وقت کی پابندی کرنے کی عادت اپنائیں
۱. یہوواہ خدا نے وقت کی پابندی کرنے کے سلسلے میں ہمارے لیے کیا مثال قائم کی ہے؟
۱ یہوواہ خدا ہر کام وقت پر کرتا ہے۔ مثال کے طور پر جب اُس نے نوح کو بتایا کہ وہ ”سات دن“ کے بعد زمین پر طوفان بھیجے گا تو اُس نے ٹھیک سات دن بعد طوفان بھیجا۔ (پید ۷:۴) اِس کے علاوہ یہوواہ خدا دیانتدار اور عقلمند نوکر کے ذریعے ”وقت پر“ ہمیں روحانی خوراک دیتا ہے۔ (متی ۲۴:۴۵) اِس لیے ہم پورا یقین رکھ سکتے ہیں کہ یہوواہ خدا کے غضب کا دن ’تاخیر نہیں کرے گا۔‘ (حبق ۲:۳) یہوواہ خدا وقت کی پابندی کرتا ہے اور اِس وجہ سے ہمیں بہت سے فائدے ہوتے ہیں۔ (زبور ۷۰:۵) چونکہ ہم عیبدار ہیں اور بہت سے کاموں میں مصروف رہتے ہیں اِس لیے وقت کی پابندی کرنا ہمارے لیے مشکل ہو سکتا ہے۔ لیکن ہمیں وقت کی پابندی کرنے کی عادت کیوں اپنانی چاہیے؟
۲. جب ہم وقت کی پابندی کرتے ہیں تو اِس سے یہوواہ خدا کی بڑائی کیوں ہوتی ہے؟
۲ چونکہ ہم آخری زمانے میں رہ رہے ہیں جس میں بہت سے لوگ خودغرض اور بےضبط ہیں اِس لیے کم ہی لوگ وقت کی پابندی کرتے ہیں۔ (۲-تیم ۳:۱-۳) یہی وجہ ہے کہ جب خدا کے بندے کام کی جگہ پر، دوسروں سے ملنے کے سلسلے میں اور دیگر معاملات میں وقت کی پابندی کرتے ہیں تو دوسرے لوگ اِس سے بہت متاثر ہوتے ہیں اور یوں یہوواہ خدا کی بڑائی ہوتی ہے۔ (۱-پطر ۲:۱۲) کیا ہم ملازمت کی جگہ پر تو عموماً وقت پر پہنچتے ہیں لیکن اِجلاسوں اور اِجتماعوں پر اکثر دیر سے آتے ہیں؟ جب ہم اِجلاسوں پر وقت پر پہنچتے ہیں اور شروع کے گیت اور دُعا میں بھی شامل ہوتے ہیں تو ہم ظاہر کرتے ہیں کہ ہم یہوواہ خدا کی مثال پر عمل کرنا چاہتے ہیں جو ہر کام منظم طریقے سے کرتا ہے۔—۱-کر ۱۴:۳۳، ۴۰۔
۳. وقت کی پابندی کرنے سے ہم دوسروں کا لحاظ کیسے رکھتے ہیں؟
۳ وقت کی پابندی کرنے سے ہم دوسروں کا لحاظ بھی رکھتے ہیں۔ (فل ۲:۳، ۴) مثال کے طور پر جب ہم اِجلاسوں پر (جن میں مُنادی کے لیے اِجلاس بھی شامل ہیں) وقت پر پہنچتے ہیں تو اِجلاس سے بہنبھائیوں کی توجہ نہیں ہٹتی۔ لیکن اگر ہم وقت کی پابندی نہیں کرتے تو اِس سے دوسروں کو یہ تاثر مل سکتا ہے کہ ہماری نظر میں ہمارا وقت بہت قیمتی ہے اور دوسروں کے وقت کی کوئی اہمیت نہیں ہے۔ وقت کی پابندی کرنے سے ہم ظاہر کرتے ہیں کہ ہم قابلِبھروسا، محنتی اور ذمےدار ہیں۔ یہ ایسی خوبیاں ہیں جن کی دوسرے لوگ بہت قدر کرتے ہیں۔
۴. اگر ہم اکثر وقت کی پابندی نہیں کر پاتے تو ہم اپنے اندر بہتری لانے کے لیے کیا کر سکتے ہیں؟
۴ اگر آپ اکثر وقت کی پابندی نہیں کر پاتے تو اِس بات پر غور کریں کہ ایسا کیوں ہوتا ہے۔ اِس بات کا شیڈول بنائیں کہ آپ کس وقت کونسا کام کریں گے۔ (واعظ ۳:۱) یہوواہ خدا سے دُعا کریں کہ وہ وقت کی پابندی کرنے کے سلسلے میں آپ کی مدد کرے۔ (۱-یوح ۵:۱۴) وقت کی پابندی کرنے سے بھی ہم خدا اور پڑوسی کے لیے محبت ظاہر کر سکتے ہیں۔—متی ۲۲:۳۷-۳۹۔