مطالعے کا مضمون نمبر 11
گیت نمبر 129: ہم ثابتقدم رہیں گے
اپنی اور دوسروں کی خامیوں کے باوجود بھی یہوواہ کی خدمت کرتے رہیں
”آپ نے میرے نام کی خاطر مصیبتوں کو برداشت کِیا ہے اور ہمت نہیں ہاری۔“—مُکا 2:3۔
غور کریں:
ہم اپنی اور دوسروں کی خامیوں کے باوجود بھی یہوواہ کی خدمت کرتے رہ سکتے ہیں۔
1. یہوواہ کی تنظیم کا حصہ ہونے کی وجہ سے ہمیں کون سی برکتیں ملتی ہیں؟
یہ ہمارے لیے بہت بڑا اعزاز ہے کہ اِس آخری زمانے میں ہم یہوواہ کی تنظیم سے جُڑے ہوئے ہیں۔ اِس دُنیا کے حالات دنبہدن بگڑتے جا رہے ہیں۔ لیکن یہوواہ نے ہمیں ایک ایسا خاندان دیا ہے جو آپس میں متحد ہے۔ (زبور 133:1) یہوواہ ہماری مدد کرتا ہے تاکہ ہم ایک گھرانے کے طور پر خوش رہ سکیں۔ (اِفِس 5:33–6:1) اور وہ ہمیں دانشمندی دیتا ہے تاکہ ہمیں دلی اِطمینان ملے اور ہم خوش رہ سکیں۔
2. ہمیں کیا کرنا چاہیے اور کیوں؟
2 لیکن ہمیں وفاداری سے یہوواہ کی خدمت کرتے رہنے کے لیے محنت کرنی ہوگی۔ لیکن کیوں؟ کیونکہ ہو سکتا ہے کہ کبھی کبھار ہمیں دوسروں کا کوئی کام یا بات بُری لگے۔ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ ہم اپنی غلطیوں کی وجہ سے بےحوصلہ ہو جائیں، خاص طور پر اُس وقت جب ہم کوئی غلطی بار بار کرتے ہیں۔ لیکن ہمیں اُس وقت بھی یہوواہ کی خدمت کرتے رہنا چاہیے جب (1)ہمارا کوئی ہمایمان ہمیں غصہ دِلاتا ہے، (2)ہمارا جیون ساتھی ہمیں مایوس کر دیتا ہے اور (3)ہم اپنی غلطیوں کی وجہ سے بےحوصلہ ہو جاتے ہیں۔ اِس مضمون میں ہم اِن میں سے ہر صورتحال پر بات کریں گے۔ ہم یہ بھی دیکھیں گے کہ ہم خدا کے کچھ بندوں کی مثال پر غور کرنے سے کیا سیکھ سکتے ہیں۔
اُس وقت یہوواہ کے وفادار رہیں جب آپ کا کوئی ہمایمان آپ کو غصہ دِلاتا ہے
3. یہوواہ کے کچھ بندوں کو کس مشکل کا سامنا کرنا پڑتا ہے؟
3 مشکل۔ ہو سکتا ہے کہ ہمارے کچھ ہمایمانوں میں ایسی عادتیں ہوں جن کی وجہ سے ہم چڑ جائیں۔ کچھ شاید ہمیں نیچا دِکھائیں یا ہمارے ساتھ بُری طرح پیش آئیں۔ ہو سکتا ہے کہ کلیسیا میں پیشوائی کرنے والے بھائیوں سے بھی کوئی غلطی ہو جائے۔ اِن باتوں کی وجہ سے کچھ لوگ اِس بات پر شک کرنے لگتے ہیں کہ یہ یہوواہ کی تنظیم ہے۔ اِس لیے وہ اپنے ہمایمانوں کے ساتھ ”ایک دل ہو کر“ یہوواہ کی عبادت کرنے کی بجائے اپنے بہن بھائیوں سے دُور ہو جاتے ہیں یہاں تک کہ عبادتوں میں آنا بھی چھوڑ دیتے ہیں۔ (صِفَن 3:9) کیا ایسا کرنا صحیح ہے؟ آئیے بائبل سے ایک شخص کی مثال پر غور کر کے دیکھتے ہیں کہ جب اُسے ایسی ہی صورتحال کا سامنا ہوا تو اُس نے کیا کِیا۔
4. پولُس رسول کو کن مشکلوں کا سامنا کرنا پڑا؟
4 بائبل سے مثال۔ پولُس جانتے تھے کہ اُن کے ہمایمان عیبدار ہیں۔ مثال کے طور پر جب پولُس کلیسیا میں شامل ہوئے تو کچھ مسیحی اِس بات پر یقین نہیں کر پا رہے تھے کہ وہ واقعی مسیح کے شاگرد بن گئے ہیں۔ (اعما 9:26) بعد میں کچھ لوگوں نے پولُس کی پیٹھ پیچھے ایسی باتیں کرنی شروع کر دیں جن کی وجہ سے اُن کی بدنامی ہو سکتی تھی۔ (2-کُر 10:10) پولُس نے کلیسیا میں پیشوائی کرنے والے ایک بھائی کو ایک ایسا غلط فیصلہ لیتے دیکھا جس کی وجہ سے دوسروں کو ٹھیس پہنچ سکتی تھی۔ (گل 2:11، 12) اور پولُس کے اپنے دوست یعنی مرقس نے اُنہیں مایوس کر دیا۔ (اعما 15:37، 38) لیکن اِن باتوں کی وجہ سے پولُس نے اپنے اِن ہمایمانوں کے ساتھ ملناجلنا نہیں چھوڑا۔ اِس کی بجائے اُنہوں نے اپنے بہن بھائیوں کے بارے میں صحیح سوچ رکھی اور وہ لگن سے یہوواہ کی خدمت کرتے رہے۔ ایسا کرنے میں کس چیز نے اُن کی مدد کی؟
5. کس چیز نے پولُس کی مدد کی کہ وہ اپنے بہن بھائیوں سے دُور نہ ہوں؟ (کُلسّیوں 3:13، 14) (تصویر کو بھی دیکھیں۔)
5 پولُس کو اپنے بہن بھائیوں سے محبت تھی۔ اِس محبت کی وجہ سے وہ اپنا دھیان اُن کی خامیوں پر نہیں بلکہ اُن کی خوبیوں پر رکھتے تھے۔ اِسی محبت کی وجہ سے پولُس نے وہ کام خود بھی کِیا جس کا ذکر اُنہوں نے کُلسّیوں 3:13، 14 میں کِیا۔ (اِن آیتوں کو پڑھیں۔) ذرا غور کریں کہ پولُس نے مرقس کو معاف کرنے کے حوالے سے کتنی اچھی مثال قائم کی! حالانکہ مرقس پولُس کو اُن کے پہلے مشنری دورے پر اکیلا چھوڑ گئے تھے لیکن پھر بھی پولُس اُن سے ناراض نہیں رہے۔ بعد میں جب اُنہوں نے کُلسّے کی کلیسیا کے نام خط لکھا تو اُنہوں نے مرقس کو اپنا ہمخدمت کہا اور یہ بھی کہ اُن کی وجہ سے اُنہیں ”بڑی تسلی ملی ہے۔“ (کُل 4:10، 11) جب پولُس روم میں قید تھے تو اُنہوں نے مرقس کو مدد کے لیے بُلایا۔ (2-تیم 4:11) یہ بات صاف ظاہر ہے کہ پولُس اپنے بہن بھائیوں سے دُور نہیں ہوئے۔ ہم پولُس سے کیا سیکھتے ہیں؟
جب پولُس برنباس اور مرقس سے متفق نہیں تھے تو وہ اُن سے ناراض نہیں رہے بلکہ اُنہوں نے بعد میں اُن کے ساتھ مل کر کام کِیا۔ (پیراگراف نمبر 5 کو دیکھیں۔)
6-7. کیا چیز ہماری مدد کر سکتی ہے کہ ہم اپنے بہن بھائیوں کی غلطیوں کے باوجود بھی اُن سے محبت کرتے رہیں؟ (1-یوحنا 4:7)
6 ہم کیا سیکھتے ہیں؟ یہوواہ چاہتا ہے کہ ہم اپنے بہن بھائیوں کے لیے محبت دِکھاتے رہیں۔ (1-یوحنا 4:7 کو پڑھیں۔) اگر ہمارا کوئی بھائی یا بہن ہمارے ساتھ اُس طرح پیش نہیں آتا جس طرح ایک مسیحی کو آنا چاہیے تو بھی ہمیں اِس بات کا یقین رکھنا چاہیے کہ وہ بائبل کے اصولوں پر عمل کرنے کی پوری کوشش کر رہا ہے اور اُس کا مقصد ہمیں تکلیف پہنچانا نہیں ہے۔ (اَمثا 12:18) خدا بھی اپنے بندوں کی غلطیوں کے باوجود اُن سے محبت کرتا ہے۔ جب ہم سے غلطیاں ہو جاتی ہیں تو وہ ہم سے دوستی نہیں توڑ لیتا اور نہ ہی ناراض رہتا ہے۔ (زبور 103:9) یہ کتنا ضروری ہے کہ ہم اپنے آسمانی باپ کی مثال پر چلیں جو کُھلے دل سے معاف کرتا ہے۔—اِفِس 4:32–5:1۔
7 یہ بات بھی یاد رکھیں کہ جیسے جیسے اِس دُنیا کا خاتمہ نزدیک آ رہا ہے ویسے ویسے ہمیں اپنے بہن بھائیوں کے قریب ہوتے جانا چاہیے۔ ہو سکتا ہے کہ آگے چل کر ہمیں اَور زیادہ اذیت کا سامنا کرنا پڑے۔ شاید ہمیں ہمارے ایمان کی وجہ سے جیل میں ڈال دیا جائے۔ اگر ایسا ہو جاتا ہے تو ہمیں اپنے بہن بھائیوں کی پہلے سے بھی کہیں زیادہ ضرورت ہوگی۔ (اَمثا 17:17) ذرا غور کریں کہ سپین میں رہنے والے جوزفa نام کے ایک بزرگ کے ساتھ کیا ہوا۔ اُنہیں کسی کی طرفداری نہ کرنے کی وجہ سے جیل میں ڈال دیا گیا اور اُن کے ساتھ کچھ اَور بھائی بھی تھے۔ بھائی جوزف نے کہا: ”جیل میں ہم سب ساتھ رہتے تھے۔ اِس لیے اِس بات کا بڑا خطرہ تھا کہ ہم ایک دوسرے کی کسی بات یا کام کی وجہ سے چڑ جائیں۔ ہمیں ایک دوسرے کی غلطیوں کو نظرانداز کرنا تھا اور ایک دوسرے کو معاف کرنا تھا۔ ایسا کرنے سے ہم متحد اور محفوظ رہے کیونکہ ہمارے اِردگِرد ایسے لوگ تھے جو یہوواہ کی عبادت نہیں کرتے تھے۔ ایک بار میرے بازو پر چوٹ لگ گئی اور مَیں کوئی کام نہیں کر سکتا تھا۔ میرے ساتھ جو بھائی تھے، اُن میں سے ایک نے میرے کپڑے دھوئے اور دوسرے طریقوں سے میری مدد کی۔ مَیں نے ایسی صورتحال میں اپنے ہمایمانوں کی محبت کو محسوس کِیا جب مجھے اِس کی سب سے زیادہ ضرورت تھی۔“ یہ کتنا ضروری ہے کہ ہم آپس کے مسئلوں کو ابھی سلجھا لیں!
اُس وقت یہوواہ کے وفادار رہیں جب آپ کا جیون ساتھی آپ کو مایوس کر دیتا ہے
8. میاں بیوی کو کس مشکل کا سامنا کرنا پڑتا ہے؟
8 مشکل۔ ہر شادیشُدہ زندگی میں مسئلے کھڑے ہوتے ہیں۔ بائبل میں صاف صاف بتایا گیا ہے کہ جو لوگ شادی کرتے ہیں، ”اُنہیں مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا۔“ (1-کُر 7:28) لیکن کیوں؟ کیونکہ شادی کے بندھن میں دو ایسے لوگ بندھتے ہیں جن کی عادتیں اور پسند اور ناپسند ایک دوسرے سے فرق ہوتی ہے۔ ہو سکتا ہے کہ اُن کی پرورش ایک دوسرے سے فرق ماحول میں ہوئی ہو۔ وقت کے ساتھ ساتھ شاید میاں بیوی کو ایک دوسرے کی ایسی عادتیں نظر آنے لگیں جن کے بارے میں اُنہیں شادی سے پہلے پتہ نہیں تھا۔ اِن باتوں کی وجہ مسئلے کھڑے ہو سکتے ہیں۔ لیکن شاید میاں بیوی مل کر اِن مسئلوں کو سلجھانے کی بجائے ایک دوسرے پر اِلزام لگانے لگ جائیں۔ شاید وہ یہ سوچنے لگیں کہ اب علیٰحدگی یا طلاق ہی حل ہے۔ لیکن کیا ایسا کرنے سے واقعی مسئلے حل ہوتے ہیں؟b آئیے بائبل سے ایک ایسی عورت کی مثال پر غور کرتے ہیں جس کے شوہر نے اُس کی زندگی بہت مشکل بنا دی تھی لیکن وہ پھر بھی یہوواہ کی وفادار رہی۔
9. ابیجیل کو کس مشکل کا سامنا تھا؟
9 بائبل سے مثال۔ ابیجیل کی شادی نابال نام کے ایک شخص سے ہوئی تھی جس کے بارے میں بائبل میں بتایا گیا ہے کہ وہ بہت سختمزاج تھا اور دوسروں کے ساتھ بہت بُری طرح پیش آتا تھا۔ (1-سمو 25:3) بےشک ابیجیل کے لیے ایک ایسے شخص کے ساتھ زندگی گزارنا بہت مشکل رہا ہوگا۔ کیا اُنہیں اِس شادی کو ختم کرنے کا موقع ملا تھا؟ جی بالکل۔ جب نابال نے اِسرائیل کے اگلے بادشاہ یعنی داؤد اور اُن کے آدمیوں کی بہت بےعزتی کی تو داؤد اُس کی جان لینے والے تھے۔ (1-سمو 25:9-13) ابیجیل چاہتیں تو وہ اِس معاملے سے دُور رہ سکتی تھیں اور داؤد کو اپنا کام کرنے دے سکتی تھیں۔ لیکن اُنہوں نے ایسا نہیں کِیا۔ اُنہوں نے داؤد کو روکا اور اُن سے کہا کہ وہ نابال کی جان بخش دیں۔ (1-سمو 25:23-27) لیکن اُنہوں نے ایسا کیوں کِیا؟
10. ابیجیل نے اپنی شادی شاید کیوں بچائی ہوگی؟
10 ابیجیل کو یہوواہ سے محبت تھی اور وہ شادی کے حوالے سے اُس کے معیاروں کا احترام کرتی تھیں۔ بےشک وہ جانتی تھیں کہ جب یہوواہ نے آدم اور حوّا کو میاں بیوی بنایا تو اُس نے اُن سے کیا کہا۔ (پید 2:24) ابیجیل کو پتہ تھا کہ یہوواہ کی نظر میں شادی ایک مُقدس بندھن ہے۔ وہ یہوواہ کو خوش کرنا چاہتی تھیں اور اِسی وجہ سے اُنہوں نے اپنی شادی اور اپنے شوہر کو بچایا۔ اُنہوں نے فوراً قدم اُٹھایا اور داؤد کو نابال کو قتل کرنے سے روک دیا۔ وہ اُس غلطی کی معافی مانگنے کو بھی تیار تھیں جو اُنہوں نے نہیں کی تھی۔ بےشک یہوواہ کو ابیجیل سے بہت پیار تھا کیونکہ وہ دلیر تھیں اور اپنے فائدے کا نہیں سوچ رہی تھیں۔ میاں بیوی ابیجیل سے کیا سیکھ سکتے ہیں؟
11. (الف)یہوواہ میاں بیوی سے کیا چاہتا ہے؟ (اِفِسیوں 5:33) (ب)بہن کیرمن نے جس طرح اپنی شادی کو بچانے کی کوشش کی، اُس سے آپ نے کیا سیکھا ہے؟ (تصویر کو بھی دیکھیں۔)
11 ہم کیا سیکھتے ہیں؟ یہوواہ چاہتا ہے کہ میاں بیوی اُس وقت بھی شادی کے بندھن کا احترام کریں اگر اُن کے لیے اپنے جیون ساتھی کے ساتھ زندگی گزارنا آسان نہیں ہے۔ یہوواہ کو یہ دیکھ کر کتنی خوشی ہوتی ہوگی کہ میاں بیوی آپسی مسئلوں کو سلجھا رہے ہیں اور ایک دوسرے کے لیے محبت اور احترام دِکھا رہے ہیں۔ (اِفِسیوں 5:33 کو پڑھیں۔) ذرا کیرمن نام کی بہن کی مثال پر غور کریں۔ اپنی شادی کے چھ سال بعد اُنہوں نے یہوواہ کے گواہوں سے بائبل کورس کرنا شروع کر دیا اور پھر بپتسمہ لے لیا۔ بہن نے کہا: ”میرے شوہر میرے اِس فیصلے سے بالکل خوش نہیں تھے۔ وہ یہوواہ سے جلنے لگے تھے۔ وہ میری بہت بےعزتی کرتے تھے اور مجھے چھوڑ دینے کی دھمکی دیتے تھے۔“ اِس سب کے باوجود بھی بہن کیرمن نے اپنی شادی بچانے کی پوری کوشش کی۔ 50 سال تک وہ اپنے شوہر کے لیے محبت اور احترام دِکھانے کے لیے سخت کوشش کرتی رہیں۔ اُنہوں نے کہا: ”جیسے جیسے وقت گزرتا گیا، مَیں اپنے شوہر کے احساسات سمجھنے لگی۔ مَیں نے اُن سے نرمی سے بات کرنا بھی سیکھا۔ مجھے پتہ تھا کہ یہوواہ کی نظر میں شادی ایک مُقدس بندھن ہے۔ اِس لیے مَیں نے اپنی شادی بچانے کی پوری کوشش کی۔ مَیں نے اپنے شوہر کو چھوڑنے کے بارے میں نہیں سوچا کیونکہ مَیں یہوواہ سے پیار کرتی ہوں۔“c جب آپ کی شادیشُدہ زندگی میں مسئلے کھڑے ہونے لگتے ہیں تو اِس بات کا یقین رکھیں کہ یہوواہ اِن مسئلوں سے نمٹنے میں آپ کی مدد کرے گا اور آپ کا ساتھ دے گا تاکہ آپ اُس کے وفادار رہ سکیں۔
ابیجیل نے اپنا گھر بچانے کے لیے جو کچھ کِیا، اُس سے آپ نے کیا سیکھا ہے؟ (پیراگراف نمبر 11 کو دیکھیں۔)
اُس وقت یہوواہ کے وفادار رہیں جب آپ اپنی غلطیوں کی وجہ سے بےحوصلہ ہو جاتے ہیں
12. اگر ایک شخص سے بہت بڑا گُناہ ہو جاتا ہے تو اُسے کس مشکل کا سامنا کرنا پڑتا ہے؟
12 مشکل۔ اگر ہم سے کوئی بہت بڑا گُناہ ہو جاتا ہے تو شاید ہم بےحوصلہ ہو جائیں۔ بائبل سے پتہ چلتا ہے کہ اپنے گُناہوں کی وجہ سے ہم ”دُکھی“ ہو جاتے ہیں۔ (زبور 51:17) رابرٹ نام کے ایک بھائی نے کئی سالوں تک بہت سخت محنت کی تاکہ وہ کلیسیا میں خادم بن سکیں۔ لیکن پھر اُن سے ایک بہت بڑا گُناہ ہو گیا اور اُنہیں احساس ہونے لگا کہ اُنہوں نے یہوواہ کو دھوکا دیا ہے۔ بھائی نے کہا: ”میرا ضمیر مجھے کوستا رہتا تھا۔ مَیں بہت بُرا محسوس کرتا تھا۔ مَیں نے رو رو کر یہوواہ سے دُعا کی۔ مَیں یہ سوچ رہا تھا کہ یہوواہ میری دُعا نہیں سنے گا۔ بھلا وہ کیوں میری دُعا سنے؟ مَیں نے اُسے اِتنا دُکھ دیا ہے۔“ جب ہم گُناہ کے آگے گھٹنے ٹیک دیتے ہیں تو ہمارا دل بالکل ٹوٹ جاتا ہے اور ہمیں یہ لگنے لگتا ہے کہ یہوواہ ہم سے دُور ہو گیا ہے اور اب اُس کی خدمت کرنے کا کوئی فائدہ نہیں ہے۔ (زبور 38:4) اگر آپ کو بھی ایسا لگتا ہے تو بائبل سے ایک ایسے شخص کی مثال پر غور کریں جو بہت بڑا گُناہ کر بیٹھا لیکن وہ لگن سے یہوواہ کی خدمت کرنے کی کوشش کرتا رہا۔
13. پطرس رسول سے کون سا گُناہ ہو گیا اور اِس سے پہلے وہ کون سی چھوٹی چھوٹی غلطیاں کرتے رہے؟
13 بائبل سے مثال۔ یسوع کی گِرفتاری سے کچھ وقت پہلے پطرس سے بہت سی ایسی غلطیاں ہوئیں جن کی وجہ وہ ایک بہت بڑا گُناہ کر بیٹھے۔ سب سے پہلے تو اُنہوں نے بڑی خوداِعتمادی دِکھائی اور وہ شیخی مارتے ہوئے یہ کہنے لگے کہ چاہے سارے رسول یسوع کو چھوڑ جائیں لیکن وہ ایسا کبھی نہیں کریں گے۔ (مر 14:27-29) پھر گتسمنی کے باغ میں پطرس جاگتے اور چوکس رہنے میں ناکام رہے۔ (مر 14:32، 37-41) اِس کے بعد جب ایک بِھیڑ یسوع کو گِرفتار کرنے آئی تو پطرس اُنہیں چھوڑ کر بھاگ گئے۔ (مر 14:50) پھر پطرس نے تین بار یسوع کو جاننے سے اِنکار کِیا یہاں تک کہ اُنہوں نے قسم بھی کھائی! (مر 14:66-71) جب پطرس کو اپنے اِس گُناہ کا احساس ہوا تو اُنہوں نے کیا کِیا؟ وہ پھوٹ پھوٹ کر رونے لگے۔ وہ اپنے گُناہ پر بہت شرمندہ تھے۔ (مر 14:72) ذرا تصور کریں کہ جب کچھ گھنٹوں بعد پطرس کو پتہ چلا ہوگا کہ اُن کے دوست یسوع کو موت کے گھاٹ اُتار دیا گیا ہے تو اُنہیں خود پر کتنا افسوس ہوا ہوگا!
14. کن باتوں کی وجہ سے پطرس یہوواہ کی خدمت کرتے رہے؟ ( کی تصویر کو دیکھیں۔)
14 ایسی بہت سے باتیں تھیں جن کی وجہ سے پطرس یہوواہ کی خدمت کرتے رہے۔ اُنہوں نے خود کو دوسروں سے الگ تھلگ نہیں کر لیا؛ وہ دوسرے رسولوں کے ساتھ رہے اور بےشک باقی رسولوں نے پطرس کو بہت حوصلہ دیا ہوگا۔ (لُو 24:33) اِس کے علاوہ یسوع زندہ ہونے کے بعد پطرس سے ملے اور شاید یسوع نے ایسا اُن کا حوصلہ بڑھانے کے لیے کِیا۔ (لُو 24:34؛ 1-کُر 15:5) بعد میں یسوع نے پطرس کو اُن کی غلطیاں گنوانے کی بجائے اُنہیں یہ بتایا کہ وہ اُنہیں بہت سی ذمےداریاں دیں گے۔ (یوح 21:15-17) پطرس جانتے تھے کہ اُن سے کتنا بڑا گُناہ ہوا ہے لیکن اُنہوں نے ہمت نہیں ہاری۔ مگر کیوں؟ کیونکہ اُنہیں اِس بات کا پکا یقین تھا کہ اُن کے مالک یسوع نے اُن سے مُنہ نہیں موڑا اور دوسرے رسولوں نے بھی اُن کا ساتھ نہیں چھوڑا۔ ہم پطرس سے کیا سیکھتے ہیں؟
یوحنا 21:15-17 سے پتہ چلتا ہے کہ یسوع نے پطرس سے مُنہ نہیں موڑا اور اِس وجہ سے پطرس یہوواہ کی خدمت کرتے رہے۔ (پیراگراف نمبر 14 کو دیکھیں۔)
15. یہوواہ ہم سے کیا چاہتا ہے؟ (زبور 86:5؛ رومیوں 8:38، 39) (تصویر کو بھی دیکھیں۔)
15 ہم کیا سیکھتے ہیں؟ یہوواہ چاہتا ہے کہ ہم اِس بات کا یقین رکھیں کہ وہ ہم سے محبت کرتا ہے اور وہ ہمیں معاف کرے گا۔ (زبور 86:5؛ رومیوں 8:38، 39 کو پڑھیں۔) جب ہم سے گُناہ ہوتا ہے تو ہم بہت شرمندہ ہوتے ہیں۔ ایسا محسوس کرنا عام بات ہے اور یہ صحیح بھی ہے۔ لیکن ہمیں یہ نہیں سوچنا چاہیے کہ اب یہوواہ ہم سے پیار نہیں کرتا اور ہم معافی کے لائق نہیں ہیں۔ اِس کی بجائے ہمیں فوراً یہوواہ سے مدد مانگنی چاہیے۔ کچھ دیر پہلے ہم نے بھائی رابرٹ کا ذکر کِیا تھا۔ اُنہوں نے کہا: ”مَیں گُناہ اِس لیے کر بیٹھا کیونکہ مَیں آزمائش سے لڑنے کے لیے خود پر بھروسا کر رہا تھا۔“ بھائی سمجھ گئے کہ اُنہیں بزرگوں سے مدد مانگنی چاہیے۔ اُنہوں نے کہا: ”جب مَیں نے بزرگوں سے مدد لی تو مجھے محسوس ہونے لگا کہ یہوواہ مجھ سے پیار کرتا ہے۔ بھائی بھی میرے لیے محبت دِکھاتے رہے۔ اُنہوں نے مجھے اِس بات کا یقین دِلایا کہ یہوواہ نے میرا ساتھ نہیں چھوڑا ہے۔“ ہم بھی اِس بات کا یقین رکھ سکتے ہیں کہ یہوواہ ہم سے بہت پیار کرتا ہے اور اگر ہم اپنے گُناہ سے توبہ کرتے ہیں، بزرگوں سے مدد لیتے ہیں اور اپنی غلطیاں نہیں دُہراتے تو وہ ہمیں معاف کر دیتا ہے۔ (1-یوح 1:8، 9) جب ہمیں اِس بات کا یقین ہو جاتا ہے تو ہم اُس وقت بھی یہوواہ کی خدمت کرنا نہیں چھوڑتے جب ہم سے غلطیاں ہو جاتی ہیں۔
جب آپ دیکھتے ہیں کہ بزرگ آپ کی مدد کرنے کے لیے کتنی سخت محنت کرتے ہیں تو آپ کو کیسا لگتا ہے؟ (پیراگراف نمبر 15 کو دیکھیں۔)
16. آپ نے یہوواہ کی خدمت کرتے رہنے کا عزم کیوں کِیا ہے؟
16 اِس آخری زمانے میں ہم لگن سے یہوواہ کی خدمت کرنے کے لیے جو کچھ بھی کرتے ہیں، وہ اُس کی بہت قدر کرتا ہے۔ یہوواہ کی مدد سے ہم اپنی اور دوسروں کی خامیوں کے باوجود بھی اُس کی خدمت کرتے رہ سکتے ہیں۔ ہم اپنے دل میں اپنے بہن بھائیوں کے لیے محبت بڑھا سکتے ہیں، اُس وقت بھی جب وہ ہمیں غصہ دِلاتے ہیں۔ میاں بیوی اپنے آپسی مسئلوں کو سلجھا لینے سے یہوواہ کے لیے محبت اور اُس کے بنائے ہوئے شادی کے بندھن کے لیے احترام دِکھا سکتے ہیں۔ اور اگر ہم سے کوئی گُناہ ہو جاتا ہے تو ہم یہوواہ سے مدد مانگ سکتے ہیں، اِس بات کا یقین رکھ سکتے ہیں کہ وہ ہم سے پیار کرتا ہے اور ہمیں معاف کرے گا اور ہم اُس کی خدمت کرتے رہ سکتے ہیں۔ ہم اِس بات کا بھروسا رکھ سکتے ہیں کہ اگر ہم ’اچھے کام کرنے میں ہمت نہیں ہاریں گے‘ تو ہمیں ڈھیروں برکتیں ملیں گی۔—گل 6:9۔
ہم اُس وقت بھی یہوواہ کی خدمت کیسے کرتے رہ سکتے ہیں جب . . .
ہمارا کوئی ہمایمان ہمیں غصہ دِلاتا ہے؟
ہمارا جیون ساتھی ہمیں مایوس کر دیتا ہے؟
ہم اپنی غلطیوں کی وجہ سے بےحوصلہ ہو جاتے ہیں؟
گیت نمبر 139: خود کو نئی دُنیا میں تصور کریں
a کچھ نام فرضی ہیں۔
b خدا کے کلام میں بتایا گیا ہے کہ میاں بیوی کو ایک دوسرے علیٰحدہ نہیں ہونا چاہیے۔ اگر ایسا ہو بھی جاتا ہے تو اُن میں سے کوئی دوسری شادی نہیں کر سکتا۔ لیکن کچھ مسیحیوں نے کچھ صورتحال میں اپنے جیون ساتھی سے علیٰحدہ ہونے کا فیصلہ کِیا ہے۔ کتاب ”خوشیوں بھری زندگی!“ میں کچھ خاص نکات میں نکتہ نمبر 4 ”علیٰحدگی“ کو دیکھیں۔
c اِس جیسی ایک اَور مثال کے لیے jw.org پر ویڈیو ”امن اور سلامتی کے نام پر دھوکا نہ کھائیں—ڈیرل اور ڈیبرا فریذنگر“ کو دیکھیں۔