نبیوں کی مثال پر عمل کریں—یوایل
۱. جب ہم مُنادی کرتے ہیں تو ہم یوایل نبی کی طرح خاکسار کیسے بن سکتے ہیں؟
۱ یوایل نبی کون تھے؟ یوایل نے اپنے بارے میں صرف یہ بتایا کہ وہ فتوایل کے بیٹے ہیں۔ (یوایل ۱:۱) یوایل بہت خاکسار تھے اِس لئے اُنہوں نے اپنی بجائے یہوواہ خدا کے پیغام پر توجہ دِلائی۔ جب ہم مُنادی کرتے ہیں تو ہم بھی یوایل کی طرح اپنی بڑائی نہیں چاہتے۔ اِس کی بجائے ہم لوگوں کی توجہ یہوواہ خدا اور اُس کے کلام پر دِلانا چاہتے ہیں۔ (۱-کر ۹:۱۶؛ ۲-کر ۳:۵) جو پیغام ہم لوگوں کو سناتے ہیں، اُس سے ہمیں بھی بہت حوصلہ ملتا ہے۔ یوایل کی پیشگوئی کے کن الفاظ سے ہمیں اُمید ملتی ہے اور مُنادی کے کام کے لئے ہمارا جوش بڑھتا ہے؟
۲. جیسے جیسے یہوواہ خدا کا دن نزدیک آ رہا ہے، ہمیں کیا کرنا چاہئے؟
۲ ” [یہوواہ] کا روز نزدیک ہے۔“ (یوایل ۱:۱۵): یوایل نبی نے یہ پیشگوئی ہزاروں سال پہلے کی تھی اور یہ بہت جلد بڑے پیمانے پر پوری ہونے والی ہے۔ ہم ایسا کیوں کہہ سکتے ہیں؟ کیونکہ دُنیا کے حالات دنبہدن بگڑتے جا رہے ہیں اور مُنادی کے دوران ہم ایسے لوگوں سے ملتے ہیں جو ہمارے پیغام میں دلچسپی نہیں لیتے اور ہمارا مذاق اُڑاتے ہیں۔ اِن باتوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ ہم آخری زمانے میں رہ رہے ہیں۔ (۲-تیم ۳:۱-۵؛ ۲-پطر ۳:۳، ۴) چونکہ ہم دیکھ رہے ہیں کہ دُنیا کا خاتمہ بہت نزدیک ہے اِس لئے ہمیں اپنی زندگی میں یہوواہ خدا کی خدمت کو سب سے زیادہ اہمیت دینی چاہئے۔—۲-پطر ۳:۱۱، ۱۲۔
۳. چونکہ بڑی مصیبت جلد آنے والی ہے اِس لئے ہمیں مُنادی کے کام کو اِتنی اہمیت کیوں دینی چاہئے؟
۳ ’یہوواہ اپنے لوگوں کی پناہگاہ ہے۔‘ (یوایل ۳:۱۶): اِس آیت میں بتایا گیا ہے کہ آسمان اور زمین کانپیں گے۔ یہ اُسی وقت ہوگا جب یہوواہ خدا بڑی مصیبت کے دوران لوگوں کی عدالت کرے گا۔ لیکن ہمیں یہ جان کر بڑی تسلی ملتی ہے کہ اُس وقت یہوواہ خدا اپنے بندوں کو بچا لے گا۔ (مکا ۷:۹، ۱۴) جب ہم مُنادی کے کام میں حصہ لیتے ہیں اور یہ دیکھتے ہیں کہ یہوواہ خدا ہماری مدد کرتا اور ہماری ہمت بڑھاتا ہے تو ہمارا ایمان مضبوط ہوتا ہے اور ہم میں صبر کی خوبی پیدا ہوتی ہے۔ مضبوط ایمان اور صبر کی خوبی بڑی مصیبت کے وقت ہمارے بہت کام آئیں گے۔
۴. ہم کیوں خوش ہو سکتے اور مستقبل میں ہونے والے واقعات کا دلیری سے سامنا کر سکتے ہیں؟
۴ کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ یوایل نبی کا پیغام مایوسی کا پیغام ہے۔ لیکن یہوواہ خدا کے بندوں کے لئے یہ خوشی کا پیغام ہے کیونکہ اِس سے اُنہیں نجات کی اُمید ملتی ہے۔ (یوایل ۲:۳۲) آئیں، یوایل ۲:۲۳ میں لکھی اِس بات پر عمل کریں: ”خوش ہو اور [یہوواہ] اپنے خدا میں شادمانی کرو۔“ یوں ہم دلیری سے مستقبل میں ہونے والے واقعات کا سامنا کر پائیں گے اور جوش سے لوگوں کو خدا کی بادشاہت کی خوشخبری سنائیں گے۔