سوالیبکس
▪ اجلاسوں پر یا مُنادی کے کام میں موبائل فون استعمال کرنے کے سلسلے میں بائبل کے کن اصولوں کو ذہن میں رکھنا ضروری ہے؟
ہر چیز کا ایک وقت ہے۔ (واعظ ۳:۱): موبائل فون کے ذریعے لوگ کسی بھی وقت آپس میں بات کر سکتے ہیں یا ایک دوسرے کو میسج بھیج سکتے ہیں۔ لیکن کچھ موقعے ایسے ہوتے ہیں جب مسیحی یہ نہیں چاہتے کہ موبائل فون کی وجہ سے اُن کی توجہ اہم کاموں سے ہٹ جائے۔ مثال کے طور پر اجلاس ایک ایسا موقع ہے جب ہم یہوواہ خدا کی عبادت کرنے، اُس سے تعلیم پانے اور ایک دوسرے کی حوصلہافزائی کرنے کے لئے جمع ہوتے ہیں۔ (است ۳۱:۱۲؛ زبور ۲۲:۲۲؛ روم ۱:۱۱، ۱۲) اِس لئے اچھا ہوگا کہ جب ہم اجلاس پر جائیں تو اپنا فون بند کر دیں اور گھر جانے کے بعد اپنے میسج وغیرہ پڑھیں۔ اگر کوئی ایسی سنگین صورتحال ہو جس کی وجہ سے موبائل فون آن رکھنا ضروری ہے تو اِسے سائلنٹ پر سیٹ کر دیں تاکہ دوسروں کی توجہ اجلاس سے نہ ہٹے۔
سب کچھ خوشخبری کی خاطر کریں۔ (۱-کر ۹: ۲۳): کبھیکبھار مُنادی کے دوران فون استعمال کرنا ضروری ہوتا ہے۔ مثال کے طور پر شاید مُنادی کے گروپ کی پیشوائی کرنے والے بھائی کو گروپ کے بہنبھائیوں سے رابطہ رکھنے کے لئے فون استعمال کرنا پڑے۔ کبھیکبھی مبشر کسی دلچسپی رکھنے والے یا بائبل کا مطالعہ کرنے والے شخص کے پاس جانے سے پہلے فون پر اُس سے رابطہ کرتے ہیں۔ اگر مُنادی کے دوران ہمارے پاس فون ہو تو ہمیں اِسے سائلنٹ پر سیٹ کرنا چاہئے تاکہ جب ہم کسی سے بات کر رہے ہوں تو باتچیت میں خلل نہ پڑے۔ (۲-کر ۶:۳) جب ہم دوسرے مبشروں کا انتظار کرتے ہیں تو اچھا ہوگا کہ ہم کسی دوست کو فون کرنے یا میسج بھیجنے کی بجائے اپنی پوری توجہ مُنادی کے کام پر رکھیں اور اُن بہنبھائیوں پر دھیان دیں جو ہمارے ساتھ مُنادی کر رہے ہیں۔
دوسروں کا لحاظ رکھیں۔ (۱-کر ۱۰:۲۴؛ فل ۲:۴): ہمیں ہمیشہ وقت پر مُنادی کے اجلاسوں پر آنے کی کوشش کرنی چاہئے۔ ہمیں یہ سوچ کر سُستی نہیں کرنی چاہئے کہ ہم کسی کو فون یا میسج کر کے پتہ کر سکتے ہیں کہ ہمارا گروپ کونسے علاقے میں مُنادی کر رہا ہے۔ مُنادی کے اجلاس کے دوران مختلف بندوبست کئے جاتے ہیں۔ لہٰذا اگر ہم دیر سے آتے ہیں تو اکثر سارا بندوبست نئے سرے سے کرنا پڑتا ہے۔ یہ سچ ہے کہ کبھیکبھی ہمیں کسی ایسی صورتحال کی وجہ سے دیر ہو سکتی ہے جو ہمارے بس سے باہر ہے۔ لیکن اگر ہم وقت پر مُنادی کے اجلاس پر آنے کی عادت اپناتے ہیں تو ہم ظاہر کرتے ہیں کہ ہم یہوواہ خدا کے اِنتظام کی قدر کرتے ہیں اور پیشوائی کرنے والے بھائی اور اپنے بہنبھائیوں کا لحاظ رکھتے ہیں۔