مُنادی کے اِجلاس—حوصلہ بڑھانے، تیار کرنے اور منظم کرنے کا ذریعہ
1. مُنادی کے اِجلاس کیوں منعقد کیے جاتے ہیں؟
1 ایک دفعہ یسوع مسیح نے 70 شاگردوں کو مُنادی پر بھیجنے سے پہلے اُن کو اِکٹھا کِیا اور اُن سے بات کی۔ (لو 10:1-11) اُنہوں نے شاگردوں کا حوصلہ بڑھاتے ہوئے اُنہیں بتایا کہ وہ اِس کام میں اکیلے نہیں ہیں بلکہ ’فصل کا مالک‘ یہوواہ خدا اُن کی مدد کرے گا۔ یسوع مسیح نے اُن کو مُنادی کا کام کرنے کے لیے کچھ ہدایات بھی دیں اور اُن کو ”دو دو“ کرکے بھیجا یعنی اُن کو منظم کِیا۔ آج بھی مُنادی کے اِجلاس ہمارا حوصلہ بڑھانے، ہمیں مُنادی کے لیے تیار کرنے اور ہمیں منظم کرنے کے لیے منعقد کیے جاتے ہیں۔
2. مُنادی کے اِجلاس کو کتنا لمبا ہونا چاہیے؟
2 اب تک مُنادی کے اِجلاس 10 سے 15 منٹ کے ہوتے تھے اور اِس میں گروپ کو منظم کرنا، مُنادی کے لیے علاقہ دینا اور دُعا کرنا شامل تھا۔ اِس بندوبست میں اب تبدیلی کی جا رہی ہے۔ اپریل سے مُنادی کے اِجلاس کو پانچ سے سات منٹ سے زیادہ نہیں ہونا چاہیے۔ اور اگر یہ کلیسیا کے کسی اَور اِجلاس کے بعد منعقد کِیا جاتا ہے تو اِسے اَور بھی مختصر ہونا چاہیے کیونکہ بہن بھائیوں کو پہلے ہی حوصلہافزائی ملی ہوگی۔ اگر مُنادی کے اِجلاس کو مختصر رکھا جائے تو بہن بھائی زیادہ وقت مُنادی کے کام میں صرف کر سکتے ہیں۔ اِس کے علاوہ اگر پہلکاروں یا مبشروں نے اِجلاس سے پہلے مُنادی شروع کر دی تھی تو اُنہیں صرف تھوڑی دیر کے لیے رُکنا پڑے گا۔
3. مُنادی کے اِجلاسوں کا بندوبست کیسے کِیا جا سکتا ہے تاکہ یہ مبشروں کے لیے فائدہمند ہو؟
3 مُنادی کے اِجلاسوں کے لیے ایسے وقت اور جگہ کا اِنتخاب کِیا جانا چاہیے جو مبشروں کے لیے سب سے فائدہمند ہو۔ بہت سی کلیسیاؤں میں یہ زیادہ فائدہمند ثابت ہوا ہے کہ سب مبشر ایک ہی جگہ جمع نہ ہوں بلکہ ہر مُنادی کا گروپ الگ الگ اِکٹھا ہو۔ اِس طرح سب کو مُنادی کے اِجلاس اور مُنادی کے علاقے میں جانے کے لیے زیادہ سفر نہیں کرنا پڑتا۔ مبشروں کو منظم کرنا بھی زیادہ آسان ہوگا اور گروپ کے نگہبان بہتر طور پر مبشروں کا خیال رکھ سکتے ہیں۔ بزرگوں کی جماعت مقامی حالات کو مدِنظر رکھتے ہوئے کوئی ایسا بندوبست کر سکتی ہے جو مبشروں کے لیے سب سے فائدہمند ہو۔ اِس سے پہلے کہ اِجلاس کو ایک مختصر دُعا کے ساتھ ختم کِیا جائے، سب کو معلوم ہونا چاہیے کہ وہ کہاں مُنادی کریں گے اور کس کے ساتھ۔
4. ہمیں کیوں نہیں سوچنا چاہیے کہ مُنادی کے اِجلاس دوسرے اِجلاسوں سے کم اہم ہیں؟
4 دوسرے اِجلاسوں کی طرح اہم: سچ ہے کہ مُنادی کے اِجلاس پر پوری کلیسیا جمع نہیں ہوتی بلکہ صرف وہی مبشر جو اُس وقت مُنادی کے کام میں حصہ لیں گے۔ لیکن اِس کا مطلب یہ نہیں کہ مُنادی کے اِجلاس کی اہمیت دوسرے اِجلاسوں سے کم ہے۔ باقی اِجلاسوں کی طرح یہ اِجلاس بھی یہوواہ خدا کا ایک ایسا بندوبست ہے جس سے ہمیں ”محبت اور نیک کاموں کی ترغیب“ ملتی ہے۔ (عبر 10:24، 25) اِس لیے مُنادی کے اِجلاس میں پیشوائی کرنے والے بھائی کو اچھی تیاری کرنی چاہیے تاکہ یہوواہ خدا کی بڑائی ہو اور بہن بھائیوں کو فائدہ حاصل ہو۔ اگر ممکن ہو تو مبشروں کو مُنادی میں جانے سے پہلے اِس اِجلاس پر آنے کی کوشش کرنی چاہیے۔
5. (الف) مُنادی کے اِجلاسوں کا بندوبست کرنے میں خدمتی نگہبان کیا کردار ادا کرتا ہے؟ (ب) ایک بہن کو مُنادی کے اِجلاس میں پیشوائی کیسے کرنی چاہیے؟
5 اِجلاس میں پیشوائی کرنے کے لیے تیاری کریں: مُنادی کے اِجلاس میں پیشوائی کرنے والا بھائی تبھی اِس کے لیے اچھی تیار کر سکتا ہے اگر اُسے پہلے سے بتایا جائے کہ اُس کی باری کب آئے گی۔ جب تمام مُنادی کے گروپ الگ الگ جمع ہوتے ہیں تو گروپ کا نگہبان یا اُس کا مددگار اِس میں پیشوائی کرے گا۔ لیکن جب پوری کلیسیا مُنادی کے لیے جمع ہوتی ہے تو خدمتی نگہبان پہلے سے پیشوائی کرنے والے بھائی کا اِنتخاب کرے گا۔ کچھ خدمتی نگہبان پیشوائی کرنے والے تمام بھائیوں کو شیڈول دیتے ہیں اور نوٹس بورڈ پر بھی شیڈول لگاتے ہیں۔ خدمتی نگہبان کو پیشوائی کرنے والے بھائی کا سوچ سمجھ کر اِنتخاب کرنا چاہیے۔ اُسے ذہن میں رکھنا چاہیے کہ اگر وہ بھائی تعلیم دینے اور مبشروں کو منظم کرنے کے قابل ہے تو بہن بھائیوں کو زیادہ فائدہ حاصل ہوگا۔ اگر کسی دن کوئی بزرگ، خادم یا کوئی اَور لائق بپتسمہیافتہ بھائی نہیں ہے جو مُنادی کے اِجلاس میں پیشوائی کر سکے تو خدمتی نگہبان کو ایک لائق بپتسمہیافتہ بہن کا اِنتخاب کرنا چاہیے۔—صفحہ 9 پر بکس کو دیکھیں۔
6. یہ کیوں اہم ہے کہ مُنادی کے اِجلاس میں پیشوائی کرنے والا بھائی اچھی تیاری کرے؟
6 جب ہمیں مسیحی خدمتی سکول یا خدمتی اِجلاس میں کوئی تقریر دینی ہو تو ہم اِس کی اچھی تیاری کرتے ہیں۔ ہم اِجلاس پر جاتے ہوئے راستے میں تو جلدی جلدی تیاری نہیں کریں گے۔ اگر ہمیں مُنادی کے اِجلاس میں پیشوائی کرنے کو کہا جاتا ہے تو ہمیں اِسے بھی سنجیدہ خیال کرنا چاہیے۔ اب یہ اِجلاس اَور بھی مختصر ہے اِس لیے اِس کی اچھی تیاری کرنا بہت اہم ہے تاکہ اِجلاس سب کے لیے فائدہمند ہو اور وقت پر ختم ہو۔ تیاری کرنے میں یہ بھی شامل ہے کہ پہلے سے ہی مُنادی کے لیے علاقے کا بندوبست کِیا جائے۔
7. پیشوائی کرنے والا بھائی کن کن موضوعات پر بات کر سکتا ہے؟
7 کن موضوعات پر بات کی جا سکتی ہے؟ ہر جگہ حالات فرق ہوتے ہیں۔ اِس لیے ’دیانتدار نوکر‘ مُنادی کے ہر اِجلاس کے لیے کوئی خاکہ تیار نہیں کرتا۔ (متی 24:45) صفحہ9 پر بکس ”مُنادی کے اِجلاس کے لیے کچھ موضوعات“ میں کچھ تجاویز دی گئی ہیں۔ عموماً یہ اِجلاس سامعین سے باتچیت کی صورت میں پیش کِیا جاتا ہے۔ بعض اوقات اِس میں ایک منظر یا ہماری ویبسائٹ سے ایک مختصر ویڈیو دِکھائی جا سکتی ہے۔ مُنادی کے اِجلاس کے لیے تیاری کرتے وقت بھائی کو سوچنا چاہیے کہ کن باتوں سے بہن بھائیوں کی حوصلہافزائی ہوگی اور وہ مُنادی کے کام کے لیے تیار ہو جائیں گے۔
8. ہفتے اور اِتوار کو مُنادی کے اِجلاس پر کن کن موضوعات پر بات کی جا سکتی ہے؟
8 مثال کے طور پر ہفتے کے دن زیادہتر مبشر رسالے پیش کرتے ہیں۔ جو بہن بھائی ہفتے والے دن مُنادی کرنے جاتے ہیں، وہ اکثر ہفتے کے دوران مُنادی نہیں کرتے۔ اِس لیے شاید اُنہیں وہ پیشکش یاد نہ ہو جس کی مشق اُنہوں نے خاندانی عبادت میں کی تھی۔ لہٰذا مُنادی کے اِجلاس میں ہماری بادشاہتی خدمتگزاری میں پائی جانے والی پیشکش پر بات کرنا فائدہمند ہو سکتا ہے۔ یہ بھی بتایا جا سکتا ہے کہ پیشکش میں کسی مقامی خبر، واقعے یا تہوار کا ذکر کیسے کِیا جا سکتا ہے۔ یا پھر اِس بات پر غور کِیا جا سکتا ہے کہ صاحبِخانہ کو رسالے دینے کے بعد اگلی ملاقات کی بنیاد کیسے ڈالی جا سکتی ہے۔ اگر کچھ مبشر حالیہ رسالے پیش کر چکے ہیں تو اُن سے پوچھا جا سکتا ہے کہ اُنہوں نے رسالے کیسے پیش کیے ہیں اور اُنہیں کیا تجربے ہوئے ہیں۔ اِتوار کو مہینے کی پیشکش کے سلسلے میں بھی کچھ ایسا ہی کِیا جا سکتا ہے۔ ایسی کتابیں جو بائبل کے مطالعوں کے لیے اِستعمال ہوتی ہیں، (مثلاً خوشخبری، خدا کی سنیں یا پاک صحائف کی تعلیم) اُنہیں کسی بھی دن پیش کِیا جا سکتا ہے۔ لہٰذا مُنادی کے اِجلاس میں یہ بھی بتایا جا سکتا ہے کہ ہم اُنہیں کیسے پیش کر سکتے ہیں۔
9. اگر کلیسیا کسی خاص مہم میں حصہ لے رہی ہے تو ہفتے اور اِتوار کو کس بات پر غور کِیا جا سکتا ہے؟
9 اگر کلیسیا کسی خاص مہم میں حصہ لے رہی ہے تو ہفتے اور اِتوار کو مُنادی کے اِجلاسوں میں پیشوائی کرنے والا بھائی اِس بات پر غور کر سکتا ہے کہ دعوتنامے یا پرچے کے ساتھ رسالے کیسے پیش کیے جا سکتے ہیں یا اُس صورت میں کیا کِیا جا سکتا ہے جب صاحبِخانہ دلچسپی ظاہر کرے۔ اِس کے علاوہ ایسے تجربے بتائے جا سکتے ہیں جن سے ایسی مہموں کے فائدے ظاہر ہوں۔
10، 11. جب مبشر مُنادی کے اِجلاسوں کے لیے تیاری کرتے ہیں تو یہ اِجلاس سب کے لیے زیادہ فائدہمند کیوں ہو جاتے ہیں؟
10 مبشر مُنادی کے اِجلاس کے لیے تیاری کیسے کر سکتے ہیں؟ جب بہن بھائی اچھی تیاری کرکے مُنادی کے اِجلاسوں میں آتے ہیں تو یہ اِجلاس سب کے لیے زیادہ فائدہمند ہو جاتے ہیں۔ بہت سے بہن بھائی خاندانی عبادت کے دوران اپنی پیشکش کی مشق کرتے ہیں۔ یوں وہ مُنادی کے اِجلاس میں بھرپور حصہ لے سکتے ہیں اور اپنے ساتھ کام کرنے والے بہن یا بھائی کے ساتھ بھی اپنی پیشکش کے بارے میں بات کر سکتے ہیں۔ اچھی تیاری میں یہ بھی شامل ہے کہ آپ پہلے سے رسالے اور کتابیں وغیرہ لے رکھیں تاکہ سب مُنادی کے اِجلاس کے فوراً بعد علاقے میں جا سکیں۔
11 یہ بھی ضروری ہے کہ ہم مُنادی کا اِجلاس شروع ہونے سے کچھ منٹ پہلے پہنچیں۔ بےشک ہم تمام اِجلاسوں پر وقت پر آنے کی کوشش کرتے ہیں۔ لیکن اگر ہم مُنادی کے اِجلاس پر دیر سے پہنچیں گے تو شاید اِس سے پیشوائی کرنے والے بھائی کو کچھ مشکلوں کا سامنا کرنا پڑے کیونکہ وہ سوچ سمجھ کر گروپ کو منظم کرتا ہے۔ مثال کے طور پر اگر صرف چند بہن بھائی گروپ پر آئے ہیں تو شاید وہ اُن کو ایسے علاقے میں بھیجے جہاں پر پہلے کچھ کام کِیا گیا ہے۔ ہو سکتا ہے کہ کچھ مبشر پیدل چل کر مُنادی کے اِجلاس پر آئے ہوں اور وہاں سے مُنادی کا علاقہ دُور ہے تو شاید بھائی اُن کو ایسے مبشروں کے ساتھ بھیجے جو گاڑی میں آئے ہیں۔ اگر کسی علاقے میں بہت جرائم ہوتے ہیں تو شاید پیشوائی کرنے والا بھائی کچھ بھائیوں کو بہنوں کے ساتھ یا اُن کے قریب کام کرنے کے لیے کہے۔ شاید وہ عمررسیدہ بہن بھائیوں کو ایسی گلیوں میں بھیجے جہاں اُن کو کم سیڑھیاں چڑھنی پڑیں۔ ہو سکتا ہے کہ پیشوائی کرنے والا بھائی نئے مبشروں کو تجربہکار مبشروں کے ساتھ کام کرنے کے لیے کہے۔ لیکن اگر کچھ مبشر دیر سے پہنچیں تو بھائی کو سارا اِنتظام دوبارہ سے کرنا پڑے گا۔ یہ سچ ہے کہ کسی معقول وجہ سے ہمیں کبھی دیر بھی ہو سکتی ہے۔ لیکن اگر دیر سے آنا ہماری عادت ہے تو ہمیں خود سے پوچھنا چاہیے کہ ایسا کیوں ہے؟ کیا مَیں شاید مُنادی کے اِجلاس کی قدر نہیں کرتا ہوں؟ یا پھر کیا مَیں تیار ہونے میں حد سے زیادہ وقت لگاتا ہوں؟
12. اگر آپ عموماً اپنے دوستوں کے ساتھ مُنادی کرنے کا بندوبست کرتے ہیں تو آپ کیا کرنے کا سوچ سکتے ہیں؟
12 مبشر اِجلاس سے پہلے خود کسی کے ساتھ کام کرنے کا بندوبست کر سکتے ہیں یا پھر اُنہیں اِجلاس میں بتایا جائے گا کہ وہ کس کے ساتھ کام کریں گے۔ اگر آپ عموماً اپنے قریبی دوستوں کے ساتھ مُنادی کرنے کا بندوبست کرتے ہیں تو کیوں نہ وقتاًفوقتاً دوسرے مبشروں کے ساتھ بھی کام کریں اور یوں ”کُشادہدل“ بنیں؟ (2-کر 6:11-13) کیا آپ کبھی کبھار کسی نئے مبشر کے ساتھ کام کر سکتے ہیں تاکہ وہ آپ کی مدد سے تعلیم دینے کی اپنی مہارت کو نکھار سکے؟ (1-کر 10:24؛ 1-تیم 4:13، 15) پیشوائی کرنے والے بھائی کی ہدایات پر توجہ دیں تاکہ آپ کو معلوم ہو کہ آپ کو کہاں مُنادی شروع کرنی چاہیے اور کس کے ساتھ۔ اِجلاس کے بعد اِس بندوبست میں ردوبدل نہ کریں اور فوراً مُنادی کے علاقے میں جائیں۔
13. اگر سب بہن بھائی مُنادی کے اِجلاسوں کو سنجیدہ خیال کرتے ہیں تو ہمیں اُن سے کون کون سے فائدے ہوں گے؟
13 وہ 70 شاگرد جنہیں یسوع مسیح نے مُنادی کرنے بھیجا تھا، ”خوش ہو کر“ واپس آئے۔ (لو 10:17) بِلاشُبہ وہ اِس لیے کامیاب رہے کیونکہ یسوع مسیح اُنہیں بھیجنے سے پہلے اُن کے ساتھ جمع ہوئے اور اُن سے بات کی۔ آجکل ہمیں مُنادی کے اِجلاسوں سے ایسا ہی فائدہ ہوتا ہے۔ اگر سب اِن اہم اِجلاسوں کو سنجیدہ خیال کرتے ہیں تو اِن سے ہمارا حوصلہ بڑھے گا، ہم مُنادی کے لیے تیار ہو جائیں گے اور ہم اِس کام کے لیے منظم ہوں گے۔ یوں ہم اِس کام کو بخوبی انجام دے سکیں گے جس کے ذریعے ”سب قوموں کے لئے گواہی“ ہوگی۔—متی 24:14۔