یہوواہ کے گواہوں کی آن لائن لائبریری
یہوواہ کے گواہوں کی
آن لائن لائبریری
اُردو
  • بائبل
  • مطبوعات
  • اِجلاس
  • خدم 4/‏13 ص.‏ 1
  • نبیوں کی مثال پر عمل کریں—‏یوناہ

اِس حصے میں کوئی ویڈیو دستیاب نہیں ہے۔

ہم معذرت خواہ ہیں کہ ویڈیو لوڈ نہیں ہو سکی۔

  • نبیوں کی مثال پر عمل کریں—‏یوناہ
  • ہماری بادشاہتی خدمتگزاری ۲۰۱۳
  • ملتا جلتا مواد
  • اُنہوں نے اپنی غلطیوں سے سیکھا
    اِن جیسا ایمان ظاہر کریں
  • اُنہوں نے رحم کا درس پایا
    اِن جیسا ایمان ظاہر کریں
  • دوسروں کو یہوواہ کی نظر سے دیکھیں
    مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏2003ء
  • یُوناہ کے ابواب کا خاکہ
    کتابِ‌مُقدس—‏ترجمہ نئی دُنیا
مزید
ہماری بادشاہتی خدمتگزاری ۲۰۱۳
خدم 4/‏13 ص.‏ 1

نبیوں کی مثال پر عمل کریں—‏یوناہ

۱.‏ یوناہ کن خوبیوں کے مالک تھے؟‏

۱ جب آپ یوناہ نبی کے بارے میں سوچتے ہیں تو آپ کے ذہن میں کون‌سی باتیں آتی ہیں؟ شاید کچھ لوگ سوچیں کہ یوناہ بزدل یا سنگ‌دل تھے۔ لیکن یوناہ کی کتاب میں درج واقعات سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ خاکسار اور دلیر تھے اور اُن کے اندر قربانی کا جذبہ تھا۔ یوناہ نے ہمارے لئے ایک بہت اچھا ”‏نمونہ“‏ یعنی مثال قائم کی۔ (‏یعقو ۵:‏۱۰‏)‏ ہم اُن کی مثال پر کیسے عمل کر سکتے ہیں؟‏

۲.‏ ہم یوناہ کی طرح خاکساری کیسے ظاہر کر سکتے ہیں؟‏

۲ خاکساری:‏ یہوواہ خدا نے یوناہ کو نینوہ جانے کے لئے کہا لیکن وہ وہاں جانے کی بجائے دوسری سمت بھاگ گئے۔ اِس کی وجہ یہ تھی کہ اسوری لوگ بہت ظالم تھے اور نینوہ ”‏خونریز شہر“‏ کے نام سے مشہور تھا۔ (‏ناحوم ۳:‏۱-‏۳)‏ لیکن یہوواہ خدا نے یوناہ کو سبق سکھایا، اُن کی اصلاح کی اور اُنہیں ایک اَور موقع دیا کہ وہ نینوہ جا کر اُس کا پیغام سنائیں۔ اِس بار یوناہ نے خدا کی بات مانی اور یوں خاکساری کی خوبی ظاہر کی۔ (‏امثا ۲۴:‏۳۲؛‏ یوناہ ۳:‏۱-‏۳‏)‏ حالانکہ پہلے یوناہ نینوہ نہیں جانا چاہتے تھے لیکن پھر بھی اُنہوں نے یہوواہ خدا کی مرضی کے مطابق عمل کِیا۔ (‏متی ۲۱:‏۲۸-‏۳۱‏)‏ کیا ہمارا عزم بھی یوناہ کی طرح ہے؟ کیا ہم اُس صورت میں بھی خوش‌خبری کی مُنادی کرتے ہیں جب ہماری اصلاح کی جاتی ہے یا ہماری کلیسیا کے علاقے میں مُنادی کرنا آسان نہیں ہوتا؟‏

۳.‏ مُنادی کے سلسلے میں ہمیں قربانی کے جذبے اور دلیری کی ضرورت ہے؟‏

۳ قربانی کا جذبہ اور دلیری:‏ جب یوناہ کو احساس ہوا کہ اُن کے غلط فیصلے کی وجہ سے ملاحوں کی جان خطرے میں پڑ گئی ہے تو وہ اپنی جان قربان کرنے کو تیار ہو گئے۔ (‏یوناہ ۱:‏۳، ۴،‏ ۱۲‏)‏ بعد میں جب وہ خدا کے حکم کے مطابق نینوہ گئے تو وہ پیدل شہر کے مرکز تک گئے۔ شاید وہ کوئی مناسب جگہ ڈھونڈ رہے تھے جہاں پر وہ لوگوں کو خدا کا فیصلہ سنا سکیں۔ یوناہ کے اِن کاموں سے پتہ چلتا ہے کہ وہ بزدل نہیں تھے بلکہ خدا کے ایک دلیر نبی تھے۔ (‏یوناہ ۳:‏۳، ۴‏)‏ کیا ہم بھی یوناہ کی طرح دلیری ظاہر کرتے ہیں؟ جب ہمیں مخالفت کا سامنا ہوتا ہے تو بے‌خوفی سے گواہی دینے کے لئے ہمیں خدا کی طرف سے دلیری کی ضرورت ہوتی ہے۔ (‏اعما ۴:‏۲۹،‏ ۳۱‏)‏ اِس کے علاوہ مُنادی کے کام میں اپنا وقت، توانائی اور وسائل صرف کرنے کے لئے قربانی کا جذبہ ضروری ہے۔—‏اعما ۲۰:‏۲۴‏۔‏

۴.‏ ہمیں یہوواہ خدا کے نبیوں کی مثالوں پر غور کرنے کے لئے وقت کیوں نکالنا چاہئے؟‏

۴ جب بھی آپ یہوواہ خدا کے کسی نبی کے بارے میں پڑھتے ہیں تو تصور کریں کہ آپ اُس نبی جیسے حالات میں ہیں۔ خود سے پوچھیں:‏ ”‏اگر مَیں اِس صورتحال میں ہوتا تو مَیں کیا کرتا؟ مَیں اِس نبی جیسی خوبیاں کیسے ظاہر کر سکتا ہوں؟“‏ اِس طرح آپ اُس نبی کی مثال سے بہت کچھ سیکھ سکیں گے۔ (‏عبر ۶:‏۱۱، ۱۲‏)‏ ہماری بادشاہتی خدمتگزاری میں آئندہ بھی کچھ ایسے مضامین شائع کئے جائیں گے جن میں ہم یہوواہ خدا کے وفادار نبیوں کی مثالوں پر غور کریں گے اور دیکھیں گے کہ ہم اُن سے کیا سیکھ سکتے ہیں۔‏

    اُردو زبان میں مطبوعات (‏2026-‏2000)‏
    لاگ آؤٹ
    لاگ اِن
    • اُردو
    • شیئر کریں
    • ترجیحات
    • Copyright © 2026 Watch Tower Bible and Tract Society of Pennsylvania
    • اِستعمال کی شرائط
    • رازداری کی پالیسی
    • رازداری کی سیٹنگز
    • JW.ORG
    • لاگ اِن
    شیئر کریں