پاک کلام سے سنہری باتیں | احبار 1-3
قربانیوں کا مقصد
1:3؛ 2:1، 12؛ 3:1
موسیٰ کی شریعت میں یہوواہ نے بنیاِسرائیل کو قربانیاں چڑھانے کا حکم دیا۔ اِن قربانیوں سے یہوواہ کو خوشی ملتی تھی اور اِنہوں نے یسوع مسیح کی قربانی یا اُن برکتوں کی طرف اِشارہ کِیا جو یسوع مسیح کی قربانی کی بِنا پر لوگوں کو ملنی تھیں۔—عبر 8:3-5؛ 9:9؛ 10:5-10۔
جس طرح صرف بےعیب جانوروں کو قربان کِیا جا سکتا تھا اُسی طرح یسوع مسیح نے بھی اپنا بےعیب جسم قربان کِیا۔—1-پطر 1:18، 19؛ سرِورق کی تصویر کو دیکھیں۔
جس طرح سوختنی قربانی (آتشی قربانی) پوری کی پوری یہوواہ کے سامنے پیش کی جاتی تھی اُسی طرح یسوع مسیح نے اپنے آپ کو پورے طور پر یہوواہ کے لیے پیش کِیا۔
جس طرح سلامتی کا ذبیحہ چڑھانے والے لوگوں کی یہوواہ سے صلح ہوتی تھی اُسی طرح یادگاری تقریب پر روٹی اور مے میں سے کھانے پینے والے لوگوں کی یہوواہ سے صلح ہے۔