یہوواہ کے گواہوں کی آن لائن لائبریری
یہوواہ کے گواہوں کی
آن لائن لائبریری
اُردو
  • بائبل
  • مطبوعات
  • اِجلاس
  • م20 فروری ص.‏ 26-‏30
  • عمدہ مثالوں سے سیکھنے کی وجہ سے مجھے بہت برکتیں ملیں

اِس حصے میں کوئی ویڈیو دستیاب نہیں ہے۔

ہم معذرت خواہ ہیں کہ ویڈیو لوڈ نہیں ہو سکی۔

  • عمدہ مثالوں سے سیکھنے کی وجہ سے مجھے بہت برکتیں ملیں
  • مینارِنگہبانی یہوواہ خدا کی بادشاہت کا اعلان کرتا ہے (‏مطالعے کا ایڈیشن)‏—‏2020ء
  • ذیلی عنوان
  • ملتا جلتا مواد
  • مَیں نے مُنادی کے سلسلے میں اپنے ڈر پر قابو پا لیا
  • کیوبیک سٹی میں خصوصی پہل‌کار کے طور پر خدمت
  • سفری نگہبان کے طور پر خدمت
  • ایک اہم سال
  • ایک نئے علاقے میں خدمت
  • یہوواہ نے مجھے میرے بچپن سے ہی ٹریننگ دی
    مینارِنگہبانی یہوواہ خدا کی بادشاہت کا اعلان کرتا ہے (‏مطالعے کا ایڈیشن)‏—‏2026ء
  • دوسروں کی مدد کرنے کے فائدے ہمیشہ تک رہتے ہیں
    مینارِنگہبانی یہوواہ خدا کی بادشاہت کا اعلان کرتا ہے (‏مطالعے کا ایڈیشن)‏—‏2023ء
  • کیوبیک میں ہمارے کام کو قانونی حیثیت کیسے حاصل ہوئی؟‏
    مسیحی زندگی اور خدمت—‏اِجلاس کا قاعدہ (‏2019ء)‏
  • یہوواہ میری پناہ‌گاہ اور میری طاقت ہے
    مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏2000ء
مزید
مینارِنگہبانی یہوواہ خدا کی بادشاہت کا اعلان کرتا ہے (‏مطالعے کا ایڈیشن)‏—‏2020ء
م20 فروری ص.‏ 26-‏30

آپ‌بیتی

عمدہ مثالوں سے سیکھنے کی وجہ سے مجھے بہت برکتیں ملیں

لیونس کریپولٹ کی زبانی

لیونس کریپولٹ کی جوانی کی تصویر

جب مَیں نوجوان تھا تو مجھے مُنادی کرنا مشکل لگتا تھا۔ جیسے جیسے مَیں بڑا ہوا، مجھے ایسی ذمے‌داریاں ملیں جن کے سلسلے میں مجھے لگتا تھا کہ مَیں اِنہیں پورا نہیں کر پاؤں گا۔ آئیں، مَیں آپ کو بتاؤں کہ کچھ بہن بھائیوں کی عمدہ مثال پر غور کرنے سے مَیں اپنے خوف پر قابو پانے اور اپنی 58 سالہ کُل‌وقتی خدمت سے لطف اُٹھانے کے قابل کیسے ہوا۔‏

مَیں کینیڈا کے صوبے کیوبیک کے دارالحکومت کیوبیک سٹی میں پیدا ہوا جہاں فرانسیسی زبان بولی جاتی ہے۔ میرے امی ابو بہت اچھے تھے اور مجھ سے بہت پیار کرتے تھے۔ میرے ابو ذرا شرمیلی طبیعت کے تھے اور اُنہیں کتابیں پڑھنا بہت پسند تھا۔ مجھے مضامین لکھنے کا شوق تھا اور مجھے اُمید تھی کہ ایک دن مَیں صحافی بن جاؤں گا۔‏

جب مَیں 12 سال کا تھا تو روڈلف سوسی جو میرے ابو کے ساتھ کام کرتے تھے، اپنے ایک دوست کے ساتھ ہمارے گھر آئے۔ وہ دونوں یہوواہ کے گواہ تھے۔ مَیں یہوواہ کے گواہوں کے بارے میں زیادہ نہیں جانتا تھا اور نہ ہی مجھے اُن کے مذہب میں کوئی خاص دلچسپی تھی۔ لیکن مجھے یہ بات بڑی اچھی لگی کہ اُنہوں نے بڑی نرمی اور سمجھ‌داری سے بائبل کے ذریعے ہمارے سوالوں کے جواب دیے۔ میرے امی ابو بھی اِس بات سے بڑے متاثر ہوئے اِس لیے ہم نے یہوواہ کے گواہوں سے بائبل کورس کرنا شروع کر دیا۔‏

اُس وقت مَیں ایک کیتھولک سکول میں پڑھتا تھا۔ کبھی کبھار مَیں اپنے ہم‌جماعتوں کو وہ باتیں بتاتا تھا جو مَیں بائبل کورس کے دوران سیکھ رہا تھا۔ آخرکار میرے اُستادوں کو جو کہ پادری تھے، اِس بات کا پتہ چل گیا۔ میری باتوں کو بائبل سے غلط ثابت کرنے کی بجائے ایک اُستاد نے ساری جماعت کے سامنے مجھ پر باغی ہونے کا اِلزام لگایا۔ حالانکہ یہ صورتحال کافی پریشان‌کُن تھی لیکن اِس کے اچھے نتائج نکلے کیونکہ اِس کے ذریعے مَیں دیکھ پایا کہ سکول میں جو مذہبی تعلیم دی جا رہی ہے، وہ بائبل کی تعلیم سے میل نہیں کھاتی۔ مجھے محسوس ہوا کہ مجھے یہ سکول چھوڑ دینا چاہیے۔ اپنے امی ابو کی اِجازت سے مَیں نے ایک دوسرے سکول میں داخلہ لے لیا۔‏

مَیں نے مُنادی کے سلسلے میں اپنے ڈر پر قابو پا لیا

مَیں نے بائبل کورس جاری رکھا لیکن مَیں اِس سے آگے نہیں بڑھ پا رہا تھا کیونکہ مجھے گھر گھر مُنادی کرنے سے ڈر لگتا تھا۔ اُس وقت کیتھولک چرچ کا بڑا اثرورسوخ تھا اور لوگ ہمارے مُنادی کے کام کی سخت مخالفت کرتے تھے۔ کیوبیک کا ایک سیاسی رہنما موریس ڈوپلیس کیتھولک چرچ کا بڑا حامی تھا۔ اُس کی مدد سے ہجوم یہوواہ کے گواہوں کو ڈراتے دھمکاتے تھے، یہاں تک کہ اُن پر حملے کرتے تھے۔ اُس زمانے میں مُنادی کرنے کے لیے بڑی دلیری کی ضرورت تھی۔‏

ایک بھائی نے جن کا نام جان رے تھا، میری مدد کی کہ مَیں اپنے ڈر پر قابو پا سکوں۔ جان نے گلئیڈ سکول کی نویں کلاس سے تربیت حاصل کی تھی۔ وہ بڑے تجربہ‌کار، نرم‌مزاج اور خاکسار تھے اور اُن سے بات کرنا بہت آسان تھا۔ بہت کم موقعوں پر ایسا ہوا کہ اُنہوں نے براہِ‌راست میری اِصلاح کی ہو۔ وہ اپنی اچھی مثال سے دوسروں کو سکھاتے تھے۔ جان کو فرانسیسی زبان بولنا مشکل لگتا تھا اِس لیے مَیں اُن کی مدد کے لیے مُنادی میں اکثر اُن کے ساتھ جاتا تھا۔ جان کے ساتھ وقت گزارنے کی وجہ سے آخرکار مَیں یہوواہ کا گواہ بننے کا فیصلہ کر پایا۔ گواہوں سے پہلی ملاقات کے دس سال بعد یعنی 26 مئی 1951ء کو مَیں نے بپتسمہ لے لیا۔‏

لیونس کریپولٹ اور جان رے اپنے کچھ دوستوں کے ساتھ

بھائی جان رے (‏1)‏ کی اچھی مثال کی بدولت مَیں (‏2)‏ گھر گھر مُنادی کرنے کے اپنے خوف پر قابو پانے کے قابل ہوا۔‏

کیوبیک سٹی میں ہماری چھوٹی سی کلیسیا میں زیادہ‌تر بہن بھائی پہل‌کار تھے۔ اُن کی اچھی مثال کو دیکھ کر مجھ میں بھی پہل‌کار کے طور پر خدمت کرنے کا جذبہ پیدا ہوا۔ اُس زمانے میں ہم گھر گھر مُنادی کے دوران صرف بائبل اِستعمال کرتے تھے۔ چونکہ ہم مُنادی میں لوگوں کو کتابیں اور رسالے نہیں دیتے تھے اِس لیے ہمیں بائبل کو زیادہ مؤثر طریقے سے اِستعمال کرنا سیکھنا پڑتا تھا۔ مَیں نے بھی یہ کوشش کی کہ مَیں بائبل کی آیتوں سے اچھی طرح واقف ہوں تاکہ مَیں اپنے ایمان کا دِفاع کر سکوں۔ لیکن بہت سے لوگ بائبل کا کوئی بھی ایسا ترجمہ نہیں پڑھتے تھے جسے کیتھولک چرچ کی منظوری حاصل نہیں ہوتی تھی۔‏

سن 1952ء میں مَیں نے سیمون پیٹری سے شادی کر لی جو وفاداری سے خدا کی خدمت کر رہی تھیں۔ ہم شہر مونٹریال منتقل ہو گئے اور ایک سال میں خدا نے ہمیں ایک بیٹی سے نوازا جس کا نام ہم نے لز رکھا۔ مَیں نے ہماری شادی سے کچھ عرصہ پہلے پہل‌کار کے طور پر خدمت کرنا چھوڑ دیا تھا۔ لیکن مَیں نے اور سیمون نے کوشش کی کہ ہم اپنی زندگی کو سادہ رکھیں تاکہ ہم ایک خاندان کے طور پر کلیسیا کی سرگرمیوں میں بھرپور حصہ لے سکیں۔‏

دس سال گزرنے کے بعد مَیں نے سنجیدگی سے دوبارہ پہل‌کار کے طور پر خدمت کرنے کا سوچا۔ 1962ء میں مَیں کینیڈا کے بیت‌ایل میں بادشاہتی خدمتی سکول کے لیے گیا جو بزرگوں کے لیے منعقد کِیا جاتا ہے۔ اُس وقت یہ سکول ایک مہینے کا ہوتا تھا۔ بیت‌ایل میں مَیں جس بھائی کے ساتھ رہا، اُس کا نام کامیل والیٹ تھا۔ مُنادی کے کام کے لیے کامیل کا جذبہ دیکھ کر مَیں بڑا متاثر ہوا، خاص طور پر اِس لیے کہ وہ بال‌بچے‌دار آدمی تھے۔ اُس زمانے میں کیوبیک میں بہت کم بہن بھائی ایسے تھے جو بچوں کی پرورش کرنے کے ساتھ ساتھ پہل‌کار کے طور پر خدمت کر رہے تھے۔ کامیل بھی یہ کوشش کر رہے تھے کہ وہ پہل‌کار کے طور پر خدمت کر سکیں۔ اُنہوں نے میری بھی حوصلہ‌افزائی کی کہ مَیں اپنی صورتحال کا جائزہ لے کر اِس بارے میں سوچوں۔ چند مہینے بعد مجھے لگا کہ مَیں دوبارہ سے پہل‌کار کے طور پر خدمت کر سکتا ہوں۔ کچھ لوگوں کا خیال تھا کہ یہ سمجھ‌داری کا فیصلہ نہیں ہے لیکن مَیں نے یہ خدمت شروع کر دی کیونکہ مجھے پورا یقین تھا کہ یہوواہ خدا میری کوششوں میں برکت ڈالے گا۔‏

کیوبیک سٹی میں خصوصی پہل‌کار کے طور پر خدمت

سن 1964ء میں مجھے اور سیمون کو خصوصی پہل‌کار بنا کر ہمارے آبائی شہر کیوبیک سٹی بھیج دیا گیا جہاں ہم نے اگلے کئی سال تک خدمت کی۔ اب مُنادی کے کام کے دوران ہماری اُتنی مخالفت نہیں ہوتی تھی جتنی پہلے ہوتی تھی۔‏

ایک دن ہفتے کی دوپہر مجھے سین‌مرے کے علاقے سے گِرفتار کر لیا گیا جو کیوبیک سٹی سے زیادہ دُور نہیں ہے۔ ایک پولیس افسر مجھے تھانے لے گیا اور جیل میں بند کر دیا کیونکہ مَیں اِجازت‌نامے کے بغیر گھر گھر مُنادی کر رہا تھا۔ بعد میں مجھے ایک جج کے سامنے پیش کِیا گیا جن کا نام بیاژون تھا۔ وہ بڑی رُعب‌دار شخصیت کے مالک تھے۔ اُنہوں نے مجھ سے پوچھا:‏ ”‏تمہارا مُقدمہ کون لڑے گا؟“‏ مَیں نے اُنہیں بتایا کہ میرا مُقدمہ گلن ہاؤ لڑیں گے۔ گلن ہاؤ یہوواہ کے گواہ تھے اور بڑے جانے مانے اور کامیاب وکیل تھے۔ اُن کا نام سنتے ہی جج نے گھبرا کر کہا:‏ ”‏اُف، پھر سے اُس کا سامنا کرنا پڑے گا!‏“‏ گلن ہاؤ نے کئی مُقدموں میں یہوواہ کے گواہوں کا دِفاع کِیا تھا۔ جلد ہی مجھے عدالت کی طرف سے یہ پیغام ملا کہ مجھ پر لگائے گئے اِلزامات خارج کر دیے گئے ہیں۔‏

کیوبیک میں مُنادی کے کام کی مخالفت کی وجہ سے عبادت کے لیے مناسب جگہ کرائے پر لینا بھی مشکل تھا۔ ہماری چھوٹی سی کلیسیا کو ایک پُرانا گیراج ہی کرائے پر مل سکا جس میں کوئی ہیٹر وغیرہ نہیں تھا۔ شدید سردی کے موسم میں بھائی تیل سے چلنے والا ہیٹر اِستعمال کرتے تھے۔ ہم اکثر اِجلاس سے چند گھنٹے پہلے اِس کے گِرد جمع ہو کر ایک دوسرے کو اپنے حوصلہ‌افزا تجربے سناتے تھے۔‏

مجھے یہ دیکھ کر بہت خوشی ہوتی ہے کہ سالوں کے دوران مُنادی کے کام کے کتنے اچھے نتائج نکلے ہیں۔ 1960ء میں کیوبیک سٹی، کوٹ‌نورڈ اور گاسپ کے علاقوں میں بس کچھ چھوٹی چھوٹی کلیسیائیں تھیں۔ لیکن اب اِن علاقوں میں بہت زیادہ بہن بھائی ہیں اور وہ عبادت کے لیے خوب‌صورت کنگڈم‌ہالوں میں جمع ہوتے ہیں۔‏

سفری نگہبان کے طور پر خدمت

سن 1977ء میں لیونس کریپولٹ کچھ حلقے کے نگہبانوں کے ساتھ کینیڈا کے شہر ٹورانٹو میں ایک اِجلاس پر

سن 1977ء میں مَیں کینیڈا کے شہر ٹورانٹو میں سفری نگہبانوں کے لیے منعقد ہونے والے ایک اِجلاس میں گیا۔‏

سن 1970ء میں مجھے حلقے کے نگہبان کے طور پر خدمت کرنے کو کہا گیا۔ پھر 1973ء میں مجھے صوبائی نگہبان مقرر کر دیا گیا۔ اُس عرصے کے دوران مَیں نے لارئیر سمور اور ڈیوڈ سپلینa جیسے قابل بھائیوں سے بہت کچھ سیکھا۔ وہ دونوں بھائی بھی سفری نگہبان کے طور پر خدمت کر رہے تھے۔ ہر اِجتماع کے بعد مَیں اور ڈیوڈ ایک دوسرے کو مشورہ دیتے تھے کہ ہم تعلیم دینے کی اپنی صلاحیت میں بہتری کیسے لا سکتے ہیں۔ مجھے یاد ہے کہ ایک بار ڈیوڈ نے مجھ سے کہا:‏ ”‏لیونس، مجھے آپ کی آخری تقریر اچھی لگی۔ لیکن اِس تقریر کے مواد سے مَیں تین تقریریں تیار کر سکتا تھا۔“‏ مَیں اپنی تقریروں میں بہت زیادہ معلومات شامل کرنے کی کوشش کرتا تھا۔ لیکن مجھے یہ سیکھنے کی ضرورت تھی کہ مَیں تھوڑی معلومات کے ذریعے اہم نکتوں کو کیسے واضح کر سکتا ہوں۔‏

ایک نقشہ جس میں کینیڈا کے وہ شہر دِکھائے گئے ہیں جن میں بھائی لیونس کریپولٹ نے خدمت کی:‏ سین‌مرے، کیوبیک سٹی، مونٹریال اور ٹورانٹو

مَیں نے مشرقی کینیڈا کے مختلف شہروں میں خدمت کی۔‏

صوبائی نگہبانوں کو ذمے‌داری دی گئی تھی کہ وہ حلقے کے نگہبانوں کی حوصلہ‌افزائی کریں۔ کیوبیک میں بہت سے بہن بھائی مجھے اچھی طرح جانتے تھے۔ اِس لیے جب مَیں حلقے کا دورہ کر رہا ہوتا تھا تو بہت سے بہن بھائی میرے ساتھ مُنادی کرنا چاہتے تھے۔ مجھے اُن بہن بھائیوں کے ساتھ مُنادی کرنا بہت اچھا لگتا تھا لیکن اِس کی وجہ سے مَیں حلقے کے نگہبان کے ساتھ زیادہ وقت نہیں گزار پاتا تھا۔ ایک مرتبہ حلقے کے ایک نگہبان نے بڑے پیار سے مجھ سے کہا:‏ ”‏یہ اچھی بات ہے کہ آپ بہن بھائیوں کو وقت دیتے ہیں۔ لیکن اِس ہفتے آپ میرے لیے آئے ہیں۔ مجھے بھی حوصلہ‌افزائی کی ضرورت ہے!‏“‏ اُس بھائی کے اِس اچھے مشورے سے مَیں نے بڑی اہم بات سیکھی۔‏

سن 1976ء میں میری زندگی میں ایک افسوس‌ناک موڑ آیا۔ میری پیاری بیوی سیمون سخت بیمار پڑ گئیں اور موت کی نیند سو گئیں۔ وہ ایک بہت اچھی شریکِ‌حیات تھیں کیونکہ اُن میں قربانی کا جذبہ تھا اور وہ یہوواہ سے بہت پیار کرتی تھیں۔ مُنادی کے کام میں مشغول رہنے سے مجھے اپنے اِس غم پر قابو پانے میں مدد ملی۔ مَیں یہوواہ کا بہت شکرگزار ہوں کہ اُس نے اُس مشکل وقت میں مجھے سنبھالا۔ بعد میں مَیں نے کیرولین ایلیٹ سے شادی کر لی جن کی مادری زبان انگریزی ہے۔ کیرولین پہل‌کار تھیں اور ایک ایسے علاقے میں خدمت کرنے کے لیے کیوبیک آئی تھیں جہاں مبشروں کی زیادہ ضرورت تھی۔ کیرولین کی شخصیت ایسی ہے کہ اُن سے آسانی سے بات کی جا سکتی ہے۔ وہ دل سے لوگوں کی فکر کرتی ہیں، خاص طور پر اُن کی جو شرمیلے یا تنہا ہوتے ہیں۔ اُنہوں نے اُس وقت میرا بڑا ساتھ دیا جب ہم کلیسیاؤں کے دورے پر جاتے تھے۔‏

ایک اہم سال

جنوری 1978ء میں مجھے کیوبیک میں پہل‌کاروں کے لیے منعقد ہونے والے پہلے سکول میں تربیت دینے کے لیے کہا گیا۔ مَیں بہت گھبرایا ہوا تھا کیونکہ سکول کا کورس میرے لیے بھی اُتنا ہی نیا تھا جتنا طالبِ‌علموں کے لیے تھا۔ لیکن اچھی بات یہ تھی کہ اِس کلاس میں بہت سے تجربہ‌کار پہل‌کار تھے۔ حالانکہ مَیں اُنہیں سکھا رہا تھا لیکن مَیں نے اُن سے بہت کچھ سیکھا۔‏

اِسی سن میں بعد میں مونٹریال کے اولمپک سٹیڈیم میں بین‌الاقوامی اِجتماع منعقد ہوا۔ یہ اِجتماع کیوبیک میں ہونے والے اِجتماعوں میں سب سے بڑا اِجتماع تھا اور اِس پر 80 ہزار سے زیادہ لوگ آئے۔ اِجتماع پر مجھے اُس شعبے میں کام کرنے کی ذمے‌داری دی گئی جو میڈیا سے بات کرتا تھا۔ مَیں نے بہت سے صحافیوں سے بات کی اور مجھے یہ دیکھ کر بڑی خوشی ہوئی کہ اُنہوں نے ہمارے بارے میں بہت سی اچھی باتیں لکھیں۔ ٹی‌وی اور ریڈیو پر ہمارے اِنٹرویوز اور پروگراموں کا کُل دورانیہ 20 گھنٹے سے زیادہ تھا۔ اِس کے علاوہ ہمارے بارے میں سینکڑوں مضامین چھاپے گئے۔ اِس طرح لوگوں کو یہوواہ کے بارے میں بڑی زبردست گواہی ملی!‏

ایک نئے علاقے میں خدمت

سن 1996ء میں میری زندگی میں بڑی تبدیلی آئی۔ مَیں نے اپنے بپتسمے سے اب تک کیوبیک میں فرانسیسی زبان میں خدمت کی تھی۔ لیکن اب مجھے ٹورانٹو کے علاقے میں انگریزی زبان کی کلیسیاؤں میں صوبائی نگہبان کے طور پر کام کرنا تھا۔ مجھے لگتا تھا کہ مَیں یہ کام نہیں کر پاؤں گا اور مَیں اپنی ٹوٹی‌پھوٹی انگریزی میں تقریریں کرنے سے ڈر رہا تھا۔ مجھے یہوواہ سے اَور زیادہ دُعا کرنے اور اُس پر مکمل بھروسا کرنے کی ضرورت تھی۔‏

مَیں وہاں خدمت کرنے سے بہت گھبرا رہا تھا لیکن اب مَیں یہ کہوں گا کہ ٹورانٹو کے علاقے میں دو سال خدمت کر کے مجھے بہت اچھا لگا۔ کیرولین نے بڑے صبر سے میری مدد کی تاکہ مَیں زیادہ اِعتماد سے انگریزی بول سکوں اور بہن بھائیوں نے بھی میری بڑی مدد اور حوصلہ‌افزائی کی۔ ہم نے جلد ہی بہت سے نئے دوست بنا لیے۔‏

حلقے کے اِجتماعوں کے لیے اِضافی کام اور تیاریاں کرنے کے علاوہ مَیں اکثر جمعے کی شام کو ایک گھنٹے کے لیے گھر گھر مُنادی کرتا تھا۔ کچھ لوگ شاید یہ سوچتے ہوں کہ ”‏اِجتماع سے پہلے مُنادی میں جانے کی کیا ضرورت ہے؟“‏ لیکن مجھے لگتا تھا کہ مُنادی میں لوگوں سے بات‌چیت کر کے مَیں تازہ‌دم ہو جاتا ہوں۔ اب بھی مجھے مُنادی کر کے بہت خوشی ملتی ہے۔‏

سن 1998ء میں مجھے اور کیرولین کو خصوصی پہل‌کار بنا کر واپس مونٹریال بھیجا گیا۔ کئی سال تک میری ذمے‌داریوں میں یہ شامل تھا کہ مَیں عوامی جگہوں پر مُنادی کرنے کے اِنتظامات کروں اور میڈیا کے ذریعے یہوواہ کے گواہوں کے بارے میں لوگوں کی غلط‌فہمیاں دُور کروں۔ اب مَیں اور کیرولین خوشی سے ایسے لوگوں کو مُنادی کرتے ہیں جو حال ہی میں کسی دوسرے ملک سے کینیڈا منتقل ہوئے ہیں اور بائبل کے بارے میں اَور زیادہ سیکھنا چاہتے ہیں۔‏

لیونس کریپولٹ اپنی بیوی کیرولین کے ساتھ

اپنی بیوی کیرولین کے ساتھ

مجھے یہوواہ کی خدمت کرتے 68 سال ہو گئے ہیں۔ جب مَیں اِن تمام سالوں پر غور کرتا ہوں تو مجھے محسوس ہوتا ہے کہ یہوواہ نے مجھے بڑی برکت دی ہے۔ مَیں بہت خوش ہوں کہ مَیں نے مُنادی کے کام سے لطف اُٹھانا سیکھ لیا ہے اور بہت سے لوگوں کو بائبل کی سچائیاں سکھائی ہیں۔ جب میری بیٹی لز کے بچے بڑے ہو گئے تو اُس نے اور اُس کے شوہر نے پہل‌کار کے طور پر خدمت شروع کر دی۔ یہ دیکھ کر میرا دل خوشی سے بھر جاتا ہے کہ وہ اب بھی بڑے جوش سے مُنادی کا کام کرتی ہے۔ مَیں خاص طور پر اپنے اُن ہم‌ایمانوں کے لیے یہوواہ کا شکر ادا کرتا ہوں جن کی عمدہ مثال اور اچھے مشوروں سے یہوواہ کے ساتھ میری دوستی مضبوط ہوئی اور مَیں یہوواہ کی تنظیم میں مختلف ذمے‌داریاں اُٹھانے کے قابل ہوا۔ مَیں نے دیکھا ہے کہ ہم یہوواہ کی تنظیم کی طرف سے دی جانے والی ذمے‌داریوں کو صرف تبھی نبھا سکتے ہیں جب ہم اِس بات پر بھروسا رکھتے ہیں کہ پاک روح ہمیں طاقت دے گی۔ (‏زبور 51:‏11‏)‏ مَیں ہر روز یہوواہ کا شکر کرتا ہوں کہ اُس نے مجھے اپنے نام کی بڑائی کرنے کا شان‌دار اعزاز بخشا ہے!‏—‏زبور 54:‏6‏۔‏

a ڈیوڈ سپلین یہوواہ کے گواہوں کی گورننگ باڈی کے ایک رُکن ہیں۔‏

    اُردو زبان میں مطبوعات (‏2026-‏2000)‏
    لاگ آؤٹ
    لاگ اِن
    • اُردو
    • شیئر کریں
    • ترجیحات
    • Copyright © 2026 Watch Tower Bible and Tract Society of Pennsylvania
    • اِستعمال کی شرائط
    • رازداری کی پالیسی
    • رازداری کی سیٹنگز
    • JW.ORG
    • لاگ اِن
    شیئر کریں