواہ ہمارے جوان بھائیوں سے کتنی محبت کرتا ہے۔ جوان بھائیو! یہوواہ چاہتا ہے کہ آپ اپنی زندگی میں کامیاب ہوں۔ تو پولُس کی شفقت بھری نصیحتوں کو اپنے دل میں بٹھا لیں اور خود میں یہوواہ اور دوسروں کی اَور زیادہ خدمت کرنے کا جذبہ پیدا کریں۔ اگر آپ ایسا کریں گے تو آپ نہ صرف اب ایک اچھی زندگی گزار پائیں گے بلکہ آپ ”حقیقی زندگی کو[بھی]مضبوطی سے تھام سکیں“ گے۔—1-تیم 6:18، 19۔
گیت نمبر 80: آزما کر دیکھو کہ یہوواہ کتنا مہربان ہے
a پطرس ایک بہت جذباتی شخص تھے۔ اِس لیے وہ بڑی اچھی طرح سے مرقس کو بتا سکتے تھے کہ مختلف موقعوں پر یسوع نے کس طرح کے احساسات اور جذبات ظاہر کیے۔ یہ بات ہمیں مرقس کی اُن تحریروں میں صاف نظر آتی ہے جن میں اُنہوں نے یسوع مسیح کی زندگی پر بات کرتے ہوئے اکثر اُن کے احساسات بیان کیے۔—مر 3:5؛ 7:34؛ 8:12۔
b تصویر کی وضاحت: پولُس اور برنباس مشنریوں کے طور پر خدمت کر رہے ہیں اور مرقس اُن کی خدمت کر رہے ہیں۔ تیمُتھیُس خوشی سے ایک کلیسیا کے بہن بھائیوں کے ایمان کو مضبوط کرنے اور اُن کا حوصلہ بڑھانے کے لیے اُن سے ملنے گئے ہیں۔