مسیحیوں کے طور پر زندگی
یوسف کی طرح بنیں—حرامکاری سے بھاگیں
اگر ہمیں حرامکاری کی آزمائش کا سامنا ہوتا ہے تو ہم یوسف کی مثال سے بہت کچھ سیکھ سکتے ہیں۔ ہر بار جب یوسف کے مالک کی بیوی نے اُنہیں حرامکاری کے لیے اُکسایا تو اُنہوں نے صاف منع کر دیا۔ (پید 39:7-10) اُنہوں نے کہا: ”بھلا مَیں کیوں ایسی بڑی بدی کروں اور خدا کا گنہگار بنوں؟“ اِس سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ پہلے سے یہوواہ کی اِس سوچ سے واقف تھے کہ میاں بیوی کو ایک دوسرے کے وفادار رہنا چاہیے۔ اِس لیے جب ایسی صورتحال کھڑی ہوئی جس میں یوسف حرامکاری کی طرف مائل ہو سکتے تھے تو وہ وہاں رُکنے کی بجائے وہاں سے بھاگ گئے اور حرامکاری سے بچنے کے اپنے عزم کو کمزور نہیں پڑنے دیا۔—پید 39:12؛ 1-کُر 6:18۔
ویڈیو ”حرامکاری سے بھاگیں“ کو دیکھیں اور پھر اِن سوالوں کے جواب دیں:
زینگ کو کس مشکل صورتحال کا سامنا تھا؟
جب میکیونگ نے زینگ سے پڑھائی میں مدد مانگی تو زینگ نے کن سوالوں پر سوچ بچار کی؟
پڑھائی میں می کیونگ کی مدد کرنے کے حوالے سے زینگ نے کیسا محسوس کِیا؟
زینگ نے کس سے مدد لی؟
حرامکاری سے بھاگنے کے لیے زینگ نے کیا کِیا؟
آپ نے اِس ویڈیو سے کون سے سبق سیکھے ہیں؟